خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےجوانی
اردو افسانےاردو تحاریرعصمت چغتائی

جوانی

عصمت چغتائی کا ایک افسانہ

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 9, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 9, 2019 0 تبصرے 546 مناظر
547

جب لوہے کے چنے چب چکے تو خدا خدا کر کے جوانی بخار کی طرح چڑھنی شروع ہوئی۔ رگ رگ سے بہتی آگ کا دریا امنڈ پڑا۔ الھڑ چال، نشہ میں غرق، شباب میں مست۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ کل پاجامے اتنے چھوٹے ہو گئے کہ بالشت بالشت بھر نیفہ ڈالنے پر بھی اٹنگے ہی رہے۔ خیر اس کا تو ایک بہترین علاج ہے کہ کندھے ذرا آگے ڈھلکا کر ذرا سا گھٹنوں میں جھول دے دیا جائے۔ ہاں ہاں ذرا چال کنگارو سے ملنے لگے گی۔

بال ہیں کہ قابو ہی میں نہیں۔ لٹیں پھسلی پڑتی ہیں۔ بال بہے جاتے اور مانگ؟ مانگ تو غائب! اگر ماں آٹھویں روز کڑوا تیل چھوڑ کر مینڈھیاں نہ باندھیں تو زندگی اجیرن ہو جائے۔ گو منھ لیے کنگوروں کے طباق کی طرح منڈا منڈا لگنے لگتا ہے۔ پر بالوں سے تو جان چھٹ جاتی ہے۔ جیسے کسی نے سر گھوٹ کے بالوں کے وبال ہی سے نجات دلا دی۔ نہ جانے یہ میمیں پھولے پھولے بال گردن پر چھوڑ کے کیسے جیتی ہیں۔ اور پاؤں؟ پاؤں تو جیسے پھاؤڑا۔ کیا جلدی جلدی بڑھ رہا ہے! اگر ایسی رفتار سے بڑھا تو سل برابر ہو جائے گا۔ انگوٹھا جیسے کچھوے کا سر!

اور بھی تھیں بہت سی باتیں جو اکیلے میں بیٹھ کر جنّو کو ستاتیں۔ آئینہ میں ناک دیکھ کے تو بس قے آنے لگتی۔ یہ ڈبل نگوڑا جیسے کھونٹا۔ شجّو کی شادی ہوئی تو یہ بڑی سی نتھنی پہنے تھی اس نے، کیا پیاری سی ناک ہے، گڑیا جیسی اور جنّو کے کھونٹے پر تو نتھنی بھی شرما جائے گی۔ جب اس کی شادی ہوگی تو؟

’’بجلی گرے ایسی ناک پر‘‘۔ اس نے سوچا۔

اس پر شبراتی بھیا آئے تھے۔ کیسے غور سے اس کا منھ تک رہے تھے۔ بھلا انھوں نے کاہے کو ایسی ناک کہیں دیکھی ہوگی۔ جنو نے جلدی سے کچھ پونچھنے کے بہانے ناک اوڑھنی سے چھپا لی۔ شبراتی بھیا جھینپ گئے۔ سمجھے ہوں گے بگڑ جائے گی یہ۔

اے کاش وہ سلوچنا ہوتی، یا مادھوری، کا کجّن ہی سہی! اللہ میاں کا اس میں کیا جاتا۔ کچھ ٹوٹا تو آ نہ جاتا ان کے خزانے میں۔ اگر ذرا وہ گوری ہی ہوتی۔ اور کام چور کاریگر ذرا دھیان سے اسے ڈھنگ کا بناتے تو کیا ہاتھ سڑ جاتے ان کے؟

وہ آنکھیں بند کر کے بہت سے فرشتوں کو کھٹاکھٹ انسانی پیکر گڑھتے دیکھتی۔ کاش وہ گڑھی جا رہی تھی تو فرشتہ کی بغل میں پھوڑا نہ نکلا ہوتا۔ باپو کے جب پھوڑا نکلا تھا تو ڈیڑھ مہینہ کی کھاٹ گوڑی تھی اور کھرپیا تک نہ ہلائی تھی۔

اس کا خیال ماں کی طرف بھٹک گیا۔ کھپریل میں نہ جانے دن میں کے گھنٹے اینڈتی۔ پچھلے چند مہینے سے اس کا پیٹ نہایت خوفناک چال سے بڑھ رہا تھا۔ وہ خوب جانتی تھی کہ یہ پھولنا خالی از علت نہیں۔ جب کبھی ماں پر یہ وبال چھا جاتا ہے ایک آدھ بہن یا بھائی رات بھر ریں ریں کرنے اور اس کے کولھے پر رونے کو آن موجود ہوتا ہے۔۔۔

مکھیاں، بس دوپہر کو ستاتی ہیں، اس کان سے اڑاؤ دوسرے پر آن مریں، وہاں سے اڑیں تو ناک میں تنتنائیں، وہاں سے نوچا تو آنکھ کے کوئے میں گھس جاتی ہیں۔ دو گھڑی بھی نہ ہوئی ہوگی کہ دوپٹہ کے چھید میں سے یلغار بول دیا۔ اور اوپر سے ماں ڈکرائی۔

’’موت پڑے تیرے سونے پر، اٹھ، شبراتی کو روٹی دے۔‘‘

گردن پر سے میل کی بتیاں چھٹاتی چھینکے کی طرف چلی۔ باہر پتھر پر شبراتی بھیا لال چار خانے کا انگوچھا پھیچ رہے تھے۔ چھپا چھپ سے میلی میلی بوندیں اچھل کر ان کی ادھ مچی آنکھوں اور الجھے ہوئے بالوں پر پڑ رہی تھیں۔ وہ روٹی رکھ کے پاس ہی گھٹنے پر ٹھوڑی رکھ کے غور سے انھیں دیکھتی رہی۔ ان کے سینے پر کتنے بال تھے۔ گھنے ہوئے پسینے میں ڈوبے۔ ’’جی نہ گھبراتا ہوگا‘‘۔ وہ سوچنے لگی ’’کیسی کھجلی پڑتی ہوگی۔‘‘ ان کے کسے ہوئے ڈنڑوں اور رانوں کی مچھلیاں ہر چھپاکے کے ساتھ اچھلتی تھیں۔

شبراتی بھیا انگوچھا ٹٹی پر پھیلا کر روٹی کے بڑے بڑے نوالے ساگ کی کمی کا گلہ کرتے ہوئے نگلنے لگے۔

’’پاڈی‘‘۔ انھوں نے سوکھی روٹی کے محیط نوالے کو گلے میں جکڑتے ہوئے کہا۔ اور جنّو نے گھبرا کر انھیں کٹوری پکڑا دی۔

’’جلدی سے کھا لو۔ کٹوری مانجھ کے یہیں دھر دینا۔ ہمیں کُٹّی کرنے کو پڑی ہے۔‘‘ وہ غرور سے احکام صادر کرتی اٹھی۔

’’ہم کر دیں گے کُٹّی۔‘‘ شبراتی روٹی کے کنارے کھاتے ہوئے بولا۔

’’تم کھیت جاؤ گے۔‘‘ وہ چلنے لگی۔

’’کھیت بھی جائیں گے۔‘‘

وہ غرور سے ایک عمیق ڈکار لے کر بولا۔’’اوہنک رہنے دو۔‘‘ وہ چلی۔

’’کہتے ہیں تجھ سے کُٹّی نہیں ہوگی۔ ویسے ہی کوئی چوٹ چپیٹ آ جائے گی۔‘‘ شبراتی نے پیار سے ڈانٹا۔

شبراتی کو کیا، ان کے آنے سے پہلے وہ کُٹّی کیا کرتی تھی کہ نہیں۔ ایسی بھی کیا چوٹ چپیٹ چھپڑ میں جا کر اس نے روپا اور چندن کو پیار سے دو چار گھونسے لگانے اور انھیں کونے میں چپ چاپ کھڑا رہنے کی تاکید کر کے خود کٹی کے گٹھے کو بچور کر گڈیاں بنانے لگی۔

’’جھیپ۔ ہٹو ہم کٹی کر دیں۔‘‘ شبراتی نے پھڑ ڈکار لے کر چنے کے ساگ کا مزہ لینا شروع کیا۔

وہ اترا کر گنڈاسا سنبھال کر بیٹھ گئی۔ گویا اس نے سنا ہی نہیں۔

’’تجھ سے ایک دفعہ کہو تو سنتی ہی نہیں۔ لا اِدھر گنڈاسا۔‘‘ وہ گنڈاسا چھیننے لگے۔

’’نہیں۔‘‘ وہ بننے لگی اور کٹّی شروع کر دی۔

’’تولیو اب۔‘‘ وہ اپنی پھکنی جیسی موٹی موٹی انگلیاں گنڈاسے کے نیچے بچھا کر بولے

’’لیو۔ اب کرو کٹی۔ مار دیو۔‘‘

’’ہٹاؤ۔ کہ ہم سچی مار دیں۔‘‘ وہ گنڈاسا تول کے بولی۔ جیسے سچ مچ مار ہی تو دیتی۔

’’مار۔ تیرے کلیجہ میں بوتہ ہو تو مار دیکھ۔‘‘

اور جو وہ مار ہی دیتی کچر کچر ساری انگلیاں پس جاتیں یہ کیا بات تھی، کوئی زبردستی تھی ان کی؟

’’اب مارتی کیوں نہیں۔‘‘ شبراتی بھیا نے آنکھیں جھپکائیں۔ اور ان کا مونچھوں والا موٹا سا ہونٹ دور تک پھیل گیا۔ گنڈاسا چھین لیا گیا۔ اور جنو کھسیا گئی۔ نہ جانے اس کے سخت اور کھدرے ہاتھوں کو اس وقت کیا ہو گیا۔۔۔ کس قدر چھوٹے اور نرم معلوم دینے لگے۔

اسے معلوم ہو گیا کہ سینہ پر پسینہ میں ڈوبے ہوئے گھنے بالوں سے جی کیوں نہیں گھبراتا اور پھکنی جیسی انگلیاں کیسی پھرتیلی ہوتی ہیں۔۔۔

جنو کا بس چلتا تو وہ ان کے بھوکے کتوں کو اپنی بوٹیاں بھی کھلا دیتی۔ مگر کتنا کھاتے تھے، اس کے ذرا ذرا سے بہن بھائی! وہ موٹی سے موٹی روٹی خواہ کتنی ہی جلی اور ادھ کچری کیوں نہ ہو، چٹکیوں میں ہضم کر جاتے۔۔۔ کیا ایسا بھی کوئی دن ہوگا جب اسے روٹی نہ تھوپنی پڑے۔۔۔۔ رات بھر ماں آٹا پیستی اور اس بھدّی عورت سے ہو ہی کیا سکتا ہے۔ سال میں 365 دن میں کسی نہ کسی بچے کو پیٹ میں لیے کولھے پر لادے یا دودھ پلاتے گزارتی۔۔۔ ماں کیا تھی ایک خزانہ تھی جو کم ہی نہ ہوا تھا۔ کتنے ہی کیڑے اس نے نالیوں میں کشتی لڑنے اور غلاظت پھیلانے کے لیے تیار کر لیے تھے۔ پرویسی ہی ڈھیر کا ڈھیر رکھی تھی۔

آخر وہ دن بھی آ گیا جب کہ رات کے ٹھیک بارہ بجے ماں نے بھینس کی طرح ڈکرانا شروع کیا۔ محلہ کی کل معزز بیویاں ٹھیکرے اور ہانڈیوں میں بدبودار چیزیں لے کر ادھر سے ادھر دوڑنے لگیں۔ موٹی دوہر کو بچھڑے کی رسی کی مدد سے کھپریل کے کونے میں تان کر ماں لٹا دی گئی۔ بچوں نے منمنانا شروع کیا اور آنے والے سے بڑا بچہ پچھاڑیں کھا کر گرنے لگا۔ باپو نے سب کو نہایت عجیب عجیب رشتہ قائم کرنے کی دھمکی دے کر کونے میں ٹھونس دیا اور خود ماں کو نہایت پیچدار گالیاں دینے لگا جن کا مفہوم جنو کسی طرح نہ سمجھ سکی۔ شبراتی بھیا دو ایک گالیاں جوؤں وغیرہ کو دے کر بھینسوں والے چھپّر میں جا پڑے۔ پر جنو ماں کی چنگھاڑیں سنتی رہی۔ اس کا کلیجہ ہلا جاتا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کوئی ماں کو کاٹے ڈال رہا ہے۔ عورتیں نہ جانے اس پردے کے پیچھے اس کے سنگ کیا بے جا حرکت کر رہی تھیں۔ جنو کو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے ماں کا سارا دکھ وہی اٹھا رہی ہے۔ گویا وہی چیخ رہی ہے اور ایک نامعلوم دکھ کی تھکن سے واقعی وہ رونے لگی۔

صبح کو وہ ایک سرخ گوشت کے لوتھڑے کو گودڑ میں رکھا دیکھ کر قطعی فیصلہ نہ کر سکی کہ اس مصیبت اور دکھ کا معقول صلہ ہے یا نہیں جو ماں نے گزشتہ شب جھیلاتھا۔ پتہ نہیں ماں نے دوسری غلاظت کے ساتھ ساتھ اسے چیلوں کے کھانے کے لیے کوڑے کے ڈھیر پر رکھنے کے بجائے اسے کلیجے سے کیوں لگا رکھا تھا۔

جاڑوں میں بھینسوں کے گوبر کی سڑاند بچی کھچی سانی کی بو کے درمیان پھٹے ہوئے گودڑ میں اس سرے سے اس سرے تک جیوہی جیولیٹ جاتے پھٹی ہوئی روئی کے گٹھل اور پرانی بوریاں جسم کے قریب گھسیٹ کر ایک دوسرے میں گھسنا شروع کر دیتے۔ تاکہ کچھ تو سردی دبے۔ اس بے سر و سامانی میں بھی کیا مجال جو بچے نچلے بیٹھیں۔ رسولن ہنگوا کی ٹانگ گھسیٹتی اور نتھو موتی کے کولھے میں کاٹ کھاتا اور کچھ نہیں تو شبراتی ہی گھسیٹ کر اتنی گدگدی کرتا کہ سانس پھول جاتی۔ وہ تو جب ماں گالیاں دیتی تب ذرا سوتے۔ر ات کو وہ افراتفری پڑتی کہ کسی کا سر تو کسی کا پیر۔ کسی کو اپنے جسم کا ہوش نہ رہتا۔ پیر کہیں تو سر کہیں۔ بعض وقت اپنا جسم پہچاننا دشوار ہو جاتا۔ رات کو کسی کی لات یا گھونسے سے چوٹ کھا کر یا ویسے ہی اتنے جسموں کی بدبو سے اکتا کر اگر کوئی بچہ چوں بھی کرتا تو ماں ڈائن کی طرح آنکھیں نکال کر چیختی اور فریادی بسور کر رہ جاتا اور جنو تو سب سے بڑی تھی۔

مگر جنو کو خوب معلوم ہو گیا کہ سینے پر کتنے ہی بال ہوں، اور بغل میں سے کیسی ہی سڑاند آئے، جی بالکل نہیں گھبراتا۔ موری کا کپڑا کیچڑ میں کیا مزے سے لوٹتا ہے اور اس میں بات ہی ایسی کیا تھی۔

جب دوپہر کو ماں بچے کو جنو کو دے کر دائی سے پیٹ ملوانے کوٹھڑی میں چلی جاتی یا اپنی سہیلیوں سے کوئی نہایت ہی پوشیدہ بات کرتی ہوتی تو وہ بھیا کو گود میں لٹا کر جانے کیا سوچا کرتی۔ وہ اس کا چھوٹا سا منھ چومتی۔ مگر اس کا جی متلانے لگتا۔ پلپلا سڑے ہوئے دودھ کی بو۔ وہ سوچنے لگتی کہ کب وہ چھ فٹ اونچا چوڑے بازوؤں والا جوان بن چکے گا۔۔۔ اور پھر وہ اس کی چھوٹی چھوٹی مونچھوں اور پھکنی جیسی موٹی انگلیوں کا تصور کرتی۔ اسے یقین نہ آتا تھا کہ کبھی یہی خمیری گلگلا لکڑی کا کھمبا بن جائے گا۔کنوئیں پر نہاتے ہوئے نیم برہنہ غنڈوں کو دیکھ کر وہ اپنے اَدھ مرے بھائیوں پر ترس کھانے لگتی۔ کاش یہی بڑھ جائیں۔ اتنا کھاتے ہیں پھر کچریا سا پیٹ پھول جاتا ہے اور وہ بھی صبح کو خالی۔

محرم پر شبراتی بھیا اپنے گھر چلے گئے۔ رات کو بچے پہلی ہی دھتکار میں سو جاتے۔ پر جنو پڑی پڑی جاگا کرتی۔ وہ سرک سرک کے کسی بچے سے بے اختیار ہو کر لپٹ جاتی۔

’’شبراتی بھیا کب تک آئیں گے اماں؟‘‘ اس نے ایک دن پوچھا ماں سے۔

’’بیساکھ میں اس کا بیاہ ہے۔ اب وہ سسرال ہی رہے گا۔‘‘

ماں گیہوں پھٹکتی ہوئی بولی۔ ’’ارے!‘‘اسے کس قدر حیرت ہوئی۔ گھسیٹے چاچا کے بیاہ میں بس کیا بتایا جائے کیا مزہ آیا تھا۔ رات رات بھر بس گانا اور ڈھول۔ سرخ ٹول کی ڈپٹیا وہ کس شان سے آٹھ دن تک اوڑھے پھری تھی۔ جبھی تو شبراتی بھیا نے اس کے کیا زور سے چٹکی بھر لی تھی۔ وہ گھنٹوں روئی تھی۔ وہ پھر سوچنے لگی کہ بیاہ میں وہ کون سا کرتا پہنے گی۔ لال اوڑھنی تو ویسی دھری تھی، پھر بیاہ تو ابھی دور تھا۔

پر نہ جانے اسے کیا ہو گیا تھا۔ ویسے تو کچھ نہیں، بس جی تھا کہ لوٹا جاتا تھا۔ اگر پچھواڑے املی کا پیڑ نہ ہوتا تو وہ پھر بھوکی ہی مر جاتی۔ کیسا جی بھاری بھاری رہتا۔۔۔۔ ماں اس کے جھونٹے پکڑ پکڑ کر ہلاتی۔ پر ہر وقت نیند تھی کہ سوار رہتی۔۔۔ پانی بھرتے میں اسے کئی دفعہ چکر آ گیا۔ اور ایک دفعہ تو وہ گر ہی پڑی دہلیز پر۔

’’ناجو کی کمر لچک جاتی ہے۔‘‘ ماں نے دوہتڑ مار کر کہا۔

اور اپنا سا پیلا چہرہ دیکھ کر تو وہ خود ڈر جاتی۔ وہ یقیناً مرنے والی ہو رہی تھی۔ کبڑی بڑھیا مری تھی تو کئی دن پہلے دھڑام سے موری میں گری۔ اور بس گھسٹا ہی کرتی تھی۔

’’اری یہ تجھے ہو کیا گیا ہے رانڈ؟‘‘ ماں نے اسے پژمردہ دیکھ کر پوچھ ہی لیا۔ اور وہ اسے بے طرح ٹٹولنے لگی۔ جنو کے بہت گدگدی ہوئی۔

’’حرامزادی! یہ کس کا ہے؟‘‘ اس نے اس کی چوٹی امیٹھ کر کہا۔’’کیا؟‘‘ جنو نے ڈر کے پوچھا۔’’ارے۔۔۔ یہی۔۔۔ تیرے کرتوت۔۔۔ بچہ بنتی جاتی ہے۔۔۔ مردار حرامخور۔‘‘ اس نے جنو کو اتنا مارا کہ ڈھائی سیر گھی پھینکنے پر بھی نہ مارا ہوگا اور خود اپنا سر کوٹ ڈالا۔’’اری مردے خور بتا تو آخر کچھ۔‘‘ وہ تھک کر جنو کو پھر پیٹنے لگی۔اور پھر اس نے نہ جانے کیا کیا پوچھ ڈالا۔ وہاں تھا ہی کیا۔

رات کو اس نے اپنے باپ کی گالیاں اور مار ڈالنے کی دھمکی سن کر زور سے گھٹنے پیٹ میں اڑا لیے اور کھاٹ پر اوندھی ہو گئی۔۔۔ پر اسے بڑی حیرت ہوئی کہ وہ ساتھ ساتھ شبراتی بھیا کو کیوں گنڈاسے سے کاٹ ڈالنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ بیساکھ میں تو ان کا بیاہ ہونے والا تھا جس میں وہ سرخ دوپٹہ اوڑھ کر۔۔۔ اس کا گلا بھر آیا۔

عصمت چغتائی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آج ذکر ھوگا ذکرمصطفےﷺ
  • مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ
  • کلر بلائنڈ
  • خوش و خرم زندگی گزارنے کا راز
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
پچھلی پوسٹ
رشتوں کامعیارکیساہوناچاہیے

متعلقہ پوسٹس

جج صاحب سیاست میں

نومبر 15, 2025

اکسیر

دسمبر 10, 2019

دعا مانگنے کے ادب و آداب

مئی 5, 2024

جلتا انسان بےحس لوگ!

ستمبر 6, 2023

عورت گھوڑا اور مرد

جنوری 8, 2022

یادیں

مئی 9, 2020

کافی وِد انڈر ٹیکر

دسمبر 23, 2021

برصغیر،ہومیو پیتھی اور اردو

ستمبر 19, 2020

ممّی

جنوری 16, 2020

کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذہنی طور پر نابالغ ہے؟

اکتوبر 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سعادت مند ترین انسان کون ہے؟

دسمبر 16, 2025

زکوٰۃ

جنوری 2, 2020

کھول دو

اکتوبر 16, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں