491
یہ باز گشت جو سب کو سنائی جاتی ہے
یہ روشنی مرے کمرے سے لائی جاتی ہے
میں چاہتا ہوں مرا پھول خود پکارے مجھے
وگرنہ شاخ تو کیا کیا جھکائی جاتی ہے
میں خود کفیل اداسی کا پہلا وارث ہوں
یہ فصلِ گل بھی مجھی سے اگائی جاتی ہے
جنوں میں خاک اڑاؤ فغاں بلند کرو
ہمارے عشق کی میت اٹھائی جاتی ہے
یہ کائنات تو کچھ بھی نہیں زمیں بھی منیر
ہمارے پاؤں کے نیچے گھمائی جاتی ہے
منیر جعفری
