خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکھلا خط
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشاہد نسیم چوہدری

کھلا خط

از شاہد نسیم چوہدری دسمبر 31, 2025
از شاہد نسیم چوہدری دسمبر 31, 2025 0 تبصرے 147 مناظر
148

فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کے نام کھلا خط

پاک فوج کے خلاف گھٹیا مہم کا حصہ بننے والوں کے لئے فوجی عدالتیں ناگزیرہو چکی ہیں۔پاک فوج کے خلاف فیک ویڈیو بنانے والوں ،شیئر کرنےوالوں ، اور لائک کرنے والوں کے خلاف قانون کب حرکت میں آئے گا۔یہ موضوع حساس بھی ہے اور سنگین بھی—کیونکہ اس کا تعلق اس ریاستی ادارے سے ہے جو ہماری قومی سلامتی کی ضمانت ہے، اور اس معاشرتی رویّے سے بھی جو سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے رواج پا رہا ہے۔ مگر اسی حساسیت کے تقاضے کے مطابق بات ذمہ داری، سنجیدگی اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کرنی چاہیے۔ فوج ہو یا کوئی بھی ادارہ، اس کے خلاف گھڑی گئی جھوٹی، گمراہ کن اور نفرت پھیلانے والی ویڈیوز صرف ایک فرد یا ایک تنظیم کو نہیں، پوری قوم کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ ریاست کا ردِّعمل قانون، شواہد اور شفافیت پر مبنی ہو، نہ کہ جذبات اور جلد بازی پر۔
فیک ویڈیوز: ایک نیا محاذِ جنگ
ایک مخصوص سیاسی جماعت کے مٹھی بھر عناصر پاک فوج اور حکومت کے خلاف جھوٹ پر مبنی گھٹیا مہم چلا رہے ہیں۔آج کی دنیا میں جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی، بلکہ بسا اوقات یہ سمارٹ فون کی اسکرین کے ذریعے گھروں میں داخل کردی جاتی ہے۔ گمراہ کن ویڈیوز، ایڈیٹ شدہ کلپس، چیٹ جی پی ٹی سے لیے گئے جعلی بیانات اور ڈیپ فیک—یہ سب ہتھیار بن چکے ہیں۔ جب کسی فوجی افسر کو منشیات کے ساتھ دکھایا جائے، کسی جنرل کو گھسیٹتے ہوئے پیش کیا جائے یا کسی سپاہی کے کردار پر انگلی اٹھائی جائے، تو اس کا اصل مقصد ادارے کی ساکھ پر حملہ کرنا ہوتا ہے۔ دشمن کو اس سے مدد ملتی ہے، معاشرہ تقسیم ہوتا ہے اور اداروں پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ہے: کیا ہر وائرل ویڈیو حقیقت ہوتی ہے؟جواب ہے—ہرگز نہیں۔
اسی لیے ضروری ہے کہ قوم فیک نیوز کی پہچان سیکھے، اور ریاست ان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے جو شعوری طور پر جھوٹ پھیلاتے اور سسٹم کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فوج اور حکومت کے نام چند گزارشات
یہ کالم فوج اور حکومت دونوں کے نام ہے—کیونکہ اس جنگ کا مقابلہ بھی دونوں نے مل کر ہی کرنا ہے۔
1۔ مضبوط قانون—but due process کے ساتھ
جھوٹی اور اشتعال انگیز ویڈیوز بنانے اور پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں ہونی چاہئیں، لیکن یہ سزائیں شفاف قانونی عمل کے بعد دی جائیں۔ شواہد، فرانزک جانچ، ڈیجیٹل ٹریس، گواہی—سب کچھ دستاویزی شکل میں ہو۔ جو بے قصور ہو، اسے ڈرنے کی ضرورت نہ پڑے، اور جو قصوروار ہو، وہ قانون کی زد سے نہ بچ سکے۔
اگر شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے جائیں تو یہ ایک بڑا اور غیر معمولی قدم ہے—اس لیے اس پر وسیع قومی مکالمہ، آئینی تقاضوں کی تکمیل اور قانونی تحفظات لازم ہیں۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے، ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
2۔ اظہارِ رائے اور سازش میں فرق
تنقید جرم نہیں۔ اداروں کی کارکردگی پر بات کرنا، سوال اٹھانا، اصلاح کی بات کرنا—یہ سب ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔ جرم وہ ہے جس میں جھوٹ گھڑا جائے، فیک کلپس تیار کیے جائیں،shahbaz shareef عوام کو گمراہ کیا جائے یا کسی دشمن ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے۔ ریاست کو اسی فرق کو بنیاد بنانا ہوگا۔
3۔ میڈیا لٹریسی—قوم کی ڈھال
ہم جب تک ہر شہری کو یہ نہیں سکھاتے کہ وڈیو کے سورس کو دیکھو، تاریخ اور سیاق دیکھو، ادارہ جاتی وضاحت کا انتظار کرو—تب تک فیک نیوز کا سیلاب تھمنے والا نہیں۔ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈیجیٹل آگہی پروگرام شروع کیے جائیں۔
4۔ فوج کی خاموشی نہیں—حقائق کی بروقت وضاحت
جب جھوٹی کہانی وائرل ہوتی ہے اور ادارہ دیر سے ردّعمل دیتا ہے، تو شبہ یقین میں بدلنے لگتا ہے۔ ادارہ جاتی ترجمان فوری اور شواہد کے ساتھ وضاحت دیں، تاکہ افواہ جڑ نہ پکڑ سکے۔
قوم کے نام چند باتیں۔ہم سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاستی اداروں کو گرانا دراصل اپنی بنیاد کو کاٹنا ہے۔ اختلاف ایک نعمت ہے مگر جھوٹ کے ساتھ اختلاف زہر بن جاتا ہے۔ کوئی بھی ویڈیو شیئر کرنے سے پہلے تین بار سوچیں:
کیا یہ مستند ہے؟
کیا یہ کسی دشمن ایجنڈے کا حصہ تو نہیں؟
کیا اس سے ملک اور اداروں کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا؟
صرف ایک “شیئر” کبھی کبھی دشمن کے لیے کامیاب وار ثابت ہو جاتا ہے۔
انصاف—طاقت سے بڑا ہتھیار۔ریاست جب مضبوط ہوتی ہے تو اس کی سب سے بڑی دلیل قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ اگر فیک ویڈیو بنانے، شیئر کرنے اور لاک کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں درکار ہیں تو یہ سزائیں عدالتوں، آئین اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے ملنی چاہئیں۔ اجتماعی سزا، اندھی پکڑ دھکڑ، یا لوگوں کو خوف میں مبتلا کرنا مسئلے کو حل نہیں کرتا—بلکہ فاصلے بڑھاتا ہے۔
ہمیں ایک ایسا پاکستان چاہیے جہاں:
فوج کا احترام بھی محفوظ رہے
شہری آزادی بھی محفوظ رہے
انصاف بھی نظر آئے
اور قانون سب کے لیے برابر ہو
کیونکہ یہی ایک مضبوط، مہذب اور باوقار ریاست کی پہچان ہے۔
گمراہ کن اور جعلی ویڈیوز صرف ایک وڈیو نہیں ہوتیں—یہ اعتماد کے شیش محل پر پھینکے گئے پتھر ہوتے ہیں۔ فوج ہماری سلامتی کی دیوار ہے اور اس دیوار میں دراڑ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ مگر یہ کارروائی قانون، آئین، شواہد اور شفافیت کے مطابق ہو—تاکہ دشمن کو شکست ملے، عوام کو اعتماد ملےasim munir اور اداروں کا وقار مزید بلند ہو۔آج ہمیں ایک متوازن راستہ اختیار کرنا ہے—نہ جھوٹ کی آزادی… نہ انصاف کی قربانی۔
ریاست کو مضبوط بھی کرنا ہے، قوم کو متحد بھی رکھنا ہے، اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان میں اختلاف کی گنجائش ہے مگر جھوٹ کی نہیں؛ تنقید کی جگہ ہے مگر نفرت کی سازش کی نہیں؛ اور قانون سے بالا کوئی نہیں—نہ شہری، نہ ادارہ، نہ گروہ۔
اگر ہم نے یہ اصول اپنا لیے، تو کوئی فیک ویڈیو، کوئی پروپیگنڈا، کوئی سازش—ہماری ریاست اور ہماری فوج کے وقار کو گزند نہیں پہنچا سکے گی۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست کو بروقت اور مضبوط فیصلے کرنے ہوں گے۔ جو عناصر دانستہ طور پر فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں، جھوٹی ویڈیوز بنا کر اداروں کے خلاف نفرت اور بداعتمادی پھیلاتے ہیں، وہ دراصل قومی سلامتی پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ایسے منظم اور سنگین جرائم کے مقدمات قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کے ساتھ فوجی عدالتوں میں سنے جائیں، جہاں شواہد، فرانزک تحقیقات اور منصفانہ کارروائی کے ذریعے مجرموں کو قرارِ واقعی سزا مل سکے۔ یہ عمل نہ کسی بےقصور کو نقصان پہنچائے گا نہ انصاف سے انحراف ہوگا، بلکہ دشمن کے پروپیگنڈے کو بھی مات دے گا۔ قوم کو یہ یقین ملنا چاہیے کہ اختلاف کی آزادی اپنی جگہ، مگر مادرِ وطن اور اس کے محافظوں کے خلاف سازش کسی صورت برداشت نہیں۔ جب انصاف مضبوط اور بروقت ہوگا تو فوج اور عوام کا رشتہ مزید مضبوط، اور ریاست مزید محفوظ ہو جائے گی۔
"فوجی عدالتیں ناگزیر ہو چکی ہیں”
مطلب یہ ہے کہ:
حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ عام عدالتوں کے ساتھ ساتھ فوجی عدالتوں کا قیام یا ان کا استعمال اب ضروری سمجھا جا رہا ہے، اور ان کے بغیر مسئلے کا مؤثر حل ممکن نہیں لگتا۔یعنی یہ سمجھا جانا چاہیے کہ:
فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کے نام کھلے خط کے ذریعےاپیل ہے کہ ۔۔۔کچھ جرائم ایسے نوعیت کے ہیں جو قومی سلامتی، ریاست اور فوج سے براہِ راست جڑے ہیں۔ان جرائم میں ملوث افراد کے لیے تیز، مؤثر اور سخت قانونی کارروائی درکار ہے۔لہٰذا فوجی عدالتوں کو چلانا یا دوبارہ فعال کرنا اب اختیار نہیں بلکہ لازمی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔۔۔
البتہ یہ ایک رائے یا مطالبہ ہوتا ہے—اس کا یہ مطلب نہیں کہ قانونی یا آئینی تقاضے خود بخود پوری طرح طے ہو
جاتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیشہ قانونی آئینی دائرہ، شفاف طریقۂ کار اور انصاف کی مکمل ضمانت اہم ہوتی ہے۔لہذا محترم فیلڈ مارشل صاحب اور وزیر اعظم صاحب ! قومی سلامتی کے لئے ایسے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لینا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔۔۔۔!

شاہد نسیم چوہدری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گناہ بے لذت اور معصوم کا خون
  • قریب آ کے بھی کوئی کہے نہیں ملنا
  • یہ ہی چراغ جلینگے تو روشنی ہوگی!
  • چھوکری کی لوٹ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
شاہد نسیم چوہدری

اگلی پوسٹ
نیا سال مبارک
پچھلی پوسٹ
بزرگوں کے سرہانے بیٹھ جائیں

متعلقہ پوسٹس

گرم کوٹ

جنوری 17, 2020

مرزا اسداللہ خاں غالبؔ ؔ

اپریل 16, 2023

فراوانی سے قلت کا سفر!

اکتوبر 14, 2023

خط اور انتظار

نومبر 14, 2019

پریشانیاں اور آزمائش اور اس میں اللہ کی حکمت

مارچ 25, 2024

منٹو مغربی استعمار کے خلاف ایک توانا آواز

اپریل 7, 2026

جو لکھنے کو قلم رکھنا

اپریل 17, 2026

آرزو

مئی 20, 2020

سیب کا درخت

مئی 20, 2020

خود کی پہچان

جنوری 24, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سوچتی ہوئی بے باک شاعری

جولائی 5, 2024

پہلے تو آتی تھیں عیدیں بھی...

مارچ 15, 2026

مہندی کے نقش و نگار

جنوری 5, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں