413
جس طرح پل ٹھہر جاتے ہیں
دن بدلتے نہیں
رات کٹتی نہیں
زندگی بیت جاتی ہے لیکن گزرتی نہیں
جس طرح سرد راتوں میں تاریک رستوں پہ دھند ایسے چھا جاتی ہے
راہ گیروں کی آنکھیں ہی کھا جاتی ہے
جس طرح کوئی دن گرمیوں کی سلگتی ہوئی دوپہر یوں ٹھہر جاتی ہے
جیسے مغرب کی سمت اس جہاں میں ابھی تک بنی ہی نہ ہو
جس طرح کچھ بھی, کیسا بھی, کتنا بھی ہو جاتا ہے
جس طرح سب سمجھ کر بھی ہم سب سمجھتے نہیں
بالکل ایسے ہی اس سال کے اک مہینے میں میری گھڑی رک گئی
وقت چلتا رہا.۔….. یہ چلی ہی نہیں
اس لیے یہ برس اب کبھی ختم ہونا نہیں
آرش
