392
تم انتظار کے لمحے شمار مت کرنا
دیئے جلائے نہ رکھنا سنگار مت کرنا
مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں
میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا
کرن سے بھی ہے زیادہ ذرا مری رفتار
نہیں ہے آنکھ سے ممکن شکار مت کرنا
تمہیں خبر ہے کہ طاقت مرا وسیلہ ہے
تم اپنے آپ کو بے اختیار مت کرنا
تمہارے ساتھ مرے مختلف مراسم ہیں
مری وفا پہ کبھی انحصار مت کرنا
تمہیں بتاؤں یہ دنیا غرض کی دنیا ہے
خلوص دل میں اگر ہے تو پیار مت کرنا
ملیں گے راہ میں عاصمؔ کو ہم سفر کئی اور
وہ آ رہا ہے مگر انتظار مت کرنا
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
