358
لب ترے کی دل کشی سے ملتا ہے
پھول جب بھی تازگی سے ملتا ہے
تو نہ ہو جب بھی مقابل اس کے تو
آئنہ کب روشنی سے ملتا ہے
موت تجھ سے یوں ملوں گا ایک دن
جیسے کوئی زندگی سے ملتا ہے
تیری آنکھوں سے جو ملتا ہے سکوں
وہ نشہ کب مے کشی سے ملتا ہے
یہ ضرورت بھی عجب شے ہے وگرنہ
آدمی کب آدمی سے ملتا ہے
