خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرایلون رابرٹ کارنیلیس
اردو تحاریراردو کالمززاہدہ حنا

ایلون رابرٹ کارنیلیس

ایک اردو کالم از زاہدہ حنا

از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2020 0 تبصرے 417 مناظر
418

ایلون رابرٹ کارنیلیس

ان دنوں کئی حوالوں سے مجھے پاکستان کے چوتھے چیف جسٹس جناب جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلیس کی یاد بار بار آتی ہے۔ ہندوستان کے شہر آگرہ میں 8 مئی 1903 کو پیدا ہونے والا غیر معمولی ذہانت اور علم کا حامل یہ قانون دان اور فلسفی 21 دسمبر 1991 کو 88 برس کی عمر میں لاہور میں اس دار فانی سے کوچ کرگیا۔

کارنیلیس نے الہ آباد اور کیمبرج یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، انڈین سول سروس کا امتحان پاس کیا اور اپنے کیرئیر کا آغاز اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر کیا۔ بعد ازاں انھوں نے عدالتی کیریئر اختیارکر لیا اور اپنی منفرد ذہانت اور محنت سے بڑی شہرت اور نام کمایا، کئی کتابیں تصنیف کیں اور تحریک پاکستان میں سرگرم کارکن کی حیثیت سے جدوجہد بھی کی۔

تقسیم سے قبل 1946 میں انھیں لاہور ہائی کورٹ کا ایسوسی ایٹ جج مقرر کیا گیا لیکن پاکستان کی تشکیل کے بعد انھوں نے اپنے آبائی وطن میں رہنے کے بجائے اس ملک کی جانب کوچ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے قیام کے لیے انھوں نے بڑی جدوجہد کی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب نو تخلیق ملک پاکستان کو ہر شعبہ زندگی میں تعلیم یافتہ افراد اور ماہرین کی شدید ضرورت تھی۔

وہ مسلمان نہیں تھے لیکن مسلمانوں کے لیے حاصل کیے جانے والے ملک کی خدمت کے لیے انھوں نے رضاکارانہ نقل مکانی کی۔ ذرا اندازہ کریں کہ ہندوستان کتنی فرقہ وارانہ کشیدگی کے ماحول میں تقسیم ہوا تھا۔ تقسیم کے بعد ہونے والی خوں ریز نقل مکانی کے دوران ہندو، مسلم اور سکھوں نے ایک دوسرے کا کس قدر بہیمانہ قتل عام کیا تھا۔

تاہم، یہ اس دورکی قیادت بالخصوص جناح صاحب کا کمال تھا کہ انھوں نے اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے ملک میں مذہبی رواداری کی عملی مثالیں قائم کیں۔ انھوں نے جوگندرناتھ منڈل کو پاکستان کا پہلا وزیر قانون مقرر کیا۔ اے۔ آر۔ کارنیلیس نے پاکستان کا انتخاب کیا تھا، یہاں آنے کے بعد انھیں وزیر قانون کا سیکریٹری قانون بنا دیا گیا۔ آج ہم کو پاکستان میں جو اعلیٰ عدالتی اور زیریں عدالتی نظام نظر آتا ہے۔

اس کو قائم کرنے میں جسٹس کارنیلیس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان اور وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل نے ان کی صلاحیتیوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ان کے بہترین مشوروں پر عمل کرتے ہوئے ملک میں ایک موثر قانونی و عدالتی نظام قائم کیا۔

جسٹس اے آرکارنیلیس کو 1960میں پاکستان کا چیف جسٹس مقررکیا گیا۔ اب تک اس معزز عہدے پر جتنے بھی لوگوں نے فرائض سر انجام دیے ہیں ان میں جن چند لوگوں کو غیر معمولی عزت اور احترام حاصل ہوا ہے ان میں جسٹس کارنیلیس کا نام بھی شامل ہے۔ انھوں نے پاکستان کو صحیح معنوں میں مذہبی امتیاز اور انتہا پسندی سے پاک ریاست بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انھیں اندازہ تھا کہ مذہبی انتہا پسندی نو آزاد ملک کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ لہٰذا ان کا زیادہ زور اس بات پر تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ریاست کے تمام شہریوں کو اپنے عقائد پر عمل کرنے کی مکمل آزادی فراہم کی جائے۔ یہ تمام کام وہ انسان کررہا تھا جس کا تعلق ان مسلم اکثریتی صوبوں سے نہیں تھا جہاں پاکستان بنا تھا۔ وہ مسلمان نہیں عیسائی تھے اور اینگلو انڈین خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ کسی غریب خاندان کا ایک ایسا تعلیم یافتہ نوجوان تھا جو اپنے شاندار مستقبل کی تلاش میں پاکستان آگیا تھا۔ ان کے والدین رومن کیتھولک برادری میں بہت معزز مقام رکھتے تھے۔ ان کے والد میتھ میٹکس کے پروفیسر تھے۔ ان کی خاندانی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھیں قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کیمبرج جیسی یونیورسٹی میں بھیجا گیا تھا۔

وہ ہندوستان کی سول سروس کا حصہ تھے۔ اپنی قابلیت اور خاندانی اثرورسوخ کی بنیاد پر وہ ہندوستان میں بھی اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتے تھے لیکن وہ ایک فلسفی اور خواب دیکھنے والے انسان تھے لہٰذا انھوں نے انسانی وسائل سے محروم ایک نو آزاد ملک، پاکستان جانے اور اس کے قانونی نظام کو اپنے پیروں پرکھڑا کرنے کے مشکل کام کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا اور اس میں سرخرو ہوئے۔

جسٹس اے آر کارنیلیس ایک سیکولر قانون دان اور دانشور تھے۔ برصغیر کی تاریخ کا یہ وہ سنہرا دور تھا جب دانشوروں پر مذہبی، مسلکی، نسلی یا لسانی تنگ نظری کا غلبہ نہیں تھا۔ روا داری، برداشت اور تحمل سے ایک دوسرے کا نقطہ نظر سنا اور مخالف کی رائے کا احترام کیا جاتا تھا۔

یہ ہمارے ملک کا ایک بڑا المیہ تھا کہ ہماری عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ فوجی و تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے سیکولر فکر کے حامل لوگوں نے چھوٹے چھوٹے مفاد کی خاطر اپنے اصولوں کو ترک کرکے تنگ نظری اختیار کر لی، جس کی وجہ سے ملک میں قانون کی بلا امتیاز حکمرانی قائم نہ ہوسکی اور آمریت نے مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑ لیے۔ اس حوالے سے جسٹس منیر کی مثال ہی کافی ہوگی۔

وہ ایک آزاد فکر رکھنے والے کھلے ذہن کے جج تھے۔ ان کی مرتب کردہ منیر رپورٹ اعلیٰ سیکولر اقدار کی شاندار عکاسی کرتی ہے لیکن اسے ایک المیہ کے سوا اور کیا کہا جائے کہ انھوں نے ” نظریہ ضرورت ” ایجاد کیا اور اس کے تحت گورنر جنرل غلام محمد سے دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کو جائز اقدام قرار دیا۔

اس وقت کی فیڈرل کورٹ (سپریم کورٹ) جب اس غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کو جائز قرار دے رہی تھی تو جسٹس اے۔ آر کارنیلیس وہ واحد جج تھے جنھوں نے جسٹس منیر کے اس فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔ جسٹس منیر کے اس فیصلے کے بعد ہر آنے والے مہم جو آمر کے لیے راستہ ہموار ہوگیا اور اعلیٰ عدلیہ نے پے در پے ان کے حق میں فیصلے دینے شروع کر دیے۔

کیا اس کو محض حسن اتفاق کہا جائے گا کہ مولوی تمیز الدین مقدمے میں جس سندھ ہائی کورٹ نے غلام محمد کے اقدام کو کالعدم قرار دیا تھا اس کے سربراہ جسٹس جارج کانسٹینٹائن تھے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرنے والی فیڈرل کورٹ میں جس واحد جج نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا وہ اے۔ آر۔ کارنیلیس تھے۔ مسلم ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے دو غیر مسلم ججوں نے عدل، انصاف اور قانون کی حکمرانی کا پرچم بلند رکھا اور جذبہ ایمانی سے سرشار ججوں نے آمرانہ طاقتوں کے ہاتھوں پر بیعت کر لی۔

جن ملکوں کی اعلیٰ عدلیہ نے آزادی کے حصول اور جمہوری عمل کے آغاز کے فوراً بعد سے آئین و قانون کی بالادستی کے لیے تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنا تاریخی کردار اداکیا وہ ملک دنیا کے مضبوط جمہوری ملک بن چکے ہیں۔ اس حوالے سے امریکا کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔

آج سے تقریباً 225 سال قبل اس کی سپریم کورٹ کے پہلے چیف جسٹس جون جے نے جنھیں صدر جارج واشنگٹن نے اس عہدے پر فائزکیا تھا، اپنا منصب سنبھالتے ہی یہ مثال قائم کر دی تھی کہ سپریم کورٹ قانون سازی کے بارے میں رائے نہیں دے گی یعنی وہ قانون سازی کے عمل میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ وہ صرف ان معاملات کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی جو اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ اسی طرح امریکی سپریم کورٹ میں سب سے زیادہ مدت تک چیف جسٹس رہنے کا اعزاز رکھنے والے جج جون مارشل نے 218 سال پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

انھیں امریکا کی سپریم کورٹ کا سب سے با اثر جج تصور کیا جاتا ہے جنھوں نے سپریم کورٹ کو حکومت سے آزاد طاقتور ادارے کے طور پر منظم کیا جو ریاست کا تیسرا مضبوط ستون بن گیا۔ انھوں نے ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے مثالی فیصلے کیے۔ امریکا میں ایسا اس لیے ہوسکا کہ حکومتوں نے عدلیہ کو غلام بنانے پر اصرار نہیں کیا اور اس ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے جج بھی انصاف کے اصولوں کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے۔ ہمارے یہاں یہ نہیں ہوسکا۔ حکمرانوں نے ابتدا سے ہی عدلیہ کو اپنے تابع کرلیا اور جج ان کی مزاحمت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

کاش ہمارے ملک کا ہر ادارہ یہ طے کر لے کہ خواہ کچھ بھی ہو آئین اور قانون سے انحراف کی راہ اختیار نہیں کی جائے گی تاکہ جسٹس اے آر کارنیلیس کا اپنے آبائی وطن میں بہترین مستقبل کو چھوڑ کر پاکستان آنے اور یہاں کسی شاندار گھر یا کوٹھی کے بجائے 40 سال تک لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے ایک کمرے میں زندگی گزارنے کا فیصلہ غلط ثابت نہ ہو۔

زاہدہ حنا پاکستان کی ایک مشہور اردو کالم نگار، مضمون نگار، مختصر کہانی نویس، ناول نگار اور ڈرامہ نگار ہیں۔

زاہدہ ہندوستان کے شہر بہار کے شہر ساسارام ​​میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم ہند کے بعد ان کے والد محمد ابوالخیر پاکستان ہجرت کر کے کراچی آ گئے جہاں زاہدہ کی پرورش اور تعلیم ہوئی۔ اس نے اپنی پہلی کہانی اس وقت لکھی جب وہ نو سال کی تھیں۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے گریجویشن کی، اور ان کا پہلا مضمون ماہنامہ انشا میں 1962 میں شائع ہوا۔ انہوں نے 60 کی دہائی کے وسط میں صحافت کو کیریئر کے طور پر منتخب کیا۔ 1970 میں انہوں نے معروف شاعر جون ایلیا سے شادی کی۔ زاہدہ حنا 1988 سے 2005 تک روزنامہ جنگ سے وابستہ رہیں، جب وہ روزنامہ ایکسپریس، پاکستان میں چلی گئیں۔ وہ اب کراچی میں رہتی ہے۔ حنا نے ریڈیو پاکستان، بی بی سی اردو اور وائس آف امریکہ کے لیے بھی کام کیا ہے۔

2006 سے، وہ رسرنگ میں ایک ہفتہ وار کالم، پاکستان ڈائری لکھتی رہی ہیں۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اکسیر
  • رمضان واپس آ رہا ہے، رمضان واپس نہیں آرہا
  • پراپرٹی ڈیلنگ
  • کشتی کی وہ سنہری شام
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کنارِ بازگشت
پچھلی پوسٹ
جس طرح پل ٹھہر جاتے ہیں

متعلقہ پوسٹس

بچے بذریعہ جراحت

مارچ 20, 2020

سچی حکایات

اگست 11, 2024

دوست کی شادی – خوشیوں کا سفر

مارچ 19, 2026

بنام سید بدر الدین احمد المعروف بہ فقیر صاحب

دسمبر 6, 2019

اعتماد کا فن

دسمبر 22, 2024

سبیلِ شفق

دسمبر 10, 2024

ایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت

اکتوبر 27, 2020

پلیگ اور کوارنٹین

مارچ 25, 2020

اک مدت تک کوشش

مارچ 29, 2026

مالکن

فروری 15, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شمالی علاقہ جات کی سیاحت

جون 2, 2023

اردو: قومی زبان اور ہماری ذمہ...

اگست 17, 2025

ساگر

اکتوبر 14, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں