خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباشہرت کیلئے ملک اور قوم کی عزت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

شہرت کیلئے ملک اور قوم کی عزت

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2021
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2021 0 تبصرے 65 مناظر
66

شہرت کیلئے ملک اور قوم کی عزت

ہم سب کو تجدید کرنی پڑے گی کے ہم اپنی ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کو خراج عقیدت پیش کریں ، صبح و شام کریں ۔ اس سے بڑھ اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہ میں دین اسلام کے جھنڈے تلے پیدا کیا کہ جس نے جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی دنیا کو علم و عمل کے سورج سے منور کیا ۔ جہاں عورت جو ماں کے مرتبے پر فائز ہے کا مقام زمین کی گہرائی سے نکال کر ، غلاظت کے ڈھیر سے اٹھا کر اللہ نے اپنے اور اپنے پیارے محبوب ﷺ کے بعد رکھ دیا ۔ عورت کی عظمت کو اور اجاگر کرنے کیلئے یہاں تک بتا دیا کہ جنت ماں کے قدموں میں ہے ۔ یہ دینِ اسلام ہی تو ہے کے جس کے ماننے والوں پر عورت کی عزت و احترام و تکریم کیساتھ ساتھ معاشرے میں معیشت میں اور سب سے بڑھ کر ترکے میں حصہ رکھا گیا ہے ۔ اسلام ایک ایسے ضابطہ اخلاق کا نام ہے جو جہاں آسمان سے زمین تک اور چاروں سمتوں کے درمیان کی آگاہی فراہم کی گئی ہے لیکن ہر معاملے پر حد کا تعین کیا گیا ہے جو ان حدوں کے اندر رہتے ہوئے زندگی بسر کرتا ہے تو اسکا ٹھیکانا جنت ہوتی ہے اور جو ان حدوں سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا اپنی پھنے خانی دیکھانے کیلئے نکل بھی جاتا ہے تو جہنم کی آگ اسکی منتظر ہوتی ہے ۔

دورِ جدید میں اسلام کی تعلیمات سے مستفید ہونے والوں کی ایک طویل فہرست ہے اور اس فہرست میں صرف ملک خداد پاکستان ہی نہیں ہے بلکہ دنیا کے ہر ملک کے دوسرے مذاہب کے باشندے اسلام کی روشنی سے اپنے دلو ں کو منور کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں ۔ یونے ریڈلے نامی ایک برطانوی خاتون صحافی جنہیں طالبان نے اپنے پہلے دور میں جاسوسی کے الزام میں گرفتا ر کیا تھا اور تقریباً گیارہ دن زیر حراست رہیں اسکے بعد پاکستان میں افغانستان کے سفیر سے کامیاب مذکرات کے بعد آزاد ہوئیں ۔ آزادی کے تقریباً دو سال بعد انہوں نے اسلام قبول کر لیا جس کے بعد انکا نام مریم رڈلے ہے ۔ مریم نے طالبان کی قید کے حوالے سے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ;73;n the ;72;ands of the ;84;alibanہے ۔ اس کتاب کو مریم کی سوانح عمری بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ یہاں سے مریم نے دوبارہ جنم لیا ۔ ایک بہت ہی مختصر سی حوالہ لکھنا چاہونگا کہ جب مریم کو گرفتار کرکے لایا گیا تو کسی نے انکی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا (جس کی وجہ مریم نے اپنی سمجھ سے یہ لکھی کہ میرا خیال تھا کہ یہ مجھے پھانسی پر چڑھانے کا تہیہ کر چکے ہیں اسلئے مجھ سے نظریں نہیں ملا رہے لیکن یہ ان پر اسلام سے آگاہی اور قران پاک کے مطالعے کیبعد واضح ہوا کہ یہ تو اپنے رب کی تعلیمات کے عین مطابق برتاءو تھا ۔ اس طرح کے اور واقعات پیش آئے اور اپنی رہائی کے وقت مریم نے طالبان سے وعدہ کیا کہ وہ قران کا مطالعہ ضرور کرینگی اور انہوں نے کیا جس کے بعد وہ ایک باعمل مسلمان خاتون بن کر مغرب میں مسلمانوں کے حقوق کی آواز بن کر گونج رہی ہیں ۔

سن ۹۱۰۲ میں ایک کنیڈین لڑکی روزی گیبریئیل نے پورے پاکستان کی اپنی موٹر سائیکل پر سیر کی اور تقریباً پورا ایک سال تک پاکستان کو ناصرف گھوما پھرا بلکہ لوگوں کیساتھ وقت بھی گزارا جو اس بات کی بھرپور عکاسی کرتا ہے کہ پاکستانی کس قدر مہمان نواز ہیں ، اور کتنے اعلی اقدار کے پاسدار ہیں ۔ روزی گیبرئیل نے پاکستانیوں کی محبتوں اور خلوص اور یقینا دین اسلام کی بھرپور عکاسی کی بدولت روزی گیبرئیل کو اسلام کی راغب کیا ہوگا کیونکہ اس لڑکی نے بھی اسلام قبول کرلیا ہے ۔

یہ کوئی انیس و ڈیڑ کی باتیں نہیں ، اکیسویں صدی میں اور ترقی یافتہ ممالک کی خواتین جو موجودہ دنیا کی تہذیب یافتہ تہذیبوں میں رہتی ہیں افغانستان اور پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک سے کیسے متاثر ہوسکتی ہیں ، یہ ایک سوالیہ نشان ہے ایسی خواتین کیلئے جو اسی معاشرے کا حصہ ہیں جس معاشرے کو مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین بہترین قرار دے رہی ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام کی بنیادیں کمزور نہیں ہیں یہ ہم لوگ ہیں جو ذاتی خواہشوں کی تکمیل کیلئے کیا کچھ پامال کرتے جا رہے ہیں ۔ ۴۱ اگست کو زندہ دلانِ لاہور نے یک نا شد دو شد ایسے واقعات رونما ہوتے ہوئے دیکھے جسکے لئے دعوے سے لکھ سکتا ہوں کہ پاکستان کی ۴۷ سالہ تاریخ میں نہیں ہوئے ہونگے ۔ جس دن پاکستانی اپنا سر فخر سے بلند کر کے چلتے ہیں اپنی چھاتی پھلا کر چلتے ہیں ،ان واقعات نے لاہور کے باسیوں بلکہ پورے پاکستانیوں کے سروں کو شرم سے جھکنے پر مجبور کردیا ۔

واقعات نے ہمارے معاشرے کی تیزی سے بدلتی ہوئی روش کا ایک نیا باب رقم کیا اور معاشرے کے ان ستونوں کو معاشرتی اقدار کے پاسدار ہوتے ہیں ہلا کر رکھ دیاہے ۔ ایک طرف پاکستانی قوم اور ارباب اختیار بچوں اور خواتین پر ہونے والے جنسی تشدد کا معمہ حل نہیں کر پائے کہ یہ نئے خوفناک سانحات رونما ہوگئے ۔ ہم لوگوں کی نظر دنیا کے کونے کونے پر ہے اور نظر انداز کچھ نہیں ہوتابس طبقاتی تفریق ہ میں معاملے کی سنگینی کا تعین کرنے میں آسانی پیدا کردیتی ہے، جوکہ ایک شرمناک عمل ہے ۔ معلوم نہیں ہمارے پسماندہ علاقوں میں چاہے وہ کسی بھی صوبے میں ہوں کتنی عصمتیں پامال ہوتی ہیں ، ایک آہٹ بھی قانون کے دروازے پر نہیں دی جاتی ، کتنی زندگیاں اپنے وجود سے خالی دفن ہونے کے انتظار میں گزرتی ہیں لیکن اب تو جیسے پورا ملک ہی پسماندہ ہوکر رہ گیا ہے ، شہروں میں یکساں واقعات رونما ہورہے ہیں گویا درندے اب بیابانوں اور جنگلوں سے نکل کر شہروں میں آبسے ہیں ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ وقت اور حالات نے ہمارے مزاج کو بہت تلخ کردیا ہے ، ہمارے اندر درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت کیمرہ تو پیدا کرسکتا ہے لیکن کسی کی چیخ اب اس کام کیلئے بیکار ہوکر رہ گئی ہے ۔ ہم لوگ ظالم ہوگئے ہیں ۔ ان واقعات کو کسی بھی طرح سے نظر انداز کرنا یا زیر بحث نا لا نا ایسے عوامل کو جلا بخشنے کے مترادف ہوگا ۔ واقعات ہوجاتے ہیں اور ایسے واقعات جو ناصرف آپ کے معاشرے بلکہ ایک مسلم معاشرے میں رونما ہوں دنیا میں جگ ہنسائی سے کہیں بڑھ کر ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

خاندانی نظام کو فعل کریں تاکہ معاشرے میں صحیح اور غلط گھر سے ہی پتہ چل جائے ۔ ایسے تمام کرداروں کو جو ہمارے معاشرے کا چہرہ مسخ کرنے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں چن چن کر ان کے عزائم کیساتھ منظر عام پر لائیں اور قانون کی مدد کریں اور ریاست کی اور ایک محب وطن ہونے کا ثبوت دیں ۔ اساتذہ کا کردار چاہے وہ اسکولوں میں ہوں یا پھر مدرسوں میں ہو کردار سازی کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ حکومت ِ وقت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ واقعات کی حقیقت کو عوام کے سامنے پیش کریں اور ان حقائق پر سے بھی پردہ اٹھائیں جو ایسے واقعات کا پس منظر ہوتے ہیں ۔ خدارا ایسے بھیانک کرداروں کی کردار کشی ہم پر لازم ہے کیونکہ انکا ایسا کوئی بھی عمل جو ناصرف اسلام ، پاکستان ، پاکستان کے حکمران اور بالخصوص عوام الناس کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔ لکھنے والے عوام الناس کے ذہنی دباءو کو کم کرنے کی کوشش کریں اور پیدا شدہ معاشرتی مسائل کے حل کی طرف رغبت دلانے کی کوشش کریں ۔ مساجد اپنا کردار ادا کریں اصلاحی بیان دیں اور نکاح کو عام کرنے پر خصوصی زور دیں ۔ حکومت ِ وقت سے گزارش ہے کہ وہ ایسے قوانین زیر بحث لائیں جو معاشرے کی بہتری کیلئے قلیدی حیثیت کے حامل ہوں اور قوانین کو حقیقی معنوں میں نافذ العمل بنانے کیلئے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کردار نبھائیں ۔ آج معیشت کی بہتری کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن معاشرے کی بہتری کیلئے اور تعلیم کی فراوانی کیلئے کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شہ نشین پر
  • زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا
  • حرف و بیاں میں اس لیے مہکارِ نعت ہے
  • خود فریب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پر امن افغانستان !
پچھلی پوسٹ
شوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف

متعلقہ پوسٹس

اب آستیں میں اپنی کوٸی مار نہیں ہے

اپریل 9, 2023

دستکاری ہاتھ : روایتی ہنر کی بقا

ستمبر 13, 2025

عمر خیام

جون 1, 2025

نازکی اونگھتی ہے بستر کی

نومبر 27, 2021

کیا عورت سائیکو ہے؟

اپریل 28, 2026

احترام کا رشتہ

اپریل 1, 2023

یادیں

مئی 9, 2020

شہزاد نیّرؔ کی غزل کا تجزیہ

اکتوبر 26, 2025

تُو سمندر ہے تو پھر ظرف ذرا سا کیوں ہے

مارچ 26, 2020

فطرت کے دامن میں خاموش جذبات

نومبر 24, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دھول چہرے پر تھی اور صاف...

ستمبر 7, 2025

نہیں کہ عکس ادھورا ہی

نومبر 4, 2025

دل اب اُس کو ہار رہا...

جنوری 28, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں