خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباشوہر کی ایکسپائیری عمر کیا ہے؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

شوہر کی ایکسپائیری عمر کیا ہے؟

از سائیٹ ایڈمن اگست 28, 2022
از سائیٹ ایڈمن اگست 28, 2022 0 تبصرے 64 مناظر
65

سوال پوچھا گیا تھاکہ
”شوہر کی ایکسپائیری عمر کیا ہے جس کے بعد بیوی دوسری شادی کاسوچے؟“
فیمینزم کی تحاریک کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی مرد کو اس جیسے کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس سوال کے جواب میں اکثر خواتین کا کہنا تھا کہ انہیں شوہر ایکسپائیر ہی ملتا ہے۔
بہت سے مردوں کے خیالات تھے کہ بیوی جب چاہے اسے ایکسپائیر کر دے، یا پھر ایکسپائیر کہہ دے۔

اس کے برعکس صدیوں سے نسل ِ انسانی نے اس نظریہ کی آبیاری کی ہے کہ مرد کی کوئی ایکسپائیری عمر نہیں ہوتی۔ یہ چٹان کی مانند اٹل اور مضبوط چیز ہے۔

مرد اور عورت کے درمیاں ہمیشہ جنسی محبت قائم رہی ہے۔ اس محبت میں میاں بیوی، محب و محبوب، یار دوست اورعاشق و معشوق یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ غالب و مغلوب دُکھ سکھ، ہمدردی و دل لگی اور کلفت و فرحت میں جوانی سے بڑھاپا اور موت تک کا سفر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کرتے ہیں۔

جوانی کی سیڑھی چڑھتے ہی مرد یہ خواہش کرتے ہیں کہ ان کی ایک شریک حیات ہو۔ یہ خواہش معاشی استحکام اور بڑھتی عمر کے ساتھ مزید پروان چڑھتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ خوشی و شادمانی اور رنج و اَلم میں اس کی ایک ساتھی ہو۔ یہ تعلق اس کی فطری مردانگی کو بھی جلا بخشتا ہے اور معاشرہ میں اسے ایک معزز رتبہ حاصل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

ہندوستان کا عظیم مہاراجہ بھوج جو بہادری و طاقت میں رستم، عدل و انصاف میں نو شیرواں اور خیرات و دان پن میں اپنے دور کا حاتم تھا، بکرم اجیت کے ‘سنگھاسن بتیسی’ پر جلوہ افروز ہونے کے لیے پاؤں رکھنے لگتا ہے تو تخت کے گرد موجود راجہ بکرم کی بے جان اپسرائیں اس کا ٹھٹھا اڑانا شروع کر دیتی ہیں۔ پتلیوں کو زندہ ہوتے دیکھ کر وہ خوف و دہشت سے گھبراتا نہیں بلکہ غصے سے چِلا اُٹھتا ہے۔ ‘رتن منجری’ نامی پتلی راجہ بکرم اجیت کی قصیدہ خوانی کرتے ہوئے کہتی ہے ”تم بہت بڑے راجہ ہو لیکن شان و شوکت میں میرے راجہ کے عشر عشیر بھی نہیں ،اس لیے تم اس قابل نہیں کہ جس سنگھاسن پر میرا راجہ بیٹھتا تھا اس پر قدم بھی رکھ سکو۔“

راجہ بھوج جواباً اپنی خوبیاں بیان کرتے ہوئے پوچھتا ہے ”تم کس بات پہ ہنسیں، تم نے کیا دیکھا؟ کیا میں راجہ کا بیٹا نہیں، کیا میں قوم کا چھتری نہیں، یا دریا دل نہیں؟ کیا دوسرے راجہ میرے ماتحت نہیں؟ کیا میں صاحب ِ علم و فضل نہیں، یا تدبر و سیاست کے اصولوں سے ناواقف ہوں؟ اور بہت سی خوبیاں بیان کرتے وقت وہ یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہے “کیا میں نامرد ہوں یا میری رانیوں میں کوئی پدمنی نہیں؟“

پدمنی ہر مرد کی ضرورت ہے۔ ہر مرد یہ چاہتا ہے کہ اس کی ایک شریک حیات ہو، بچے ہوں جن کے ساتھ وہ اپنا غم غلط کرسکے اور سب مل کر ایک دوسرے کی دلجوئی کرسکیں۔

فیمینزم کی تحریک نے پدرسری معاشرے میں عورت پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذمہ دار مرد کو قرار دیتے ہوئے اسے نشانہ بنالیا ہے۔ یہ نہیں سوچا کہ ان مظالم میں مرد کا ہاتھ تو شامل رہا ہی ہے لیکن ان کی اصل وجہ طاقت کا عدم توازن تھا۔ اس نا انصافی کا مرد بھی شکار ہوا ہے اور یہ ناانصافی اب بھی جاری ہے۔

مرد اور عورت کے مابین صدیوں سے قائم تعلق کو اب دشمنی میں تبدیل کیا جارہے۔ آج کا مرد اس معاملہ میں اب خوف زدہ اور مضطرب و بے چین ہے۔

کل میں کلینک پر بیٹھا تو پہلا مریض ہی ڈرا ہوا، سہما ہوا ملا۔ شادی کو آٹھ ماہ ہوئے تھے۔ بیگم حاملہ نہیں ہو رہی تھی۔ خاوند دور دراز کے شہر میں مزدوری کرتا تھا۔ مہینے میں کچھ دن ہی ان کا ملاپ ہوتا تھا۔ عورت کی ماں الزام لگا رہی تھی کہ لڑکے کا پانی بہت پتلا ہے اور اس میں جراثیم کی تعداد کم ہے۔ میں نے پوچھا ٹیسٹ کروائے بغیر تمہیں کیسے پتا چلا؟ کہنے لگی ”میرا باپ حکیم تھا۔ میں مرد کی نبض دیکھ کر جان جاتی ہوں۔“

یہ مرد جو اس مشکل دور میں روزی روٹی کی فکر میں الجھا ہوا ہے، سر جھکائے شرمندہ بیٹھا تھا۔ وہ اب اپنی بیوی کی بےوقوفی یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ چالاکی کی وجہ سے مردانگی ایکسپائر کروا کر نامردی کا طعنہ سن رہا تھا۔

آج کی عورت بھی بھولی بھالی نہیں۔ کھیل کھیلنا جانتی ہے۔ وہ مرد کو معاشی اور جذباتی چنگل میں پھنسا کر اس پر غیر ضروری بوجھ لاد رہی ہے۔ صدیوں کے مظالم کا بدلہ موجودہ مرد کو نئے نئے مسائل میں الجھا کر لے رہی ہے۔ اس سے ان کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کے درمیان ایک اجنبیت پیدا ہو رہی اور میاں بیوی کے رشتے میں ایک وسیع خلیج حائل ہوتی جا رہی ہے۔ یہ فاصلےمرد کی عمر کو ایکسپائیری کی طرف لے جا رہے ہیں ۔

اہم سوال یہ ہے کہ کیا آج کی عورت تابعدار قسم کا مرد چاہتی ہے؟

تاریخ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ جب جب عورت کو اپنا بَر چُننے کا موقع ملا، اس نے ہمیشہ طاقتور اور امیر شخص کو ہی پسند کیا۔ اس کے برعکس مرد ہمیشہ کنیز کی صحبت سے زیادہ لطف اندوز ہوا، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے وہ طوائف کی زلفوں کا اسیر ہو کر خود کو برباد کرنے سے بھی نہیں ہچکچایا۔ کیونکہ زبردست اور حاکم عورت اسے جنسی تسکین نہیں پہنچا سکتی یا کہا جا سکتا ہے اس فعل میں اس کی خواہشات کے مطابق ڈھل کر اسے لطف اندوز نہیں کر سکتی۔ کنیز اور طوائف کی تربیت میں ان باتوں پر دھیان دیا جاتا ہے اور یہ خصوصیات ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔

واجدہ تبسم کے افسانے ‘اترن’ پر بنائی گئی فلم ‘کاماسترا’ کا مرکزی خیال یہی ہے۔ قدیم یونان کی ‘ہیٹری’ کو جنسی خدمات کی مہارت کے ساتھ اعلیٰ تعلیم بھی دلوائی جاتی تھی۔ وہ موسیقی اور ناچ گانے کے ساتھ عاجزی، خاطر مدارت، تحسین و ستائش، چاپلوسی اور خوشامدکی بھی ماہر ہوتی تھیں۔ ان کی یہی خوبیاں انہیں سمپوزیم میں بھی امراء کی رفاقت بخشتی تھیں ۔

مرد کا یہی جرم ہے کہ اس نے اپنی خواہشات کو طاقتور کےتابع نہیں کیا۔ اس جرم کو تاریخ مردانگی کا نام دیتی ہے۔ اس جرم کی اسے آج سزا مل رہی ہے۔
پوری دنیا میں فیمینزم کی تحاریک کے بعد مرد اپنی مردانگی کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں۔ آج کے مرد کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ماضی میں وہ مراعات یافتہ تھا اوراس نے عورتوں پر بہت ظلم کیے ہیں۔ پدرسری معاشرہ کی حکومت میں مرد نے عورت پرجومظالم ڈھائے آج کے مرد سے ان تمام کا جواب مانگا جارہا ہے۔ اسے طعنے دیے جارہے ہیں کہ تمہارا دور ختم ہو گیا ہے اب فرمانبردار بن کر رہو۔ اس کی مردانگی زیر عتاب ہے۔

وہ جھکتا جارہا ہے۔ کنیز کا شعبہ ہی ختم کردیا ۔قحبگی کو قابل نفرت بنا کر خود کو اس سے دور کرنے کے جتن کر رہا ہے۔پھر بھی قابل قبول نہیں۔ بعض مرتبہ تو یوں لگتا ہے کہ مرد اس گناہ کے ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے اور اب مردوں کے خدا کو اپنا بیٹا مسیح بنا کر مصلوب کروانا پڑے گا پھر شاید مردوں کے اس گناہ کا کفارہ ادا ہوسکے۔

آئیے تلخی ختم کرنے کے لیے وارث شاہ کے ایک بند سے لطف اندوز ہوں ۔

مینوں بابلے دی سونہہ رانجھنا وے، مرے ماؤں جے تدھ تھیں مکھ موڑاں
تیرے باجھ طعام حرام مینوں، تدھ باجھ نہ نین نہ انگ جوڑاں

خواجہ خضر تے بیٹھ کے قسم کھادھی، تھیواں سور جے پریت دی ریت توڑاں
کوڑھی ہو کے نین پران جاون، تیرے باجھ جے کونت میں ہور لوڑاں

(سونہہ، قسم -تدھ تھیں، تجھ سے- باجھ ، بغیر- تھیواں سور، سور بن جاؤں-توڑاں، توڑنا-نین ، آنکھیں- پران، اعضا- کونت ، خاوند- لوڑاں، ڈھونڈنا)

سید زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہم کو جہانِ شوق کا منظر
  • شہروں میں تفریحی سہولیات کی کمی
  • عطر کافور
  • کربِ آگہی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سوت پر سوت اور جلاپا
پچھلی پوسٹ
ترکی بدل گیا ہے

متعلقہ پوسٹس

کئی اسرار ہوتے ہیں

اکتوبر 12, 2025

اک مصرعے نے چوم لیا درد ہمارا

اکتوبر 16, 2025

سچ اور جھوٹ کا رزم نامہ

جنوری 15, 2026

کچھ رہ جانے والی باتیں

جنوری 23, 2020

وبا جان لیوا , ادا جان لیوا

اگست 23, 2020

پاکستان کا مطلب کیا

جولائی 20, 2021

ایک بار الکشن میں

دسمبر 15, 2019

تنہائیِ شب

دسمبر 25, 2025

دیےنے تھامی ہوئی تھی قلم دوات کی نبض

نومبر 19, 2021

ہِلے ہوئے لوگ

جنوری 30, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

باؤلاپن اور تعویذ گنڈہ

جون 1, 2021

خدا کے بعد برتر، آپ ہی...

جولائی 16, 2021

نقشِ ماضی

جنوری 6, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں