خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسینیٹر عرفان صدیقی: ایک عہد کا اختتام
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

سینیٹر عرفان صدیقی: ایک عہد کا اختتام

از سائیٹ ایڈمن نومبر 11, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 11, 2025 0 تبصرے 29 مناظر
30

قومیں اپنے مفکرین، اہلِ قلم اور سنجیدہ آوازوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی بھی ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، شائستگی اور متانت کے ذریعے ایک پوری نسل پر اثر ڈالا۔ وہ محض ایک صحافی یا کالم نگار نہیں تھے بلکہ ایک عہد کی علامت تھے جس میں علم، شرافت اور دلیل کو وقار حاصل تھا۔

عرفان صدیقی کی زندگی کا آغاز تدریس سے ہوا۔ انہوں نے تعلیم و تعلم کے میدان میں اپنا نام بنایا اور بعد ازاں صحافت کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کا سفر استاد سے کالم نگار، اور کالم نگار سے سیاستدان تک پُر وقار اور باعزت رہا۔ ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو سنجیدگی، شائستگی اور ایک متوازن رویہ تھا جو آج کے شور و غوغا میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

بطور کالم نگار عرفان صدیقی کا نام "نقطہ نظر” کے ذریعے شہرت یافتہ ہوا۔ ان کے کالم نہ صرف عوام بلکہ اہلِ دانش کے درمیان بھی توجہ کا مرکز بنتے تھے۔ وہ مسائل پر بات کرتے وقت محض تنقید نہیں کرتے تھے بلکہ اسباب اور حل دونوں پر روشنی ڈالتے تھے۔ ان کی زبان میں نرمی، جملوں میں رچاؤ اور انداز میں گہرائی تھی۔ ان کے کالموں میں ایک ایسے دانشور کی جھلک نمایاں تھی جو قوم کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ نئے لکھنے والوں کے لیے ان کا اسلوب ایک مثالی نمونہ ہے جس میں علم و ادب کے ساتھ ساتھ کردار کی جھلک بھی ملتی ہے۔

بطور مشیر عرفان صدیقی نے وزیرِ اعظم نواز شریف کے ساتھ قومی امور کے میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اپنی شائستگی اور بردباری کے باعث پارلیمنٹ کے ہر طبقے میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اختلافِ رائے کے باوجود ان کا لہجہ کبھی تلخ نہیں ہوا۔ ان کی گفتگو میں مکالمے کی روایت جھلکتی تھی۔ مسلم لیگ (ن) میں ان کا شمار ان افراد میں ہوتا تھا جو جذبات کے بجائے استدلال کے ذریعے اپنی بات منواتے تھے۔

ان کی شخصیت کا انسانی پہلو بھی بہت نمایاں تھا۔ وہ نرم گفتار، منکسر المزاج اور علم و ادب سے گہری وابستگی رکھنے والے شخص تھے۔ اساتذہ، طلبہ اور اہلِ قلم میں ان کا احترام خاص طور پر محسوس کیا جاتا تھا۔ وہ تعلقات میں خلوص اور رویے میں نرمی کے قائل تھے۔ یہی اوصاف انہیں دوسروں سے ممتاز بناتے تھے۔

عرفان صدیقی کی وفات سے ایک عہد ختم ہوا۔ یہ خلا صرف سیاست میں نہیں بلکہ قلم کی دنیا میں بھی شدت سے محسوس کیا جائے گا۔ وہ ان چند لوگوں میں سے تھے جو علم اور کردار دونوں کو یکجا کرتے تھے۔ ان کی تحریری میراث ہماری قومی فکری تاریخ کا قیمتی حصہ ہے۔ ان کے خیالات آج بھی اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ اختلاف کے باوجود تہذیب برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

ان کی زندگی کی اصل میراث علم، فہم اور شرافت پر مبنی سیاست و صحافت ہے۔ انہوں نے قلم کو عزت دی اور سیاست کو شائستگی۔ آنے والی نسلوں کے لیے وہ ایک ایسے کردار کی مثال ہیں جس نے دلیل، صبر اور وقار کے ساتھ اپنی بات کہی۔

ان کی ذات میں استاد کا وقار، ادیب کی نرمی، اور سیاست دان کی فراست یکجا تھی۔ وہ ہر مجلس میں احترام سے سنے جاتے تھے کیونکہ ان کے الفاظ میں تجربے کی خوشبو اور نیت کی سچائی ہوتی تھی۔ وہ کبھی بلند آواز میں بولنے کے قائل نہ تھے، لیکن ان کے الفاظ میں ایسی گہرائی تھی جو دلوں کو چھو لیتی تھی۔ عرفان صدیقی کی تحریریں محض رائے نہیں بلکہ ایک تربیت تھیں۔ ان کے ہر کالم میں قاری کے لیے سوچنے، سمجھنے اور خود کو سنوارنے کا پیغام ہوتا تھا۔

ان کی جدائی نے یہ احساس تازہ کر دیا کہ معاشرے کو سنجیدہ، شائستہ اور مہذب آوازوں کی کتنی ضرورت ہے۔ آج جب اظہار کی دنیا شور سے بھری ہوئی ہے، عرفان صدیقی جیسے لوگ خاموشی کے اندر بھی معنی پیدا کرتے تھے۔ ان کے جانے سے جیسے ایک چراغ بجھ گیا ہو جو راستہ دکھاتا تھا۔ ان کے قاری، شاگرد اور چاہنے والے ہمیشہ ان کی تحریروں میں ان کی موجودگی محسوس کرتے رہیں گے۔

عرفان صدیقی کے بارے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ ان شخصیات میں سے تھے جو کردار سے زیادہ بولتے نہیں، مگر عمل سے اپنی پہچان چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کا نام آنے والے وقتوں میں علم، اخلاق اور وقار کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وہ چلے گئے لیکن ان کی تحریری خوشبو اور فکری ورثہ ہمیشہ باقی رہے گا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بدترین جانوروں کا مسکن
  • چوگا چنتی چڑیا کے دُکھ
  • احساس بھی شرماے ھے وہ گل بدنی ھے
  • سقوطِ ڈھاکہ کا مقدمہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
موج رود غم ہستی کو سہارا کر کے
پچھلی پوسٹ
علامہ اقبال — ایک روشن ستارہ

متعلقہ پوسٹس

مسئلہ کشمیر

دسمبر 9, 2025

کہاں ہاتھ دے کر اٹھانے ملے

اکتوبر 16, 2025

اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے

جولائی 4, 2020

والد صاحب

فروری 15, 2020

خدا کے بعد برتر، آپ ہی کی، ذات ہے آقا...

جولائی 16, 2021

کبھی وہ خواب، کبھی ہاتھ

مئی 30, 2025

اُس نگاہِ ناز نے یوں رات بھر تجسیم کی

ستمبر 20, 2020

خوش یقیں خوش گمان یعنی تم

مئی 13, 2025

نیا آغاز

جنوری 24, 2025

خیبر پختونخوا امن جرگہ کا اعلامیہ

نومبر 14, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

درد کی دیوار پر ٹانکی ہوئی...

جنوری 3, 2020

حیات و کائنات پر کتاب لکھ...

جنوری 23, 2020

سیڑھیوں والا پُل

مارچ 20, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں