916
زباں بندی کروں میں کس لئے تذلیل کے ڈر سے
میں گھر میں قید ہو جاؤں تری تحویل کے ڈر سے
اجالے کی حکومت تو سدا بے خوف رہتی ہے
اندھیرا منہ چھپاتا ہے کسی قندیل کے ڈر سے
تمھارے دل کے چوری نے تمھیں خاموش رکھا ہے
سبھی چُپ چاپ بیٹھے ہیں کسی تفصیل کے ڈر سے
ادھورے پن کو اپنی ذات سے باہر نکالا ہے
مرا دشمن ہراساں ہے میری تکمیل کے ڈر سے
بلندی پر پہنچ کر ہی وہ کھو دے گا وجود اپنا
دھواں آنسو بہاتا جا رہا تحلیل کے ڈر سے
جسے سینے لگاتا ہوں وہ اندر جھانکنا چاہے
گلے ملتا نہیں اب راز کی ترسیل کے ڈر سے
زمیں زادی کی آنکھوں میں یہ کتنا خوف ہے صابرؔ
کبھی قابیل کے ڈر سے کبھی ہابیل کے ڈر سے
ایوب صابر
