خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابارجو
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریر

رجو

از فرحین جمال جنوری 3, 2022
از فرحین جمال جنوری 3, 2022 0 تبصرے 45 مناظر
46

آج وہ شدید غصّے میں تھی . کسی بپھری ہوئی ناگن کی طرح پھنکار رہی تھی ،آنکھوں شعلہ بار تھیں اور زبان زہر میں بجھی ہوئی، ہاتھ میں سونٹا پکڑے ، دھڑا دھڑ بلو پر برسا رہی تھی ،اور بلو چہرے پر بلا کی معصومیت لئے ، ایک بوسیدہ سا کرتا جس کی آستین چھوٹی ہونی کی وجہ سے کہنیوں تک آتی تھیں اور ٹخنوں سے اونچی شلوار پہنے سہما سہما سا اپنی جگہ پر ہی کھڑا تھا، جیسے رجو کے ہاتھ کی مار بھی کوئی بڑی نعمت ہو۔ اس کے منہ میں جو آتا وہ اس کو کہے جاتی اور ساتھ ہی ساتھ ،دبلے پتلے لڑکے پر اپنے وار کئیے جاتی۔

” لے ایک اور لے ‘ ‘ آج ذرا تجھے پتہ تو چلے نا کہ مار کس کو کہتے ہیں ..؟؟ رجو نے کس کر بلو کی کمر پر ڈنڈا جڑ دیا .” آ جاتا ہے روزا نہ ہی نقصان کر کے “.. نا تیرے باپ کا پیسہ ہے کیا ؟؟ ..دیکھ کر کام نہیں کرتا ..مفت خورا .”

اس نے ہونٹ سیکڑ کر نفرت سے کہا۔

قصہ کچھ یوں تھا کہ بلو نے آج دودھ کا ڈول اٹھاتے ھوے الٹ دیا تھا، اس میں اس بیچارے کا بھی کوئی قصور نہیں تھا، وہ تھا ہی اتنا وزنی کہ ایک دس سال کے بچے کے بس کی بات نہیں تھی، پر رجو کو اس سے کیا، اس کو تو بلو کے روپ میں اپنی، تلخیوں، محرومیوں اور ناکامیوں کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل جاتا تھا ،اور آئے دن ،اس کی ٹھکائی ہوتی رہتی۔ وہ معصوم بھی ایسا نامراد کہ جتنا رجو اسے پرے دھکیلتی وہ اتنا ہی اس کے قرب کا خواں رہتا۔ بچپن سے ہی گھس کر بیٹھنے کی عادت ہو گئی تھی بلو کو! جیسے وہ ہی اس کا مرکز و محور ہو۔ وہ ڈھائی برس کا تھا جب خیراں ماسی کے ساتھ یہاں آیا تھا۔

رجوکا اصلی نام رضیہ تھا۔ وہ بھی دوسری لڑکیوں کی طرح، شوخ و چنچل ہوا کرتی تھی، بات بے بات، ہونٹوں سے قہقہے ابل پڑتے تھے؛ گاؤں کے گلی کوچوں میں اِٹھلاتی پھرتی تھی ،اور بھئی کیوں نا اِتراتی کہ خیر دین کی اکلوتی اولاد تھی۔ خیر دین کوئی بہت بڑا زمیندار تو نہیں تھا ،بس چند ایکڑ زمین تھی ،ایک پکا مکان تھا، اچھی گزر بسر ہو جاتی تھی۔ جب بھی شہر جاتا تو رجو کے لئے نئی نئی چوڑیاں اور کپڑے لاتا۔ اسکی بیوی اکثر ،خیر دین کو کہتی۔

“کہ دیکھ لڑکی ہے ‘ اِسے دوسرے گھر بھی جانا ہے۔ اتنے ناز نہ اٹھایا کر تو۔ ” پر وہ کہتا۔

” او نیک بخت پتا نہیں دوسرا گھر کیسا ہو ؟؟ بس تو رجو اور میرے درمیاں نا بولا کر۔ ” اور بلقیس چپ ہو جاتی۔

بیٹی سے محبت کے معاملے میں خیر دین جنونی حد تک خود پسند اور خود غر ض تھا۔ رجو پندرہ سال کی تھی ابھی شعور کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ اس کی ماں اچانک بیمار پڑ گی اور مہینے کے اندر ہی فوت ہو گئی۔ ماں کی جدائی، اس کے لئے بہت ہی بڑا سانحہ تھی۔ ایک دم ہی اس کے سر کی چھاؤں چھن گئی تھی اور گھر کی ذمہ داری کا بوجھ اس پر آن پڑا۔ ابھی تو خود ہی بچی تھی، اچانک افتاد پڑی تو گھبرا ہی گئی۔ بیوی کی وفات کے بعد خیر دین کا گھر میں آنا جانا بھی کم ہو گیا اور اب ہفتہ ہفتہ، گھر کا رخ نہ کرتا ، زیادہ تر ڈیرے پر ہی رہتا، ان تمام حالات نے اس میں تلخی اداسی اورگھٹن کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی، اور وہ اپنی محرومیوں کا بدلہ دوسروں سے لینے لگی۔

خیر دین سال بھر تو بیٹی کی محبّت میں گاؤں میں ہی رہا پھر شہر جا کر دوسری شادی کر لی اور وہیں کا ہو رہا، اور رجو کو ماسی خیراں کے ساتھ اس کے گاؤں بھیج دیا، اس کا دل وہاں بالکل بھی نہیں لگا تھا اور چھ ماہ بڑی مشکل سے سزا کے طور پر کاٹ کر واپس اپنے گھر آ گئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ کس سے زیادہ نفرت کرتی ہے؟ .بلو سے، خود سے یا اپنے بے حس خود غرض باپ سے۔ بس اس کی نفرت اور بدلے کی آگ کا ایندھن بلو ہی بنتا تھا۔ سو آج بھی وہ ہی تھا اور رجو کا جنون۔ مار کھائے چلا جا رہا تھا اور اپنی بڑی بڑی معصوم آنکھوں سے رجو کے چہرے کا طواف کرتا جا رہا تھا۔ اس بیچارے کا بھی کوئی اور نہیں تھا ،بس یہ ہی تھی جو اس کا سب کچھ تھی، عجیب سا رشتہ تھا دونوں میں ۔۔۔ محبت ۔۔۔ نفرت کا ۔۔۔ وہ، بلو کو دیکھ کر پل پل کڑھتی تھی، نفرت سے بل کھاتی تھی، اور کبھی کبھی تو بلا وجہ ہی اس کو اپنے عتاب کا نشانہ بناتی، جیسے اذیت پسندی اس کی شخصیت میں در آئی ہو ۔۔۔ جب مار مار کر تھک جاتی تو ڈنڈا ایک طرف پھینک کر رونے بیٹھ جاتی .اور بلو اس کو روتا دیکھ کر خود بھی رو دیتا۔

زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے کرم دین چچا اور دو ملازم تھے۔ گھر کو ماسی خیراں کے حوالے کر کے اس کا باپ ہر طرف سے بے نیاز ہو گیا۔ آج دس سال ہونے کو آے تھے۔ مہینہ دو مہینے بعد شہر سے آ جاتا ورنہ اپنے بیوی بچوں میں مگن رہتا۔ رجو بیچاری ماں کے ساتھ ساتھ باپ کی شفقت سے بھی محروم ہو گئی۔ تنہائیوں نے اس کے ذہن اور جسم کو کائی زدہ کر دیا تھا۔ پچھلے مہینے جب خیردین شہر سے آیا تو اس کے لئے بہت سے کپڑے اور چوڑیاں لایا تھا۔ رجو کے رویے میں اپنے باپ کے لئے بہت سرد مہری تھی، وہ اس کی لائی ہوئی چیزوں کو نفرت سے اٹھا کر پھینک دیتی۔ باپ کی محبت کچھ ایسی تھی کہ اسے بیٹی کی آنکھوں میں اس کی آرزوٗں ، تمناؤں ،خواھشات کی بجھتی قندیل نظر نہیں آتی تھی۔ اس بار اسے چچا کرم دین کی وجہ سے آنا پڑا کہ وہ اب زمینوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا تھا، بوڑھا ہو گیا تھا۔ کام نہیں ہوتا تھا اس سے۔ خیر دین ،شہر سے اپنے ساتھ فرید کو لے آیا تھا وہ ایک صحت مند اونچا، چوڑی چھاتی ،گندمی رنگت اور گہری آنکھوں والا جوان تھا عمر پچیس، تیس کے درمیان رہی ہو گی۔ فرید کافی عرصے سے شہر میں خیر دین کے کام کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔ تھوڑا پڑھا لکھا بھی تھا۔ رجو کو فرید کا آنا برا تو نہیں لگا تھا لیکن وہ باپ کے اس فیصلے سے اتنا زیادہ خوش بھی نہیں تھی۔ چچا کرم دین تو اپنا گاؤں کا دیکھا بھالا بندہ تھا اور اب اس شہر والے کا جانے کیسا مزاج ہو؟۔ باپ تو کچھ دن رہ کر چلا گیا اور فرید نے زمینوں کا سارا انتظام سنبھال لیا۔ آہستہ آہستہ اس کی دوستی بلو سے ہو گئی اور وہ دونوں اکثر ساتھ ساتھ رہتے تھے اور رجو کے سینے پر سانپ لوٹ جاتا، پتہ نہیں اس کو بلو سے ایسی کیا چڑ تھی کہ وہ جتنا فرید کے قریب ہوتا وہ اتنا ہی اس سے نفرت کرتی اور کسی نہ کسی بات پر اس کی پٹائی کر دیتی۔ وہ خود بھی اپنے اس رقابت کے جذبے کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ شاید اس کے دل کے نہاں خانوں میں فرید کے لئے محبت پل رہی تھی، سوے ہو ے جذبے سر اٹھا رہے تھے اور اس میں کسی کی شراکت برداشت نہیں ہوتی تھی۔ ادھر بلو نے جب رجو کی آنکھوں میں فرید کے لئے پیار دیکھا تو وہ فرید سے اور قریب ہو گیا کہ جو رجو کو پیارا وہ اس کو بھی دل و جان سے زیادہ عزیز تھا ۔ وہ تو جیتا ہی اسی کے لئے تھا۔

وقت ان دونوں کو بہت قریب لے آیا۔ رجو کو جیسے نئی زندگی مل گئی۔ فرید گھر سے باہر احاطے میں رہتا تھا، رات کو وہ اور بلو ریڈیو پر گانے سنتے، تاش کھیلتے یا فرید اس کو شہر کی باتیں بتاتا، وہاں کی اونچی اونچی عمارتیں ، بڑے بڑے پارک، لمبی لمبی پختہ سڑکیں اور سینما گھر۔ اس کے لیئے یہ ایک نئی دنیا تھی، وہ شہر کے قصے بہت اشتیاق سے سنتا اور اس سے کہتا کہ اگلی بار وہ شہر جائے تو اسے بھی ساتھ لے کر جائے۔ فرید نے اس سے وعدہ کر رکھا تھا۔ دو مہینے بعد جب وہ شہر جانے لگا تو بلو کو اپنے ساتھ شہر لے گیا۔ خود سیر کرائی۔ پتلون اور قمیض بھی لے کر دی اور سینما میں فلم بھی دکھائی۔ رجو سے فرید کا بلو کے لئے التفات برداشت نہیں ہوتا تھا اور وہ اکثر اسی بات پر اس سے الجھ پڑتی ،فرید اس کو سمجھاتا کہ” یتیم بچہ ہے، تھوڑی سی توجہ اس کو خوش کر دیتی ہے تو کیوں وہ اس کو اپنے دل پر لیتی ہے؟”، پر رجو کی عجیب منطق تھی کہ جو اسکا تو بس صرف اس کا ہی ہو کر رہے، یہ صفت بھی اس کو شاید باپ سے ہی ملی تھی۔ وہ تو فرید کو اپنی ملکیت سمجھتی ، وقت سبک رفتاری سے آگے کی طرف دوڑ رہا تھا۔

فرید اور رجو کے تعلق پر گاؤں میں بھی دبی دبی زبان میں باتیں ہونے لگی تھیں، ماسی خیراں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اِن افواہوں کو کیسے دبائے، سب سے زیادہ تکلیف تو چوہدری کے بیٹے منظور کو تھی جس کی نظر رجو پر کافی عرصے سے تھی لیکن وہ اچھے قماش کا آدمی نہیں تھا اور پہلے سے شادی شدہ، لیکن خود کو علاقے کا بلا شراکت غیر مالک سمجھتا اور گاؤں کی ہر لڑکی اس کی ملکیت کے دائرے میں آتی تھی۔

ہر سال گاؤں میں فصل کی کٹائی کے بعد میلہ لگتا تھا اور اس سال بھی تیاریاں زوروں پر تھیں، بلو اس میلے میں جانے کو بہت بےتاب تھا، اس سے پہلے تو کبھی جانا نہیں ہوا کہ اس کا کوئی دوست ہی نہیں تھا جو اس کو میلے ٹھیلوں میں لے کر جاتا لیکن اس بار فرید نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے لے کر جائے گا ، اس کی خوشی دیدنی تھی۔ خیر سے وہ دن بھی آ گیا جس دن ان دونوں نے جانا تھا ،بلو اسی پتلو ن اور قمیض میں تیار ہوا جو فرید نے اسے لے کر دی تھی، خوشی اس کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی اور بات بے بات قہقہہ بھی نکل جاتا، رجو اندر بیٹھی غصے سے پیچ و تاب کھاتی رہی، اب وہ تو جا نہیں سکتی تھی فرید کے ساتھ، لہٰذا دل جلانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ شام ہوتے ہی دونوں گھر سے نکل گئے، فرید جاتے جاتے کہہ گیا تھا کہ ان کو دیر ہو جائے گی اس لئے وہ انتظار نہ کرے۔ رجو کے تن بدن میں تو جیسے آگ ہی لگ گئی تھی پر منہ سے کچھ نہ بولی۔

رات کا کوئی پچھلا پہر ہو گا جب باہر کے دروازے پر زور دار انداز میں کسی نے دستک دی، جب کئی بار دروازہ دھڑ دھڑانے پر بھی کسی نے نہیں کھولا تو، رجو کی آنکھ کھل گئی اور وہ دروازہ کھولنے کیلئے بستر سے اٹھی، قریب جا کر پوچھا ،کون ہے؟، باہر سے فرید کی کانپتی لرزتی ہوئی آواز آئی۔ “رجو جلدی دروازہ کھول۔” اس نے جلدی سے کنڈی گرا دی اور فرید اپنے دونوں بازوں میں خون میں لت پت بلو کو اٹھا کر اندر داخل ہوا۔ رجو کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور وہ جیسے سکتے میں آ گئی، اس کی نظریں اس خون میں ڈوبے وجود سے ہٹ نہیں رہی تھیں، فرید نے بلو کو چار پائی پر ڈالا۔

” اسے … اسے کیا ہوا ہے؟” رجو نے ہکلاتے ہوے پوچھا۔ وہ منظور اور اس کے ساتھیوں نے راستہ روک لیا تھا واپسی پر اور تیرے بارے میں بہت بکواس شروع کر دی، بلو سے رہا نہ گیا اور ان پر نہتا ہی ٹوٹ پڑا، میں نے بھی بہت سوں کی پٹائی کی لیکن وہ زیادہ تھے اور ہم صرف دو، منظور نے ٹوکے سے اس پر وار کر دیا، پر پھر بھی یہ ان سے لڑتا رہا ، فرید جانے کیا کیا کہتا رہا، اس کی آواز جیسے کہیں دور سے آتی محسوس ہو رہی تھی، آہ و فغاں کا ایک طوفان تھا جو اس کے اندر مچ گیا تھا اس کا دل شدت غم سے پھٹا جا رہا تھا، وہ ایک دل دہلا دینی والی چیخ مار کر چار پائی کی پائنتی پر گر گئی اور چلا کر بولی؛

” ہائے نی میرا پُت۔” فرید نے چونک کر حیرت سے رجو کی طرف دیکھا۔

” تیرا بیٹا؟ پر تیری تو ابھی شادی نہیں ہوئی ؟؟”

اسے کہاں ہوش تھا کہ کوئی جواب دیتی، نبض ہر لمحہ ڈوبتی جا رہی تھی ایک اور دلدوز چیخ رجو کے حلق سے بلند ہوئی اور وہ سینے پر دو ہتھڑ ما کر بولی؛

‘ ہائے ۔۔۔ ہائے نی میرا ویر ۔۔۔۔! ” اور چارپائی کے پاس ہی ڈھیر ہو گئی۔

فرحین جمال

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اٹھائے رنج کئی خود کو آزماتے ہوئے
  • اتنا سامان تو گٹھڑی میں نہیں آئے گا
  • وفائیں، پیار، محبت
  • زندگی اک کھلی کتاب ھے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
فرحین جمال

اگلی پوسٹ
پچیس سال کی لیز
پچھلی پوسٹ
زندگی کی سب سے بڑی خواہش

متعلقہ پوسٹس

یوں بھی چھپتا ہے بھلا، وجد میں آیا ہُوا رنگ؟

مئی 9, 2020

جلے ایسی شناسائی

اگست 23, 2020

یوم آزادی اور آزادی

اگست 22, 2022

معصومیت

دسمبر 25, 2024

خود سے شرمندہ ہیں

اگست 5, 2025

تُو نے دیکھا کبھی دریا کے رواں پانی کو

جولائی 7, 2020

فنکار تو فن پارہ و شہکار میں گم ہے

اکتوبر 27, 2025

جب اس پر پھول آئیں گے تو حیرانی بنے گی

جون 6, 2020

کہی ہے پھر بھی اب تک ان کہی ہے

اکتوبر 16, 2025

اتحاد امت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا...

فروری 22, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پچاس برس کے بعد

مئی 24, 2026

کورونا کی لہروں میں ڈولتی دنیا!

اپریل 11, 2021

زندگی خوف سے تشکیل نہیں کرنی...

مئی 23, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں