103
نگاہیں خود پہ رکھتے ہو محبت ہم سے کرتے ہو
ہمی کو قتل کرکے کس طرح پھر ہم پہ مرتے ہو؟
تمہاری چشمِ الفت نے ہمیں شیدا بنا ڈالا
اسی اک چشمِ الفت کو ہمیشہ خود پہ دھرتے ہو
بہت افسوس ہے ہم کو، ہمیں کہتے نہیں اپنا
اگر شوقِ محبت ہے تو کیوں کہنے سے ڈرتے ہو؟
تمھیں تو ابنِ ساقیٓ سے محبت تھی بہت ، لیکن!
بھلا اب اس کو کیوں رسوا سرِ بازار کرتے ہو؟
حسن ابن ساقی
