خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجدید ٹیکنالوجی اور معصوم طلباء
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریربریرہ خان

جدید ٹیکنالوجی اور معصوم طلباء

از بریرہ خان جولائی 1, 2020
از بریرہ خان جولائی 1, 2020 0 تبصرے 72 مناظر
73 وہ آدھی کھلی آدھی بند آنکھوں سے بار بار اپنے فون کی اسکرین کو دیکھ رہی تھی اور مسلسل ایک ہنسی, تشویش ناک, خوشی, حیرت زدہ, اور دیگر ملی جلی کیفیات کا ایک ہی وقت میں شکار تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا اور کیسے ہونے جا رہا ہے اور نتیجہ کیا نکلے گا, بس وہ اپنی سہیلیوں سے بذریعۂ واٹس ایپ مسلسل رابطے میں تھی اور ہر چند منٹ بعد ایک دھیمی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آجاتی۔ دوسری جانب سے جوابات کچھ موصول ہی اس قسم کے ہو رہے تھے کہ مسکراہٹ چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔ یہ کہانی ہے دراصل ایک شعبۂ اسلامی ثقافت و تقابلِ ادیان کی فائنل ائیر کی طالبہ کی جس نے تقریباً 3 ماہ پعد پہلی کلاس لی(ایک وبا کی وجہ سے حفاظتی اقدام کے سبب) اور بھی آن لائن۔ جی ہاں آن لائن, وہ سب ہی اس اچانک ملنے والی خبر پر ایک ہی وقت میں اپنے اپنے اصطبل(گھوڑے بیچ کر) قبل از وقت بیچ کر اب بیٹھ چکی تھیں اپنی اپنی چھوٹی سی دنیا (اسمارٹ فون) کے سامنے۔ اس انتظار میں کہ کب ان کے ٹیچر کا میسج موصول ہو اور بالکل اس ہی طرح جس طرح (حیدرآباد کی شٹل میں ایک عدد سیٹ ملنے پر جس جنگِ عظیم سے گزر کر اور اپنی اپنی حد تک کُشتی, کراٹے, فائیٹنگ, ریسلنگ جیسے کٹھن سفر سے گزر کر ایک بہت ہی پسماندہ اور نہایت کمزور چار پہیوں پر مشتمل ایک ٹوٹی کھڑکیوں اور پھٹے سیٹ کورز کی ایک چھوٹی سی بس میں سوار ہونے کے لیے ہوائی جہاز کی رفتار سے اڑنے کی کوشش میں کامیاب ہوجاتی تھیں) اس جمِ غفیر نے زوم کلاس روم پر ہلہ بولنا تھا۔ جیسے تیسے کر کے وقتِ مقررہ پر اس نے فون ہاتھ میں لیا تو پیروں تلے زمین ہی نکل گئی, یہ دیکھ کر کہ ایک کلاس ابھی ہو رہی ہے۔ اگر تو بات صرف اس ہی حد تک تھی کہ کوئی کلاس وقت سے پہلے ہورہی ہے جو کہ آدھ گھنٹے بعد ہونا تھی تو شاید زمین نہ سہی آسمان تو سر پر رہتا پر یہ کیا یہ تو وہ کلاس ہو رہی تھی کہ جس کی نہ امید تھی نہ کوئی امید کی کرن یا شمع۔ اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا, اور رات کو پوچھے گئے سوالات اور ان کے نہایت یقینِ مستحکم سے دیے گئے جوابات… کہ کلاس 10:10 پر شروع ہوگی اطمینان سے سب نہایت ادب و اخلاق کے دائرے میں تشریف لے آئیں۔ وہ تو گویا قلب و ذہن کو مکمل طور پر مطمئن کر کے ہی اصطبل بیچنے گئی تھی پر یہ کیا.. صبح تو یہ دھماکہ ہوا کہ سر کلاس لے رہے ہیں وقت سے پہلے ہی۔ جیسے تیسے کر کے ہاتھ پیر مار کر واٹس ایپ گروپ کے پچاس مجسز کو جلدی جلدی پڑھنے کی کوشش میں تیزی سے چلاتی انگلیوں سے آخر کار وہ پہنچ گئی اس پتے (کلاس لنک اڈریس) پر… اب جوں ہی اس نے دستک دی, تو اب تو بغیر چھت اور زمین کے جو چار اطراف میں دیواریں محض سہارے کے لیے کھڑی تھیں دھڑام سے گریں, یہ کیا کلاس تو ختم ہوچکی ہے, سر جاچکے ہیں, اف.. یہ کیا بندہ حاضری تو لگوائے کم از کم, یونیورسٹی بھی تو حاضری, فوٹوگرافی, گپ شپ اور ہاں تھوڑا سا پڑھنے ہی جاتے تھے۔ وہ جیسے ہی کلاس روم پر پہنچی تو یہ دیکھ کر حیرت کہ دس بارہ پہاڑ ایک ہی وقت میں اس کے سر پر آگرے اور وہ بمشکل ہی اپنے آپ کو سنبھال سکی کہ یہ کیا دن کی شروعات ہی اتنے بڑے کیک (عزت افزائی) کے ساتھ ہو گئی ہے اب نہ جانے باقی دن کیسا گزرے گا اس کے پوچھنے پر یہ پتا چلا کہ سر تو اس ہی کے کہنے پر یہاں تشریف لائے تھے اور وہ ہی غائب تھی۔ ہئے وقت کی ستم ظریفی, نیند کی قربانی, اصطبل کی نہایت سستے داموں فروخت اور پھر علی الصبح چائے کی جگہ یہ کیک مل گیا۔ ظلم کی انتہا تو یہ کہ وہ اپنے بہت پرانے اور قیمتی الارم(والدہ ماجدہ) کو یہ کہہ کر اصطبل بیچنے گئی تھی کہ دس بجے اٹھادیا جائے, یہ جانتے ہوئے کہ نو بجے ہی سے اس کے سر پر دنیا بھر کے ڈھول تاشے بجادیے جائیں گے اور یہی ہوا اسے 9:30 پر اٹھا کر بٹھا دیا گیا, وہ حواس باختہ سی اٹھی اور پہلا ہی کیک مل گیا, وہ بھی دس منزلہ۔ خیر اس نے حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے دوسری کلاس کا وقت پوچھا اور بتایا گیا کہ دوسری کلاس گیارہ بجے شروع ہوگی وہ اطمینان سے اپنے نہایت اہم کاموں میں مصروف ہو گی کہ عین وقت پر تشریف آوری ہوجائے گی ہماری۔ آفرین اس توکل پر…! مگر یہ کیا جب اس نے اپنی چھوٹی سی دنیا پر دنیا کا تیز ترین نیوز چینل (واٹس ایپ گروپ کھولا) تو یہ دیکھ کر اس کے پیروں سے زمین کی دوسری تہہ بھی نکل گئی کہ کلاس پچھلے دس منٹ پہلے شروع ہوچکی ہے۔ جیسے تیسے کر کے وہ اس پتے پر پہنچی اور یہ دیکھ کر قلب و ذہن کو سکون اور اطمینان نے آن گھیرا, چلو نہ ہونے سے ہونا بہتر۔ اس کی معصوم توقعات کے مطابق اس کلاس میں استاد صاحب نے کچھ بہت اہم موضوع پڑھانا تھا اسلیے وہ بھی تمام تر قہقہوں اور مسکراہٹوں کو ایک گھنٹے کے کیے الوداع کہہ آئی تھی۔ کہ اچانک استاد صاحب کے کہنے پر ایک بھائی نے ہاتھ اٹھایا سوال پوچھنے کے لئے, اور جیسے ہی انہوں نے ہاتھ اٹھایا استاد صاحب نے انہیں گویا اجازت دی اور ان کا مائیک شریف کھول دیا گیا, جیسے ہی ان کے مائیک شریف کو اجازت ملی تو ایک نہایت عجیب و غریب سی دھن بجنے لگی, پہلے تو اسے یقین نہ آیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے لیکن جب تھوڑا مزید غوروفکر کیا تو علم ہوا کہ یہ سائرن مطلوبہ سوال پوچھنے والے بھائی کے وائی فائی کی نہایت تیز رفتاری(کچھوے صاحب کی رفتار جس سے تیز ہو) کے سبب ہوا ہے۔ یہاں پر یہ بتانا میں نہیں بھول سکتی کہ جب آن لائن کلاسز کی خبر موصول ہوئی تو تمام بھی بہنیں خاص طور پر پر کلاس کی کچھ باتونی بہنیں بہت پریشان ہوئیں کہ اب ہم کلاس کی طرح باتیں کیسے کریں گے اور جس طرح ہم کلاس میں باتیں کیا کرتے تھے اور ہماری بھن بھن سے پوری کلاس مستفید ہوتی تھی, ابھی یہ سب اس ہی فکر ہے میں مبتلا تھیں کہ اچانک اس نے اپنا واٹس ایپ آن کیا تو یہ دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی کہ اس کی تمام دین کی ساتھیوں نے اس رسم کو دل و جان سے ادا کرنے کی ٹھان لی ہے- طوفان آئے یا زلزلہ, آن لائن کلاس ہو یا آف لائن وہ اس رسم کو قطعاً نہیں توڑ سکتیں- بس پھر کیا تھا پیچھے سے آئسکریم بیچنے والے بھائی دل سوز اور نہایت پسندیدہ بلکہ یوں کہیے کہ جس آواز کا بچوں کو شدت سے انتظار ہوتا ہے جو کہ یونیورسٹی میں سننے کو شاز و نادر ہی کہیں ملتی ہے۔ (Tuuuununu tuuununu tunnnn nuuununn) ہو یا چھولے بیچنے والے بھائی کی چھولے لے لو تازہ گرم چھولے لے لو, یا کسی بھائی کے نہایت تیز رفتار انٹرنیٹ کے باعث بجنے والا سائرن ہو, یہ سب ہی اس واٹس ایپ گروپ پر تفصیل سے ایک دوسرے تک چسکے اور مزے لے لے کر پہنچایا گیا- اب تو صورتحال یہ تھی کہ پہلے تو صرف دو یا تین بہنیں ہیں کلاس میں بھن بھن بھن کیا کرتی تھیں لیکن اب تو تقریبا پوری ہی کلاس کی بہنیں ایک جگہ پر لطف اندوز ہورہی تھیں۔ ان میں سے بعض طلباء پریشانی کا شکار تھے کیونکہ وہ دستک دے کر اور اجازت لے کر کلاس کے اندر تو جا چکے تھے لیکن ایک اور قدم اٹھانے سے علم نہ ہونے کے باعث قاصر رہے اور پوری ہی کلاس انہوں نے بغیر کچھ سنے اور دیکھے صرف اپنی موجودگی کا احساس کرتے اور کراتے ہوئے خاموشی سے گزار دی..! معذرت کے ساتھ پر ان کے لیے وہ کلاس گونگی کلاس ثابت ہوئی۔ بس ایک قدم کی بلکہ ایک touch کی دوری پر تھے وہ معصوم حضرات۔ ابھی یہ سب چل ہی رہا تھا کہ اچانک سے جیسے ہی اس نے واٹس ایپ گروپ کو چھوڑ کر کلاس میں جانے کا ارادہ کیا آواز تو آ رہی تھی لیکن اس نے سوچا کیوں نہ دوبارہ سے دیکھ لیا جائے کہ کون کون تشریف لایا ہے ابھی وہ اسی سوچ میں گئی تھی کہ جیسے ہی وہ کلاس میں گئی تو دیکھ کر بالکل حیران نہ ہوئی کہ ایک اور کیک اس کا منتظر ہے ہوا یہ تھا کہ جیسے ہی وہ کلاس میں گئی تو اسے ایک نوٹیفیکیشن موصول ہوا جو منہ چڑانے والے اندازہ میں کہہ رہا تھا کہ میٹنگ ختم ہو چکی ہے گویا آپ کو کلاس سے باہر نکال دیا گیا ہے اسے یہ دیکھ کر بالکل حیرت نہ ہوئی کیونکہ وہ جانتی تھی (یہ تو ہوگا)۔ پھر وہ دوبارہ واٹس ایپ گروپ میں گئی اور دوبارہ سے ان کی باتیں شروع ہوئیں کیا ہوا اور ایک کیوں ہوا؟ اچانک سے ایک بہن کا میسج موصول ہوا کہ آجائیں سر نے سب کو دوبارہ بلا لیا ہے وہ دوبارہ تقریباً بھاگتی ہوئی اپنی کلاس میں پہنچی تو دیکھا کہ سر دوبارہ آچکے ہیں اور سر کے الفاظ تھے کہ میں نے اب ایک اعلان کرنا ہے اعلان کیا تھا گویا خوشی کا ایک پٹارا تھا جو سر نے کھولا تھا اور سر نے کہا تھا کہ اب آپ کی حاضری کا وقت ہے بالآخر بہت انتظار کے بعد وہ وقت آن پہنچا, تھا جن کا انتظار وہ لمحات آگئے- جس مقصد کے لیے یونیورسٹی جایا جاتا تھا اور جس مقصد کے لئے آن لائن کلاس میں آیا گیا وہ مقصد اور مقصدِ موجودگی اب اپنے پائہ تکمیل کو پہنچنے لگا تھا اور یہ وقت تھا ان کی حاضری کا ایک کلاس مکمل ہوئی تو اگلی کلاس کے انتظار میں وہ سب پھر سے واٹس ایپ گروپ پر آ چکی تھیں اس دوسری کلاس میں بہت سے لوگوں نے ناشتہ مکمل کیا جبکہ اس نے صرف ایک چائے پر ہی اکتفا کیا۔ اب جو کلاس شروع ہوئی تو اس کلاس کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں شروع ہوگئی ہوں۔ پندرہ سے بیس منٹ تو وہ آپس میں اس ہی مسئلہ کو سلجھاتی رہیں کہ کلاس شروع ہوگئی ہے یا نہیں, ہوگئی ہے یا نہیں۔ بالآخر 20 منٹ بعد کلاس مکمل طور پر شروع کی گئی اور جس کا پتہ بھی کافی مختلف تھا وہ کلاس کافی بہتر رہی اور انکی استاذہ نے تصوف کا ایک موضوع پڑھایا تف ہے اس کی وقت کی پابندی پر کہ اس تیسری کلاس میں بھی جو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پانچ منٹ دیر سے پہنچی۔ اور ان پانچ منٹ میں اس کا تعارفِ موضوع نکل گیا اب جو اس نے پورا لیکچر لیا تو وہ اس ہی کشمکش میں رہی کہ بس اب موضوع کا نام لیا جائے گا اور اب میں لیکچر کو سمجھوں گی- اسی کشمکش اور انتظار کی کیفیت میں اس نے ایک لائن تیسری کلاس میں پہلے دن آخرکار اپنی ڈائری میں نوٹ کر ہی لی آخرکار۔ اس نے جب یہ دیکھا کہ اس کی استاذہ پوچھ رہی ہیں طلبہ سے کہ کیا آپ کو میری آواز آرہی ہے, میری آواز آرہی ہے, آواز آنے اور جانے میں ہی وہ کلاس ابھی پوری مکمل ہونے ہی لگی تھی کہ اس نے بھی ایک سوال کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور اس نے پوچھا کہ برائے مہربانی کوئی مجھے موضوع کا نام بتا دیں میں دیر سے آئی تھی پھر اس کے ساتھیوں نے اس کا بہت ساتھ دیا اور اسے بتایا گیا کہ آج کا موضوع اخلاقیات ہے اچانک سے اساتذہ کی آواز آئی کہ کوئی سوال ہو تو… اور اس کوئی سوال ہو تو, کے فوراً بعد ہی ان کی میٹنگ ختم ہوگئی اور ان سب کو گویا کہہ دیا گیا کہ آپ کی آج کی محفل برخواست ہوچکی ہے, آپ سب اپنے اپنے گھروں میں جو کہ پہلے سے ہی براجمان تھے, اب آپ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو سکتے ہیں۔ تو یہ تھی اس کے پورے دن کی مختصر کہانی۔ اور ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ایک مرحلہ آیا اور وہ تھا آن لائن کلاسز کی ایپلیکیشن کے استعمال کا طریقہ۔ جو اس ہی نے حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ سوچا کہ کیوں نہ لوگوں کا وقت بچایا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ یہ ہے اس کا صحیح استعمال اور نہایت ہی آسان استعمال ہے برائے مہربانی ان چند اقدامات پر عمل کریں اور وقت پر کلاس میں موجودگی کا احساس بھی دلائیں اور آپ ہر لیکچر سے مستفید بھی ہوں۔ اللہ ہم سب کو نفع بخش علم عطا فرمائیں۔ خلاصۂ کلام: اب چونکہ یہ کوئی سبق تو ہے نہیں کہ جس کا خلاصۂ کلام لکھا جائے ہاں البتہ ہر چیز کے مثبت پہلو ضرور ہوتے ہیں اور آن لائن کلاس سسٹم کے مثبت بہت سے پہلو ہیں سب سے پہلے تو یہ کہ اس نے بہت سی مشکلات کو حل کردیا جو بہت سے طلباء کو یونیورسٹی جانے اور وہاں کے حالات سے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اللہ نے اس سسٹم کے ذریعے انہیں نجات دلوائی, دوسرا اہم نقطہ جو کہ یہاں لکھنا میں بھول نہیں سکتی اور وہ یہ ہے کہ اب کم از کم حاضری تو %100 ہوگی۔ اچھی بات یہ ہے کہ جو طلباء کچھ حالات کی وجہ سے کلاس نہیں لے سکتے وہ اگر بعد میں ان لیں تو ان کی بھی حاضری لگا دی جائے گی اور لیکچر بھی سن سکتے ہیں۔ آن لائن سسٹم نے نہایت آسانی کردی کہ آپ گھر بیٹھے تعلیم حاصل کیجیے اور ان شاءاللہ ایک دن گھر بیٹھے ہی ہماری ڈگری بھی ہمیں بھجوادی جائے گی۔ ان شاءاللہ امید پر دنیا قائم و دائم۔ ایک اور مثبت پہلو اس کا یہ ہے کہ جو لوگ کسی مجبوری کے تحت یہ طبیعت کی ناسازی کی باعث بہت اہم کلاسز چھوڑ دیا کرتے تھے اب ان کی کلاس ضائع نہیں ہوگی اور وہ اس کلاس میں شامل ہوکر کسی طریقے سے اس لیکچر کو اٹینڈ کر سکتے ہیں یا بعد میں وہ اٹینڈ کر سکتے ہی۔ چوتھا مثبت اس کا پہلو یہ ہے کہ آن لائن کلاسز نے ہمیں دوبارہ سے ایک جگہ کر دیا اور ایک بار پھر ہم دوبارہ سے بالکل اس ہی طرح جس طرح ہم یونیورسٹی میں باتیں کیا کرتے تھے اور مزے کیا کرتے تھے بالکل اسی طریقہ سے اس نے ہمیں ایک بار پوری کلاس میں جمع کیا اور ہم نے بہت بہت بہت وقت بعد ایک ساتھ بہت سے یادگار لمحات گزارے۔ اوریہ نہایت یادگار دن گزرا بالکل اس ہی طرح جس طرح یونیورسٹی کا پہلا دن نہایت یادگار ہوتا ہے, بس اس ہی لیے سوچا کیوں نہ اسے قلم بند کر کے محفوظ کرلیا جائے۔ تو یہ تھے کچھ مثبت اس کے پہلو اور ہر چیز کے منفی اور مثبت پہلو ہوتے ہیں تو کچھ منفی بھی ہوں گے لیکن ہم منفی بات نہیں کریں گے۔ اللہ تعالی ہم سب کو مثبت سوچنے کی اور مثبت رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے اساتذہ کو جو محنت کر رہے ہیں اور انتہائی محنتی طلباء انہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم سب کو علم نافع عطا فرمائے اور ہم سب کو اپنے علم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اللہ ہم سب کے حامی و ناصر ہو اور اللہ تعالی ہم سب کو خالص کرنے اور ہمارے ایمان کو تقویت عطا فرمائے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر ہو آمین. امید پر دنیا قائم و دائم۔ میری کہانی میری زبانی۔ بریرہ خان
آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کرونا ویکسین اور غلط فہمیاں
  • بے بسی اور خفت کا عالم
  • ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں
  • اتنا سامان تو گٹھڑی میں نہیں آئے گا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
بریرہ خان

اگلی پوسٹ
عبرت سے دیکھ جس جا یاں کوئی گھر بنے ہے
پچھلی پوسٹ
اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے

متعلقہ پوسٹس

شکست

نومبر 14, 2021

قیامت خود بتائے گی قیامت کیوں ضروری تھی

ستمبر 13, 2020

جو اُس کے ہونٹوں سے جھوٹا ہوا نہیں

جون 2, 2020

ہنسنے رونے والے اچھے لگتے ہیں

مارچ 20, 2020

مری محبت بھی نیلگوں ہے

مئی 10, 2020

ڈاکٹر علیم ؔعثمانی۔ توصیفِ بتاں سے دربارِ نبی تک

مئی 13, 2021

لڑکی کا جادو

اگست 7, 2022

چمپا اُداس ہے کہیں بیلا اداس ہے

مئی 22, 2020

پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کا نظام

مارچ 29, 2026

حالی اور اردو

ستمبر 24, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بات کے بیچ بول اٹھتے ہو

مارچ 3, 2022

یہ جو غربت کا مارا لگ...

جولائی 11, 2021

انٹرویو شہزاد نیّرؔ

جولائی 13, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں