خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاماُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمدثر عباس

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

از سائیٹ ایڈمن مارچ 17, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 17, 2026 0 تبصرے 116 مناظر
117

انزائٹی (Anxiety) ایک ذہنی اور جذباتی کیفیت ہے جس میں انسان کو کسی ممکنہ خطرے، پریشانی یا غیر یقینی صورتِ حال کے بارے میں حد سے زیادہ خوف، گھبراہٹ اور بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ اس کیفیت کے ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا، بے سکونی اور منفی خیالات کا پیدا ہونا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

انزائٹی کا ایک پہلو خود جبری بھی ہے، جس میں انسان مسلسل اپنے آپ پر ذہنی دباؤ ڈالتا رہتا ہے۔ انزائٹی اور خود جبری دونوں ذہنی صحت سے متعلق مسائل ہیں جو انسان کی روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انزائٹی ایسی کیفیت ہے جس میں انسان کو حد سے زیادہ فکر، خوف یا بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ بعض اوقات انسان بغیر کسی واضح وجہ کے گھبراہٹ محسوس کرتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور ذہن ہر وقت کسی نہ کسی پریشانی میں الجھا رہتا ہے۔

اس کے برعکس خود جبری ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کے ذہن میں بار بار غیر ضروری خیالات یا وسوسے آتے ہیں۔ ان خیالات کی وجہ سے انسان بعض کام بار بار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، جیسے بار بار ہاتھ دھونا، دروازہ چیک کرنا یا چیزوں کو ایک خاص ترتیب سے رکھنا۔ اس عمل سے وقتی سکون تو ملتا ہے، لیکن مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوتا اور بعض اوقات یہی کیفیت سوشل انزائٹی کو بھی جنم دیتی ہے۔

خود جبری (Self-Imposed Pressure) اور سوشل انزائٹی (Social Anxiety) دونوں ذہنی اور جذباتی مسائل ہیں جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ خود جبری کا مطلب یہ ہے کہ انسان خود پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتا ہے، مثلاً دوسروں کو خوش کرنے کی مسلسل کوشش کرنا یا ہر کام میں مکمل پرفیکشن کی توقع رکھنا۔ جب یہ دباؤ بڑھ جاتا ہے تو یہ سوشل انزائٹی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

سوشل انزائٹی کی حالت میں فرد کو معاشرتی تعاملات میں شدید بے چینی اور خوف محسوس ہوتا ہے۔ وہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ لوگ اس کی باتوں یا اعمال کے بارے میں منفی رائے قائم کر رہے ہیں، یا وہ کسی بھی معاشرتی موقع پر غلطی کرنے سے خوفزدہ رہتا ہے۔

سوشل انزائٹی نے اُردو ادب پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ کئی اُردو شعرا کی شخصیت اور شاعری میں داخلی اضطراب، تنہائی، بے چینی اور سماجی فاصلے کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں میراجی، ن۔م۔ راشد، شکیب جلالی، شبیر شاید، سارہ شگفتہ اور جون ایلیا جیسے شعرا کے نام قابلِ ذکر ہیں، جن کی شاعری میں داخلی کرب، وجودی بے چینی اور معاشرتی بیگانگی کی جھلک واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔

میراجی نے اپنی شاعری میں انسان کے اندرونی خوف، تنہائی اور معاشرے سے اجنبیت جیسے موضوعات کو خاص اہمیت دی۔ اگرچہ ان کے عہد میں “سوشل انزائٹی” کی اصطلاح عام نہیں تھی، لیکن ان کی شاعری میں ایسی کیفیات نمایاں طور پر ملتی ہیں جنہیں آج ہم سماجی جھجک یا سوشل انزائٹی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ میراجی کی نظموں اور اشعار میں ایک ایسا انسان دکھائی دیتا ہے جو معاشرے میں رہتے ہوئے بھی خود کو تنہا اور بےگانہ محسوس کرتا ہے۔ وہ ہجوم میں بھی سکون نہیں پاتا اور اکثر اپنے اندر کے احساسات میں گم رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ان کا ایک شعر اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے:

نگری نگری پھرا مسافر، گھر کا رستہ بھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا، اپنا پرایا بھول گیا

اس شعر میں انسان کی ذہنی بھٹکاہٹ اور اجنبیت کا احساس نمایاں ہے گویا وہ معاشرے میں موجود ہونے کے باوجود اپنے آپ اور دوسروں کے درمیان فاصلے کو محسوس کرتا ہے۔

اسی طرح میراجی کی شاعری میں تنہائی اور اندرونی کشمکش کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ وہ انسان کے اندر چھپے ہوئے خوف اور الجھن کو بیان کرتے ہیں۔ ان کی ایک اور نظم میں انسان کی یہی بے چینی اور ذہنی اضطراب جھلکتا ہے:

میں جو بولوں تو زمانہ مرے لفظوں کو سنے
اور میں چپ رہوں تو دل کی صدا مجھ سے نہ چھپے

میراجی شور کی شدت سے گھبراتا ہے اور کبھی اپنے ہی خیالات کے شور سے پریشان رہتا ہے۔ یہی کیفیت سوشل انزائٹی میں بھی دیکھی جاتی ہے جہاں انسان دوسروں کی موجودگی میں غیر معمولی جھجک اور بے چینی محسوس کرتا ہے۔

نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ میراجی کی شاعری صرف جمالیاتی اظہار تک محدود نہیں بلکہ انسانی نفسیات کی گہری ترجمانی بھی کرتی ہے۔ ان کی نظموں اور اشعار میں تنہائی، خوف اور سماجی اجنبیت جیسے احساسات اس انداز سے بیان ہوئے ہیں کہ آج کے دور میں بھی وہ قاری کے دل کو متاثر کرتے ہیں اور جدید نفسیاتی اصطلاحات سے ہم آہنگ محسوس ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ن م راشد اردو ادب کے اُن ممتاز شعرا میں شامل ہیں جنہوں نے جدید نظم کو ایک نئی فکری اور فنی جہت عطا کی۔ ان کی شاعری میں فرد کی تنہائی، معاشرتی بیگانگی اور داخلی کشمکش جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ اگرچہ ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ باقاعدہ طور پر سوشل انزائٹی (سماجی گھبراہٹ) کا شکار تھے، تاہم ان کی شاعری میں ایسی کیفیات ضرور ملتی ہیں جو اس نفسیاتی کیفیت سے مماثلت رکھتی ہیں۔

راشد کی نظموں میں ہمیں بارہا ایک ایسا فرد نظر آتا ہے جو معاشرے سے کٹا ہوا، اپنے اندر سمٹا ہوا اور اپنی ذات کے پیچیدہ سوالات میں الجھا ہوا ہے۔ یہ احساسِ تنہائی ان کی شاعری کا ایک بنیادی وصف ہے۔

راشد نے روایتی سماجی اقدار اور رسوم کو کھل کر چیلنج کیا۔ ان کی نظموں میں ایک طرح کی بغاوت پائی جاتی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ خود کو عام معاشرتی سانچوں میں فٹ نہیں پاتے تھے۔ یہ کیفیت بعض اوقات ان افراد میں بھی دیکھی جاتی ہے جو سماجی دباؤ یا عدم قبولیت کے خوف کا شکار ہوتے ہیں۔

ان کی مشہور نظموں جیسے "زندگی سے ڈرتے ہو” میں انسانی خوف بے یقینی اور اندرونی اضطراب کی جھلک نمایاں ہے۔ نظم سے چند اشعار ملاحظہ ہو:

زندگی سے ڈرتے ہو؟
زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!

زندگی سے ڈرتے ہو؟
آدمی سے ڈرتے ہو؟

آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں
آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے

اس سے تم نہیں ڈرتے!
حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ

آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے

”ان کہی” سے ڈرتے ہو
جو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہو

اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو
پہلے بھی تو گزرے ہیں

دور نارسائی کے ”بے ریا” خدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندی

یہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندی
تم مگر یہ کیا جانو

لب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کر

نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کر

روشنی سے ڈرتے ہو
روشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیں

روشنی سے ڈرتے ہو
شہر کی فصیلوں پر

دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی

چاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخر
اژدہام انساں سے فرد کی نوا آئی

ذات کی صدا آئی
راہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے

اک نیا جنوں لپکے
آدمی چھلک اٹھے

آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو
تم ابھی سے ڈرتے ہو؟

ہاں ابھی تو تم بھی ہو
ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں

تم ابھی سے ڈرتے ہو

اسی طرح "حسن کوزہ گر” میں انسان کی باطنی دنیا اور اس کے جذباتی تضادات کو گہرائی سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ تمام عناصر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ راشد انسانی نفسیات خصوصاً اندرونی بے چینی اور سماجی فاصلے کو بخوبی سمجھتے تھے۔

مزید برآں راشد کی شاعری میں خارجی دنیا کے مقابلے میں داخلی دنیا کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ وہ انسان کے باطن میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے ان احساسات کو بیان کرتے ہیں جو عام طور پر زبان پر نہیں آتے۔ یہی خصوصیت ان کی شاعری کو منفرد بناتی ہے اور قاری کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے۔

عصر حاضر میں بھی کئی ایک ایسے شعرا ہیں جو سوش انزائٹی کے شکار ہیں جن میں جون ایلیا، احمد فراز ، جاوید زیب ،امجد اسلام امجد ،فروغ فرخزا ،ناصر کاظمی ، شبلی نعمانی حفیظ جالندھری ، ڈاکٹر فہمیدہ ریاض کلیم امین
نوشین اختر ، شکیل شوق ، شبنم شاہ، رامش سہیل، ارشد صدیقی ، پروفیسر سہیل احمد اور دیگر شعرا شامل ہیں۔

مدثر عباس
16 مارچ 2026ء

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • علامہ اقبالؒ
  • زندگی سانس کے بغیر ممکن نہیں
  • میر صاحب کا زندہ عجائب گھر
  • ہم کس قدر ’’مہذب‘‘ ہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ماورا ہے سوچوں سے
پچھلی پوسٹ
بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

متعلقہ پوسٹس

سیلاب اور ہماری سماجی ذمہ داریاں

ستمبر 1, 2025

گمشدہ ستارا

فروری 20, 2026

ڈیجیٹل شعور کی کمی ایک المیہ

دسمبر 24, 2025

آج کی حوا

نومبر 30, 2019

خورشٹ

جنوری 31, 2020

نا مکمل تحریر

جنوری 15, 2020

پاکستان بھارت میچ: کھیل یا سیاسی کشمکش

ستمبر 21, 2025

جو سایوں کی وادی میں چلے

نومبر 3, 2019

ٹیکنالوجی کا زمانہ اور ہمارا جمود

اکتوبر 28, 2025

ایران، امریکہ کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کاکردار

جنوری 11, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کارنس

دسمبر 23, 2021

دنیا کا سب سے انمول رتن

مارچ 13, 2020

جسم تیرا لیکن ۔ مرضی پروردگار...

فروری 28, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں