خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرایلون رابرٹ کارنیلیس
اردو تحاریراردو کالمززاہدہ حنا

ایلون رابرٹ کارنیلیس

ایک اردو کالم از زاہدہ حنا

از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2020 0 تبصرے 372 مناظر
373

ایلون رابرٹ کارنیلیس

ان دنوں کئی حوالوں سے مجھے پاکستان کے چوتھے چیف جسٹس جناب جسٹس ایلون رابرٹ کارنیلیس کی یاد بار بار آتی ہے۔ ہندوستان کے شہر آگرہ میں 8 مئی 1903 کو پیدا ہونے والا غیر معمولی ذہانت اور علم کا حامل یہ قانون دان اور فلسفی 21 دسمبر 1991 کو 88 برس کی عمر میں لاہور میں اس دار فانی سے کوچ کرگیا۔

کارنیلیس نے الہ آباد اور کیمبرج یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، انڈین سول سروس کا امتحان پاس کیا اور اپنے کیرئیر کا آغاز اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر کیا۔ بعد ازاں انھوں نے عدالتی کیریئر اختیارکر لیا اور اپنی منفرد ذہانت اور محنت سے بڑی شہرت اور نام کمایا، کئی کتابیں تصنیف کیں اور تحریک پاکستان میں سرگرم کارکن کی حیثیت سے جدوجہد بھی کی۔

تقسیم سے قبل 1946 میں انھیں لاہور ہائی کورٹ کا ایسوسی ایٹ جج مقرر کیا گیا لیکن پاکستان کی تشکیل کے بعد انھوں نے اپنے آبائی وطن میں رہنے کے بجائے اس ملک کی جانب کوچ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے قیام کے لیے انھوں نے بڑی جدوجہد کی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب نو تخلیق ملک پاکستان کو ہر شعبہ زندگی میں تعلیم یافتہ افراد اور ماہرین کی شدید ضرورت تھی۔

وہ مسلمان نہیں تھے لیکن مسلمانوں کے لیے حاصل کیے جانے والے ملک کی خدمت کے لیے انھوں نے رضاکارانہ نقل مکانی کی۔ ذرا اندازہ کریں کہ ہندوستان کتنی فرقہ وارانہ کشیدگی کے ماحول میں تقسیم ہوا تھا۔ تقسیم کے بعد ہونے والی خوں ریز نقل مکانی کے دوران ہندو، مسلم اور سکھوں نے ایک دوسرے کا کس قدر بہیمانہ قتل عام کیا تھا۔

تاہم، یہ اس دورکی قیادت بالخصوص جناح صاحب کا کمال تھا کہ انھوں نے اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے ملک میں مذہبی رواداری کی عملی مثالیں قائم کیں۔ انھوں نے جوگندرناتھ منڈل کو پاکستان کا پہلا وزیر قانون مقرر کیا۔ اے۔ آر۔ کارنیلیس نے پاکستان کا انتخاب کیا تھا، یہاں آنے کے بعد انھیں وزیر قانون کا سیکریٹری قانون بنا دیا گیا۔ آج ہم کو پاکستان میں جو اعلیٰ عدالتی اور زیریں عدالتی نظام نظر آتا ہے۔

اس کو قائم کرنے میں جسٹس کارنیلیس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان اور وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل نے ان کی صلاحیتیوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ان کے بہترین مشوروں پر عمل کرتے ہوئے ملک میں ایک موثر قانونی و عدالتی نظام قائم کیا۔

جسٹس اے آرکارنیلیس کو 1960میں پاکستان کا چیف جسٹس مقررکیا گیا۔ اب تک اس معزز عہدے پر جتنے بھی لوگوں نے فرائض سر انجام دیے ہیں ان میں جن چند لوگوں کو غیر معمولی عزت اور احترام حاصل ہوا ہے ان میں جسٹس کارنیلیس کا نام بھی شامل ہے۔ انھوں نے پاکستان کو صحیح معنوں میں مذہبی امتیاز اور انتہا پسندی سے پاک ریاست بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انھیں اندازہ تھا کہ مذہبی انتہا پسندی نو آزاد ملک کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ لہٰذا ان کا زیادہ زور اس بات پر تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ریاست کے تمام شہریوں کو اپنے عقائد پر عمل کرنے کی مکمل آزادی فراہم کی جائے۔ یہ تمام کام وہ انسان کررہا تھا جس کا تعلق ان مسلم اکثریتی صوبوں سے نہیں تھا جہاں پاکستان بنا تھا۔ وہ مسلمان نہیں عیسائی تھے اور اینگلو انڈین خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ کسی غریب خاندان کا ایک ایسا تعلیم یافتہ نوجوان تھا جو اپنے شاندار مستقبل کی تلاش میں پاکستان آگیا تھا۔ ان کے والدین رومن کیتھولک برادری میں بہت معزز مقام رکھتے تھے۔ ان کے والد میتھ میٹکس کے پروفیسر تھے۔ ان کی خاندانی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھیں قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کیمبرج جیسی یونیورسٹی میں بھیجا گیا تھا۔

وہ ہندوستان کی سول سروس کا حصہ تھے۔ اپنی قابلیت اور خاندانی اثرورسوخ کی بنیاد پر وہ ہندوستان میں بھی اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتے تھے لیکن وہ ایک فلسفی اور خواب دیکھنے والے انسان تھے لہٰذا انھوں نے انسانی وسائل سے محروم ایک نو آزاد ملک، پاکستان جانے اور اس کے قانونی نظام کو اپنے پیروں پرکھڑا کرنے کے مشکل کام کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا اور اس میں سرخرو ہوئے۔

جسٹس اے آر کارنیلیس ایک سیکولر قانون دان اور دانشور تھے۔ برصغیر کی تاریخ کا یہ وہ سنہرا دور تھا جب دانشوروں پر مذہبی، مسلکی، نسلی یا لسانی تنگ نظری کا غلبہ نہیں تھا۔ روا داری، برداشت اور تحمل سے ایک دوسرے کا نقطہ نظر سنا اور مخالف کی رائے کا احترام کیا جاتا تھا۔

یہ ہمارے ملک کا ایک بڑا المیہ تھا کہ ہماری عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ فوجی و تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے سیکولر فکر کے حامل لوگوں نے چھوٹے چھوٹے مفاد کی خاطر اپنے اصولوں کو ترک کرکے تنگ نظری اختیار کر لی، جس کی وجہ سے ملک میں قانون کی بلا امتیاز حکمرانی قائم نہ ہوسکی اور آمریت نے مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑ لیے۔ اس حوالے سے جسٹس منیر کی مثال ہی کافی ہوگی۔

وہ ایک آزاد فکر رکھنے والے کھلے ذہن کے جج تھے۔ ان کی مرتب کردہ منیر رپورٹ اعلیٰ سیکولر اقدار کی شاندار عکاسی کرتی ہے لیکن اسے ایک المیہ کے سوا اور کیا کہا جائے کہ انھوں نے ” نظریہ ضرورت ” ایجاد کیا اور اس کے تحت گورنر جنرل غلام محمد سے دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کو جائز اقدام قرار دیا۔

اس وقت کی فیڈرل کورٹ (سپریم کورٹ) جب اس غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کو جائز قرار دے رہی تھی تو جسٹس اے۔ آر کارنیلیس وہ واحد جج تھے جنھوں نے جسٹس منیر کے اس فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔ جسٹس منیر کے اس فیصلے کے بعد ہر آنے والے مہم جو آمر کے لیے راستہ ہموار ہوگیا اور اعلیٰ عدلیہ نے پے در پے ان کے حق میں فیصلے دینے شروع کر دیے۔

کیا اس کو محض حسن اتفاق کہا جائے گا کہ مولوی تمیز الدین مقدمے میں جس سندھ ہائی کورٹ نے غلام محمد کے اقدام کو کالعدم قرار دیا تھا اس کے سربراہ جسٹس جارج کانسٹینٹائن تھے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرنے والی فیڈرل کورٹ میں جس واحد جج نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا وہ اے۔ آر۔ کارنیلیس تھے۔ مسلم ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے دو غیر مسلم ججوں نے عدل، انصاف اور قانون کی حکمرانی کا پرچم بلند رکھا اور جذبہ ایمانی سے سرشار ججوں نے آمرانہ طاقتوں کے ہاتھوں پر بیعت کر لی۔

جن ملکوں کی اعلیٰ عدلیہ نے آزادی کے حصول اور جمہوری عمل کے آغاز کے فوراً بعد سے آئین و قانون کی بالادستی کے لیے تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنا تاریخی کردار اداکیا وہ ملک دنیا کے مضبوط جمہوری ملک بن چکے ہیں۔ اس حوالے سے امریکا کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔

آج سے تقریباً 225 سال قبل اس کی سپریم کورٹ کے پہلے چیف جسٹس جون جے نے جنھیں صدر جارج واشنگٹن نے اس عہدے پر فائزکیا تھا، اپنا منصب سنبھالتے ہی یہ مثال قائم کر دی تھی کہ سپریم کورٹ قانون سازی کے بارے میں رائے نہیں دے گی یعنی وہ قانون سازی کے عمل میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ وہ صرف ان معاملات کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی جو اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ اسی طرح امریکی سپریم کورٹ میں سب سے زیادہ مدت تک چیف جسٹس رہنے کا اعزاز رکھنے والے جج جون مارشل نے 218 سال پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

انھیں امریکا کی سپریم کورٹ کا سب سے با اثر جج تصور کیا جاتا ہے جنھوں نے سپریم کورٹ کو حکومت سے آزاد طاقتور ادارے کے طور پر منظم کیا جو ریاست کا تیسرا مضبوط ستون بن گیا۔ انھوں نے ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے مثالی فیصلے کیے۔ امریکا میں ایسا اس لیے ہوسکا کہ حکومتوں نے عدلیہ کو غلام بنانے پر اصرار نہیں کیا اور اس ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے جج بھی انصاف کے اصولوں کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے۔ ہمارے یہاں یہ نہیں ہوسکا۔ حکمرانوں نے ابتدا سے ہی عدلیہ کو اپنے تابع کرلیا اور جج ان کی مزاحمت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

کاش ہمارے ملک کا ہر ادارہ یہ طے کر لے کہ خواہ کچھ بھی ہو آئین اور قانون سے انحراف کی راہ اختیار نہیں کی جائے گی تاکہ جسٹس اے آر کارنیلیس کا اپنے آبائی وطن میں بہترین مستقبل کو چھوڑ کر پاکستان آنے اور یہاں کسی شاندار گھر یا کوٹھی کے بجائے 40 سال تک لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے ایک کمرے میں زندگی گزارنے کا فیصلہ غلط ثابت نہ ہو۔

زاہدہ حنا پاکستان کی ایک مشہور اردو کالم نگار، مضمون نگار، مختصر کہانی نویس، ناول نگار اور ڈرامہ نگار ہیں۔

زاہدہ ہندوستان کے شہر بہار کے شہر ساسارام ​​میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم ہند کے بعد ان کے والد محمد ابوالخیر پاکستان ہجرت کر کے کراچی آ گئے جہاں زاہدہ کی پرورش اور تعلیم ہوئی۔ اس نے اپنی پہلی کہانی اس وقت لکھی جب وہ نو سال کی تھیں۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے گریجویشن کی، اور ان کا پہلا مضمون ماہنامہ انشا میں 1962 میں شائع ہوا۔ انہوں نے 60 کی دہائی کے وسط میں صحافت کو کیریئر کے طور پر منتخب کیا۔ 1970 میں انہوں نے معروف شاعر جون ایلیا سے شادی کی۔ زاہدہ حنا 1988 سے 2005 تک روزنامہ جنگ سے وابستہ رہیں، جب وہ روزنامہ ایکسپریس، پاکستان میں چلی گئیں۔ وہ اب کراچی میں رہتی ہے۔ حنا نے ریڈیو پاکستان، بی بی سی اردو اور وائس آف امریکہ کے لیے بھی کام کیا ہے۔

2006 سے، وہ رسرنگ میں ایک ہفتہ وار کالم، پاکستان ڈائری لکھتی رہی ہیں۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ
  • جنتی بیوی
  • منٹو کی شادی
  • سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان کا جذبۂ اخوت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کنارِ بازگشت
پچھلی پوسٹ
جس طرح پل ٹھہر جاتے ہیں

متعلقہ پوسٹس

کشمیر میں بھارتی استعماریت

فروری 6, 2020

زخم

جنوری 24, 2020

ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی ورزش

جنوری 29, 2025

میں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے

اکتوبر 27, 2020

14اگست: جشنِ آزادی اور اس کے تقاضے!

اگست 15, 2020

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا حادثہ

دسمبر 14, 2019

معاشی بحران،تجاویز اورایک خواب

جولائی 23, 2022

افروز عالم:عہد حاضر کا ایک حساس شاعر

مئی 2, 2020

سیڑھیوں والا پُل

مارچ 20, 2020

جدید ٹیکنالوجی اور معصوم طلباء

جولائی 1, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پانچویں نسل کی جنگ اور پاکستان!

ستمبر 19, 2021

نیلی ساڑھی

جنوری 22, 2020

مولسری کے پھول

مئی 20, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں