خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابافلسفہ ماہ رمضان
آپکا اردو بابااردو تحاریراسلامی گوشہاسلامی مضامیناویس خالد

فلسفہ ماہ رمضان

اویس خالد کا اسلامی کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2020 0 تبصرے 651 مناظر
652

فلسفہ ماہ رمضان

ماہ رمضان کی آمد آمد ہے۔رحمتوں کی گھنگھور گھٹائیں اہل ایمان پر چھم چھم برسنے والی ہیں۔۔ہر ایک اس ابررحمت میں دلوں کے داغ دھو ئے گا۔پروردگار کے فضل سے دلوں پر لگے زنگ اتریں گے۔رحمت باری تعالیٰ اپنے جوبن پر ہو گی۔گنہگاروں کی سیئیات حرف غلط کی طرح نامہ اعمال سے مٹ جائیں گی اور ان کی جگہ حسنات کے انبار لگنے شروع ہوجائیں گے۔نیکیوں کو ایسی ضربیں لگیں گی کہ دنیا کا کوئی پیمائشی آلہ اس کو گن نہیں سکے گا۔راقم نے لکھا تھا۔
بخشش کرانے دوستو،رمضان آ گیا
جنت لے جانے دوستو،رمضان آ گیا
وہ دل جو بے آباد ہیں غافل ہیں بے ضمیر
وہ دل جگانے دوستو،رمضان آ گیا
رو رو کے اس کے در پر سجدے کرو ادا
رب سے ملانے دوستو،رمضان آ گیا
ابر کرم ہے اوج پر، رحمت کی بارشیں
مچلو دیوانے دوستو،رمضان آ گیا
جس آگ کی خوراک ہیں اِنس و حَجر اویسؔ
اس سے بچانے دوستو،رمضان آ گیا
اللہ پاک کا ارشاد ہے۔(مفہوم) "روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا دوں گا”۔اور ایک موقع پر ارشاد ہے کہ "روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا ہوں "۔(یعنی میں خود اس کا ہو جاؤں گا)۔ذرا سوچیے،یہ کتنے بلند مقام و مرتبے کی بات ہے۔جسے پروردگار کہے کہ میں اس سے اتنا خوش ہوں کہ خود اسے مل جاؤں گا۔اس عبادت کی اتنی بڑی جزا کیوں ہے؟غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ باقی سب عبادات نماز،زکوٰۃ اور حج وغیرہ،جن کی اپنی حقانیت اور اہمیت مسلّم ہے۔لیکن ان عبادات کے دوران انسان کی نیت اور کیفیت میں عجیب طرح کے خیالات وارد ہو جاتے ہیں۔نماز پڑھتے ہوئے اگر یہ احساس ہو جائے کہ ارد گرد بیٹھے لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں اور محض اس خیال سے نماز کے ارکان کی ادائیگی درست طرح سے ہونے لگے تو ایسی نماز میں ریا کاری کا احتمال ذیادہ ہو جائے گا۔زکوۃ دیتے وقت اگر یہ خیا ل پیشِ نظر رہے کہ لوگوں پر میری دولت کی دھاک بیٹھ جائے گی،لوگ مجھے سخی خیال کریں گے تو اس ناپاک خیال کی ملاوٹ سے زکوۃ کے فیوض و برکات سے پاکیزگی کی روح نکل جائے گی۔حج کرتے ہوئے اگر یہ سوچ دل ودماغ میں جگہ بنا لے کہ اب یہ معاشرہ میری بہت عزت کرے گا،میری بات پر اعتبار بڑھ جائے گا اور لوگ مجھے حاجی کہیں گے تو اس نے اتنی عظیم عبادت کی جزا محض پھوٹی کوڑیوں کے عوض ضائع کر دی۔

ایسے شیطانی خیالات ہماری عبادات سے ا صل خلوص چھین لیتے ہیں۔لیکن روزہ ایسی عبادت ہے کہ جس میں اس قسم کے خیالات کے لئے کوئی گنجایش ہی نہیں،روزہ دار کے دل و دماغ میں صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا طلبی کا جوش،خوشنودی کا حصول،اطاعت اور فرمانبرداری ہوتی ہے۔اور کوئی شیطانی یا دنیاوی خیال اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتا۔کیونکہ اگر ایسا ہو تو اسے دن میں سینکڑوں ایسے مواقع ملتے ہیں جب وہ تنہائی میں اطمینان سے کھا اور پی بھی سکتا ہے اور لوگوں کے سامنے روزہ دار ہونے کا تاثر بھی دے سکتا ہے۔لیکن وہ ایسا نہیں کرتا۔اس کا ایمان ہے کہ وہ ذات خلوت میں بھی اسے اسی طرح دیکھ رہی ہے جیسے جلوت میں دیکھتی ہے۔روزہ اگر نہیں ہے تو نہیں ہے اور اگر ہے تو پھر خلوص نیت اور خشوع و خضوع سے ہے۔اور صرف اس پاک ذات کے لیے ہے۔اس لئے اس عبادت کا مقام بہت بلند ہے۔اسی لئے تو اللہ پاک نے خاص طور پر فرما دیا کہ میں خود اس کی جزا دوں گا،حالانکہ ہر عمل کی جزا وہی تو دیتا ہے۔مگر روزے دار کو اتنی بڑی بشارت دی گئی کہ جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔روزے کے مقاصد جاننے سے بھی اس کی عظمت کا احساس ہو جاتا ہے۔ دنیا میں ہدایت کے لئے قرآن و حدیث موجود ہے اور باقی سب ہدایتیں کلام الہی و فرمان مصطفےٰؐ سے ہی ماخوذ ہیں۔رشد و ہدایت کے تمام چشمے یہیں سے پھوٹتے ہیں۔اب ذرا دیکھئے کہ ا س منبع رشد و ہدایت سے نصیحت لینے کے لئے کون سی شے ناگزیر ہے؟اللہ تبارک و تعالی نے قرآن کا تعارف کرواتے ہوئے کہا:(مفہوم)”یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی ریب نہیں ہے۔اس میں ہدایت ہے تقوی رکھنے والوں کے لئے "(سورۃ بقرہ:2)۔یعنی یہ ہدایت سب کے نصیب میں نہیں ہے۔اس بحر ہدایت سے وہی مستفید ہو گا جو تقوی اختیار کرے گا۔ایک اور بات جو لوازم حیات میں سے اشد ضروری ہے وہ ہے عزت۔جس شخص کی معاشرے میں عزت نہیں،اس کا جینا محال ہو جاتا ہے۔اس عزت و تکریم کی جب بات کی تو فرمایا۔(مفہوم)”تم میں سے مکرم وہ ہے جو تقوی میں بڑھ کر ہے”(سورۃ حجرات:13)۔یہاں بھی یہی نکتہ سمجھ میں آیاکہ اگر چاہتے ہو کہ باعزت رہو تو تقوی بہت ضروری ہے۔
پھر ایمان کی شرط بیان کرتے ہوئے بھی اللہ پاک نے فرمایا:(مفہوم) اے ایمان والو! اللہ اور اللہ کے رسول ؐسے آگے مت بڑھ جاؤ۔اے ایمان والو! نبی پاک ؐ کی آواز سے اپنی آواز کو بلند مت کرو،انؐ سے ایسے کلام مت کرو جیسے تم آپس میں کرتے ہو،ورنہ تمہارے سارے اعمال غارت کر دیے جائیں گے اور تمہیں شعور بھی نہیں ہو گا۔اور وہ لوگ جو اپنی آوازوں کو نبی پاکؐ کی آوازوں سے پست رکھتے ہیں،اللہ نے ان کے دلوں کو تقوی کے لئے چن لیا ہے۔(سورۃ حجرات:1تا3)۔غور کریں کہ ادب مصطفیؐ کتنا ضروری ہے کہ اسی سے ایمان کی سلامتی ہے،اور اگر یہ ادب چھوٹ گیا تو سارے نیک اعمال ضائع ہو جائیں گے،بالکل ایسے جیسے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی صورت میں اور حالت کفر میں آ جانے سے نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں،ورنہ حالت ایمان میں اگر گناہ ہو بھی جائے تو گناہ لکھا جاتا ہے،نیکیاں اپنی جگہ قائم رہتی ہیں،اور وہ گناہ بھی پروردگار کے فضل سے توبہ کے زریعے مٹ جاتے ہیں چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہو جائیں۔غور طلب نکتہ یہ ہے کہ توبہ جس شعور سے آتی ہے،اللہ فرماتے ہیں میں تم سے وہ شعور بھی چھین لوں گا۔تم توبہ کر ہی نہیں سکو گے۔استغفراللہ۔

یہ ادب بارگاہ مصطفیؐ کی اہمیت ہے اور یہ بھی اس وقت نصیب ہو گا جب اللہ پاک تمہارے دلوں کو تقوی کی توفیق مرحمت فرمائے گا۔تو پتہ چلتا ہے کہ مومن کی جتنی شانیں ہیں،اس کا جتنا عروج ہے،دنیا اور آخرت میں وہ جس منصب پر فائز ہو گا،رشد و ہدایت،سطوت و عروج کے حصول کا راستہ تقوی سے ہی ممکن ہے۔تو آئیے اللہ پاک کے اس حکم نامے میں موجود گنجینہ گوہر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔مفہوم آیت ہے "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں،جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے،تا کہ تم متقی بن جاؤ”(سورۃ بقرہ: 183)۔روزہ دار کے لئے دنیا و آخرت کی کتنی بڑی ضمانت ہے کہ وہ تقوی جس کے باعث اس کی شرافت، لطافت،عنایت، عبادت،ریاضت،وراثت،نسبت،قسمت،وساطت اور ہدایت قائم ہے وہ اسے فقط روزہ رکھنے سے مل جاتی ہے۔ایسی تمام نوازشات سے اللہ تبارک وتعالی کی اپنے بندے کے لئے بے انتہا محبت جھلکتی ہے۔یہ ہماری خوش بختی ہے کہ رخش عمر جو ہر لحظہ رواں دواں ہے،وہ ہمیں آخری پڑاؤ پر پہنچنے سے پہلے ایسے مواقع فراہم کر رہا ہے جس سے ہم دنیا جہان کی سعادتیں سمیٹ سکیں۔ہمیں رمضان المبارک کا احترام کرنا چاییے اوردل و جان سے اس عظیم نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔رب رحمٰن سے دعا ہے کہ وہ ان بابرکت ساعتوں کے ایک ایک لمحے سے دامے،درمے،قدمے اور سخنے مستفید ہونے کی توفیق عطافرمائے۔اوریہ ہماری زندگیوں کو ایمان کی دولت سے مالا مال کر دے۔ہماری روح پر ایسے اثرات مرتب ہوں جو آخری سانس تک اور اس کے بعد آنے والی ہمیشہ کی زندگی میں بھی ہم پر سایہ فگن رہیں،آمین

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نشانِ سجدہ پہ اتنا گمان اچھّا نہیں
  • ملک کی ترقی میں رکاوٹ کہاں ہے؟
  • بہم تھے یار، چلا دورِ جام رات ہوئی
  • جان دے کر تجھے جینے کی دعا دیتے ہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے
پچھلی پوسٹ
ہجر سے مرحلۂ زیست عدم ہے ہم کو

متعلقہ پوسٹس

موم بتی کے آنسو

جنوری 15, 2020

ٹھنڈا گوشت

اکتوبر 25, 2019

اوپر نیچے درمیان

مارچ 11, 2019

ذکر شہادت

اکتوبر 30, 2020

پانچویں نسل کی جنگ اور پاکستان!

ستمبر 19, 2021

وقفہ

جون 15, 2020

خاص بندوں پر خاص کرم

ستمبر 29, 2025

جس ایک پل میں جدا ہو گیا تھا تو مجھ...

اپریل 14, 2020

دو سیاح

جنوری 11, 2020

مجھے خبر ہے کہ پلکیں

اکتوبر 7, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تعلیم کا آفتاب نصف صدی کی...

نومبر 11, 2025

گریز قصے کا گمشدہ داخلی سرا...

جون 15, 2020

خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ کا...

جولائی 20, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں