خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابافلسفہ ماہ رمضان
آپکا اردو بابااردو تحاریراسلامی گوشہاسلامی مضامیناویس خالد

فلسفہ ماہ رمضان

اویس خالد کا اسلامی کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2020 0 تبصرے 637 مناظر
638

فلسفہ ماہ رمضان

ماہ رمضان کی آمد آمد ہے۔رحمتوں کی گھنگھور گھٹائیں اہل ایمان پر چھم چھم برسنے والی ہیں۔۔ہر ایک اس ابررحمت میں دلوں کے داغ دھو ئے گا۔پروردگار کے فضل سے دلوں پر لگے زنگ اتریں گے۔رحمت باری تعالیٰ اپنے جوبن پر ہو گی۔گنہگاروں کی سیئیات حرف غلط کی طرح نامہ اعمال سے مٹ جائیں گی اور ان کی جگہ حسنات کے انبار لگنے شروع ہوجائیں گے۔نیکیوں کو ایسی ضربیں لگیں گی کہ دنیا کا کوئی پیمائشی آلہ اس کو گن نہیں سکے گا۔راقم نے لکھا تھا۔
بخشش کرانے دوستو،رمضان آ گیا
جنت لے جانے دوستو،رمضان آ گیا
وہ دل جو بے آباد ہیں غافل ہیں بے ضمیر
وہ دل جگانے دوستو،رمضان آ گیا
رو رو کے اس کے در پر سجدے کرو ادا
رب سے ملانے دوستو،رمضان آ گیا
ابر کرم ہے اوج پر، رحمت کی بارشیں
مچلو دیوانے دوستو،رمضان آ گیا
جس آگ کی خوراک ہیں اِنس و حَجر اویسؔ
اس سے بچانے دوستو،رمضان آ گیا
اللہ پاک کا ارشاد ہے۔(مفہوم) "روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا دوں گا”۔اور ایک موقع پر ارشاد ہے کہ "روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا ہوں "۔(یعنی میں خود اس کا ہو جاؤں گا)۔ذرا سوچیے،یہ کتنے بلند مقام و مرتبے کی بات ہے۔جسے پروردگار کہے کہ میں اس سے اتنا خوش ہوں کہ خود اسے مل جاؤں گا۔اس عبادت کی اتنی بڑی جزا کیوں ہے؟غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ باقی سب عبادات نماز،زکوٰۃ اور حج وغیرہ،جن کی اپنی حقانیت اور اہمیت مسلّم ہے۔لیکن ان عبادات کے دوران انسان کی نیت اور کیفیت میں عجیب طرح کے خیالات وارد ہو جاتے ہیں۔نماز پڑھتے ہوئے اگر یہ احساس ہو جائے کہ ارد گرد بیٹھے لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں اور محض اس خیال سے نماز کے ارکان کی ادائیگی درست طرح سے ہونے لگے تو ایسی نماز میں ریا کاری کا احتمال ذیادہ ہو جائے گا۔زکوۃ دیتے وقت اگر یہ خیا ل پیشِ نظر رہے کہ لوگوں پر میری دولت کی دھاک بیٹھ جائے گی،لوگ مجھے سخی خیال کریں گے تو اس ناپاک خیال کی ملاوٹ سے زکوۃ کے فیوض و برکات سے پاکیزگی کی روح نکل جائے گی۔حج کرتے ہوئے اگر یہ سوچ دل ودماغ میں جگہ بنا لے کہ اب یہ معاشرہ میری بہت عزت کرے گا،میری بات پر اعتبار بڑھ جائے گا اور لوگ مجھے حاجی کہیں گے تو اس نے اتنی عظیم عبادت کی جزا محض پھوٹی کوڑیوں کے عوض ضائع کر دی۔

ایسے شیطانی خیالات ہماری عبادات سے ا صل خلوص چھین لیتے ہیں۔لیکن روزہ ایسی عبادت ہے کہ جس میں اس قسم کے خیالات کے لئے کوئی گنجایش ہی نہیں،روزہ دار کے دل و دماغ میں صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا طلبی کا جوش،خوشنودی کا حصول،اطاعت اور فرمانبرداری ہوتی ہے۔اور کوئی شیطانی یا دنیاوی خیال اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتا۔کیونکہ اگر ایسا ہو تو اسے دن میں سینکڑوں ایسے مواقع ملتے ہیں جب وہ تنہائی میں اطمینان سے کھا اور پی بھی سکتا ہے اور لوگوں کے سامنے روزہ دار ہونے کا تاثر بھی دے سکتا ہے۔لیکن وہ ایسا نہیں کرتا۔اس کا ایمان ہے کہ وہ ذات خلوت میں بھی اسے اسی طرح دیکھ رہی ہے جیسے جلوت میں دیکھتی ہے۔روزہ اگر نہیں ہے تو نہیں ہے اور اگر ہے تو پھر خلوص نیت اور خشوع و خضوع سے ہے۔اور صرف اس پاک ذات کے لیے ہے۔اس لئے اس عبادت کا مقام بہت بلند ہے۔اسی لئے تو اللہ پاک نے خاص طور پر فرما دیا کہ میں خود اس کی جزا دوں گا،حالانکہ ہر عمل کی جزا وہی تو دیتا ہے۔مگر روزے دار کو اتنی بڑی بشارت دی گئی کہ جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔روزے کے مقاصد جاننے سے بھی اس کی عظمت کا احساس ہو جاتا ہے۔ دنیا میں ہدایت کے لئے قرآن و حدیث موجود ہے اور باقی سب ہدایتیں کلام الہی و فرمان مصطفےٰؐ سے ہی ماخوذ ہیں۔رشد و ہدایت کے تمام چشمے یہیں سے پھوٹتے ہیں۔اب ذرا دیکھئے کہ ا س منبع رشد و ہدایت سے نصیحت لینے کے لئے کون سی شے ناگزیر ہے؟اللہ تبارک و تعالی نے قرآن کا تعارف کرواتے ہوئے کہا:(مفہوم)”یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی ریب نہیں ہے۔اس میں ہدایت ہے تقوی رکھنے والوں کے لئے "(سورۃ بقرہ:2)۔یعنی یہ ہدایت سب کے نصیب میں نہیں ہے۔اس بحر ہدایت سے وہی مستفید ہو گا جو تقوی اختیار کرے گا۔ایک اور بات جو لوازم حیات میں سے اشد ضروری ہے وہ ہے عزت۔جس شخص کی معاشرے میں عزت نہیں،اس کا جینا محال ہو جاتا ہے۔اس عزت و تکریم کی جب بات کی تو فرمایا۔(مفہوم)”تم میں سے مکرم وہ ہے جو تقوی میں بڑھ کر ہے”(سورۃ حجرات:13)۔یہاں بھی یہی نکتہ سمجھ میں آیاکہ اگر چاہتے ہو کہ باعزت رہو تو تقوی بہت ضروری ہے۔
پھر ایمان کی شرط بیان کرتے ہوئے بھی اللہ پاک نے فرمایا:(مفہوم) اے ایمان والو! اللہ اور اللہ کے رسول ؐسے آگے مت بڑھ جاؤ۔اے ایمان والو! نبی پاک ؐ کی آواز سے اپنی آواز کو بلند مت کرو،انؐ سے ایسے کلام مت کرو جیسے تم آپس میں کرتے ہو،ورنہ تمہارے سارے اعمال غارت کر دیے جائیں گے اور تمہیں شعور بھی نہیں ہو گا۔اور وہ لوگ جو اپنی آوازوں کو نبی پاکؐ کی آوازوں سے پست رکھتے ہیں،اللہ نے ان کے دلوں کو تقوی کے لئے چن لیا ہے۔(سورۃ حجرات:1تا3)۔غور کریں کہ ادب مصطفیؐ کتنا ضروری ہے کہ اسی سے ایمان کی سلامتی ہے،اور اگر یہ ادب چھوٹ گیا تو سارے نیک اعمال ضائع ہو جائیں گے،بالکل ایسے جیسے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی صورت میں اور حالت کفر میں آ جانے سے نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں،ورنہ حالت ایمان میں اگر گناہ ہو بھی جائے تو گناہ لکھا جاتا ہے،نیکیاں اپنی جگہ قائم رہتی ہیں،اور وہ گناہ بھی پروردگار کے فضل سے توبہ کے زریعے مٹ جاتے ہیں چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہو جائیں۔غور طلب نکتہ یہ ہے کہ توبہ جس شعور سے آتی ہے،اللہ فرماتے ہیں میں تم سے وہ شعور بھی چھین لوں گا۔تم توبہ کر ہی نہیں سکو گے۔استغفراللہ۔

یہ ادب بارگاہ مصطفیؐ کی اہمیت ہے اور یہ بھی اس وقت نصیب ہو گا جب اللہ پاک تمہارے دلوں کو تقوی کی توفیق مرحمت فرمائے گا۔تو پتہ چلتا ہے کہ مومن کی جتنی شانیں ہیں،اس کا جتنا عروج ہے،دنیا اور آخرت میں وہ جس منصب پر فائز ہو گا،رشد و ہدایت،سطوت و عروج کے حصول کا راستہ تقوی سے ہی ممکن ہے۔تو آئیے اللہ پاک کے اس حکم نامے میں موجود گنجینہ گوہر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔مفہوم آیت ہے "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں،جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے،تا کہ تم متقی بن جاؤ”(سورۃ بقرہ: 183)۔روزہ دار کے لئے دنیا و آخرت کی کتنی بڑی ضمانت ہے کہ وہ تقوی جس کے باعث اس کی شرافت، لطافت،عنایت، عبادت،ریاضت،وراثت،نسبت،قسمت،وساطت اور ہدایت قائم ہے وہ اسے فقط روزہ رکھنے سے مل جاتی ہے۔ایسی تمام نوازشات سے اللہ تبارک وتعالی کی اپنے بندے کے لئے بے انتہا محبت جھلکتی ہے۔یہ ہماری خوش بختی ہے کہ رخش عمر جو ہر لحظہ رواں دواں ہے،وہ ہمیں آخری پڑاؤ پر پہنچنے سے پہلے ایسے مواقع فراہم کر رہا ہے جس سے ہم دنیا جہان کی سعادتیں سمیٹ سکیں۔ہمیں رمضان المبارک کا احترام کرنا چاییے اوردل و جان سے اس عظیم نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔رب رحمٰن سے دعا ہے کہ وہ ان بابرکت ساعتوں کے ایک ایک لمحے سے دامے،درمے،قدمے اور سخنے مستفید ہونے کی توفیق عطافرمائے۔اوریہ ہماری زندگیوں کو ایمان کی دولت سے مالا مال کر دے۔ہماری روح پر ایسے اثرات مرتب ہوں جو آخری سانس تک اور اس کے بعد آنے والی ہمیشہ کی زندگی میں بھی ہم پر سایہ فگن رہیں،آمین

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کُچھ بتائیں دِل کا شِیشہ چُور کیوں رکھا گیا
  • ٹماٹر اور ڈاکٹر ۔ مماثلت و مخاصمت
  • فُرصتِ نگاہ
  • فطرت کے توازن میں ایک مکمل وجود
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے
پچھلی پوسٹ
ہجر سے مرحلۂ زیست عدم ہے ہم کو

متعلقہ پوسٹس

پریم چند مرتے کیوں نہیں؟

جنوری 24, 2020

تھک ہار کے بیٹھی ہوں

اکتوبر 12, 2025

میں نے پوچھا کیسی لگتی ہے

فروری 21, 2021

فقط اک پیر دروازے سے باہر

دسمبر 26, 2024

یعنی نگارِ صبح کے پاؤں پڑا ہوا

جون 21, 2020

مِری وفا پر سوال کر کے

اگست 15, 2020

کثیف روحیں

جنوری 30, 2021

اگر

جنوری 2, 2022

پچھتاوے کا احساس

جنوری 5, 2022

پاک بحریہ کا کارنامہ

جنوری 22, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سوراج کے لیے

جنوری 23, 2020

سندھو کی صدا : پانی پر...

مارچ 26, 2025

دیوتاؤں کے دیوتا

اکتوبر 2, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں