خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابایوم نسواں، تبدیلی کا تخم
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسیمیں کرن

یوم نسواں، تبدیلی کا تخم

از سائیٹ ایڈمن مارچ 11, 2020
از سائیٹ ایڈمن مارچ 11, 2020 0 تبصرے 60 مناظر
61

مجھے یاد ہے جب چھوٹی سی تھی دس گیارہ برس تک کی تو مہندی، چوڑیوں، گہنوں کا اتنا شوق تھا کہ بس۔ عید ہو یا کوئی تہوار ماں مجھے کسی کانچ کی گڑیا کی طرح بنا سنوار دیتی، ایک ایک چیز بالوں کے پھول پتے، گلے کے ہار، بندے انگوٹھیاں ماں کس چاؤ سے لے کر دیتی، ایک سے بڑھ کر ایک فیشن کا کپڑا خود سی کر پہناتی اور بس اس کے بعد میں ہوتی عید کے منے سے پرس میں جمع عیدی اور بازار، گھر واپس آتی اور پھر سیمنٹ کی الماری میں اونچائی پہ دھرے شیشے تک پہنچنے کے لیے اسٹول رکھا جاتا، میک اپ دوبارہ درست ہوتا، ماں چھیڑتی، گدگداتی مگر اس نے کبھی منع نہیں کیا تھا۔

اس کی قیمتی چیزوں پہ ہاتھ صاف کیا میں نے مگر ذرا سی بڑی ہوئی اردگرد کے ماحول کو دیکھا جہاں عورت اس کا سنگھار اس کا زیور اس کی کمزوری ٹھہرتے تھے۔ دو رخا معاشرہ ایک طرف عورت کو انہی رنگوں میں سجا دیکھنا چاہتا اور دوسری جانب انہیں اس کی کمزوری بھی گردانتا، جانے حساس دل پہ کیسی چوٹ پڑی، نظروں کی غلیظ ہوس کیسے روح کو پامال کر گئی۔ یک لخت ہر چیز سے جی اُوب گیا بہت سادہ رہنا شروع کردیا، میں نے اپنے جیب خرچ سے خود چادر خریدی، باپ کے ساتھ جا کر بال سیٹ کروانے سے انکار کر کے لمبے پراندے پہنے تو ماں نے مجھے غصے سے ماسی کہا، کپڑوں کے رنگ بھی بس سفید ہوتے یا سیاہ، مہندی چوڑی سب چھوڑ دی، جانے یہ رد عمل تھا کہ یہ زیور میری کمزوری نہیں یا مجھے کوئی اس آرایش کے باعث تحقیر کی نظر سے نہ دیکھے۔

میرے ماں باپ سمجھدار تھے انہوں نے میری سوچ کا راستہ نہیں کاٹا، تعلیم اورمکالمے سے روشنی دی، مذہبی روایتی بیانیے نے مجھے اس قدر احساس کمتری کا شکار کر دیا تھا کہ مجھے لگتا تھا کہ میں نفسیاتی مریض بن جاؤں گی۔ اسی چودہ پندرہ برس کی عمر میں میرے باپ نے مجھے غلام احمد پرویز کی تفسیر سے متعارف کروایا وہ بہت بڑا فیمنسٹ تھا اور بہت کم سنی میں میں یہ سمجھ آ گیا کہ نظریات کسی بھی مجبور قوم کی ضرورت کیسے بن جاتے ہیں عقائد ہمیشہ کسی ضرورت پہ کھڑے ہوتے ہیں۔

یہ تو کتھا تھی اک حساس روح و دل کی جس کی بغاوت کے رنگ اپنی طرز کے رہے مگر معاشرتی و صنفی تفاوت پہ ہر ذی روح کا رویہ ایک سا ہرگز نہیں ہوگا تعلیمی بیداری اور گلوبل ویلج جیسی سمٹتی دنیا میں اب اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ عورت کے حق کو روایتی معاشرتی مذہبی بیانیے سے کنٹرول کر سکتے ہیں تو یہ آپ کی بھول ہے یہ اَمر مزید بغاوت کو جنم دے گا یا تو نئی تعبیر لائیے یا اپنی جنس کا چولا اتار کر انسان بن کر سوچیے کہ مجھ جیسے انساں کے حقوق مجھ جیسے کیوں نہیں؟

یہ سب آج مجھے اس لیے یاد آیا اور اس پہ بات کرنا اس لئے ضروری ہوگیا تھا کہ آٹھ مارچ گزرا ہے یوم نسواں پہ بننے والے بینرز ہر طرف زیر بحث ہیں، خوب شور و غوغا بلند ہے، کچھ بھلے لوگ مفاہمانہ دفاعی انداز میں سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان بیبیوں نے پلے کارڈ ہی اٹھائے ہیں آپ کی بھینس نہیں چرائی اور معاشرے کے دوغلے پن کو سامنے لانا ہی ان کا مقصد تھا۔

آج ان پلے کارڈ کے حوالے سے ایک ٹی وی پروگرام بھی دیکھ رہی تھی جس میں ایک صاحب اور صاحباں یہ فرما رہے تھے کہ مان لیا یہ سب عیب اس معاشرے کے مردوں میں ہیں تو کیا ضروری ہے کہ عورتیں بھی ویسی بن جائیں۔ اس لطیفے پہ میرا دل قہقہے لگانے کو چاہتا ہے کیونکہ جس معاشرے کے مردوں کی کثرت خراب ہوجائے تو وہاں کی عورت کیسے درست رہ سکتی ہے؟ آخر یہ مرد حضرات اپنی نہ سہی کسی کی خواتین کے ساتھ برابری میں ملوث پائے جاتے ہیں تو بات تو مجموعی ہوگی تیری میری تو نہ رہے گی۔

دوسری طرف وہ حضرات ہیں جو دانت کچکچائے ان بیبیوں کے لیے وہ بازاری زبان استعمال کر رہے ہیں کہ الامان الحفیظ چلیے ان کے اپنے اندر کا سارا بازار باہر آ گیا۔ کہیں اعتراض ہے کہ اپنا موزہ خود ڈھونڈ لو یا سالن خود گرم کر لو کہنے کی جرات کیسے ہوئی، عورت ہو کر یہ جرات جب کہ میں آج بھی صبح دم آرام سے بیٹھے مرد حضرات کو چیختے چلاتے دیکھتی ہوں کہ میری فلاں جراب نہیں مل رہی، چائے ٹھنڈی سر میں مار دی، سالن میں نمک کم ہے، بیوی ناشتہ چھوڑ بوکھلائی پھر رہی ہے، بچے الگ چیخ رہے ہیں اور صاحب اپنی مردانگی تن فن انڈیل یہ جا وہ جا۔

تو صاحب ایسے مرد کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ تم جو ٹاک شو بیٹھے دیکھ رہے ہو اپنا موزہ خود ڈھونڈ کر اپنی اور میری زندگی کچھ آسان کر سکتے ہو ا اور اس عمل سے مردانگی کوئی ایسی کمزور چیز نہیں جو جھڑ کے گر جائے گی۔ اسی طرح بے شمار مرد ہیں جو رات کو بہت دیر سے گھر پہنچتے ہیں۔ کھانا نکال کر سب کچھ رکھ بھی دیا جائے تو صاحب کو پلیٹ اوون میں گھمانا گوارا نہیں۔ گھر کی خواتین نیند میں اٹھیں گی یا بیٹھی انتظار کا جھولا جھولتی رہیں گی تو ایسے شخص کو یہ سبق دینا ضروری ہے کہ اپنا کھانا خود گرم کر لو۔

میرا جسم میری مرضی کیوں آپ کو تکلیف دیتا ہے کیا آپ کے جسم پہ میری مرضی چلتی ہے کیا یہ جسم میرے رب نے مجھے نہیں دیا تھا اسے کہاں کس حد تک کھپانا ہے کتنی محنت کرنی ہے کتنے بچے پیدا کرنے ہیں اس کا فیصلہ میں کیوں نہ کروں۔

میں اکیلی آوارہ بدچلن پہ بڑی لے دے ہوئی ہے۔ بہت معذرت کے ساتھ مجھے اعتراف کر لینے دیجیے میرے اردگرد بسنے والے مرد جن کے نام لیتے میرے پر جلتے ہیں میں روز دیکھتی ہوں کہ ورکنگ لیڈی کا نام وہ گالی کے طور پہ لیتے ہیں، ضرورتا ً اکیلی جاتی عورت کسی فیشن ایبل کپڑوں میں ہو تو انہیں سلٹ اور طوائف لگتی ہے، مرد کے گھٹنے پھٹی جینز سے ننگے ہوں وہ قیمض پہنے یا نہ پہنے اس کی عزت پہ کوئی حرف نہیں آتا، کوئی عورت اسے دیکھ کر متوجہ نہیں ہو سکتی۔ مان لیجیے آپ کے معاشرے میں وہ آج بھی صرف ایک ابجیکٹ ہے۔

ایسے حالات میں آج یہ پلے کارڈ بظاہر بڑے متنازع لگتے ہیں کچھ ناگوار بھی گزرتے ہیں مگر یہ ذہنوں میں سوال چھوڑتے ہیں ان پہ اچھی بری بحث کی جاتی ہے جو ذہن سازی کرتی ہے اور یہی ان کا مقصد ہے۔

آج یہ بیبیاں آپ کو موم بتی مافیا اور طوائفیں لگ رہی ہیں یہ آنے والے کل کی پاینیرز ہیں انہی جیسے لوگ تھے جنھوں نے آج سے سو سال پہلے دو سو سال پہلے کچھ روایات توڑی ہوں گی، انہیں بھی اسی طرح برا بھلا کہا گیا ہو گا بلکہ کہیں زیادہ ہی کہا گیا ہو گا، رسوا کیا ہو گا مگرآج ہم جہاں ہیں ان کی وجہ ہی سے ہیں۔

آج سے سو ڈیڑھ سو برس پہلے عورت کے لیے اردو شاعری پڑھنا بد کرداری کی علامت سمجھا جاتا تھا مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو شاید والد نے کسی سے سنا تھا کہ دیہات میں حکیم کے پاس دیہاتی نے اپنی بیوی کے لیے پوچھا کہ کیا عورتوں کے بھی گردے ہوتے ہیں؟ جی جناب یہ گردے ہیں بھیجا نہیں جو اس رب نے ہمارے دماغ میں آپ کے سائز کا ہی رکھا ہے اور قسم پیدا کرنے والے کی بیکار تو نہیں رکھا ہو گا اور صرف آپ کے موزے ڈھونڈنے اور کھانا گرم کرنے کے لئے بھی نہیں رکھا ہو گا۔

بات محبت کے دستور کی نہیں محبت میں وہ قربانی ہی قربانی ہے مگر یہ بات اس حق کی ہے جو آپ نے غصب کیا ہے یہ آپ ہی کو دینا ہو گا آپ میں سے کچھ اچھے لوگ اس کے ہراول دستے بنیں جیسے غلامی کے خاتمے میں کلیدی کردار مالکان کا تھا آپ لاکھ سر پیٹئے مگروہ عورتیں جو کہنا چاہتی تھیں کہہ گئیں وہ نیا منظر نامہ دکھا رہی تھیں جن میں کچھ بہت تلخ سچ ہے کچھ غلط لگ رہی ہوں گی کچھ شدت پسندانہ موقف مگر غم و غصہ ایسا ہی ہوتا ہے بغاوت اور جنگ ایسی ہی ہوا کرتی ہے جس سے بہت غبار اٹھتاہے اس غبار سے پہلے گرد اٹھتی ہے گرد بیٹھ جائے گی مگر ان کی آواز کی گونج دیر تک گونجے گی کچھ عرصہ اک تمسخر کی صورت مگر یہیں سے تبدیلی کے تخم بار آور ہوں گے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جو سر پہ میرے دوپٹہ دکھائی دیتا ہے
  • فلسفہ ماہ رمضان
  • یقین رکھ اپنے حوصلوں پر
  • شاخوں میں کوئی اُس کی پرنده نہیں رہتا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اپنے سوا نہیں ہے کسی ماسوا کا رنگ
پچھلی پوسٹ
23 مارچ

متعلقہ پوسٹس

گھاس والی

دسمبر 9, 2019

یہ ہے شریعت

فروری 11, 2014

تو میرے سر پہ گناہوں کی

فروری 25, 2025

رات کے پچھلے پہر

مئی 20, 2020

شاخ سے شاخ جڑی رہتی ہے

جون 26, 2024

فلک کے پار اڑانوں کی

نومبر 11, 2025

بچوں پر حقیقی انویسٹمنٹ

نومبر 9, 2024

یوں صحبتوں کے یقیناً اثر

فروری 25, 2025

کئی اسرار ہوتے ہیں

اکتوبر 12, 2025

بیوی بچے پاس رکھ ’’فادر مدر‘‘ کی خیر ہے

جون 3, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

"کرونا” حقائق اور جھوٹ

مارچ 30, 2020

ہوشیار بگلا

جنوری 17, 2026

کاش ہم استاد بن جائیں

اکتوبر 9, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں