فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کے نام کھلا خط
پاک فوج کے خلاف گھٹیا مہم کا حصہ بننے والوں کے لئے فوجی عدالتیں ناگزیرہو چکی ہیں۔پاک فوج کے خلاف فیک ویڈیو بنانے والوں ،شیئر کرنےوالوں ، اور لائک کرنے والوں کے خلاف قانون کب حرکت میں آئے گا۔یہ موضوع حساس بھی ہے اور سنگین بھی—کیونکہ اس کا تعلق اس ریاستی ادارے سے ہے جو ہماری قومی سلامتی کی ضمانت ہے، اور اس معاشرتی رویّے سے بھی جو سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے رواج پا رہا ہے۔ مگر اسی حساسیت کے تقاضے کے مطابق بات ذمہ داری، سنجیدگی اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کرنی چاہیے۔ فوج ہو یا کوئی بھی ادارہ، اس کے خلاف گھڑی گئی جھوٹی، گمراہ کن اور نفرت پھیلانے والی ویڈیوز صرف ایک فرد یا ایک تنظیم کو نہیں، پوری قوم کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ ریاست کا ردِّعمل قانون، شواہد اور شفافیت پر مبنی ہو، نہ کہ جذبات اور جلد بازی پر۔
فیک ویڈیوز: ایک نیا محاذِ جنگ
ایک مخصوص سیاسی جماعت کے مٹھی بھر عناصر پاک فوج اور حکومت کے خلاف جھوٹ پر مبنی گھٹیا مہم چلا رہے ہیں۔آج کی دنیا میں جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی، بلکہ بسا اوقات یہ سمارٹ فون کی اسکرین کے ذریعے گھروں میں داخل کردی جاتی ہے۔ گمراہ کن ویڈیوز، ایڈیٹ شدہ کلپس، چیٹ جی پی ٹی سے لیے گئے جعلی بیانات اور ڈیپ فیک—یہ سب ہتھیار بن چکے ہیں۔ جب کسی فوجی افسر کو منشیات کے ساتھ دکھایا جائے، کسی جنرل کو گھسیٹتے ہوئے پیش کیا جائے یا کسی سپاہی کے کردار پر انگلی اٹھائی جائے، تو اس کا اصل مقصد ادارے کی ساکھ پر حملہ کرنا ہوتا ہے۔ دشمن کو اس سے مدد ملتی ہے، معاشرہ تقسیم ہوتا ہے اور اداروں پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال ہے: کیا ہر وائرل ویڈیو حقیقت ہوتی ہے؟جواب ہے—ہرگز نہیں۔
اسی لیے ضروری ہے کہ قوم فیک نیوز کی پہچان سیکھے، اور ریاست ان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے جو شعوری طور پر جھوٹ پھیلاتے اور سسٹم کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فوج اور حکومت کے نام چند گزارشات
یہ کالم فوج اور حکومت دونوں کے نام ہے—کیونکہ اس جنگ کا مقابلہ بھی دونوں نے مل کر ہی کرنا ہے۔
1۔ مضبوط قانون—but due process کے ساتھ
جھوٹی اور اشتعال انگیز ویڈیوز بنانے اور پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں ہونی چاہئیں، لیکن یہ سزائیں شفاف قانونی عمل کے بعد دی جائیں۔ شواہد، فرانزک جانچ، ڈیجیٹل ٹریس، گواہی—سب کچھ دستاویزی شکل میں ہو۔ جو بے قصور ہو، اسے ڈرنے کی ضرورت نہ پڑے، اور جو قصوروار ہو، وہ قانون کی زد سے نہ بچ سکے۔
اگر شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے جائیں تو یہ ایک بڑا اور غیر معمولی قدم ہے—اس لیے اس پر وسیع قومی مکالمہ، آئینی تقاضوں کی تکمیل اور قانونی تحفظات لازم ہیں۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے، ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
2۔ اظہارِ رائے اور سازش میں فرق
تنقید جرم نہیں۔ اداروں کی کارکردگی پر بات کرنا، سوال اٹھانا، اصلاح کی بات کرنا—یہ سب ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔ جرم وہ ہے جس میں جھوٹ گھڑا جائے، فیک کلپس تیار کیے جائیں،
عوام کو گمراہ کیا جائے یا کسی دشمن ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے۔ ریاست کو اسی فرق کو بنیاد بنانا ہوگا۔
3۔ میڈیا لٹریسی—قوم کی ڈھال
ہم جب تک ہر شہری کو یہ نہیں سکھاتے کہ وڈیو کے سورس کو دیکھو، تاریخ اور سیاق دیکھو، ادارہ جاتی وضاحت کا انتظار کرو—تب تک فیک نیوز کا سیلاب تھمنے والا نہیں۔ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈیجیٹل آگہی پروگرام شروع کیے جائیں۔
4۔ فوج کی خاموشی نہیں—حقائق کی بروقت وضاحت
جب جھوٹی کہانی وائرل ہوتی ہے اور ادارہ دیر سے ردّعمل دیتا ہے، تو شبہ یقین میں بدلنے لگتا ہے۔ ادارہ جاتی ترجمان فوری اور شواہد کے ساتھ وضاحت دیں، تاکہ افواہ جڑ نہ پکڑ سکے۔
قوم کے نام چند باتیں۔ہم سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاستی اداروں کو گرانا دراصل اپنی بنیاد کو کاٹنا ہے۔ اختلاف ایک نعمت ہے مگر جھوٹ کے ساتھ اختلاف زہر بن جاتا ہے۔ کوئی بھی ویڈیو شیئر کرنے سے پہلے تین بار سوچیں:
کیا یہ مستند ہے؟
کیا یہ کسی دشمن ایجنڈے کا حصہ تو نہیں؟
کیا اس سے ملک اور اداروں کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا؟
صرف ایک “شیئر” کبھی کبھی دشمن کے لیے کامیاب وار ثابت ہو جاتا ہے۔
انصاف—طاقت سے بڑا ہتھیار۔ریاست جب مضبوط ہوتی ہے تو اس کی سب سے بڑی دلیل قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ اگر فیک ویڈیو بنانے، شیئر کرنے اور لاک کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں درکار ہیں تو یہ سزائیں عدالتوں، آئین اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے ملنی چاہئیں۔ اجتماعی سزا، اندھی پکڑ دھکڑ، یا لوگوں کو خوف میں مبتلا کرنا مسئلے کو حل نہیں کرتا—بلکہ فاصلے بڑھاتا ہے۔
ہمیں ایک ایسا پاکستان چاہیے جہاں:
فوج کا احترام بھی محفوظ رہے
شہری آزادی بھی محفوظ رہے
انصاف بھی نظر آئے
اور قانون سب کے لیے برابر ہو
کیونکہ یہی ایک مضبوط، مہذب اور باوقار ریاست کی پہچان ہے۔
گمراہ کن اور جعلی ویڈیوز صرف ایک وڈیو نہیں ہوتیں—یہ اعتماد کے شیش محل پر پھینکے گئے پتھر ہوتے ہیں۔ فوج ہماری سلامتی کی دیوار ہے اور اس دیوار میں دراڑ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ مگر یہ کارروائی قانون، آئین، شواہد اور شفافیت کے مطابق ہو—تاکہ دشمن کو شکست ملے، عوام کو اعتماد ملے
اور اداروں کا وقار مزید بلند ہو۔آج ہمیں ایک متوازن راستہ اختیار کرنا ہے—نہ جھوٹ کی آزادی… نہ انصاف کی قربانی۔
ریاست کو مضبوط بھی کرنا ہے، قوم کو متحد بھی رکھنا ہے، اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان میں اختلاف کی گنجائش ہے مگر جھوٹ کی نہیں؛ تنقید کی جگہ ہے مگر نفرت کی سازش کی نہیں؛ اور قانون سے بالا کوئی نہیں—نہ شہری، نہ ادارہ، نہ گروہ۔
اگر ہم نے یہ اصول اپنا لیے، تو کوئی فیک ویڈیو، کوئی پروپیگنڈا، کوئی سازش—ہماری ریاست اور ہماری فوج کے وقار کو گزند نہیں پہنچا سکے گی۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست کو بروقت اور مضبوط فیصلے کرنے ہوں گے۔ جو عناصر دانستہ طور پر فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں، جھوٹی ویڈیوز بنا کر اداروں کے خلاف نفرت اور بداعتمادی پھیلاتے ہیں، وہ دراصل قومی سلامتی پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ایسے منظم اور سنگین جرائم کے مقدمات قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کے ساتھ فوجی عدالتوں میں سنے جائیں، جہاں شواہد، فرانزک تحقیقات اور منصفانہ کارروائی کے ذریعے مجرموں کو قرارِ واقعی سزا مل سکے۔ یہ عمل نہ کسی بےقصور کو نقصان پہنچائے گا نہ انصاف سے انحراف ہوگا، بلکہ دشمن کے پروپیگنڈے کو بھی مات دے گا۔ قوم کو یہ یقین ملنا چاہیے کہ اختلاف کی آزادی اپنی جگہ، مگر مادرِ وطن اور اس کے محافظوں کے خلاف سازش کسی صورت برداشت نہیں۔ جب انصاف مضبوط اور بروقت ہوگا تو فوج اور عوام کا رشتہ مزید مضبوط، اور ریاست مزید محفوظ ہو جائے گی۔
"فوجی عدالتیں ناگزیر ہو چکی ہیں”
مطلب یہ ہے کہ:
حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ عام عدالتوں کے ساتھ ساتھ فوجی عدالتوں کا قیام یا ان کا استعمال اب ضروری سمجھا جا رہا ہے، اور ان کے بغیر مسئلے کا مؤثر حل ممکن نہیں لگتا۔یعنی یہ سمجھا جانا چاہیے کہ:
فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کے نام کھلے خط کے ذریعےاپیل ہے کہ ۔۔۔کچھ جرائم ایسے نوعیت کے ہیں جو قومی سلامتی، ریاست اور فوج سے براہِ راست جڑے ہیں۔ان جرائم میں ملوث افراد کے لیے تیز، مؤثر اور سخت قانونی کارروائی درکار ہے۔لہٰذا فوجی عدالتوں کو چلانا یا دوبارہ فعال کرنا اب اختیار نہیں بلکہ لازمی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔۔۔
البتہ یہ ایک رائے یا مطالبہ ہوتا ہے—اس کا یہ مطلب نہیں کہ قانونی یا آئینی تقاضے خود بخود پوری طرح طے ہو
جاتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیشہ قانونی آئینی دائرہ، شفاف طریقۂ کار اور انصاف کی مکمل ضمانت اہم ہوتی ہے۔لہذا محترم فیلڈ مارشل صاحب اور وزیر اعظم صاحب ! قومی سلامتی کے لئے ایسے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لینا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔۔۔۔!
شاہد نسیم چوہدری
