خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامجھے بچہ نہیں چاہیے
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

مجھے بچہ نہیں چاہیے

از سائیٹ ایڈمن مئی 28, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 28, 2024 0 تبصرے 47 مناظر
48

ہر چرچ، ہر میوزیم میں موجود مجسموں اور اکثر کرسچن گھروں میں موجود مصوری کے شاہکاروں میں خدا کا بیٹا کہہ لیں یا پرتوِ خدا، مقدس ماں کی گود میں لپٹا لپٹایا نظر آتا ہے۔ پرتگال کے اس میوزیم میں زیر نمائش یہ ایک ایسا مجسمہ ہے جس میں وہ پالن ہار دودھ پیتا نظر آ تا ہے۔ ماں اور بیٹے کا یہ مجسمہ تمام مذہبی استعارات کی طرح وہمی مورت سجھائی دیتا تھا جنہیں چھوا نہیں جا سکتا؛ وہ مجسمے جنہیں صرف پوجنے کے لیے خلق کیا جاتا ہے۔

ایسی مورتیں عشال نے مصر کے میوزیم میں پیدائش اور زرخیزی کی دیوی ایسس اور اس کے بیٹے ہورس دیوتا کی بھی دیکھی تھیں۔

وہ اس کے سامنے بیٹھی سوچ رہی تھی کہ پالن ہار کو بھی پالنا پڑتا ہے؟ جو اعجاز مسیحائی ہے اسے بھی ایک مسیحا کی ضرورت ہوتی ہے؟ اگر خدا کے بیٹے کو سہارے کی ضرورت ہے تو ایک ناتواں عورت کا بیٹا جو انتہائی کمزور ہو گا وہ اسے کیسے پالے گی؟

ابھی خود اس کے پاؤں کسی جگہ نہیں ٹکے، بچے کو زمین پر پاؤں جمانے میں کیسے مدد کر سکے گی؟ دن رات کی ڈیوٹی سے زیر تربیت ڈاکٹر کو کچھ فرصت ملتی ہے تو پٖڑھائی کا بوجھ سر پر سوار رہتا ہے۔

کیا بچہ ہی عورت کا مستقبل ہے؟ کیا بچہ پیدا کرنے کے لیے ایک بڑا ڈاکٹر بننے کا سپنا قربان کیا جا سکتا ہے؟ کیا بچہ اس کے لئے ایک مسئلہ نہیں ہو گا؟

جدید دنیا نے بہت سے نئے خیالات کو جنم دیا ہے۔ دکھ درد کو دور کرنے کے بہت سے علاج دریافت کر لیے ہیں جو انسان کی مشکلات کو کم کر کے ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ انسانی مصائب کا سب سے بڑا علاج دولت ہے۔ اگر کوئی بندہ علم و ہنر سیکھ لے تو دولت کمانا آسان ہو جاتا ہے۔ لوگ اسی لیے اپنی ابتدائی زندگی علم و ہنر سیکھنے کے لیے وقف کر دیتے ہیں اور پھر اس سے دولت کما کر اپنے مسائل کا حل ڈھونڈ لیتے ہیں۔ دولت نے بہت سی نئی سہولیات اور آسائش سے انسان کو آشنا کروایا ہے۔ رنگ و نور سے بھری اس دنیا کو مزید جاذب نظر بنا دیا ہے، حسن کو ایک نیا روپ دیا ہے۔

دولت مند لوگ سرشام بن سنور کر کلب، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کا رخ کرتے ہیں۔ کھیلوں کے میدانوں کی رونق بڑھاتے ہیں۔ تفریح گاہوں اور سیر گاہوں میں جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ کلب، ہوٹلز، کھیل کے میدان یہ سب مسائل کی علاج گاہیں ہیں۔ یہاں پر تنہائی، پریشانی اور دکھوں کا مداوا ہوتا ہے۔

دولت حسن کا سنگھار ہے۔ دولت سے یاد موافق ملتی ہے، چاہت کا مزا آتا ہے اور عشق سے انسان لطف اندوز ہوتا ہے۔ اس سارے کھیل میں انسان نئے مسائل میں الجھنے سے بھی گریز کرتا ہے۔ اکیلا اور بہت چاہے تو ایک حسین کا ساتھ۔

بچہ علم، دولت اور آسائش کے راستے کی رکاوٹ ہے۔

اس کے پاس بچہ پیدا کرنے اور پالنے کا کوئی وقت نہیں تھا۔ اسے اپنے فیصلے پر فخر تھا کہ ان حالات میں بچہ پیدا نہیں کرے گی بلکہ اس کا تو خیال تھا کہ اس جھنجھٹ میں پڑنے کی بجائے کوئی سات آٹھ سال کا بچہ گود لے لے۔ یہ بات وہ کسی کو بتانا بھی نہیں چاہتی تھی۔ اس لیے بچوں سے دور رہتی۔ کسی سے ان کے متعلق بات نہ کرتی۔ کوئی اپنے بچوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا تو سنی ان سنی کر دیتی۔

وہ مقدس ماں کے مجسمے کے پاس کھڑی سوچ رہی تھی کہ اسی وقت ایک آدمی مجسمے کے گرد گھومتا ہوا اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔ وہ اسے پہلے بھی کئی بار دیکھ چکی تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ مجسمے کو دیکھنے کے بہانے اس کی کمر اور پشت کو دیکھ رہا تھا۔ جب عشال نے ٹیڑھی نظروں سے اسے دیکھا تو اس نے اپنا نچلا ہونٹ چباتے ہوئے نظریں جھکا لیں۔ اب وہ عشال کے پاؤں اور پنڈلیوں کو تاڑ رہا تھا۔

وہ بڑی جری، پر اعتماد و بے باک عورت تھی۔ اس کی جامہ زیبیاں، خوش ادائیاں مرد کی نگاہ التفات کو گھیر کر اپنی طرف لے آتیں۔ اسے دیکھ کر بندے بہک جاتے۔ وہ جانتی تھی کہ وہ جوانوں کے خیال و خواب میں بسی حسین مورت کا مجسم ظہور ہے۔

مرد نے شاید اس کے چہرے کو پڑھ لیا تھا۔ سامنے آ کر اسے سلام کیا۔

اس سلام میں دندان آبدار کی جھلک شامل تھی۔ سلام کے بعد گرچہ اس نے پھر نظریں جھکا لیں لیکن عشال کو محسوس ہوا کہ اس کی ستائش بھری نظریں ابھی تک فربہ کولہوں اور گول ٹانگوں کا طواف کر رہی تھیں۔

عشال کو اس پر غصہ آ رہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ یہ مرد حضرات ہمیشہ جسم کے ان اعضا کو ہی کیوں تکتے ہیں جن میں زنانہ حسن پایا جاتا ہے۔

وہ مجسمے کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا، ”مقدس ماں اور بیٹے کا یہ مجسمہ سب سے انوکھا ہے۔“
”جی!“
”عورت ہر شکل میں ممتا روپی ہوتی ہے اور دودھ پلاتی عورت تو تقدیس اور پاکیزگی کا استعارہ ہے۔“

عشال نے مجسمے کی طرف دیکھا۔ نومولود مسیح پرسکون تھا۔ ماں کے دودھ کی دھاریں اس کی بھوک مٹا رہی تھیں۔ جب بھی وہ اپنے وارڈ میں کسی بچے کو ماں کا سینہ چچوڑتے دیکھتی تھی تو اس کے کنوارے سینے میں ہلچل مچ جاتی۔ کنواری ماں اور مسیح کو دیکھ کر اس کی وہی حالت ہو گئی۔ گھبراہٹ بڑھی تو وہ سینے کو چھو کر دیکھنے پر مجبور ہو گئی کہ تمناؤں سے لبریز بول لبنیوں سے کہیں عرق ابیض بہہ تو نہیں نکلا۔

وہ شرمندہ ہو کر مرد کو دیکھنے لگی۔ اس کے الفاظ بہت بھلے تھے لیکن نظریں اب بھی عشال کے جسم کا طواف کر رہی تھیں۔ گر چہ ان میں اوچھا پن نہیں تھا۔

پہلی بار عشال نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کا متناسب الاعضا اور مضبوط جسم جوانی کی رنگینیوں سے معمور پیکر نور لگ رہا تھا۔ اس کی نظریں چاروں طرف گھوم رہی تھیں جب بھی وہ اس کی طرف دیکھتا تو یوں محسوس ہوتا کہ ان آوارہ نظروں کو کچھ قرار ٓگیا ہے۔ وہ آنکھیں اٹھا کر دیکھتی تو نظریں جھکا لیتا۔

”تم اس مجسمے کو بہت غور سے دیکھ رہی ہو؟“

اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کنواری ماں کا تبسم، اس کے چہرے کے گرد زرتار روشنی کا ہالہ اور بچے کا ماں سے لپٹنا دیکھ کر ممتا کی انجانی سی کیل اس کی کلیجے میں چبھ گئی تھی۔

”مقدس مریم اور مسیح کو دیکھ کر تم حیران ہو رہی ہو۔“
وہ پھر خاموش بیٹھی رہی۔
”معذرت خواہ ہوں! جب تم اسے دیکھ کر پریشان ہو جاتی ہو تو اس کی طرف کیوں دیکھتی ہو؟“
عشال نے نظریں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا، ”کیا ہم ایک دوسرے کا جانتے ہیں؟“
سوال کا جواب دینے کی بجائے اس نے نیا سوال کر دیا۔
”کیا ہم ایک دوسرے سے سوال ہی کرتے رہیں گے؟“
بہت چالاک آدمی تھا۔ کہنے لگا، ”تمہیں پریشان دیکھا تو سوچا شاید میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔“
عشال کو اس کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن وہ کمبل بن رہا تھا۔
”تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں پریشان ہوں؟“
وہ کھسیانی ہنسی ہنسنے لگا۔
”تمہیں اچھا نہیں لگا تو میں چلا جاتا ہوں۔“

عشال نے اس کی طرف غور سے دیکھا اس کی بدن بولی زبان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ وہ جو کہہ رہا تھا اس پر عمل کرنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔

عشال کو خاموش پا کر اس نے بات بدلی۔
”یوں لگتا ہے جیسے یہ بچہ اسی پتھر کی ماں نے جنم دیا ہے۔“
وہ واپس مڑا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے پھر کہنے لگا،
”تم بھی پتھر کی بنی ہوئی لگتی ہو۔ کیا تمہیں ماں اور بیٹے کو دیکھ کر کچھ محسوس ہوتا ہے؟“

عشال اس کو گھورنے لگی۔ وہ شرمندہ ہونے کی بجائے مسکرائے جا رہا تھا۔ اس کی شرارت بھری آنکھوں میں چلبلا پن ناچ رہا تھا۔ کلین شیو ہونٹوں اور گالوں پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگیں تو اس نے اپنے چہرے کو ہاتھ سے پونچھنا شروع کر دیا۔ آفٹر شیو لوشن کی مہک عشال کے نتھنوں میں گھس گئی۔ پہلی بار عشال نے اسے غور سے دیکھا۔

اس کا کھلتا ہوا کندنی رنگ ہال کی تیز روشنی میں سرخ بھبوکا دکھائی دے رہا تھا۔ سرخ و شاداب ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ سجی تھی۔ وہ تاڑ کے پیڑ کی طرح اس کے سامنے بالکل سیدھا کھڑا تھا۔ اس کے چہرے کو دیکھنے کے لیے گردن اوپر اٹھانی پڑتی تھی۔ کافوری سینے پر پلتے کالے سیاہ بال شرٹ سے باہر اچھل رہے تھے۔ وہ زیبائش و رعنائی کا پیکر مجسم تھا۔

اس نے عشال کو اپنا جائزہ لیتے دیکھا تو نظریں جھکا کر خاموش ہو گیا۔ عشال نے محسوس کیا کہ جھکی نظریں پھر اس کے پیٹ اور کولہوں پر جمی ہوئی تھیں۔

یہ ڈاکٹری بہت عجیب شعبہ ہے۔ لوگ انسان کو اس کی شکل و صورت سے جانتے ہیں اور ڈاکٹرز کی آنکھیں ان کا حلیہ دیکھتے ہی لباس کے اندر جا کر پیٹ و سینے میں داخل ہو کر اندرونی اعضا کو جانچنا شروع کر دیتی ہیں۔

عشال کو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس کے بھاری کولہوں کو نہیں بلکہ ان کے اندر جھانک رہا ہے۔ اس کی نظریں پیڑو کے اندر گھس کر رحم اور بیضہ دانیوں کو دیکھ رہی تھیں۔

یہ سوچ کر اس کے پیٹ کے نچلے حصے میں ہلچل مچ گئی۔ ریڑھ کے نچلے حصے میں کنڈلی مار کر بیٹھی ناگن کے دل میں ہنگامہ جذبات پھوٹ پڑتا۔

عشال سوچ رہی تھی کہ جذبات کے رخ پر پڑی نقاب کو الٹ کر اسے اس ناگن کی اصل جھلک دکھا دے جس کے دل میں اک آتشیں خواہش لہو کی طرح دوڑ رہی تھی۔ خواہش جو ہر مہینے بند توڑ کر نکل پڑتی تھی۔

عشال اسے جی بھر کر دیکھنا چاہتی تھی۔ وہ سفید پینٹ اور گلابی شرٹ پہنے سامنے کھڑا تھا۔ اس کی کمر کے گرد چمڑے کی دھاری دار بیلٹ ایک ناگ کی طرح لپٹی ہوئی تھی۔ یہ ناگ پیٹ کے اندر مثانے کے نیچے موجود تھیلیوں میں اچھلتے کودتے جرثوموں کے خزانے کی حفاظت پر معمور تھا۔

عشال انہی خیالات میں الجھی ہوئی تھی کہ اس کے پیڑو کے اندر دونوں طرف یک دم درد شروع ہو گیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے پیٹ کو دبا لیا۔ اس کی بیضہ دانیاں پھٹ گئی تھیں۔ وہ ساتھ پڑے بنچ پر بیٹھ کر پیٹ کے اندر ہونے والے ہنگامے کے بارے میں سوچنے لگی۔ چبھن بڑھتی جا رہی تھی۔

خیالات بھی عجیب ہوتے ہیں زبردستی دل میں گھس آتے ہیں تو پھر نکلتے ہی نہیں۔ بعض خیال تو بڑھتے بڑھتے حسرت بن جاتے ہیں اور پھر دعا کا روپ دھار کر روح کو دو زانو کر دیتے ہیں۔

درد کی شدت کم کرنے کے لیے اس نے اپنا سر گھٹنوں میں دبا لیا۔
کافی دیر خاموشی چھائی رہی۔
پھر وہ عشال سے مخاطب ہوا،
”آؤ میرے ساتھ چلو! کسی ریسٹورنٹ میں کچھ دیر بیٹھتے ہیں۔“
پیڑو میں موجود جلن بڑھ گئی۔
’پیڑو کی آنچ، پھر کیا سات پانچ‘
وہ اٹھی، مقدس ماں اور دودھ پیتے مسیح کو دیکھا: اس کا بازو تھام کر چل پڑی۔

سید زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • احساس خود گرفتہ سے جاں پر بنی رہی
  • خواب در خواب مرے خواب میں شامل ہوئی ہے
  • ہم پر بھی محبت نے عجب دان کیا ہے
  • جب اک ستارا گرا اور جل گیا مجھ میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بلائوں کو ٹالنے کا سبب
پچھلی پوسٹ
ہم ایک دن نکل آئے تھے

متعلقہ پوسٹس

عمران خان کی اپیل اور روس کی حمایت

اپریل 18, 2020

شی مین

مئی 10, 2020

یوں ہی نہیں ہے

مارچ 22, 2025

زندہ ہیں تِرے شہر میں امید و یقیں پر

جولائی 13, 2022

پرواز کے بعد

جنوری 3, 2020

فقیر

نومبر 14, 2021

کثیف روحیں

جنوری 30, 2021

منفی سوچ اور صحت کا حسّاس معاملہ

جون 27, 2020

ترے در پہ یہ سر جھُکا ہے

جنوری 6, 2023

شبنما

جون 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عالمِ برزخ سے

جنوری 9, 2020

زندگی! تجھے کیا چاہیے؟

اپریل 21, 2026

خالی بوتلیں خالی ڈبے

جنوری 12, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں