خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابافلسفہ ماہ رمضان
آپکا اردو بابااردو تحاریراسلامی گوشہاسلامی مضامیناویس خالد

فلسفہ ماہ رمضان

اویس خالد کا اسلامی کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2020 0 تبصرے 596 مناظر
597

فلسفہ ماہ رمضان

ماہ رمضان کی آمد آمد ہے۔رحمتوں کی گھنگھور گھٹائیں اہل ایمان پر چھم چھم برسنے والی ہیں۔۔ہر ایک اس ابررحمت میں دلوں کے داغ دھو ئے گا۔پروردگار کے فضل سے دلوں پر لگے زنگ اتریں گے۔رحمت باری تعالیٰ اپنے جوبن پر ہو گی۔گنہگاروں کی سیئیات حرف غلط کی طرح نامہ اعمال سے مٹ جائیں گی اور ان کی جگہ حسنات کے انبار لگنے شروع ہوجائیں گے۔نیکیوں کو ایسی ضربیں لگیں گی کہ دنیا کا کوئی پیمائشی آلہ اس کو گن نہیں سکے گا۔راقم نے لکھا تھا۔
بخشش کرانے دوستو،رمضان آ گیا
جنت لے جانے دوستو،رمضان آ گیا
وہ دل جو بے آباد ہیں غافل ہیں بے ضمیر
وہ دل جگانے دوستو،رمضان آ گیا
رو رو کے اس کے در پر سجدے کرو ادا
رب سے ملانے دوستو،رمضان آ گیا
ابر کرم ہے اوج پر، رحمت کی بارشیں
مچلو دیوانے دوستو،رمضان آ گیا
جس آگ کی خوراک ہیں اِنس و حَجر اویسؔ
اس سے بچانے دوستو،رمضان آ گیا
اللہ پاک کا ارشاد ہے۔(مفہوم) "روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا دوں گا”۔اور ایک موقع پر ارشاد ہے کہ "روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا ہوں "۔(یعنی میں خود اس کا ہو جاؤں گا)۔ذرا سوچیے،یہ کتنے بلند مقام و مرتبے کی بات ہے۔جسے پروردگار کہے کہ میں اس سے اتنا خوش ہوں کہ خود اسے مل جاؤں گا۔اس عبادت کی اتنی بڑی جزا کیوں ہے؟غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ باقی سب عبادات نماز،زکوٰۃ اور حج وغیرہ،جن کی اپنی حقانیت اور اہمیت مسلّم ہے۔لیکن ان عبادات کے دوران انسان کی نیت اور کیفیت میں عجیب طرح کے خیالات وارد ہو جاتے ہیں۔نماز پڑھتے ہوئے اگر یہ احساس ہو جائے کہ ارد گرد بیٹھے لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں اور محض اس خیال سے نماز کے ارکان کی ادائیگی درست طرح سے ہونے لگے تو ایسی نماز میں ریا کاری کا احتمال ذیادہ ہو جائے گا۔زکوۃ دیتے وقت اگر یہ خیا ل پیشِ نظر رہے کہ لوگوں پر میری دولت کی دھاک بیٹھ جائے گی،لوگ مجھے سخی خیال کریں گے تو اس ناپاک خیال کی ملاوٹ سے زکوۃ کے فیوض و برکات سے پاکیزگی کی روح نکل جائے گی۔حج کرتے ہوئے اگر یہ سوچ دل ودماغ میں جگہ بنا لے کہ اب یہ معاشرہ میری بہت عزت کرے گا،میری بات پر اعتبار بڑھ جائے گا اور لوگ مجھے حاجی کہیں گے تو اس نے اتنی عظیم عبادت کی جزا محض پھوٹی کوڑیوں کے عوض ضائع کر دی۔

ایسے شیطانی خیالات ہماری عبادات سے ا صل خلوص چھین لیتے ہیں۔لیکن روزہ ایسی عبادت ہے کہ جس میں اس قسم کے خیالات کے لئے کوئی گنجایش ہی نہیں،روزہ دار کے دل و دماغ میں صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا طلبی کا جوش،خوشنودی کا حصول،اطاعت اور فرمانبرداری ہوتی ہے۔اور کوئی شیطانی یا دنیاوی خیال اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتا۔کیونکہ اگر ایسا ہو تو اسے دن میں سینکڑوں ایسے مواقع ملتے ہیں جب وہ تنہائی میں اطمینان سے کھا اور پی بھی سکتا ہے اور لوگوں کے سامنے روزہ دار ہونے کا تاثر بھی دے سکتا ہے۔لیکن وہ ایسا نہیں کرتا۔اس کا ایمان ہے کہ وہ ذات خلوت میں بھی اسے اسی طرح دیکھ رہی ہے جیسے جلوت میں دیکھتی ہے۔روزہ اگر نہیں ہے تو نہیں ہے اور اگر ہے تو پھر خلوص نیت اور خشوع و خضوع سے ہے۔اور صرف اس پاک ذات کے لیے ہے۔اس لئے اس عبادت کا مقام بہت بلند ہے۔اسی لئے تو اللہ پاک نے خاص طور پر فرما دیا کہ میں خود اس کی جزا دوں گا،حالانکہ ہر عمل کی جزا وہی تو دیتا ہے۔مگر روزے دار کو اتنی بڑی بشارت دی گئی کہ جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔روزے کے مقاصد جاننے سے بھی اس کی عظمت کا احساس ہو جاتا ہے۔ دنیا میں ہدایت کے لئے قرآن و حدیث موجود ہے اور باقی سب ہدایتیں کلام الہی و فرمان مصطفےٰؐ سے ہی ماخوذ ہیں۔رشد و ہدایت کے تمام چشمے یہیں سے پھوٹتے ہیں۔اب ذرا دیکھئے کہ ا س منبع رشد و ہدایت سے نصیحت لینے کے لئے کون سی شے ناگزیر ہے؟اللہ تبارک و تعالی نے قرآن کا تعارف کرواتے ہوئے کہا:(مفہوم)”یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی ریب نہیں ہے۔اس میں ہدایت ہے تقوی رکھنے والوں کے لئے "(سورۃ بقرہ:2)۔یعنی یہ ہدایت سب کے نصیب میں نہیں ہے۔اس بحر ہدایت سے وہی مستفید ہو گا جو تقوی اختیار کرے گا۔ایک اور بات جو لوازم حیات میں سے اشد ضروری ہے وہ ہے عزت۔جس شخص کی معاشرے میں عزت نہیں،اس کا جینا محال ہو جاتا ہے۔اس عزت و تکریم کی جب بات کی تو فرمایا۔(مفہوم)”تم میں سے مکرم وہ ہے جو تقوی میں بڑھ کر ہے”(سورۃ حجرات:13)۔یہاں بھی یہی نکتہ سمجھ میں آیاکہ اگر چاہتے ہو کہ باعزت رہو تو تقوی بہت ضروری ہے۔
پھر ایمان کی شرط بیان کرتے ہوئے بھی اللہ پاک نے فرمایا:(مفہوم) اے ایمان والو! اللہ اور اللہ کے رسول ؐسے آگے مت بڑھ جاؤ۔اے ایمان والو! نبی پاک ؐ کی آواز سے اپنی آواز کو بلند مت کرو،انؐ سے ایسے کلام مت کرو جیسے تم آپس میں کرتے ہو،ورنہ تمہارے سارے اعمال غارت کر دیے جائیں گے اور تمہیں شعور بھی نہیں ہو گا۔اور وہ لوگ جو اپنی آوازوں کو نبی پاکؐ کی آوازوں سے پست رکھتے ہیں،اللہ نے ان کے دلوں کو تقوی کے لئے چن لیا ہے۔(سورۃ حجرات:1تا3)۔غور کریں کہ ادب مصطفیؐ کتنا ضروری ہے کہ اسی سے ایمان کی سلامتی ہے،اور اگر یہ ادب چھوٹ گیا تو سارے نیک اعمال ضائع ہو جائیں گے،بالکل ایسے جیسے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی صورت میں اور حالت کفر میں آ جانے سے نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں،ورنہ حالت ایمان میں اگر گناہ ہو بھی جائے تو گناہ لکھا جاتا ہے،نیکیاں اپنی جگہ قائم رہتی ہیں،اور وہ گناہ بھی پروردگار کے فضل سے توبہ کے زریعے مٹ جاتے ہیں چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہو جائیں۔غور طلب نکتہ یہ ہے کہ توبہ جس شعور سے آتی ہے،اللہ فرماتے ہیں میں تم سے وہ شعور بھی چھین لوں گا۔تم توبہ کر ہی نہیں سکو گے۔استغفراللہ۔

یہ ادب بارگاہ مصطفیؐ کی اہمیت ہے اور یہ بھی اس وقت نصیب ہو گا جب اللہ پاک تمہارے دلوں کو تقوی کی توفیق مرحمت فرمائے گا۔تو پتہ چلتا ہے کہ مومن کی جتنی شانیں ہیں،اس کا جتنا عروج ہے،دنیا اور آخرت میں وہ جس منصب پر فائز ہو گا،رشد و ہدایت،سطوت و عروج کے حصول کا راستہ تقوی سے ہی ممکن ہے۔تو آئیے اللہ پاک کے اس حکم نامے میں موجود گنجینہ گوہر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔مفہوم آیت ہے "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں،جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے،تا کہ تم متقی بن جاؤ”(سورۃ بقرہ: 183)۔روزہ دار کے لئے دنیا و آخرت کی کتنی بڑی ضمانت ہے کہ وہ تقوی جس کے باعث اس کی شرافت، لطافت،عنایت، عبادت،ریاضت،وراثت،نسبت،قسمت،وساطت اور ہدایت قائم ہے وہ اسے فقط روزہ رکھنے سے مل جاتی ہے۔ایسی تمام نوازشات سے اللہ تبارک وتعالی کی اپنے بندے کے لئے بے انتہا محبت جھلکتی ہے۔یہ ہماری خوش بختی ہے کہ رخش عمر جو ہر لحظہ رواں دواں ہے،وہ ہمیں آخری پڑاؤ پر پہنچنے سے پہلے ایسے مواقع فراہم کر رہا ہے جس سے ہم دنیا جہان کی سعادتیں سمیٹ سکیں۔ہمیں رمضان المبارک کا احترام کرنا چاییے اوردل و جان سے اس عظیم نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔رب رحمٰن سے دعا ہے کہ وہ ان بابرکت ساعتوں کے ایک ایک لمحے سے دامے،درمے،قدمے اور سخنے مستفید ہونے کی توفیق عطافرمائے۔اوریہ ہماری زندگیوں کو ایمان کی دولت سے مالا مال کر دے۔ہماری روح پر ایسے اثرات مرتب ہوں جو آخری سانس تک اور اس کے بعد آنے والی ہمیشہ کی زندگی میں بھی ہم پر سایہ فگن رہیں،آمین

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ‫ایرانی پلاؤ
  • پنجاب کا دوپٹہ
  • اے دست کار!
  • مراسلہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے
پچھلی پوسٹ
ہجر سے مرحلۂ زیست عدم ہے ہم کو

متعلقہ پوسٹس

ایک صورت ہو ، مسکراتے ہیں

دسمبر 16, 2021

سکرین سے باہر کی دُنیا

مئی 5, 2026

فیلا لوجیا

جنوری 16, 2026

اے صبا مصطفیٰﷺ سے کہہ دینا

نومبر 26, 2020

اے دوست ذرا دیکھ لے بے لوح قلم بھی

نومبر 3, 2021

تیری آنکھیں

نومبر 7, 2020

اتفاقیہ ملاقات

دسمبر 13, 2024

یہ حقیقت ہے مری ذات کا نقصان کیا

فروری 2, 2020

بلونت سنگھ مجیٹھیا

جنوری 28, 2020

وہ پودے جن کی خوشبو سےمچھر دور بھاگتے ہیں

مئی 26, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عروج و زوال

دسمبر 19, 2022

وہ دل میں ہوتا نہیں

جون 15, 2024

افغان باقی کہسار باقی

نومبر 29, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں