113
فکر کو باندی بنانے سے رہا
شاہ کی جوتی اٹھانے سے رہا
کاسہ لیسوں سے مری بنتی نہیں
اس طرح عزت کمانے سے رہا
آنے والوں کی کرے گا رہبری
سانحے کو میں چھپانے سے رہا
اپنے قد پر ہے یقیں اس واسطے
تخت سے تجھ کو گرانے سے رہا
مجھ تلک محدود ہیں میرے الم
ہر کسی کو اب سنانے سے رہا
کب تلک تجھ کو دھکیلوں اے بدن
اور دھکا اب لگانے سے رہا
دل کی مسند سے گرا سوگر گیا
میں اسے جھک کر اٹھانے سے رہا
خوں کے قطروں سے لکھے ماجد ستم
اب لگی لپٹی سنانے سے رہا
ماجدجہانگیرمرزا
