خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباوہ جنت جو ظلم کے سائے میں دب گئی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

وہ جنت جو ظلم کے سائے میں دب گئی

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 31, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 31, 2025 0 تبصرے 33 مناظر
34

کشمیر، برصغیر کی وہ وادی جسے صدیوں سے جنتِ ارضی کہا جاتا ہے، آج دنیا کے نقشے پر ایک ایسا خطہ ہے جہاں حسن کے ساتھ ساتھ انسانی المیہ بھی سانس لے رہا ہے۔ برف پوش پہاڑ، نیلگوں دریا اور سبزہ زار اپنی دلکشی سے آج بھی جھلک دکھاتے ہیں، مگر ان کے بیچ ایک ایسا درد چھپا ہے جو نسلوں سے کشمیری عوام کے سینوں پر بوجھ بنے بیٹھا ہے۔

انیس سو سینتالیس میں برصغیر کی تقسیم کے وقت اصول یہ تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ ہوں گے۔ ریاستِ جموں و کشمیر، جس کی آبادی اس وقت تقریباً اسی فیصد مسلمان تھی، قدرتی طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کی حقدار تھی۔ مگر ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی حکمرانی بچانے کےkashmir لیے نہ تو پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور نہ ہی عوام کو رائے دہی کا حق دیا۔ اکتوبر انیس سو سینتالیس میں جب عوامی بغاوت شروع ہوئی تو مہاراجہ نے بھارت سے فوجی مدد طلب کی اور بھارت نے اپنی افواج کشمیر میں داخل کر دیں۔ یہ وہ پہلا مرحلہ تھا جب دونوں نئے ممالک ایک جنگ میں الجھ گئے۔

جنگ بندی کے بعد یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کے ایوانوں تک پہنچا، جنہوں نے انیس سو اڑتالیس اور انیس سو انچاس میں قراردادیں منظور کیں جن میں واضح طور پر کہا گیا کہ کشمیری عوام کو استصوابِ رائے کے ذریعے اپنا مستقبل خود متعین کرنے کا حق دیا جائے۔ تاہم ان وعدوں پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور مسئلہ طویل گھمبیر تنازعہ بن کر رہ گیا۔

پانچ اگست سن دو ہزار انیس وہ دن ہے جب بھارت نے دفعہ تین سو ستر اور پینتیس اے منسوخ کر کے ریاستِ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سلب کر لی۔ اس ایک فیصلے نے لاکھوں انسانوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا۔ زمین پر اختیار، روزگار کی ضمانت اور آزادیِ رائے سب کچھ چھین لیا گیا۔ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں بدل دیا گیا؛ سڑکوں کے ہر موڑ پر بندوق بردار کھڑے ہیں اور گھروں کے دروازے خوف کے سائے میں بند ہیں۔

یہ معاملہ محض زمین کا تنازعہ نہیں بلکہ انسانوں کی موجودگی اور ان کی شناخت پر ایک گہرا وار ہے۔ کشمیری عوام روزانہ اپنے گھروں، بچوں اور مستقبل کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، مگر مسلط شدہKashmir ریاستی جبر نے ان کی زندگی کو مسلسل اذیت ناک بنا دیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں چھاپے، گھروں کی مسماری، نوجوانوں کی گرفتاری اور بزرگوں کی توہین کچھ ایسے معمولات بن چکے ہیں جو انسانیت کو شرمیدہ کر دیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جن کے پیارے مہینوں بلکہ برسوں تک لاپتہ رہتے ہیں اور ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔

خاص طور پر خواتین اور بچے اس جبر کے سب سے زیادہ متاثرین ہیں۔ انسانی حقوق کی رپورٹس میں بارہا یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھاپوں کے دوران خواتین کی عزت پامال کی گئی اور بچوں کو ہراساں کیا گیا۔ یہ وہ زخم ہیں جو صرف جسم کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے ذہن و قلب کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

آزادیِ اظہار کی صورتحال بھی نہایت تشویشناک ہے۔ صحافیوں، طلبہ اور سوشل میڈیا پر آواز بلند کرنے والوں کو قید کیا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کا بار بار بند ہونا اس وادی کو دنیا سے کاٹ دیتا ہے۔ کشمیری نوجوان تعلیم اور روزگار سے محروم ہو رہے ہیں، معیشت تباہ حال ہے اور ایک پوری نسل اپنے مستقبل کو اندھیروں میں دیکھنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، بلکہ ایک تہذیب اور ایک ثقافت ہے۔ مگر وہاں مذہبی اجتماعات اور ثقافتی تقریبات پر بھی قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔ یہ سب اس نفسیاتی حکمتِ عملی کی علامت ہیں کہ محض زمین ہی نہیں بلکہ کشمیری شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ مسئلہ دراصل برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کی قراردادیں منظور کیں، مگر آج تک ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ بھارت کی ہٹ دھرمی اور بین الاقوامی طاقتوں کی خاموشی نے اس تنازعے کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ سرد جنگ کے بعد دنیا میں معیشتی مفادات کو انسانی حقوق پر ترجیح دینے کا رحجان بڑھا، اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اکثر بڑی طاقتوں کی سفارتی ترجیحات کی پسِ منظر میں چلا جاتا ہے۔

پاکستان ہمیشہ سے کشمیری عوام کا وکیل رہا ہے اور ہر عالمی فورم پر اس مقدمے کو بلند کرتا آیا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صرف بیانات یا قراردادیں کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتیں؛ اس کے لیے عالمی ضمیر کو جاگنا ہوگا اور انصاف پر مبنی عملی اقدامات کیے جانے ہوں گے۔ اگر دنیا فلسطین، یوکرین یا دیگر خطوں کے لیے آواز بلند کر سکتی ہے تو کشمیر کے معصوم بچوں اور عورتوں کے لیے خاموشی کیوں؟

کشمیر کی جدوجہد دراصل صرف آزادی کی نہیں، بلکہ انسان کے وقار اور انصاف کے حق کی جدوجہد ہے۔ کشمیری عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، امید اور حوصلہ ختم نہیں ہوتے۔ آج یہ جنت لہو سے سرخ ہے، مگر اس وادی کے لوگ اب بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن سورج آزادی اور انصاف کی روشنی لے کر طلوع ہوگا۔ یہی یقین ان کی سب سے بڑی طاقت ہے اور یہی یقین دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

؎ ہم جان لٹا دیں گے مگر سر نہ جھکائیں گے
کشمیر کی وادی کو ہم آزاد بنائیں گے

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پتّھروں میں گُلاب دیکھتا ہوں
  • جھگڑنا کاہے کا میرے بھائی پڑی رہے گی
  • کچرا بابا
  • بوجھ بجھاری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اسلام میں نوجوانوں کا کردار اور ذمہ داریاں
پچھلی پوسٹ
ایک وعدہ ہے کِسی کا جو وفا ہوتا نہیں

متعلقہ پوسٹس

جانے کس پیاس کا چہرہ ہے

اپریل 4, 2025

تخیل سے بھی ماورا دیکھ لیتا

مئی 20, 2020

زندگی کی الجھنوں میں

اگست 12, 2025

یاد رُکتی نہیں

مارچ 28, 2022

حسینیت کا پیغام – انسانیت کے نام!

ستمبر 7, 2021

بات اپنی سنا کے دیکھوں گا

اکتوبر 25, 2025

روس کا یوکرین پر حملہ!

مارچ 2, 2022

احوال

نومبر 7, 2020

لفظوں کی شہزادی 

فروری 2, 2020

دھرنا

فروری 6, 2018

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

لاطینی امریکہ کا ایک سفر

مارچ 23, 2025

خیال و خواب کے دفتر جگہ...

جنوری 29, 2020

اتحاد امت میں حضرت علی کرم...

فروری 22, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں