108
راس آنے لگیں جفائیں تجھے
ہم پہ لازم ہے بھول جائیں تجھے
اس سے آگے وفا کا جنگل ہے
گھیر لیں نہ کہیں بلائیں تجھے
آنکھ والوں کی آرزو ہے اگر
آنکھ والے تو آزمائیں تجھے
تُو وہی ہے نا آستیں والا
بول کیسے گلے لگائیں تجھے
کون چاہے گا تجھ کو میری طرح
کون دے گا مری وفائیں تجھے
جانے والے سے پوچھ ہی نہ سکے
بھول جائیں کہ یاد آئیں تجھے
جس کی تجھ کو تلاش ہے شاہد
چل کسی روز ہم ملائیں تجھے
افتخار شاہد
