533
کل یوں ہی تیرا تذکرہ نکلا
پھر جو یادوں کا سلسلہ نکلا
لوگ کب کب کے آشنا نکلے
وقت کتنا گریز پا نکلا
عشق میں بھی سیاستیں نکلیں
قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا
رات بھی آج بیکراں نکلی
چاند بھی آج غمزدہ نکلا
سُنتے آئے تھے قصۂ مجنوں
اب جو دیکھا تو واقعہ نکلا
ہم نے مانا وہ بے وفا ہی سہی
کیا کرو گے جو با وفا نکلا
مختصر تھیں فراق کی گھڑیاں
پھیر لیکن حساب کا نکلا
رسا چغتائی
