خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرسچ اور جھوٹ کا رزم نامہ
اردو تحاریرمحمد حسین آزادمقالات و مضامین

سچ اور جھوٹ کا رزم نامہ

از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2026 0 تبصرے 25 مناظر
26

عہد قدیم کے مؤرخ لکھتے ہیں کہ اگلے زمانہ میں فارس کے شرفا اپنے بچوں کے لئے تین باتوں کی تعلیم میں بڑی کوشش کرتے تھے۔ شہ سواری، تیراندازی اور راست بازی۔ شہ سواری اور تیراندازی تو بے شک سہل آ جاتی ہوگی، مگر کیا اچھی بات ہوتی کہ اگر ہمیں معلوم ہو جاتا کہ راست بازی کن کن طریقوں سے سکھاتے تھے اور وہ کون سی سپر تھی کہ جب دروغ دیوزاد آکر ان کے دلوں پر شیشہ جادو مارتا تھا، تو یہ اس چوٹ سے اس کی اوٹ میں بچ جاتے تھے۔
اس میں شک نہیں کہ دنیا بری جگہ ہے۔ چند روزہ عمر میں بہت سی باتیں پیش آتی ہیں، جو اس مشت خاک کو اس دیوآتش زاد کی اطاعت کے لئے مجبور کرتی ہیں۔ انسان سے اکثر ایسا جرم ہو جاتا ہے کہ اگر قبولے تو مرنا پڑتا ہے، ناچار مکرنا پڑتا ہے، کبھی ابا فریبی کرکے جاہلوں کو پھنساتا ہے، جب لقمہ رزق کا پاتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت مزے دنیا کے ہیں کہ مکرودغاان کی چاٹ لگاتی ہے، اور جزوی جزوی خطائیں ہوجاتی ہیں جن سے مکرتے ہی بن آتی ہے۔ غرض بہت کم انسان ہوں گے جن میں یہ حوصلہ و استقلال ہو کہ راستی کے راستے میں ہر دم ثابت قدم ہی رہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ انسان کے سچ بولنے کے لئے سننے والے بھی ضرور ہیں، کیوں کہ خوشامد جس کی دکان میں آج موتی برس رہے ہیں اس سے زیادہ جھوٹ کیا ہوگا اور کون ایسا ہے جو اس قید کا زنجیر نہیں۔ ڈرپوک بیچارا ڈر کا مارا خوشامد کرتا ہے۔ تابع دار امید کا بھوکا آقا کو خوش کرکے پیٹ بھرتا ہے۔ دوست محبت کا بندہ ہے۔ اپنے دوست کے دل میں اسی سے گھر کرتا ہے۔ ایسے بھی ہیں کہ نہ غلام ہیں، نہ ڈرپوک ہیں۔ انہیں باتوں باتوں میں خوش کر دینے ہی کا شوق ہے۔ اسی طرح جب جلسوں میں نمود یے گدھوں کے دعوے بل ڈاگ 1 کی آواز سے کئی میدان آگے نکل جاتے ہیں، توان میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں کچھ امید، کچھ ڈر، کچھ مروت سے، غرض چار ناچار کبھی ان کے ساتھ ساتھ، کبھی پیچھے پیچھے دوڑنا پڑتا ہے۔
سچ کا عجب حال ہے کہ اتنا تو اچھا ہے، مگر پھر بھی لوگ اسے ہر وقت اچھا نہیں سمجھتے، چنانچہ جب کسی شے پر دل آتا ہے اور سچ اس کے برخلاف ہوتا ہے تو اس وقت سچ سے زیادہ کوئی برا نہیں معلوم ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ حضرت انسان کو حقیقت اور واقعیت سے کچھ غرض نہیں۔ جس چیز کو جی نہیں چاہتا، اس کا جاننا بھی نہیں چاہتے۔ جو بات پسند نہیں آتی اس کا ذکر بھی نہیں سنتے، اس کا ن سنتے ہیں، اس کان سے نکال دیتے ہیں۔ حکیموں نے جھوٹ سے متنفر ہونے کی بہت سی تدبیریں نکالی ہیں اور جس طرح بچوں کو کڑوی دوا مٹھائی میں ملاکر کھلاتے ہیں، اسی طرح انواع و اقسام کے رنگوں میں اس کی نصیحتیں کیں ہیں تاکہ لوگ اسے ہنستے کھیلتے چھوڑ دیں۔

واضح ہوکہ ملکہ صداقت زمانی، سلطان آسمانی کی بیٹی تھی جوکہ ملکہ دانش خاتون کے پیٹ سے پیدا ہوئی تھی۔ جب ملکہ موصوفہ نے ہوش سنبھالا تو اول تعلیم و تربیت کے سپرد ہوئی۔ جب انہوں نے اس کی پرورش میں اپنا حق ادا کر لیا تو باپ کے دربارمیں سلام کو حاضر ہوئی۔ اسے نیکی اور نیک ذاتی کے ساتھ خوبیوں اور محبوبیوں کے زیور سے آراستہ دیکھ کر سب نے صدق دل سے تعریف کی۔ عزت دوام کا تاج مرصع سر پر رکھا گیا اورحکم ہوا کہ جاؤ اولاد آدم میں اپنا نور پھیلاؤ۔ عالم سفلی میں دروغ دیوزاد ایک سفلہ نابکار تھا کہ حمق تیرہ دماغ اس کا باپ تھا اور ہوس ہوا پرست اس کی ماں تھی۔ اگرچہ اسے دربار میں آنے کی اجازت نہ تھی، مگر جب کسی تفریح کی صحبت میں تمسخر اور ظرافت کے بھانڈ آیا کرتے تھے توان کی سنگت میں وہ بھی آ جاتا تھا۔
اتفاقاً اس دن وہ بھی آیاہوا تھا اور بادشاہ کو ایسا خوش کیا تھا کہ اسے ملبوس خاص کا خلعت مل گیا تھا۔ یہ منافق دل میں سلطان آسمانی سے سخت عداوت رکھتا تھا۔ ملکہ کی قدر و منزلت دیکھ کر اسے حسد کی آگ نے بھڑکایا۔ چنانچہ وہاں سے چپ چپاتے نکلا اور ملکہ کے عمل میں خلل ڈالنے کو ساتھ ساتھ روانہ ہوا۔ جب یہ دو دعوے دار نئے ملک اور نئی رعیت کے تسخیر کرنے کو اٹھے تو چونکہ بزرگان آسمانی کو ان کی دشمنی کی بنیاد ابتدا سے معلوم تھی، سب کی آنکھیں ادھر لگ گئیں کہ دیکھیں ان کی لڑائی کا انجام کیا ہو؟

سچ کے زور و قوت کو کون نہیں جانتا۔ چنانچہ ملکہ صداقت کو بھی حقیقت کے دعوے تھے۔ اٹھی اور اپنے زور میں بھری ہوئی تھی؛ اسی واسطے بلند اٹھی۔ اکیلی آئی اور کسی کی مدد ساتھ نہ لائی۔ ہاں آگے آگے فتح و اقبال نور کا غبار اڑاتے آتے تھے اور پیچھے پیچھے ادراک پری پرواز تھا۔ مگرصاف معلوم ہوتا تھا کہ تابع ہے، شریک نہیں۔ ملکہ کی شان شاہانہ تھی، اور دبدبہ خسروانہ تھا۔ اگرچہ آہستہ آہستہ آتی تھی، مگر استقلال کا رکاب پکڑے تھا۔ اور جو قدم اٹھتا تھا، دس قدم آگے پڑتا نظر آتا تھا۔ ساتھ اس کے جب ایک دفعہ جم جاتا تھا، تو انسان کیا فرشتہ سے بھی نہ ہٹ سکتا تھا۔
دروغ دیوزاد بہروپ بدلنے میں طاق تھا، ملکہ کی ہربات کی نقل کرتا تھا اور نئے نئے سوانگ بھرتا تو وضع اس کی گھبرائی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ دنیا کی ہوا و ہوس، ہزاروں رسالے اور پلٹنیں اس کے ساتھ لیے تھیں او ر چوں کہ یہ ان کی مدد کا محتاج تھا، اسی لالچ کامارا کمزور تابع داروں کی طرح ان کے حکم اٹھاتا تھا۔ ساری حرکتیں اس کی بے معنی تھیں اور کام بھی الٹ پلٹ، بے اوسان تھے۔ کیونکہ استقلال ادھر نہ تھا۔ اپنی شعبدہ بازی اور نیرنگ سازی سے فتح یاب تو جلد ہو جاتا تھا، مگر تھم نہ سکتا تھا، ہواوہوس اس کے یار وفادار تھے اور اگر کچھ تھے تو وہی سنبھالتے رہتے تھے۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہو جاتا تھا کہ دونوں کا آمنا سامنا ہوکر سخت لڑائی آ پڑتی تھی۔ اس وقت دروغ دیوزاد اپنی دھوم دھام بڑھانے کے لئے سرپر بادل کا دھواں دھار پگڑ لپیٹ لیتا تھا۔ لاف و گزاف کو حکم دیتا کہ شیخی اور نمود کے ساتھ آگے جاکر غل مچانا شروع کر دو۔ ساتھ ہی دغا کو اشارہ کر دیتا تھا کہ گھات لگاکر بیٹھ جاؤ۔ دائیں ہاتھ میں طراری کی تلوار، بائیں ہاتھ میں بے حیائی کی ڈھال ہوتی تھی۔ غلط نما تیروں کا ترکش آویزاں ہوتا تھا۔ ہواوہوس دائیں بائیں دوڑتے پھرتے تھے۔ دل کی ہٹ دھرمی، بات کی پچ، پیچھے سے زور لگاتے تھے۔ غرض کبھی مقابلہ کرتا تھا تو ان زوروں کے بھروسے پر کرتا تھا اور باوجود اس کے کہ ہمیشہ یہی چاہتا ھتا کہ دور دور سے لڑائی ہو۔ میدان میں آتے ہی تیروں کی بوچھاڑ کر دیتا تھا، مگر وہ بھی بادہوائی، اٹکل پچو، بے ٹھکانے ہوتے تھے۔ خود ایک جگہ پر نہ ٹھہرتا تھا۔ دم بدم جگہ بدلتا تھا کیونکہ حق کی کمان سے جب تیر نظر اس کی طرف سر ہوتا تھا تو جھٹ تاڑ جاتا تھا۔
ملکہ کے ہاتھ میں اگرچہ باپ کی کڑک بجلی کی تلوارنہ تھی، مگر تو بھی چہرہ ہیبت ناک تھا اور رعب خداداد کا خود سر پر دھرا تھا۔ جب معرکہ مار کر ملکہ فتح یاب ہوتی تھی تو یہ شکست نصیب اپنے تیروں کا ترکش پھینک، بے حیائی کی ڈھال منہ پر لئے، ہوا و ہوس کی بھیڑ میں جاکر چھپ جاتا تھا۔ نشان لشکر گر پڑتا تھا اور لوگ پھر یرا پکڑے زمین پر گھسیٹتے پھرتے تھے۔ ملکہ صداقت زمانی کبھی کبھی زخمی بھی ہوتی تھی۔ مگرسانچ کو آنچ نہیں، زخم جلد بھر جاتے تھے اور وہ جھوٹا نابکار جب زخم کھاتا تھا تو ایسے سڑتے تھے کہ اوروں میں بھی وبا پھیلا دیتے تھے۔ مگر ذرا انگور بندھے اور پھر میدان میں آن کودا۔

دروغ دیوزاد نے تھوڑے ہی تجربہ میں معلوم کر لیا تھا کہ بڑائی اور دانائی کا پردہ اسی میں ہے کہ ایک جگہ نہ ٹھہروں۔ اس لئے دھوکہ بازی اور شبہ کاری کو حکم دیاکہ ہمارے چلنے پھرنے کے لئے ایک سڑک تیار کرو، 2مگراس طرح کے ایچ پیچ اور ہیر پھیر دے کر بناؤ کہ شاہراہ صداقت جو خط مستقیم میں ہے اس سے کہیں نہ ٹکرائے۔ چنانچہ جب اس نابکار پرکوئی حملہ کرتا تھا تو اسی رستہ سے جدھر چاہتا تھا، نکل جاتاتھا اور جدھر سے چاہتا تھا پھر آن موجود ہوتا تھا۔
ان رستوں سے اس نے ساری دنیا پرحملے کرنا شروع کر دیے اور بادشاہت اپنی تمام عالم میں پھیلا کردروغ شاہ دیوزاد کا لقب اختیار کیا۔ جہاں جہاں فتح پاتا تھا، ہوا و ہوس کو اپنا نائب چھوڑتا اور آپ فوراً کھسک جاتا۔ وہ اس فرماں روائی سے بہت خوش ہوتے تھے۔ اور جب ملکہ کا لشکر آتا تھا توبڑی گھاتوں سے مقابلے کرتے تھے۔ جھوٹی قسموں کی ایک لمبی زنجیر بنائی تھی۔ سب اپنی کمریں اس سے جکڑ لیتے تھے کہ ہرگز ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑیں گے۔ مگر سچ کے سامنے جھوٹ کے پاؤں کہاں؟ لڑتے تھے اور متابعت کرکے ہٹتے تھے۔ پھر ادھر ملکہ نے منہ پھیرا، ادھر باغی ہو گئے۔ ملکہ جب آسمان سے نازل ہوئی تھی تو سمجھتی تھی کہ بنی آدم میرے آنے سے خو ش ہوں گے۔ جو بات سنیں گے اسے مانیں گے اورحکومت میری تمام عالم میں پھیل کر مستقل ہو جائےگی۔

مگر یہاں دیکھا کہ گزارہ بھی مشکل ہے۔ لوگ ہٹ دھرمی کے بندے ہیں اور ہوا وہوس کے غلام ہیں اور اس میں بھی شک نہیں کہ ملکہ کی حکومت آگے بڑھتی تھی مگربہت تھوڑی تھوڑی۔ اس پر بھی یہ دشواری تھی کہ ذرا اس طرف ہٹی اور پھر بد عملی ہو گئی کیونکہ ہواوہوس جھٹ بغاوت کا نقارہ بجا، دشمن کے زیر علم جا موجود ہوتے تھے۔ ہر چند ملکہ صداقت زمانی ان باتوں سے کچھ دبتی نہ تھی کیوں کہ اس کا زور کسی کے بس کانہ تھا، مگر جب باربار ایسے پاجی کمینے کو اپنے مقابلہ پر دیکھتی تھی اور اس میں سوا مکر و فریب اور کمزوری و بے ہمتی کے اصالت اور شجاعت کا نام نہ پاتی تھی تو گھٹتی تھی اور دل میں پیچ و تاب کھاتی تھی۔
جب سب طرح سے ناامید ہوئی توغصہ ہوکر اپنے باپ سلطان آسمانی کو لکھا کہ آپ مجھے اپنے پاس بلا لیجئے۔ دنیا کے لوگ اس شیطان کے تابع ہوکر جن بلاؤں میں خوش ہیں ان ہی میں رہا کریں۔ اپنے کئے کی سزا آپ پالیں گے۔ سلطان آسمانی اگرچہ اس عرضی کو پڑھ کر بہت خفا ہوا مگر پھر بھی کوتاہ اندیشوں کے حال پر ترس کھایا اور سمجھا کہ اگر سچ کا قدم دنیا سے اٹھا توجہان اندھیر اور تمام عالم تہ وبالا ہوجائےگا۔ چنانچہ اس خیال سے اس کی عرض نا منظور کی۔ ساتھ اس کے یہ بھی گوارہ نہ ہوا کہ میرے جگر کا ٹکڑا جھوٹے بداصلوں کے ہاتھوں یوں مصیبت میں گرفتار رہے۔ اسی وقت عالم بالا کے پاک نہادوں کو جمع کرکے ایک انجمن منعقدکی۔ اس میں دو امرتنقیح طلب قرار پائے۔

(۱) کیا سبب ہے کہ ملکہ کی کارروائی اورفرماں فرمائی دنیا میں ہردل عزیز نہیں۔
(۲) کیا تدبیر ہے جس سے اس کے آئین حکومت کو جلد اہل عالم میں رسائی ہو اور اسے بھی ان تکلیفوں سے رہائی ہو۔

کمیٹی میں یہ بات کھلی کہ درحقیقت ملکہ کی طبیعت میں ذرا سختی ہے اور کارروائی میں تلخی ہے۔ صدرانجمن نے اتفاق رائے کرکے اس قدر زیادہ کہا کہ ملکہ کے دماغ میں اپنی حقیت کے دعوؤں کادھواں اس قدربھرا ہوا ہے کہ وہ ہمیشہ ریل گاڑی کی طرح سیدھے خط میں چل کر کامیابی چاہتی ہیں، جس کا زور طبیعتوں کو سخت اور دھواں آنکھوں کو کڑوا معلوم ہوتا ہے۔ بعض اوقات لوگوں کو اس کی راستی سے نقصان اٹھانے پڑتے ہیں۔ کبھی ایسے فساد اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کا سنبھالنا مشکل ہو جاتاہے اور یہ زمانہ ایسا ہے کہ دور اندیشی اور صلاح وقت کے بغیر کام نہیں چلتا۔ پس اسے چاہئے کہ جس طرح ہو سکے اپنی سختی اور تلخی کی اصلاح کرے۔ جب تک یہ نہ ہوگا لوگ اس کی حکومت کو رغبت سے قبول نہ کریں گے کیوں دیودروغ کی حکومت کا ڈھنگ بالکل اس کے خلاف ہے۔ اول تو اس میں فارغ البالی بہت ہے اور جو لوگ اس کی رعایا میں داخل ہوجاتے ہیں، انہیں سوا عیش و آرام کے دنیاکی کسی بات سے خبر نہیں ہوتی۔ دوسرے وہ خود بہروپیہ ہے۔ جو صورت سب کو بھائے وہی روپ بھر لیتا ہے اور اوروں کی مرضی کا جامہ پہنے رہتا ہے۔
غرض اہل انجمن نے صلاح کرکے ملکہ کی طرز لباس بدلنے کی تجویز کی۔ چنانچہ ایک ویسا ہی ڈھیلا ڈھالا جامہ تیار کیا جیسا کہ جھوٹ پہنتا تھا اوروہ پہن کر لوگوں کو جل دیا کرتا تھا۔ اس جامہ کا مصلحت زمانہ نام ہوا۔ چنانچہ اس خلعت کو زیب بدن کرکے ملکہ پھر ملک گیری کواٹھی۔ جس ملک میں پہنچتی اور آگے کو راستہ مانگتی، ہوا وہوس حاکم وہاں کے اسے دروغ دیوزاد سمجھ کر آتے اور شہر کی کنجیاں نذر گزرانتے۔ ادھر اس کا دخل ہوا ادھر ادراک آیا اور جھٹ وہ جامہ اتار لیا۔ جامہ کے اترتے ہی اس کی اصل روشنی اور ذاتی حسن وجمال پھر چمک کر نکل آیا۔ چنانچہ اب یہی وقت آ گیا ہے، یعنی جھوٹ اپنی سیاہی کو ایسا رنگ آمیزی کر کے پھیلاتا ہے کہ سچ کی روشنی کو لوگ اپنی آنکھوں کے لئے مضر سمجھنے لگے ہیں۔ اگر سچ کہیں پہنچ کر اپنا نور پھیلانا چاہتا ہے تو پہلے جھوٹ سے کچھ زرق برق کے کپڑے مانگ تانگ کر لاتا ہے۔ جب تبدیل لباس کرکے وہاں جا پہنچتا ہے تو وہ لفافہ اتار کر پھینک دیتا ہے۔ پھر اپنا اصلی نور پھیلاتا ہے کہ جھوٹ کی قلعی کھل جاتی ہے۔

حاشیے
(۱) ایک قسم کا شکاری کتا ہے، جسے ہندوستانی زبان میں گلڈانگ کہتے ہیں۔

(۲) جب جھوٹ کی قلعی کھلنے لگتی ہے تو جھوٹا آدمی ایسی باتیں پیش کرتا ہے جس سے لوگ شبہ اور شک میں پڑ جائیں اور سمجھیں کہ ہو تو سکتا ہے، شاید جو یہ کہتا ہے وہی سچ ہو۔

محمد حسین آزاد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پروین شاکر: خوشبو کی شاعری
  • جھُوٹی کہانی
  • کیا اتنا کافی ہے؟
  • نقرئی لومڑی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شہرت عام اور بقائے دوام کا دربار
پچھلی پوسٹ
ایک بند کمرہ

متعلقہ پوسٹس

مرحوم کی یاد میں

دسمبر 12, 2019

نہیں تو کرونا کو کرنے دو

مارچ 27, 2020

سب سے بہترین گفتگو

جولائی 15, 2020

انسانی زندگی اور اس کے حصے

اکتوبر 24, 2025

ہندوستان چھوڑ دو

جنوری 19, 2025

تعلیمی سال، تعطیلات اور خطرے میں گھرا مستقبل

جنوری 15, 2026

پڑھے کلمہ

جنوری 24, 2020

تانگے والے کا بھائی

جنوری 24, 2020

میری منگیتر

مارچ 7, 2022

شو پیس

مئی 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پُھولوں کی سازش

جنوری 30, 2020

قلم

اکتوبر 31, 2020

پشاور ایکسپریس

مارچ 22, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں