108
نئے انداز سے تعمیر مجھے ہونا ہے
اب ترے اشک میں تصویر مجھے ہونا ہے
کسی پاتال میں رکھا ہوا مہتاب ہوں میں
جانے کس آنکھ سے تسخیر مجھے ہونا ہے
میں کہانی ہوں اجالوں کی میرا دکھ یہ ہے
رات کے ہاتھ سے تحریر مجھے ہونا ہے
کاسہئ خواب لئے دشت مرے در پر ہے
اور خیرات میں تعبیر مجھے ہونا ہے
پھر تعاقب میں تمہارے ہے ستارہ میرا
پھر کسی رات کا رہگیر مجھے ہونا ہے
شجاع شاذ
