110
ریت پر نقش بنائیں گے چلے جائیں گے
لوگ اس دشت میں آئیں گے چلے جائیں گے
اپنے پاس ایک محبت کے سوا کیا ہے بھلا ؟
سر پہ یہ گٹھڑی اٹھائیں گے چلے جائیں گے
مستقل رہنے نہیں آئے تیرے شہر میں ہم
بس تیرا ہجر منائیں گے چلے جائیں گے
یہ بھی معلوم ہے کوئی نہیں آنے والا
پھر بھی آواز لگائیں گے چلے جائیں گے
ہمسفر ساتھ جہاں تک تجھے چلنا ہے سو چل
ہم تیرا ساتھ نبھائیں گے چلے جائیں گے
وہ غزل جس کو کسی لفظ کی حاجت ہی نہ ہو
وہ بنائیں گے سنائیں گے چلے جائیں گے
کیا کہا تو نے کہ تو چھوڑ کے جائے گا ہمیں ؟
تجھ سے ہم جان چھڑائیں گے چلے جائیں گے
سید زوار حسین زائر
