308
رات گزری نہ کم ستارے ہوئے
منکشف ہم پہ ہجر سارے ہوئے
ناؤ دو لخت ہو گئی اک دن
دو مسافر تھے دو کنارے ہوئے
پھول دلدل میں کھل رہا ہے یہاں
ہم ہیں اک جسم پر اتارے ہوئے
جانے کس وقت نیند آئی ہمیں
جانے کس وقت ہم تمہارے ہوئے
مدتوں بعد کام آئے ہیں
چند لمحے کہیں گزارے ہوئے
اپنی چھت پر اداس بیٹھے ہیں
ہم پرندوں کا روپ دھارے ہوئے
ذوالفقار عادل
