خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابا08مارچ : عالمی یوم ِ خواتین!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

08مارچ : عالمی یوم ِ خواتین!

از سائیٹ ایڈمن مارچ 6, 2022
از سائیٹ ایڈمن مارچ 6, 2022 0 تبصرے 84 مناظر
85

عالمی یومِ خواتین کا دن منانے کا آغاز امریکہ سے ہوا۔ جہاں 08 مارچ1857 کو نیو یارک میں گارمنٹس فیکٹری کی خواتین نے کم اجرتوں اور مشکل حالات کار کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے پر پولیس نے تشدد کیا۔ اس کے بعد 1908میں 1500 عورتیں مختصر اوقاتِ کار، بہتر اجرت اور ووٹنگ کے حق کے مطالبات منوانے کے لیے نیویارک کی سڑکوں پر مارچ کرنے نکلیں۔ان کے خلاف نہ صرف گھڑ سوار دستوں نے کارروائی کی بلکہ ان پر پتھر برسائے گئے اور ان میں سے بہت سی عورتوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔انیس سو نو میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے عورتوں کا دن منانے کی قرارداد منظور کی اور پہلی بار اسی سال 28 فروری کو امریکہ بھر میں عورتوں کا دن منایا گیا۔اس کے بعد 1913 تک ہر سال فروری کے آخری اتوار کو عورتوں کا دن منایا جاتا رہا۔ 1910میں کوپن ہیگن میں ملازمت پیشہ خواتین کی دوسری عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی کلارا زیٹکن نے ہر سال دُنیا بھر میں عورتوں کا دن منانے کی تجویز پیش کی جسے کانفرنس میں شریک 17 ممالک کی 100 خواتین شرکا نے متفقہ طور پر منظور کیا۔
انیس سو گیارہ میں 19 مارچ کو آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزر لینڈٖ میں پہلی بار خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ فروری 1913 میں پہلی بار روس میں خواتین نے عورتوں کا عالمی دن منایا تاہم اسی سال اس دن کے لیے 8 مارچ کی تاریخ مخصوص کردی گئی۔انیس سو سترہ میں سوویت انقلاب کے بعد اس دن کو روس میں سرکاری سطح پر تسلیم کرنے کے بعد اسے کمیونسٹ اور سوشلسٹ ممالک میں چھٹی کے طور پر منایا گیا۔انیس سو بائیس سے اسے چین میں کمیونسٹوں اور 1936 سے ہسپانوی کمیونسٹوں کی جانب سے بھی منایا جانے لگا۔ یکم اکتوبر 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد ریاست کونسل نے23 دسمبر کو اعلان کیا کہ 8 مارچ یومِ خواتین کے طور پر نہ صرف منایا جائے گا بلکہ اس دن سرکاری سطح پر آدھی چھٹی بھی ہوگی۔انیس سو پچھتر کے بعد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رکن ممالک کو مدعو کیا اور آٹھ مارچ کو خواتین کے حقوق اور عالمی امن کے طور پر منائے جانے کا اعلان کیا۔
دنیا بھر میں آج یوم خواتین منایا جا رہا ہے اس دن کے منانے کا مقصد خواتین کو ان کے بنیادی حقوق کے بارے میں آگا ہی دینا اوران کی معاشرتی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے کیونکہ ماں بہن بیٹی بیوی معاشرے کے یہ ہی رشتے استحکام کی ضمانت ہیں۔آج دنیا بھر کی خواتین متحد و متجسم ہوکر خود پر لگائے صنفِ نازک کا ٹیگ اتار کر اپنے ضبط شُدہ حقوق کی بحالی کے لیے جرات مندانہ آواز بلند کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان اور اِس جیسے سماجی بدحالی سے دوچار ممالک میں فی زمانہ خواتین چار دیواری کے اندر اور باہر یکساں استحصال کا شکار ہیں۔ بات معمولاتِ زندگی میں صنفی عدم مساوات سے کہیں بڑھ کر اب جسمانی و جنسی تشدد، اغواء، آبرو ریزی، خود کُشی پر اُکسانا، بے راہ روی و بے غیرتی کے الزام میں قتل اور ایسے کتنے مصائب و آلام سے آگے جا پہنچی ہے۔اِس معاشرے کے لیے دعوت فکر یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر خواتین کے ان مسائل کی نشان دہی، اُن کے سّدِباب کے لیے سفارشات اور پھر اقدامات کو مختلف فورمز پر زیرِ بحث لایا جانا زیاں و رائگاں کیوں جاتا ہے؟ وہ کیا وجوہات ہیں کہ عورت کی مظلومیت کا تماشا بھی بنایا جاتا ہے، اس کے نالہ و فُغاں کا چرچا بھی کیا جاتا ہے پھر ہر برس، بغرضِ تبدیلی نعرہِ تجدیدِ پیماں کا غُلغُلہ بھی شورمچاتا ہے۔ پھر یکسر یہ تمام صدائیں سراب سے جنم لے کر سراب میں ہی کھوجاتی ہیں۔ کیا ہم پرلازم نہیں کہ ہم اُن مُحرکات کا تنقیدی جائزہ لیں جو اُن اقدامات کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر ہیں۔
آج بھی دُنیا میں خواتین بھر پور ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے باوجود امتیازی سلوک سے دوچار ہیں۔دُنیا کی دو تہائی خواتین ناخواندہ ہیں۔یہی نہیں بلکہ خواتین پر تشدد ٗقتل کے رحجان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام ِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر 15سکینڈ بعد ایک عورت تشد د کا نشانہ بنتی ہے۔جب کہ ہر سال ایک لاکھ خواتین میں سے 36.2فیصد زنا بالجبر کا شکار ہوتی ہیں۔برطانیہ میں یہ شرح 8.7فیصد فی لاکھ اور جنوبی افریقہ میں 129خواتین فی لاکھ ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دُنیا بھر میں 0فیصد خواتین مردوں کے تشدد و زیادتی کا شکار ہیں۔اقوام متحدہ کے ڈوپلمنٹ فنڈ برائے خواتین کی رپورٹ کے مطابق اب تک 20ہزار سے زائد مسلمان بوسینائی عورتیں سرب فوج کے ہاتھوں زنا بالجبر کا شکار ہوئیں۔ جب کہ ایک اور رپورٹ کے مطابق کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں 38ہزار سے زائد عورتوں کی عزت پامال ہو ئی۔صحت مند خواتین کی نسبت معذور ٗ مفلوج خواتین کے ساتھ زیادہ ظلم و ستم ہوتا۔ 80فیصد سے زائد اپاہج خواتین ظلم و زیادتی کے واقعات کو معمول ِ زیست سمجھ کر قبول کر لیتی ہیں۔ دُنیا میں ایک کروڑ سے زائد معذور خواتین میں سے صرف 17فیصد کو ملازمت کا موقع ملا۔
دُنیا کی سب سے بڑی جہوریہ کہلوانے والی بھارتی ریاست میں سالانہ 6500سے 7000کو محض اس لیے قتل کیا جاتا ہے کہ سسرال کی طرف سے جہیز کم ملا۔تقریباً 4کروڑ نوجوان خواتین فیملی پلاننگ کے محفوظ ذرائع دستیاب نہیں۔ہر سال 15سے 29سال کی تقریبا ً6لاکھ خواتین دوران ِ زچگی جان کی بازی ہا ر جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی فنڈ برائے آبادی کی رپورٹ کے مطابق دُنیا میں ہر سال 5کروڑ خواتین اسقاط ِ حمل کے مراحلہ سے گزرت ہوئے 78ہزار انتقال کر جاتی ہیں۔ہر سال 20لاکھ خواتین کے ختنے کرنے کے علاوہ 40لاکھ خواتین /لڑکیوں کو عصمت فروشی کے دھندے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ایشیاء میں 70فیصد عورتیں بغیر تربیت یافتہ دائی کے بغیر ہی بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ اس عمل سے زیادہ تر 25سے 29سال تک کی خواتین گزرتی ہیں۔ دُنیا بھر میں عورتوں کو کم اجرت دی جاتیء ہے،7کروڑ سے زائد خواتین روزانہ بھوکی سوتی ہیں۔ ہر سال 80لاکھ خواتین انسانی خریدو فروخت کا شکار ہوتی ہیں۔ وطن ِ عزیز میں عورتوں پر تشدد ایک بحران کی شکل اختیار کر چکا۔ پاکستان میں 50فیصد خواتین جسمانی ٗ 90فیصد ذہنی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ ہیومن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر دو گھنٹے بعد ایک خاتون سے زیادتی کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ ایشیا ء واچ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پولیس 70فیصد حراست خواتین کے ساتھ بد سلوکی کرت ہے۔ اور متعدد مقامات پر رسم و رواج بھی خواتین کو تشدد کا باعث بن رہا ہے۔غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق 70فیصد خواتین کو اپنی مرضی کا ووٹ ڈالنے کا حق نہیں ٗ 67فیصد بچیوں کی پیدائش پر سسرالیوں کے تیز و تند جملوں کی نظر ہو جاتی ہیں۔سینکڑوں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ملک میں افرادی قوت کا 28فیصد خواتین ہیں۔اس میں 92لاکھ 96ہزار شعبہ زراعت ٗ 32لاکھ 20ہزار خدمات اور 14لاکھ 84ہزار صنعت سے وابستہ ہیں۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ لیبر فورس بنگلہ دیش میں ہے۔
جو 42فیصد ہے۔بھارت 32فیصد ٗ سری لنکا 36فیصد ہے۔1996-97کی لیبر سروے کے مطابق دیہائی علاقوں میں 9فیصد خواتین غیر تکنیکی کام کرتی ہیں۔ جب کہ 47فیصد مرد غیرتکنیکی کام کرتے ہیں۔جب کہ 1995کی رپورٹ کے مطابق 57.43فیصد بتایا گیا تھا۔شہری علاقوں میں 20فیصد خواتین پروفیشنل کام کرتی ہیں۔5.4فیڈرل گورنمنٹ ملازم ہیں جو زیادہ تر سوشیل سکیڑ میں کام کرتی ہیں۔خواندگی ٗ صحت ٗمعاشی نمو کے لحاظ سے غربت کے تعین میں 52فیصد خواتین ہیں۔
عورتوں کی شرح خواندگی 33فیصد ہے۔مناسب روزگار نہ ملنے کی وجہ سے لاکھوں خواتین اپنی تعلیم کا درست استعمال نہیں کر سکتیں۔ مادر ِ وطن میں خواتین کو صحت کی سہولیات بہت ہی کم ہیں۔ ہر سال حاملہ ہونی والی 50لاکھ خواتین میں سے 7لاکھ سرجری اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا شکار ہوتی ہیں۔اقوام متحدہ کی فنڈ برائے آبادی کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک لاکھ زچگی کے کیسز کے دوران اموات کا تناسب 340سے 700تک ہے۔ پاکستان میں دوران ِ حمل فوت ہونی والی خواتین کی شرح بہت زیادہ ہے۔ دوران ِ حمل مرنے والی 80فیصد خواتین انیمیا کا شکار ہوتی ہیں۔ قابل ِ علاج بیماریوں میں بھی ہر 0منٹ بعد ایک حاملہ خاتون لقمہ اجل بنتی ہے۔ نیشنل ہیلتھ سروے آف پاکستان کے مطابق ملک میں ڈلیوری کے 83فیصد کیسز گھروں میں روایتی دائیوں کے ہاتھوں ہوتے ہیں۔دیہی علاقوں میں یہ تناسب 94فیصد ٗ جب کہ شہری علاقوں میں 77فیصد ہے۔یونی سیف کی رپورٹ کے مطابق خواتین کی ماہر افراد سے ڈلیوری کی شرح صرف 18فیصڈ ہے۔ عورت فاونڈیشن کی رپورٹ کے مطابق ملک کے دیہی و شہری علاقوں کی حاملہ خواتین کی بالترتیب 21اور 60تعداد ڈاکٹرز سے چیک اپ یا زچگی کی سہولت میں سے کسی ایک سے استعفادہ کر سکتی ہیں۔ ملک میں ہر روز 100خواتین کا حاملہ پن کی پیچیدگیوں ٗ زچگی اور اسقاط ِ حمل کے غیر محفوظ طریقوں کے باعث مر جاتی ہیں قومی ادارہ صحت ان ساوتھ ایشیا ء رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 45فیصد حاملہ خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں حاملہ خواتین اوسطاً2165کیلوریز روزانہ لیتی ہیں۔ جب کہ انہیں 2500 کیلوریز یومیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔دودھ پلانے والی خواتین اوسطاً 2298کیلوریز روزانہ لیتی ہیں جب کہ انہیں 3100 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 12سال کی عمر میں 2.2فیصد بچیوں کی شادی کر دی جاتی ہیں۔ جب کہ 15سال کی 33.4فیصد ٗ 18سال کی 71.9فیصد ٗ اور 20سال کی 86.3فیصد خواتین کی شادی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں حمل کے دوران 200گنا زیادہ جان کا خطرہ ہوتا ہے۔21فیصد خواتین زیادہ خون بہہ جانے سے مر جاتی ہیں۔ 12سے 49سال کی عمرکی 22فیصد خواتین بچے کی پیدائش کے مراحل سے گزرتی ہیں۔15فیصد اسقاط حمل کے دوران فوت ہوتی ہیں۔
پنجاب کے دیہی و شہری علاقوں میں 44فیصد خواتین 5ماہ کے اندر اندر اور 69فیصد شادی کے 15ماہ کے دوران حاملہ ہو جاتی ہیں اور اوسطاً ہر عورت کے 6بچے ہیں۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایکشن واچ کی رپورٹ کے مطابق1سے 4سال کی بچیوں کی اموات بچوں کی نسبت 66فیصد زیادہ ہے۔ 9فیصد خواتین گھرانوں کی سر براہ ہیں جن کے سرپرست یا خاوند فوت ہو چکے یا بیرون ممالک ہیں یا پھر وہ طلاق یافتہ ہیں دو تہائی بییٹوں کو جائیداد کی وراثت نہیں دی جاتی۔
آج کے دن کا تقاضا ہے کہ ہم اسلام کی زریں اصولوں کو اپناتے ہوئے خواتین کا متعین کردہ حق دیں۔

عابد ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نیند تدبیر سب سرِ بازار
  • وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے!
  • عورت اور لومڑی
  • مصرع مصرع انتخاب ہے!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رات بھر سبز مزارات نظر آتے رہے
پچھلی پوسٹ
حاضرجوابی

متعلقہ پوسٹس

جسدِ خاک اڑاتی رہی اِس طور ہَوا

مئی 29, 2020

جوانی

دسمبر 9, 2019

ایک مڑا ہوا ورق

اپریل 26, 2020

اُردُو ادب کی اربابِ غزل

اکتوبر 1, 2020

ابھی پات جھڑنے کی رت

دسمبر 26, 2024

ایک معمولی خط

مئی 24, 2026

بڑھتے بڑھتے سوز ِدل آہ و فغاں ہونے لگا

ستمبر 19, 2020

رخ دلبر میں، رُوئے یار میں

مارچ 22, 2025

مہنگائی کا طوفان اور عام آدمی کی زندگی

اپریل 2, 2026

ڈاکٹر محمد دین تاثیر اور اُردو زبان

ستمبر 18, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک چہرہ بدلنے والے کے نام

نومبر 17, 2025

کتن والی

مارچ 24, 2026

دوسرا بوسہ

مئی 14, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں