857
دل جلا کر بھی دلربا نکلے
میرے احباب کیا سے کیا نکلے
آپ کی جستجو میں دیوانے
چاند کی رہگزر پہ جا نکلے
سوزِ مستی ہی جب نہیں باقی
سازِ ہستی سے کیا صدا نکلے
دیکھیے کارواں کی خوش بختی
چند رہزن بھی رہنما نکلے
یوں تو پتھر ہزار تھے لیکن
چند گوہر ہی بے بہا نکلے
دل بھی گستاخ ہو چلا تھا بہت
شکر ہے آپ بے وفا نکلے
کس کی دہلیز پہ جھکیں محسنؔ
جتنے انساں تھے سب خدا نکلے
