خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپر امن افغانستان !
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

پر امن افغانستان !

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2021
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2021 0 تبصرے 41 مناظر
42

پر امن افغانستان !

دنیا کو طالبان کی افغانستان کے اقتدار میں واپسی پر اتنا پریشان دیکھا جا رہاہے جیسے کوئی انکے ملک کا اقتدار چھین رہا ہو، جبکہ طالبان نے تو اپنا اقتدار واپس لیا ہے اور اگر ہم پچھلے ۰۲بیس سالوں کا تجزیہ کریں تو پتہ چلے گاکہ شروع کے کچھ سال طالبان نے کم مزاحمت کی اسکے بعد تو صورتحال ایسی دیکھائی دیتی رہی کہ طالبان جب چاہتے کابل پر قبضہ کرسکتے تھے ۔ کیا یہ اس بات کی گواہی نہیں ہے کہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے سوائے اپنے ممالک کی دولت اوراپنے فوجیوں کی قیمتی جانیں ضائع کروائی ہیں ۔ خصوصی طور پر امریکی اور عمومی طور پر دیگر اتحادی ممالک کی عوام کو اپنے ارباب اختیار سے ان بیس سالوں کا حساب لینا چاہئے ۔

بہت سارے ممالک کے داخلی معاملات افغانستان سے بھی بد تر ہوتے ہیں لیکن کیا کوئی دوسرا ملک یا بیرونی طاقت کو مداخلت کی اجازت دی جاتی ہے ۔ طالبان کی پریشانی پاکستان یا ہندوستان تک محدود نہیں بلکہ یہ براعظموں پر پھیلی ہوئی محسوس کی جارہی ہے ۔ جیسے دنیا پر آفاقی نظام حکومت قائم ہونے جارہا ہے جس کے داعی یہ طالبان ہیں ۔ ہمارے پڑوس میں تو صف ِ ماتم بچھی ہوئی ہے(15 اگست 2021) انکی آزادی کا تھا ، اب سے بربادی کی یاد بنامنائینگے ، کہیں کہیں اس کے برعکس لوگ سجدہ شکر بجالانے میں مشغول ہیں ۔ پاکستان ابھی ماحول کا جائزہ بہت غور سے لے رہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان ہمیشہ افغانستان کی فلاح و بہبود کیلئے آگے آگے رہاہے ۔

طالبان نے آمریکہ اور اسکے اتحادیوں کو لگ بھگ بیس سال کا عرصہ دیا کہ وہ افغانستان کو اپنے بس میں کرلیں اور جیسانظام نافذ کرنا چاہتے ہیں کرکے دیکھ لیں لیکن واضح دیکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ اور اسکے اتحادی سوائے عمارتوں کی تعمیر اور تھوڑے بہت ترقیاتی منصوبوں کے سوا افغانستان میں کسی بھی قسم کا بدلاءو نہیں لاسکے، آسان لفظوں میں یہ کہا جانا چاہئے کہ افغان سوچ کو قطعی نہیں بدل پائے ہیں اور سوچ کو بدلنے کے شوق نے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو کتنا نقصان پہنچایا ہے کہ انکی معیشت کو سنبھلنے میں کئی برس لگینگے، یہاں اس گمان کوبھی ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ نے اپنی تاریخی شکست اور بدترین بے عزتی پر پردہ ڈالنے کیلئے دنیا کی ساری توجہ کورونا کی وباء پھیلاکر اس طرف مبذول کروانے کی ممکن حد تک کوشش کی ہے ۔ بظاہر یا البتہ یہ بات انتہائی قابل ذکر ہے جو تقریباً حرف عام بنی ہوئی ہے کہ افغانستان میں حفاظتی عملے یعنی افواج کو ترتیب دینے کیلئے بیس ارب ڈالر خرچ کئے گئے ہیں ، یہ بھی ایک موضوع ہے ۔

افغانستان ایسے مستقل مزاج لوگوں کی اماجگاہ ہے کہ جو اپنی صفوں میں موجود غداروں کی بدولت اپنی سرزمین جز وقتی طور پرکچھ آرام کی غرض سے کسی کو قبضہ کرنے کا شوق پورا کرنے کیلئے دے دیتے ہیں یا پھر اپنے بازءوں کی طاقت کو آزمانے کیلئے دشمن کو نرغے میں لے لیتے ہیں ، صورت کوئی بھی ہوشکست، نقصان اور ذلت قابضین کے حصے میں ہی آتی رہی ہے ۔ طالبان اپنی تاریخ کے اعتبار سے اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو نافذ کرنے کا عزم رکھتے ہیں ، جس کی مخالفت میں بیس سال قبل تقریباً دنیا کھڑی ہوگئی تھی اور طاقت کا ایسا زعم تھاکہ راتوں رات افغانستان کو اپنے قبضے میں کرلینگے ۔ پاکستان بھی اسوقت کے حالات اور ساری دنیا سے مخالفت کرنے کا حوصلہ بھی نہیں تھا اور زمینی حقائق کی روشنی میں سکت بھی نہیں رکھتا تھا، لیکن اسکا مطلب یہ قطعی نہیں تھا ، جس کا بھاری خمیازہ پاکستان نے بھی بھگتا ہے ۔ مکمل جائزہ لیں تو پاکستان کا نقصان بھی افغانستان کے نقصان سے قریب تر ہوگا ۔ اسکے باوجود پاکستان کے دفاعی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کسی نا کسی طرح سے افغانستان کی مدد جاری رکھی ۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغانیوں کو اپنے ملک پر قبضہ کرنے والوں کے شوق کو پورا کرنے دینا اس لئے ممکن ہوتا رہا ہے کہ افغانیوں کا جنگی جنون جو کہ مومن کیلئے اسلحہ کا زیور کی ترجمانی کرتا ہے کہیں ماند نا پڑ جائے کہیں انہیں بھی نرم گرم بچھونوں کی عادت نا پڑجائے ۔ اس لئے وہ ہر وقت میدان عمل میں رہتے ہیں ۔ ےہاں یہ بھی ذہن نشین کرلیجئے کہ پہلے برطانیہ جو اپنے وقت کا سپر پاور تھا، پھر سویت یونین(روس) جو اسوقت کا سپر پاور تھا اور اب ترقی یافتہ دور یعنی تکنیک کی ترقی کا دور اس دور کو چلانے والے سپر پاور امریکہ اور اسکے ساتھ دیگر ترقی یافتہ بھرپور تربیت یافتہ جدید ترین اسلحہ سے لیس افرادی قوت رکھنے والوں کو تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔

آج افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوچکی ہے اور طالبان نے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے ملک کی ترقی اور بحالی کیلئے رابطے شروع کردئے ہیں ، ملک میں تعلیم کے ترویج کے عمل کو جاری رکھنے کے احکامات بھی جاری کر دئیے گئے ہیں ۔ قوی امید ہے اور اللہ رب العزت پر ایمان ہے کہ طالبان کی حکومت نا صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں پاکستان کو نمایاں کردار منوانے میں اپنا قلیدی کردار ادا رکرتے دیکھائی دینگے اور پاکستان میں صدارتی نظام کی بنیادیں بھی ایک بار مضبوط ہوتی دیکھی جائینگی، بشرطیکہ پاکستان میں موجود ملک دشمن ان تعلقات کو کسی نہیں مشکل میں نا دھکیل دیں ۔

 

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پاکستان کہاں ہے؟
  • مِصری کی ڈلی
  • اور کراچی بہتا رہا!
  • سودا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حسینیت کا پیغام – انسانیت کے نام!
پچھلی پوسٹ
شہرت کیلئے ملک اور قوم کی عزت

متعلقہ پوسٹس

ہو تیری رضا جو, وہ چاہت میری

جون 28, 2020

تقریب تقسیم انعامات

جنوری 4, 2022

ملا ہمیشہ جو بادِ نسیم بن کے مجھے

نومبر 21, 2025

ایک پرائی گڑیا کے نام

جون 18, 2018

وارسا کی شرارتی دیویاں – دوسری قسط

جنوری 20, 2025

اس سے پہلے کہ خودکُشی ہوجائے

نومبر 14, 2021

تو نے مجھ کو نہ غزل گوئی

فروری 26, 2025

رسمِ الفت کی پیار کی باتیں

جولائی 24, 2020

میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں

جنوری 23, 2020

کرونا بوسٹر

ستمبر 26, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آفتاب گردان کی پناہ گاہ

دسمبر 12, 2024

چوتھی کا جوڑا

دسمبر 12, 2019

چراغ حسن حسرت

مارچ 29, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں