خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرڈپٹی نذیر احمد – وبا کے دنوں کا ادب
اردو تحاریراردو کالمزتحقیق و تنقید

ڈپٹی نذیر احمد – وبا کے دنوں کا ادب

ڈاکٹر وحید احمد کی ایک اردو تحریر

از سائیٹ ایڈمن اپریل 21, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 21, 2020 0 تبصرے 629 مناظر
630

ڈپٹی نذیر احمد
(وبا کے دنوں کا ادب)

کرونا کی عالم گیر وبا کا آسیب کیا منڈلایا کہ وبا کے دنوں میں لکھے گئے ادب کا مطالعہ بھی چھوت کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ جسے دیکھو گیبریئل گارشیا مارکیز اور دیگر ادیبوں کو پڑھ رہا ہے۔ میں نے اس موضوع پر قند مکررdeputy nazir ahmed کے طور پر اپنی پسند کی کتابیں پڑھیں۔ ڈپٹی نذیر احمد دہلوی (1830-1912) کا ناول توبہ انصوح ان میں شامل تھا۔ میرے خیال میں ڈپٹی صاحب کے چھ ناولوں میں یہ سب سے شاندار ناول ہے کہ اس میں انیسویں صدی کی رسیلی اردو کا چٹخارا ہے۔ ذیل کے چند اقتباسات دیکھیے اور بیان کا ذائقہ چکھئے:

"ایک برس دہلی میں ہیضے کی بڑی سخت وبا آئی۔ نصوح نے ہیضہ کیا اور سمجھا کہ مرا چاہتا ہے۔ یاس کے عالم میں اس کو مواخذہ عاقبت کا تصور بندھا۔ ڈاکٹر نے اس کو خواب آور دوا دی تھی۔ سو گیا تو وہی تصور اس کو خواب موحش بن کر نظر آیا۔
ہیضے کا اتنا زور ہوا کہ ایک حکیم بقا کے کوچے سے ہر روز تیس تیس چالیس چالیس آدمی چھیجنے لگے۔ ایک بازار موت کا تو البتہ گرم تھا، ورنہ جدھر جاو سناٹا اور ویرانی، جس طرف نگاہ کرو وحشت و پریشانی۔۔۔”

"باپ بیٹا وضو کر رہے تھے۔ مسواک کرتے کرتے ابکائی ائی۔ ابھی نصوح دوگانہ فرض ادا نہیں کر چکا تھا، سلام پھیر کر کیا دیکھتا ہے کہ باپ نے قضا کی۔ ان کو مٹی دے کر آیا تو رشتے کی ایک خالہ تھیں، ان کو جان بحق پایا۔۔۔۔”

"گلاب، نارجیل دریائی، بادیان، تمر ہندی، سکنجبین وغیرہ وغیرہ جو دوائیں یونانی طبیب اس مرض میں استعمال کرتے ہیں، تھوڑی تھوڑی سب بہم پہنچا لیں۔ نصوح نے یہاں تک اہتمام کیا کہ انگریزی دوائیاں بھی فراہم کیں۔ کالرا پل کی گولیاں تو وہیں کوتوالی سے لے لیں۔ کالرا ٹنکچر الہ آباد میڈیکل ہال سے روپیہ بھیج کر منگوا کر رکھا۔ آگے سے ایک دوست کی معرفت کلورو ڈائن کی دو شیشیاں خرید لیں۔۔۔۔۔۔”

ڈاکٹر ہونے کے ناطے آخری فقرہ پڑھ کر میرا ماتھا ٹھنکا۔ طبی حس نے بیدار ہو کر اکسایا کہ اس قدیم انگریزی دوا پر تحقیق کی جائے جس کا ذکر ڈپٹی صاحب نے اپنے ناول میں کیا ہے یعنی کلورو ڈائن (Chlorodyne) کا تو کچھ کھوج لگایا جائے. لٹریچر پڑھنے پر کھلا کہ یہ انیسویں صدی کا قصہ ہے جب ایک ڈاکٹر نے اس زباں زد عام محاورے کو حقیقت کا روپ دیا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ وہ ڈاکٹر جان کولس براون (Dr. John Collis Browne 1819-1884) تھا جو انڈین برٹش آرمی میں ملازم تھا۔ ہیضے کی وبا بہت شدید تھی۔ لاکھوں لوگ مر رہے تھے۔ ایسے میں ڈاکٹر براون رحمت کا فرشتہ بن کر آیا اور اس نے یہ دوا کلورو ڈائن دریافت کی۔ یہ دوا پہلے پہل 1848 میں استعمال ہوئی۔ اس دوا کے اجزائے ترکیبی نہایت دلچسپ تھے۔ ڈاکٹر براون نے دنیا جہاں کا نشہ اس میں بھر دیا۔ یہ دوا الکوحل، افیون، بھنگ، حشیش، گانجا اور کلوروفارم کا آمیزہ تھی۔ دوا کیا تھی، بلا تھی۔ چمتکار کرتی تھی۔ ہیضے کےلئے تیر بہدف نسخہ تھی۔ یہ دوا آئی اور چھائی۔ ہیضے کو اس دوا نے قابو کیا۔ ہیضے کے علاوہ یہ دوا اور بہت سی بیماریوں کا علاج تھی جیسے دمہ، نظام تنفس کی تمام بیماریاں، مرگی، بے خوابی اور آنتوں کے سب عارضے وغیرہ۔
ہیضہ ایک بکٹیریا Vibrio Cholerae سے پھیلتا ہے۔ کلورو ڈائن antibiotic نہیں تھی بلکہ ایک طرح سے جراثیم کش تھی۔ جس مقدار سے جہاں بھر کے نشے اسی دوا میں ٹھونسے گئے تھے، میرے خیال میں ہیضے کے جراثیم پہلے ٹن ہوتے ہوں گے، پھر غشی اور بالآخر بے ہوشی کے عالم میں مر جاتے ہوں گے۔
اب اسے لطیفہ کہہ لیجئے یا المیہ کہ کلورو ڈائن سے بیمار شفا یاب ہونے لگے اور تندرست بیمار، کیونکہ اس دوا کی لت پڑ جاتی تھی یہاں تک کہ چھٹتی نہیں” تھی” منہ سے "وہ” کافر لگی ہوئی۔ یار لوگ اس کا نشہ فرماتے تھے کہ ٹھرا ہر وقت تو دستیاب نہیں ہوتا تھا۔ (ہمارے ہاں کوڈین کف سیرپ کا استعمال اسی طرح ہوتا رہا ہے)۔ دوست احباب عطر بیز غلافوں میں کلورو ڈائن کا تحفہ یوں بھیجتے تھے گویا گوہر نایاب ہے یا کوئی جنس کمیاب ہے۔ اب ہوا کیا کہ اس کی overdose سے لوگ مرنے لگے۔ مرگ ناگہانی ہوتی تو مرحوم کے تکیے کے نیچے سے کلورو ڈائن کی شیشیاں برآمد ہوتیں۔ گمان غالب ہے کہ پس ماندگان دوا ساز کمپنی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر براون پر مغلظات کا طومار باندھتے ہوں گے اور دشنام طرازی کا معیار ماں بہن کے حوالوں سے کہیں ارفع ہو گا۔ بہرحال، دوا ساز کمپنی (J T Davenport) نے پھر اس دوا میں حشیش کی مقدار کم کر دی۔ جونہی ہیضے کی وبا ختم ہوئی تو کلورو ڈائن کو بھی زوال ہوا۔
آجکل کرونا کی وبا زوروں پر ہے۔ دنیا بھر کی لیبارٹریز اس کی vaccine یا antiviral دوا دریافت کرنے میں دن رات سرگرم ہیں۔ دنیا ڈاکٹر براون ثانی یعنی مسیحا کی منتظر ہے۔

وحید احمد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 4 آخری)
  • مت رو سالگ رام
  • اچھے دن آنے والے ہیں
  • نہ جسم تیرا ۔ نہ مرضی تیری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
احساس ۔ حصول سکون کا زریعہ
پچھلی پوسٹ
چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں

متعلقہ پوسٹس

پاکستان کے لیے دو خوش خبریاں

فروری 20, 2025

منافقت سے بھری محبت

اکتوبر 12, 2020

خانہ جنگی کی دھمکیاں

مئی 1, 2022

ہِلے ہوئے لوگ

جنوری 30, 2020

علامہ اقبال اور ایران

نومبر 1, 2024

مدینہ منورہ کے کبوتر

مئی 25, 2024

شفیق الرحمٰن: اردو مزاح کا لازوال ستارہ

ستمبر 19, 2025

مجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر

دسمبر 5, 2025

بھٹو کی وراثت اور بلاول

جنوری 3, 2020

سفر نامہ بھارت – دوسری قسط

نومبر 2, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دو سانحات اور برڈباکس

اکتوبر 2, 2020

سمندر کے نام ایک غنائیہ

مارچ 25, 2026

کیا دنیا کو تباہی سے بچایا...

جولائی 4, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں