104
اب آستیں میں اپنی کوٸی مار نہیں ہے
خوش بخت ہوں کہ میرا کوٸی یار نہیں ہے
سب اپنے مفادات کی خاطر ہیں پریشاں
اس ملک سے اب کوٸی وفادار نہیں ہے
ہم مانتے ہیں چور محافظ سے ملے ہیں
گھر والوں سے بھی تو کوٸی بیدار نہیں ہے
کس کو سناٸیں داستاں اپنی تباہی کی
شُنواٸی کو تو اب کوٸی دربار نہیں ہے
کس نے کیا ہے میرے سپاہی کو تہی دست
کہ ہاتھ میں اب تیر یا تلوار نہیں ہے
سرجُھک گیا جو غیر کی چوکھٹ پہ ترا وہ
کندھوں پہ رکھا قابلِ دستار نہیں ہے
یہ ملک زبوں حالی سے دو چار ہے عاجز
اور کہتے ہو کہ کوٸی بھی غدار نہیں ہے
ڈاکٹرمحمد الیاس عاجز
