خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباشوہر کی ایکسپائیری عمر کیا ہے؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

شوہر کی ایکسپائیری عمر کیا ہے؟

از سائیٹ ایڈمن اگست 28, 2022
از سائیٹ ایڈمن اگست 28, 2022 0 تبصرے 30 مناظر
31

سوال پوچھا گیا تھاکہ
”شوہر کی ایکسپائیری عمر کیا ہے جس کے بعد بیوی دوسری شادی کاسوچے؟“
فیمینزم کی تحاریک کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی مرد کو اس جیسے کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس سوال کے جواب میں اکثر خواتین کا کہنا تھا کہ انہیں شوہر ایکسپائیر ہی ملتا ہے۔
بہت سے مردوں کے خیالات تھے کہ بیوی جب چاہے اسے ایکسپائیر کر دے، یا پھر ایکسپائیر کہہ دے۔

اس کے برعکس صدیوں سے نسل ِ انسانی نے اس نظریہ کی آبیاری کی ہے کہ مرد کی کوئی ایکسپائیری عمر نہیں ہوتی۔ یہ چٹان کی مانند اٹل اور مضبوط چیز ہے۔

مرد اور عورت کے درمیاں ہمیشہ جنسی محبت قائم رہی ہے۔ اس محبت میں میاں بیوی، محب و محبوب، یار دوست اورعاشق و معشوق یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ غالب و مغلوب دُکھ سکھ، ہمدردی و دل لگی اور کلفت و فرحت میں جوانی سے بڑھاپا اور موت تک کا سفر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کرتے ہیں۔

جوانی کی سیڑھی چڑھتے ہی مرد یہ خواہش کرتے ہیں کہ ان کی ایک شریک حیات ہو۔ یہ خواہش معاشی استحکام اور بڑھتی عمر کے ساتھ مزید پروان چڑھتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ خوشی و شادمانی اور رنج و اَلم میں اس کی ایک ساتھی ہو۔ یہ تعلق اس کی فطری مردانگی کو بھی جلا بخشتا ہے اور معاشرہ میں اسے ایک معزز رتبہ حاصل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

ہندوستان کا عظیم مہاراجہ بھوج جو بہادری و طاقت میں رستم، عدل و انصاف میں نو شیرواں اور خیرات و دان پن میں اپنے دور کا حاتم تھا، بکرم اجیت کے ‘سنگھاسن بتیسی’ پر جلوہ افروز ہونے کے لیے پاؤں رکھنے لگتا ہے تو تخت کے گرد موجود راجہ بکرم کی بے جان اپسرائیں اس کا ٹھٹھا اڑانا شروع کر دیتی ہیں۔ پتلیوں کو زندہ ہوتے دیکھ کر وہ خوف و دہشت سے گھبراتا نہیں بلکہ غصے سے چِلا اُٹھتا ہے۔ ‘رتن منجری’ نامی پتلی راجہ بکرم اجیت کی قصیدہ خوانی کرتے ہوئے کہتی ہے ”تم بہت بڑے راجہ ہو لیکن شان و شوکت میں میرے راجہ کے عشر عشیر بھی نہیں ،اس لیے تم اس قابل نہیں کہ جس سنگھاسن پر میرا راجہ بیٹھتا تھا اس پر قدم بھی رکھ سکو۔“

راجہ بھوج جواباً اپنی خوبیاں بیان کرتے ہوئے پوچھتا ہے ”تم کس بات پہ ہنسیں، تم نے کیا دیکھا؟ کیا میں راجہ کا بیٹا نہیں، کیا میں قوم کا چھتری نہیں، یا دریا دل نہیں؟ کیا دوسرے راجہ میرے ماتحت نہیں؟ کیا میں صاحب ِ علم و فضل نہیں، یا تدبر و سیاست کے اصولوں سے ناواقف ہوں؟ اور بہت سی خوبیاں بیان کرتے وقت وہ یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہے “کیا میں نامرد ہوں یا میری رانیوں میں کوئی پدمنی نہیں؟“

پدمنی ہر مرد کی ضرورت ہے۔ ہر مرد یہ چاہتا ہے کہ اس کی ایک شریک حیات ہو، بچے ہوں جن کے ساتھ وہ اپنا غم غلط کرسکے اور سب مل کر ایک دوسرے کی دلجوئی کرسکیں۔

فیمینزم کی تحریک نے پدرسری معاشرے میں عورت پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذمہ دار مرد کو قرار دیتے ہوئے اسے نشانہ بنالیا ہے۔ یہ نہیں سوچا کہ ان مظالم میں مرد کا ہاتھ تو شامل رہا ہی ہے لیکن ان کی اصل وجہ طاقت کا عدم توازن تھا۔ اس نا انصافی کا مرد بھی شکار ہوا ہے اور یہ ناانصافی اب بھی جاری ہے۔

مرد اور عورت کے مابین صدیوں سے قائم تعلق کو اب دشمنی میں تبدیل کیا جارہے۔ آج کا مرد اس معاملہ میں اب خوف زدہ اور مضطرب و بے چین ہے۔

کل میں کلینک پر بیٹھا تو پہلا مریض ہی ڈرا ہوا، سہما ہوا ملا۔ شادی کو آٹھ ماہ ہوئے تھے۔ بیگم حاملہ نہیں ہو رہی تھی۔ خاوند دور دراز کے شہر میں مزدوری کرتا تھا۔ مہینے میں کچھ دن ہی ان کا ملاپ ہوتا تھا۔ عورت کی ماں الزام لگا رہی تھی کہ لڑکے کا پانی بہت پتلا ہے اور اس میں جراثیم کی تعداد کم ہے۔ میں نے پوچھا ٹیسٹ کروائے بغیر تمہیں کیسے پتا چلا؟ کہنے لگی ”میرا باپ حکیم تھا۔ میں مرد کی نبض دیکھ کر جان جاتی ہوں۔“

یہ مرد جو اس مشکل دور میں روزی روٹی کی فکر میں الجھا ہوا ہے، سر جھکائے شرمندہ بیٹھا تھا۔ وہ اب اپنی بیوی کی بےوقوفی یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ چالاکی کی وجہ سے مردانگی ایکسپائر کروا کر نامردی کا طعنہ سن رہا تھا۔

آج کی عورت بھی بھولی بھالی نہیں۔ کھیل کھیلنا جانتی ہے۔ وہ مرد کو معاشی اور جذباتی چنگل میں پھنسا کر اس پر غیر ضروری بوجھ لاد رہی ہے۔ صدیوں کے مظالم کا بدلہ موجودہ مرد کو نئے نئے مسائل میں الجھا کر لے رہی ہے۔ اس سے ان کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کے درمیان ایک اجنبیت پیدا ہو رہی اور میاں بیوی کے رشتے میں ایک وسیع خلیج حائل ہوتی جا رہی ہے۔ یہ فاصلےمرد کی عمر کو ایکسپائیری کی طرف لے جا رہے ہیں ۔

اہم سوال یہ ہے کہ کیا آج کی عورت تابعدار قسم کا مرد چاہتی ہے؟

تاریخ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ جب جب عورت کو اپنا بَر چُننے کا موقع ملا، اس نے ہمیشہ طاقتور اور امیر شخص کو ہی پسند کیا۔ اس کے برعکس مرد ہمیشہ کنیز کی صحبت سے زیادہ لطف اندوز ہوا، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے وہ طوائف کی زلفوں کا اسیر ہو کر خود کو برباد کرنے سے بھی نہیں ہچکچایا۔ کیونکہ زبردست اور حاکم عورت اسے جنسی تسکین نہیں پہنچا سکتی یا کہا جا سکتا ہے اس فعل میں اس کی خواہشات کے مطابق ڈھل کر اسے لطف اندوز نہیں کر سکتی۔ کنیز اور طوائف کی تربیت میں ان باتوں پر دھیان دیا جاتا ہے اور یہ خصوصیات ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔

واجدہ تبسم کے افسانے ‘اترن’ پر بنائی گئی فلم ‘کاماسترا’ کا مرکزی خیال یہی ہے۔ قدیم یونان کی ‘ہیٹری’ کو جنسی خدمات کی مہارت کے ساتھ اعلیٰ تعلیم بھی دلوائی جاتی تھی۔ وہ موسیقی اور ناچ گانے کے ساتھ عاجزی، خاطر مدارت، تحسین و ستائش، چاپلوسی اور خوشامدکی بھی ماہر ہوتی تھیں۔ ان کی یہی خوبیاں انہیں سمپوزیم میں بھی امراء کی رفاقت بخشتی تھیں ۔

مرد کا یہی جرم ہے کہ اس نے اپنی خواہشات کو طاقتور کےتابع نہیں کیا۔ اس جرم کو تاریخ مردانگی کا نام دیتی ہے۔ اس جرم کی اسے آج سزا مل رہی ہے۔
پوری دنیا میں فیمینزم کی تحاریک کے بعد مرد اپنی مردانگی کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں۔ آج کے مرد کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ماضی میں وہ مراعات یافتہ تھا اوراس نے عورتوں پر بہت ظلم کیے ہیں۔ پدرسری معاشرہ کی حکومت میں مرد نے عورت پرجومظالم ڈھائے آج کے مرد سے ان تمام کا جواب مانگا جارہا ہے۔ اسے طعنے دیے جارہے ہیں کہ تمہارا دور ختم ہو گیا ہے اب فرمانبردار بن کر رہو۔ اس کی مردانگی زیر عتاب ہے۔

وہ جھکتا جارہا ہے۔ کنیز کا شعبہ ہی ختم کردیا ۔قحبگی کو قابل نفرت بنا کر خود کو اس سے دور کرنے کے جتن کر رہا ہے۔پھر بھی قابل قبول نہیں۔ بعض مرتبہ تو یوں لگتا ہے کہ مرد اس گناہ کے ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے اور اب مردوں کے خدا کو اپنا بیٹا مسیح بنا کر مصلوب کروانا پڑے گا پھر شاید مردوں کے اس گناہ کا کفارہ ادا ہوسکے۔

آئیے تلخی ختم کرنے کے لیے وارث شاہ کے ایک بند سے لطف اندوز ہوں ۔

مینوں بابلے دی سونہہ رانجھنا وے، مرے ماؤں جے تدھ تھیں مکھ موڑاں
تیرے باجھ طعام حرام مینوں، تدھ باجھ نہ نین نہ انگ جوڑاں

خواجہ خضر تے بیٹھ کے قسم کھادھی، تھیواں سور جے پریت دی ریت توڑاں
کوڑھی ہو کے نین پران جاون، تیرے باجھ جے کونت میں ہور لوڑاں

(سونہہ، قسم -تدھ تھیں، تجھ سے- باجھ ، بغیر- تھیواں سور، سور بن جاؤں-توڑاں، توڑنا-نین ، آنکھیں- پران، اعضا- کونت ، خاوند- لوڑاں، ڈھونڈنا)

سید زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کتابِ زندگی کو کون دیکھے
  • کوئی ان دیکھی فضا تصویر کرنا چاہیئے
  • آج کی حوا
  • عشق کیا ہے، ہوس ہے کیا، اے دوست!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سوت پر سوت اور جلاپا
پچھلی پوسٹ
ترکی بدل گیا ہے

متعلقہ پوسٹس

سرخ لباس کی سرخوشی

نومبر 30, 2024

تقی کاتب

جنوری 28, 2020

گل بانو اور فائزہ کی دوستی

اپریل 1, 2023

ندی کے اُس پار

مارچ 12, 2025

آپ اتنے بھی محترم نہیں

دسمبر 3, 2020

بھلا اجڑے گھروندوں سے

نومبر 15, 2025

ﺩﻝِ ﺻﺪ ﭼﺎﮎ ﻣﯿﮟ

جولائی 5, 2025

چنبیلی

دسمبر 23, 2021

اسے میں بھول جاؤں گی

مارچ 2, 2022

سہنے کو ہجر جب بھی تمنا مزید کی

مئی 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زلف_جاناں کو سنواریں گے چلے جائیں...

دسمبر 5, 2021

ہم تو سجدے بھی کیا کرتے...

اکتوبر 30, 2025

زندہ ہیں تِرے شہر میں امید...

جولائی 13, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں