خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو نظمخانہ بدوش
اردو نظمڈاکٹر وحید احمدشعر و شاعری

خانہ بدوش

ڈاکٹر وحید احمد کی ایک اردو نظم

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 21, 2019
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 21, 2019 0 تبصرے 913 مناظر
914

خانہ بدوش

نا مُشت میں میری مُشتری، نا پاؤں میں نیلوفر
نا زُہرہ میری جیب میں، نا ہُما اُڑے اوپر
نا دھڑکا ہے سرطان کا، نا زُحل کا کوی ڈر
نا کوئی میرا دیس ہے نا کوئی میرا گھر

نا ماتھے چمکے چندرما، نا تارا چھنگلی پر
پر دیکھ گلوب ہے گھومتا، میری میلی اُنگلی پر

نا الکھ جگا سنسار میں، جب ماں کی کوکھ ہٹی
ناپستک کھولی باپ نے، جب میری ناف کٹی
نا عمل کیا رمال نے، نا دھن خیرات بٹی
نا بڑوں نے منتر تان کے، کوئی پاک زبان رٹی

میں آپ ہوں اپنا زایچہ، میں آپ ستارہ ہوں
میں آپ سمندر ذات کا، میں آپ کنارہ ہوں

مرا محد کجاوہ اُنٹ کا، مری لوری بانگِ درا
جھنکار جو چھڑکیں گھنٹیاں، تو رستی جائے ہوا
ہے اُوپر گولا ڈولتا، چمکیلے سورج کا
اور اُسکے اُوپر آسماں، ہے گیلا نیل بھرا

مری بھور کٹی ہے کوچ میں تو سانجھ پڑاوؑ میں
دن ڈھور سِموں کی ٹاپ میں تو رین الاؤ میں

ہے وقت چھنکتی چال میں، پگ لمحوں کی پایؑل
ہے چولا چھاؤں دھوپ کا، سر سَت رنگی آنچل
مرا مکہ چمکے آنکھ میں بہے دل میں گنگا جل
میں وایو، اگنی، سوریہ، میں بے ساحل جل تھل

مرا ساتھی صبح و شام کا، مری ماں کا کنگن ہے
ہیں تکیہ اس کی چھاتیاں، تو گود سنگھا سن ہے

میں بالا بیلے دشت کا، صحرا میں ہوا جوان
مرا جسم چھریرا سانولا، مری سیدھی تیر اُتھان
میری کالی آنکھ دراوڑی، متجسس اور حیران
مرے نیند میں ہلتے پاؤں ہیں، میرے جذبے کی پہچان

اِک مشعل راہ نورد ہےِ جو جلتی رہتی ہے
مرے ہاتھ پہ ایک لکیر ہے، جو چلتی رہتی ہے

او دبی دبی سرگوشیو! لو سنو دراوڑو دھاڑ
ہم آسمان کا پارچہ، اک پھونک سے ڈالیں پھاڑ
ہم کالے کوس اُجال دیں، سنگلاخ پہاڑ پچھاڑ
ہم چلیں جو پورے پاؤں سے، تو دھرتی کھائے دراڑ

ہر اِک نشیب فراز کو، ہم ٹھوکر دیتے ہیں
جو خواب خیال گمان ہے، ہم وہ کر دیتے ہیں

انگشت بدنداں راستے، دل پاش کلیجے شق
تن سم ضربوں سے نیلگوں، اور چہرہ چہرہ فق
ہوں شیشہ شیشہ دھاریاں، یا ریگ کدے لق دق
میں اکبرِ اعظم راہ کا، میں منزل کا تغلق

مرا تن ہمزاد الاوؑ میں دربار لگاتا ہے
ہر رستہ جسم سنبھال کے تسلیم کو آتا ہے

او مانگ بھری مری کامنی مرے ساتھ جقانی چکھ
یہ جگ تیری جاگیر ہے تُو کُھل کے پاؤں رکھ
اس ورق ورق سنسار کو، تُو کھول پھرول پرکھ
رہیں سدا یہ دشت نوردیاں، ہے جیون نقش الکھ

آ پاوؑں پہ مٹی باندھ لیں، آ ہوا ہتھیلی پر
آ اسمِ سم سم پھونک، اس جنم پہیلی پر

سنسار سفارت گاہ میں، مرے ڈھوڑ ڈنگر مندوب
ہیں دلدل دشتی راستے، تو تیز ہوا پاروب
ہوں اونچی شرق شمالیاں، یا گہرے غرب جنوب
انہیں ساری سمتیں ایک ہیں انہیں سب راہیں مرغوب

بے جان زمین پہ زندگی کی ٹاپ جو پڑتی ہے
تو سہمے سہمے راستوں کی سانس اُکھڑتی ہے

او دھرتی کھول ہتھیلیاں، میں پاؤں سے کھینچوں ریکھ
مرے کٹے پھٹے پاپوش ہیں، پر نقش نگاری دیکھ
میں کنڈلی ہوں تاریخ کی، میں جنم جنم کا لیکھ
میں بانجھ زمین کا سنبلہ، میں زرد رتوں کا میکھ

اک خیرہ خیرہ روشنی، مری چھاوں میں ہوتی ہے
یہ دنیا جس کا نام ہے مرے پاؤں میں ہوتی ہے

میں سنگ نہیں انسان ہوں، کیوں گھر تعمیر کروں
جب پاؤں لگے ہیں جسم کو، تو کیوں نہ چلوں پھروں
جب عجلت میں ہے زندگی، تو کاہے دھیر دھروں
میں کیسے اینٹیں جوڑ دوں، میں کیوں بنیاد بھروں

اس دھرتی کی بنیاد پر، میں جسم اُٹھاتا ہوں
گھر سایہ بن کر ساتھ ہے، میں جہاں بھی جاتا ہوں

میں پِگمی، بدؔو، نیگرو میں ہوں منگول، افغان
اس صبح بحیرہ روم تھا، اس شام ہوں راجھستان
ہے سڈنی قرب و جوار میں، کبھی پہلو میں ایران
دریاے زرد میں کشتیاں، ڈنیوب میں کبھی پڑان

اک نقش پا رومانیہ، تو اک قفقاز میں ہے
اک سانس ہے مالا بار میں، تو ایک حجاز میں ہے

میں شاعر ساندل بار کا، مری سوچیں خانہ بدوش
جب کرے سلیماں معجزہ، تو دنیا سے روپوش
پی ساوی بری امام کی، تو من موجی مدہوش
کبھی سارا دھارا آیؑینہ، کبھی پورن ماشی جوش

یہ چہرے سورج دار ہیں لشکارا ہوتے ہیں
یہ لوگ جو ہیں بے خانماں، مرا سارا ہوتے ہیں

(ڈاکٹر وحید احمد)

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شام کی گنگناہٹوں میں گم
  • ذات کے بعد مکافات میں آ جاتے ہیں
  • ساتھ لاکھوں چلیں
  • دل کے گھٹنے کو اشارا سمجھو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قومی بچت کے بابوں کی تعظیم کیجیے
پچھلی پوسٹ
کالی شلوار

متعلقہ پوسٹس

چلن احساس کا ہے

اکتوبر 15, 2025

دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی

جنوری 12, 2020

کہیں سے آیا تمہارا خیال ویسے ہی

اپریل 14, 2020

عطا ہو پھر سے نیا بابِ ارتقا، یا رب

اکتوبر 12, 2025

کسی کے ہجر میں یوں ٹوٹ کر رویا نہیں کرتے

مئی 10, 2020

نہیں, آوارگی قبول نہیں

مئی 31, 2020

دل کسی طرح بھی اس بات پہ تیار نہیں

دسمبر 29, 2019

گلہ ہے وقت سے، اندازِ بے وفائی کا

اکتوبر 11, 2025

میں بزمِ تصّور میں اُسے لائے ہوئے تھا

نومبر 29, 2019

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک ہے میرے حضر اور سفر...

نومبر 27, 2019

سفر منزل شب یاد نہیں

جنوری 5, 2020

کہہ گیا ہوں جو میں روانی...

دسمبر 15, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں