خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجنس اور شادی کی نفسیات
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

جنس اور شادی کی نفسیات

ڈاکٹر خالد سہیل کے نام ایک کھلا خط

از سائیٹ ایڈمن اپریل 16, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 16, 2020 0 تبصرے 437 مناظر
438

محترم خالد سہیل
السلام علیکم،

میرا آپ کا تعارف صرف ’ہم سب‘ کی وساطت سے ہے۔ میرے اور آپ کے استاد محترم وجاہت مسعود کا کہنا ہے ”ہم عصر کی تعریف ذرا مشکل ہوتی ہے۔ چشمک کا پہلو موجود نہیں ہو تب بھی خود آرائی آڑے آتی ہے“۔ لیکن میں چوں کہ آپ کا ایک لحاظ سے ہم عصر نہیں بلکہ بہت چھوٹا ہوں (عمر نہیں قد، اور قد بھی جسمانی نہیں بلکہ ادبی قد) اس لئے مجھے یہ کہنا بہت مناسب لگتا ہے کہ آپ جو لکھ رہے ہیں، اس کی تعریف کیے بنا چارہ نہیں۔ آپ کا گزشتہ کالم ”کیا آپ جنسیات کی نفسیات سے واقف ہیں“؟ پڑھا۔ آپ جنسیات پر کھل کر لکھتے ہیں اور نفسیات کے ڈاکٹر ہیں۔ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ آپ یہ ساتھ خوب نباہ رہے ہیں اور اگر دامن اٹھاتے ہیں تو چولی بھی اتار دیتے ہیں۔ یہی اس موضوع کا تقاضا ہے کہ تمام پردے ہٹا دیے جائیں تا کہ انسان اپنی زندگی کی اس بنیادی ضرورت سے صحیح طریقے سے اور پورا پورا لطف اندوز ہو سکے۔

گھنڈ حسن دی آب چھپا لیندا، لمے گھنڈ والی رڑے ماریے نی
(رڑے، سخت زمین۔ لمے، لمبے )

میرے ذہن میں اس موضوع پر بہت سے سوالا ت ابھر تے ہیں۔ معذرت خواہ ہوں، کہ سوال تو چھوٹے ہی ہیں لیکن اپنے سوالات کو واضح کرنے کے لئے پہلے کچھ مثالیں دوں گا۔

جنسی خواہش ہر انسان کی سوچ، جذبا ت اور اس کے رویوں کے پیچھے پائی جانے والی مرکزی قوت ہے۔ آپ کے اس کالم کا ایک فقر ہ مستعار لینا چاہوں گا، جو میری بات کو آگے بڑھا نے میں مددگار ہو گا۔

”لوگ جب جوان ہوتے ہیں تو ان کی خواہش، ان کی آرزو اور ان کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ شادی کریں، بچے پیدا کریں، ایک خاندان بنائیں اور افزائش نسل کا سلسلہ جاری رکھیں“۔ یہ تو ہو گئی شادی کی ایک وجہ، آگے چل کر آپ لکھتے ہیں کہ ”تخلیقی لوگ اپنی جنسی خواہشات کا غیر روایتی اظہار کرتے ہیں۔ چاہیں تو کئی لوگوں سے بیک وقت تعلق قائم کر لیتے ہیں، نا چاہیں تو مدتوں کسی ایک سے بھی تعلق قائم نہیں کرتے۔ اور جب رومانی تعلق قائم کریں، تو اس کا مقصد لازمی نہیں کہ شادی کرنا اور بچے پیدا کرنا ہو“۔

بہت واضح ہو گیا کہ جنس کا اکلوتا مقصد بچے پیدا کرنا ہی نہیں ہے۔ میرا سوال صرف شادی کے ذریعے جنسی خواہش کی تکمیل کے متعلق ہے۔ بیک وقت ایک یا ایک سے زائد کے ساتھ جنسی تعلق سے ہے۔

اگر ہم پرانی تہذیبوں کو دیکھیں تو ان کام یاب ادوار میں ایک ہی وقت میں مختلف جگہوں پر شادی کی مختلف قسمیں کام یابی سے اس معاشرہ کی ضروریات پوری کرتی نظر آتی ہیں۔ جب دنیا میں ایک سے زائد شادیوں کا رواج عام تھا، اس وقت روم کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ اگرچہ اس میں بھی کنیز رکھنے کی اجازت تھی اور مالک کے ساتھ اس کانام ایسا جڑا ہوا تھا کہ اس کی قبر پر دونوں نام لکھے جا تے تھے۔ بعد میں جب روم کا مذہب تبدیل ہوا تو یہی رواج مسیحیت نے اپنا لیا۔

بہت پہلے سے لے کر آج تک ہندوؤں میں کبھی ایک سے زائد شادی کو پسند نہیں کیا گیا۔ ہند میں راجھستان سے لے کر نیپال تک اور کٹاس سے لے کر آسام تک مختلف علاقوں میں ایک ہی عورت سے تمام بھائیوں کی شادی کا رواج رہا ہے۔ نیپال میں اس قسم کی شادی آج بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ زمین کو تقسیم سے بچانا تھا یا ہے۔ کزن کے ساتھ شادی کا ایک مقصد بھی یہ رہا ہے۔ لیکن عرب جو کہ ایک قبائلی علاقہ تھا، کے کچھ علاقوں میں بھی ایسی مثالیں پائی جاتی رہی ہیں۔ جب ایک خاوند اندر لطف اندوز ہو رہا ہوتا تو وہ باہر دروازے پر اپنا خنجر گاڑ دیتا کہ اگر کسی دوسرے میں ہمت ہے تو رنگ میں بھنگ ڈالنے، اپنا انجام سوچ کر، اندر آ جائے۔

انھی معاشروں میں جہاں ایک ہی عور ت سے پانچ بھائیوں کی شادی کی مثال ملتی ہے، وہیں اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے اکبر اعظم کے ایک رتن راجا مان سنگھ کا دعویٰ تھا کہ اس کے گھر میں بیس پنگھوڑے ہیں، جو کبھی بھی خالی نہیں ہوئے۔ مولانا محمد حسین آزاد نے لکھا ہے، ”جب وہ مرا تو اس کے ساتھ تین ہزار عورتیں ستی ہوئیں۔ یہی مردوں کی شان ہوتی ہے (مان سنگھ کی بہن مریم الزمانی اکبر کی بیوی اور اس کی بیٹی جہانگیر کی بیوی تھی) ۔

وہی راج پوت نسل کی ملکہ جو نور جہاں کی دوسری شادی کو بنیاد بنا کر ایسی باتیں کرتی، جو اسے زچ کر دیتی تھیں۔ ایک مرتبہ نور جہاں نے خوشامدانہ لہجے میں بادشاہ کو کہا، ”آپ کے منہ سے بہت پیاری خوش بو آتی ہے“۔ بادشاہ نے خوشی خوشی یہ بات ہندو رانی کو بتائی، تو اس کا جواب تھا، ”منہ کی بد بو، خوش بو کا اندازہ اس کو ہو گا، جس نے ایک سے زیادہ منہ سونگھے ہوں“۔ باپ کا فخر تین ہزار سے زائد شادیاں، اور بیٹی کا بیوگی کے بعد بھی دوسری شادی پر طنز۔

زرعی اور قبائلی علاقوں میں زیادہ شادیوں کی ایک وجہ زیادہ اولاد کی خواہش ہے۔ اتنی اولاد جو لڑائی جھگڑے میں مدد گار ہو۔ یہ خواہش پہلے بیان کی گئی خواہش سے بالکل الٹ ہے۔

اسی طرح کی مثالیں ہر دور کی تہذیبوں میں مل جاتی ہیں۔ ہوموسیپینز، سیپینز کی پیدائش افریقہ میں ہوئی اور لاکھوں سال تک وہ اسی علاقہ میں رہا۔ آج بھی جسمانی لحاظ سے سب سے بہترین انسان اسی علاقے کے ہیں۔ افریقہ میں شادیوں کے بہت عجیب و غریب رواج پائے جاتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے ملک ملاوی میں ہر کنواری لڑکی کو شادی سے پہلے ایک ’ہائینہ‘ مرد سے قربت کرنی پڑتی ہے اور ہر عورت کو طلاق، بیوگی، بچے کی پیدائش اور ابارشن کے بعد اسی کے پاس جاکر ’حلالہ‘ کروانا پڑتا ہے۔ اور اس کام کا اسے معاوضہ بھی دینا پڑتا ہے۔

انسانوں کے رویوں کو سمجھنے کے لئے عام طور پر جانوروں کی زندگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ان کے خاندانی نظام میں بھی اسی طرح کے مختلف جنسی میلان پائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب خط طویل ہو رہا ہے۔ مزید مثالیں دینے کی بجائے، اب میں اصل سوالوں کی طرف آؤں گا۔ پو چھنا یہ ہے کہ انسانی معاشروں میں شادیوں کی اتنی مختلف اقسام کی موجودی میں شادی کی کون سی قسم، انسان کی جنسی نفسیا ت سے مطابقت رکھتی ہے؟

شادی کا زیادہ تعلق کہیں اس معاشرہ کی معاشیات سے تو نہیں؟ اگر یہی وجہ ہے تو کیا انسانی نفسیات کا اس میں پھر بھی کوئی کردار موجود ہے؟ کیا ایسی شادیاں انسان کے حیوانی جذبہ کو پورا کرنے کے ساتھ اس میں تخلیقی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرنے میں مدد دیتی ہیں؟

انسانی نفسیات کے ساتھ ساتھ ان سوالات کے سماجی اور معاشی پہلو بھی ہیں۔ اس لئے میں نے آپ کے نام یہ خط ’ہم سب‘ کی معرفت بھیجا ہے، کیوں کہ اس فورم پر ایسے ماہرین موجود ہیں، جو شاید انسانی نفسیات کی یہ گرہیں کھول سکیں۔

صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے
و السلام
ڈاکٹر سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مصالحے اور صحت
  • تھک ہار کے بیٹھی ہوں
  • تری مٹی میں مل سکتے ہیں
  • چاکِ خیال جوڑ کے کچھ اور ہی بنا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایک دعا ہریالی کی
پچھلی پوسٹ
بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار

متعلقہ پوسٹس

جب سہولت نہیں ہے جینے کی

جنوری 2, 2022

کڑوی مسری

جنوری 24, 2020

دودا پہلوان

فروری 3, 2020

پرند گھر پہ بلاتا ہوں

مئی 15, 2020

عقل داڑھ

جنوری 20, 2020

بجلی کے بلوں میں ریلیف

جولائی 24, 2024

نظر آتی ہے اب بھی خواب میں

جون 8, 2020

تعلق کی ویران سڑک پر

اگست 5, 2025

سب چراغوں کی ہدایات کا مطلب سمجھے

ستمبر 14, 2025

ٹوبہ ٹیک سنگھ

جنوری 22, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ذائقہ بدلیں گے کیف و وجد...

اکتوبر 14, 2025

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

دورِ حاضر اور ایمانِ مسلم

جولائی 4, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں