خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابھٹو کی بیٹی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

بھٹو کی بیٹی

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2021
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2021 0 تبصرے 40 مناظر
41

پاکستان پیپلز پارٹی کے عظیم قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو جنہیں عام طور پر قائد عوام بھی کہا جاتا ہے،ان کے ہاں اکیس جون انیس سو تریپن میں پنکی بینظیر بھٹو کی ولادت ہوئی۔پنکی نے اندرون ملک اور بیرون ملک تعلیم حاصل کی اور اپنے والد سے بے پناہ محبت کے باعث وہ اپنے والد کی سیاست پر گہری نظر رکھتی تھی۔

انیس سو ستہتر میں تعلیم کے مکمل کرنے کے بعد انہوں نے سیاست میں گہری نظر رکھنا شروع کی۔جنرل صیاء الحق کے مارشل لا کا دور تھا،بینظیر بھٹو نظربند رہیں انہی ادوار میں اپریل انیس سو اناسی میں بھٹو کو پھانسی دی گئی،ملکی حالات سنگین ہو رہے تھے۔بھٹو کی پھانسی کے ساتھ بینظیر بھٹو نے عملی سیاست میں قدم رکھا،پیپلزپارٹی کی سربراہی نبھانے لگیں اور پارٹی کی سینئر رہنماؤں نے پر ان پر اتفاق کیا۔

انیس سو اکاسی میں جمہوریت پسندوں کے ساتھ مل کر بینظیر بھٹو ایم آر ڈی کی تحریک کی بنیاد ڈالی۔ اس تحریک نے آمریت کے خلاف عوامی جذبات کو ابھارا ،اگست انیس سو تریاسی میں اس تحریک نے زور پکڑی تھی کی تھوڑے ہی عرصے میں غلام مصطفی کھر نے تحریک ختم کرنے کا اعلان کردیا،انیس سو چوریاسی میں بینظیر بھٹوbenazir bhutto جلاوطن ہونے پر مجبور پوئیں۔

اپریل انیس سو چھیاسی میں بینظیر بھٹو کے لیے سیاسی حالات کچھ بہتر تھیں وہ واپس وطن آئیں اگلے سال نوابشاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے فرزند آصف علی زرداری سے ان کا نکاح ہوا جو ان کی زندہ کا ایک اہم فیصلہ تھا۔

سترہ اگست انیس سو اٹھاسی میں ضیاء الحق دوران سفر ایک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ ضیاء الحق نے تاحال استیفعی نہیں دیا، ضیاء الحق کو کافی لوگ غدار کہتے ہوئے نظر آتے ہیں پر ایسا نہیں ہے ان کی سیاسی فیصلوں سے لاکھ اختلاف ہوسکتے ہیں لیکن ان کے دور میں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا کام اسی طرح جاری و ساری تھا جس طرح بھٹو دور میں شروع ہوا تھا،انہوں نے ایٹم کے بارے میں سمجھوتہ نہیں کیا۔ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعد ملکی سیاسی حالات بہت ہی اہم تھے سینیٹ چیئرمین غلام اسحاق خان نے عام انتخابات کا اعلان کیا ،سولہ نومبر انیس سو اٹھیاسی کو انتخابات ہوئے ۔دسمبر انیس سو اٹھیاسی میں بینظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی مسلم خاتون وزیر اعظم بن گئیں جس کی وجہ سے انہیں کافی مقبولیت ملی اور چند مذہبی حلقوں میں ناپسنددیگی اظہار بھی کیا گیا، بیس ماہ کے مختصر عرصے میں صدر اسحاق خان نے انہیں برطرف کر دیا۔

اگست انیس سو نوے میں ایک بار پھر عام انتخابات ہوئے۔ جس میں مذہبی سیاسی حلقوں کے اتحاد نے کامیابی حاصل کی۔ میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم بنا دیے گئے اور بینظیر بھٹو حزب اختلاف رہیں۔ غلام اسحاق نے نواز شریف کو بھی برطرف کردیا۔اگست انیس سو ترانوے میں عام انتخابات ہوئے بینظیر بھٹو وزیراعظم بنیں لیکن انہیں اپنے ہی صدر فاروق احمد لغاری نے بدعنوانی کے الزام میں انیس سو چھیانوے میں عہدے سے ہٹا دیا۔ اس کے بعد کچھ عرصہ بینظیر بھٹو ملک سے باہر بھی رہیں۔

نواز شریف مختصر عرصہ کے لیے وزیر اعظم بنے مگر جنرل پرویز مشرف نے انہیں ہٹا دیا،بینظیر بھٹو اور پیپلزپارٹی نے اس بار بھی آمریت کے خلاف سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ دوہزار سات میں ملک کے اندر موجود پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماوں کی تجویز پر بینظیر بھٹو وطن واپس آئیں،بین الاقوامی میڈیا میں خبر نشر ہوئی۔ ہر گلے کوچے میں بینظیر کے وطن واپسی کی خبر پھیل گئی۔بینظیر بھٹو نے آتے ہی پرویز مشرف اور آمریت کے خلاف سیاسی جلسے شروع کیے۔
ستائیس ڈسمبر دو ہزار سات ان کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا۔ لیاقت باغ راولپنڈی میں خطاب کے بعد وہ گاڑھی میں اسلام آباد کی طرف روانہ ہو رہی تھیں کہ پیپلز پارٹی کی طلبا تنظیم کے نعروں کے جواب میں انہوں نے گاڑھی کی چھت سے سر نکالا اور فائرنگ کے نشانے میں آکر رخصت ہوگئیں۔بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد فروری دوہزار آٹھ میں آصف علی زرداری کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کی حکوت بنی۔ان کی پہلی برسی پر ان کے قاتل گرفتار ہونے کا دعوہ کیا گیا مگر چودہ سال گذرنے کو ہیں ان کے قاتل منظرعام پر نہیں لائے گئے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی سیاست اور نظریات یکساں تھیں مگر چند پہلے مختلف بھی تھے جیسا کہ ذوالفقار بھٹو پنجاب کی سیاست کرتے تھے اور کالا باغ ڈیم کی شدت سے حمایت کرتے اور بینظیر سندھ کی سیاست کرتی تھی اسی وجہ سے وہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرتی تھی،بینظیر بھٹو اور اس کے والد نے ہمیشہ کشمیری مسلمانوں کے حقوق لیے آواز آٹھائی۔

بینظیر بھٹو کی شہادت سے ملک میں افراتفری بھی ہوئی لیکن جنرل اشفاق پرویز کیانی اور چودھری برادران نے پیپلزپارٹی کے نئے چیئرمین آصف علی زرداری کے ساتھ تعاون کر کے ملکی حالات کو مزید خراب ہونے سے بچا لیا اور نئے جمہوری سفر کا آغاز ہوا۔

 

ابو مدثر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اللہ کی مدد، تاریخی فتح
  • اے کاش کہ گزرا وقت کبھی اک بار ہمارے ہاتھ آئے
  • اس نے دریا کو بلایا جو اشارا کر کے
  • خونی تھوک
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بے حیائی پھیلانے میں میڈیاکا کردار
پچھلی پوسٹ
نیا سال اور نیا عزم

متعلقہ پوسٹس

اگر میں خواب کی تشکیل تک پہنچ جاؤں

ستمبر 15, 2019

مرے لب پہ کوئی گلہ نہیں

جنوری 15, 2018

 ماں

مئی 9, 2020

بس ایک بوند زندگی

جنوری 7, 2022

اب زمانوں سے ہٹ کے بات کرو

مئی 14, 2024

گل سے گلزار ہو بھی سکتی تھی

اکتوبر 10, 2025

بجوکے

اکتوبر 16, 2025

امر جلیل یا امر۔۔۔۔۔؟؟

مئی 13, 2021

رستے سے جو پتّھر کو ہٹا سکتا تھا

مارچ 4, 2020

جنگ کا خوف اور پاکستان کا مستقبل

مارچ 15, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بجا ہنگامہ آرائی ہماری

اپریل 25, 2020

دل کی بات کیا کروں دل...

نومبر 17, 2020

یہ بات الگ ہے کہ ہوئی...

اکتوبر 16, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں