101
اب زمانوں سے ہٹ کے بات کرو
ان بہانوں سے ہٹ کے بات کرو
تم ہو کتنے عزیز جانتا ہوں
بس گھرانوں سے ہٹ کے بات کرو
تم کو احساس ہو زمیں والوں کا
آسمانوں سے ہٹ کے بات کرو
پھر ہو مردانگی کا حق بھی ادا
زن کی رانوں سے ہٹ کے بات کرو
یہ محبت یہ عشق باتیں ہیں بس
گر فسانوں سے ہٹ کے بات کرو
ناصر زملؔ
