خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرقومی بچت کے بابوں کی تعظیم کیجیے
اردو تحاریراردو کالمزمستنصر حسین تارڑ

قومی بچت کے بابوں کی تعظیم کیجیے

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 20, 2019
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 20, 2019 0 تبصرے 60 مناظر
61

قومی بچت کے بابوں کی تعظیم کیجیے

ویسے تو بڑھاپا ایسی بلائے ناگہانی ہے کہ اس کا شکار ہونے والے ہر شخص پر ترس آتا ہے لیکن دو مقامات ایسے ہیں جہاں بیٹھے ہوئے منتظر بوڑھے دیکھ کر قدرے دکھ ہوتا ہے۔ ایک تو کسی ہسپتال میں‘ کسی ڈاکٹر کے کمرے کے باہر اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے بوڑھے پر۔ اور ان بابا جی نے اکثرکانپتے دونوں ہاتھوں میں اپنے میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹیں اور دیگر نسخہ جات پر مشتمل ایک فائل سینے سے لگا کر رکھی ہوتی ہے۔ بے شک ان کا بیٹا بہت منت کرے کہ اباجی اسے مجھے دے دیں لیکن وہ اسے اور مضبوطی سے پکڑ کر انکاری ہو جاتے ہیں کہ نہیں دوں گا۔ دوسری جگہ جہاں منتظر بوڑھے لوگوں کو دیکھ کر ان پر ترس آتا ہے وہ قومی بچت کے مرکز ہیں اور یہاں وہ میڈیکل فائل کی بجائے اپنی وہ پاس بک سینے سے لگائے ہوتے ہیں جس میں اس رقم کا اندراج ہوتا ہے جو انہوں نے بڑھاپے کے لئے ایک ایک پیسہ جمع کر کے بچائی ہوتی ہے۔ یہاں وہ اس رقم کا ماہانہ منافع حاصل کرنے کے لئے آئے ہوتے ہیں۔ ہسپتال کے بابوں اور قومی بچت کے بابوں میں صرف ایک فرق ہوتا ہے کہ ان کی آنکھوں میں کسی حد تک ناامیدی ہوتی ہے کہ جانے میں اب کبھی تندرست ہوں گا یا نہیں۔

ان کی آنکھوں میں امید ہوتی ہے کہ آج واپس جا کر پوتے پوتیوں کو آئس کریم کھلائیں گے۔ گھر کے جو بل میرے ذمے ہیں ان کو ادا کریں گے اور بہوکی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ مشاہدے میرے اپنے ہیں کیونکہ میں خود بھی ذاتی طور پر ایک سند یافتہ بابا ہوں۔ یہ ہڈ بیتی ہے جو بیان کر رہا ہوں۔ آج سوچا تھا کہ کوئی نہائت سنجیدہ بصیرت افروز اور تاریخی حقائق کے تناظر میں ایک کالم تحریر کروں تاکہ میری بھی دھاک بیٹھ جائے کہ ایسے کالموں کے لئے کسی تجربے وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ کوئی آپ کے تاریخی حقائق اور تجزیوں کو چیلنج کر سکتا ہے۔ چیلنج کر کے اس نے جانا کہاں ہے۔ لیکن عین وقت پر یہ منتظر بابوں کی تصویر سامنے آ گئی اور میں نے سوچا کہ ان کے دکھ کو بھی تو بیان کرنا چاہیے کہ یہ میرے دکھ بھی تو ہیں۔ مسلم امہ کے مستقبل کے بارے میں پیشین گوئیاں پھر کبھی کر لیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ میں بھی اپنے متعدد میڈیکل معائنوں وغیرہ کی فائل سینے کے ساتھ لگاکر کسی ڈاکٹر کے کمرے کے سامنے منتظر بیٹھا ہوں اور عجب لاچارگی کی حالت میں بیٹھا ہوں۔ اگر کسی نے پہچان لیا تو عجیب رونی سی شکل بنا کر پوچھے گا کہ تارڑ صاحب خیریت ہے۔ بھلا خیریت ہوتی تو میں ہسپتال میں بیٹھا ہوتا۔ بیوقوف ۔
لیکن میں کہتا ہوں کہ ہاں جی۔ بس یونہی چیک اپ کروانے کے لئے آ نکلا تھا اور وہ حضرت آپ کی جانب یوں دیکھتے ہیں جیسے دم رخصت ہے اور پھر کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے آپ تو ہمارا سرمایہ ہیں اور پھر جاتے ہوئے مڑ کر دیکھتے ہیں کہ کہیں یہ سرمایہ منجمد تو نہیں ہو گیا۔ قومی بچت کے مرکز میں جب آپ اپنی باری کے منتظر ہوتے ہیں اپنی پاس بک سینے کے ساتھ لگائے تو آس پاس اگر کوئی پہچان لے تو وہ آپ کی جانب نہائت خدا ترسی سے دیکھتا ہے کہ اچھا تارڑ صاحب بھی فُقرے ہیں۔ دراصل پچھلے ہفتے اوپر تلے چار قومی بچت کے مراکز تک جانے کا اتفاق ہوا۔میری بیگم کی جمع پونجی فیروز پور روڈ پر واقع مرکز میں محفوظ تھی۔ وہاں پہنچے تو مرکز غائب۔ دروازے مقفل۔ ادھر ادھر سے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ مرکز یہاں سے شفٹ ہو کر جانے کہاں چلا گیا ہے۔ اگلے روز صبح کی سیر کے چند بابا لوگ سے پوچھ گچھ کی۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر انیس کہنے لگے وہ تو ماڈل ٹاؤن کی فلاں مارکیٹ میں منتقل ہو گیا۔

اگلی سویر ہم دونوں کشاں کشاں وہاں پہنچ گئے اور اسے تلاش کرنے میں چنداں دشواری نہ ہوئی کہ اس کے مقفل دروازے کے باہر بابوں کے ڈھیر تھے۔ ادھر ادھرمرکز کے کھلنے کا انتظار کرتے ہوئے ۔ ظاہر ہے بابیاں بھی تھیں۔ دروازے کے قریب ٹوکن رکھے تھے دو مختلف رنگوں کے۔ ایک صاحب کہنے لگے تارڑ صاحب ٹوکن لے لیجیے باری جلدی آ جائے گی۔ میں نے پوچھا کہ کون سے رنگ کا ٹوکن لوں۔ کہنے لگے ۔دونوں رنگوں کے لے لیجیے۔ کسی کی تو باری آئے گی۔ اور ہاں اس سے پیشتر کارپارکنگ کے لئے مبلغ تیس روپے بھی ادا کئے۔ بہرحال دروازے کھلے تو بابا لوگ نوجوانوں کی مانند قلانچیں بھرتے اندر داخل ہو گئے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ ایک سرکاری ادارہ ہونے کے باوجود نہائت خوش اسلوبی اور تنظیم سے سب کام ہو رہے تھے۔ اگرچہ سٹاف بہت ناکافی تھا اور بابا لوگ بہت کافی تھے۔ اب کیا دیکھتا ہوں کہ میرے ایک پرانے واقف کار اور مہربان ارشاد کریمی صاحب چلے آ رہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ان دنوں وہ اس مرکز میں منیجر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔کریمی صاحب شکل سے پرانی فلموں کے ہیرو لگتے ہیں اور بہت ہنس مکھ اور خوشگوار شخصیت کے مالک۔ انہوں نے نہ صرف ہمیں بلکہ دفتر میں داخل ہونے والے ہر شخص کو عمدہ دودھ کی چائے پلائی اور تمام مسائل حل کر دیے۔ کریمی صاحب نہ صرف ادب سے شغف رکھتے ہیں بلکہ سیرت النبی ؐ بھی ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔ اس سے اگلے روز میں ڈیفنس کے ایچ بلاک میں واقع اس مرکز کی جانب گیا جہاں میری جمع پونجی محفوظ تھی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ گیارہ بجنے کے باوجودوہ بند ہے۔ میرا تو دل دھک سے رہ گیا کہ کیا پتہ نیا پاکستان تعمیر کرنے کے لئے میری مختصر رقم بحق سرکار ضبط کر لی گئی ہو۔ البتہ یہاں ایک نوٹس آویزاں تھا کہ یہ مرکز اب ڈیفنس کے زیڈ بلاک میں شفٹ ہو گیا ہے اور ہاں یہاں میں آپ کو ایک راز کی بات بتاتا ہوں۔ میں نے کریمی صاحب سے شکائت کی کہ حضور مرکز شفٹ کرتے ہوئے اپنے اکائونٹ ہولڈرز کو اگر بذریعہ ڈاک اطلاع کر دیں تو بہت سے بابوں کا بھلا ہو گا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ تارڑ صاحب، ہم ایسا نہیں کرتے اوراس میں ایک حکمت پوشیدہ ہے۔ دراصل بہت سے عمر رسیدہ افراد نے اپنی اولاد اور عزیزوں سے چوری چھپے ہمارے بہبود اکائونٹ میں رقم جمع کروائی ہوتی ہے۔

اگر ہم بذریعہ ڈاک ان کو مرکز کی تبدیلی سے آگاہ کریں تو ان کا بھید کھل جائے گا۔ اولاد کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ والدین سے ناراض ہو جائیں اور ان سے مطالبہ کریں کہ جمع شدہ پونجی ان کے حوالے کریں۔ ایسا ہو چکا ہے اس لئے ہم گھر اطلاع جان بوجھ کر نہیں کرتے۔ بہرحال اب ہم چوتھے مرکز جا پہنچے۔ یہ ابھی زیادہ پرہجوم نہ تھا۔ یہاں کے انچارج سعد احمد مونگا بھی بہت ہی مددگار ثابت ہوئے۔ روپے پیسے کا لین دین ایک حساس مسئلہ ہوتا ہے۔ ذرا سی غلطی پر سٹاف کا پورا کیریئر دائو پر لگ سکتا ہے۔ اس کے باوجود مرکز کا عملہ بہت خوش اسلوبی سے اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے اور ہاں یہ یاد رکھئے کہ یہاں آنے والے بیشتر حضرات عمر رسیدہ ہوتے ہیں۔ زود رنج ہوتے ہیں۔ کچھ بہکے بہکے بھی ہوتے ہیں تو اس نوعیت کے لوگوں کے ساتھ سارا دن ڈیل کرنا بہت مشکل کام ہے۔ ایک صاحب آئے شائد بیوروکریٹ ہوا کرتے تھے ۔ کہنے لگے کاؤنٹر پربیٹھی فلاں لڑکی نے کھردرے انداز میں بات کی ہے۔ پہلے سوچا اس کا تبادلہ بلوچستان کروا دوں پھر خیال آیا کہ تنہا لڑکی بلوچستان میں کیا کرے گی اس لئے میں نے سوچا جانے دو۔ ایک شکل سے بہت متمول دکھائی دیتی بوڑھی خاتون بار بار حساب کر رہی تھی کہ میرے اکاؤنٹ میں دس لاکھ کم کیسے ہو گئے۔ مونگا صاحب نے بتایا کہ آپ یہ رقم نکلوا چکی ہیں۔ جانے لگیں تو مڑ کر کہنے لگیں۔ پر وہ دس لاکھ گئے کہاں۔ میں پہلی بار بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنفہ بپسی سدھوا کو گلبرگ کے قومی بچت کے مرکز میں ملا تھا۔ ماڈل ٹاؤن میں طارق عزیز آتے جاتے رہتے ہیں۔ ڈیفنس میں مشہور فکشن رائٹر اکرام اللہ سے ملاقات ہو گئی۔ ویسے آپ سے ایک راز کی بات کہوں۔ قومی بچت کے ان مراکز میں آنے والے سب تو نہیں بیشتر افراد وہ ہوتے ہیں جنہوں نے ساری عمر رزق حلال کی جدوجہد کی۔ کرپشن میں اجتناب کیا۔ اگر وہ ایسے نہ ہوتے تو لندن میں اپنے ذاتی فلیٹوں میں براجمان مے نوشی کر رہے ہوتے۔ تھوڑے سے منافع کے حصول کے لئے ان مرکزوں میں دھکے نہ کھا رہے ہوتے۔ ان بابوں کی تعظیم کیجئے۔ ان کا خیال رکھیے ! یہ آخری لوگ ہیں!

بشکریہ: روزنامہ 92نیوز

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • شادیوں پر فضول خرچی — روایت یا مصیبت؟
  • اب اِس کے بعد گھبرانا ہے تم کو
  • سرخ لباس کی سرخوشی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شریفن
پچھلی پوسٹ
خانہ بدوش

متعلقہ پوسٹس

نظارہ درمیان ہے

نومبر 15, 2019

آزمائش یا سزا ( پہلا حصہ)

جون 17, 2025

بدشگونی کا چکر

مئی 18, 2020

توبۃ النصوح – فصل دہم

اکتوبر 30, 2020

پھسلن

مئی 23, 2026

شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ

دسمبر 19, 2025

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

واہ! محمد علی سدپارہ

فروری 10, 2021

آہ ! اے دوست

جنوری 3, 2020

پنڈ کی دعوت اور ککڑ کی شامت

مئی 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نقشِ ہستی

دسمبر 22, 2024

جفا کے راستے آسان نہیں ھوتے

دسمبر 19, 2024

امریکی ثقافت اور روڈیو

دسمبر 6, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں