خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابیٹیاں نا قابل برداشت بوجھ !
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

بیٹیاں نا قابل برداشت بوجھ !

از سائیٹ ایڈمن جنوری 14, 2021
از سائیٹ ایڈمن جنوری 14, 2021 0 تبصرے 66 مناظر
67

بیٹیاں نا قابل برداشت بوجھ !

اے لوگو! اپنے رب سےڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اس سے اس کی زوجہ کو پیدا کیا، اور ان دونوں سے کثیر تعداد میں مردوں خواتین کو پھیلا دیا  (القرآن)۔
دین اسلام نے تخلیق کے اعتبار سے مردوخواتین کو ایک جیسا مقام عطا فرمایا اور انسان کو اس حوالہ سے روشناس کروایا ہے کہ دونوں ہی اللہ کی تخلیق ہیں۔معاشرتی برائیوں میں سب سے بڑی برائی یہی ہے۔ عورت کو ہمیشہ سے مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ مرد خود کو طاقتور تصور کرتا ہے‘قوی جسد کی وجہ سے خود کو حاکم تصور کرتا ہے۔ بنی نوح انسان نے ترقی کے مراحل طے کئے‘ گھریلو تشدد ہمیشہ سے خواتین پر ہوتا ہے‘ ہاتھ مرد کا ہوتا ہے مگر سوچ ایک خاتون کی ہی ہوتی ہے۔خواتین پر تشدد کی وجوہات میں تعلیم کی کمی‘ حقوق سے ناواقفیت‘ بے جا پابندی‘ اسلام سے دوری ہے‘ شادی کے بعد عورت سب سے پہلے اولاد کی توقع آتی ہے‘ اگر بیٹا ہوا تو خوشیاں، بیٹی پیدا ہوئی تو طعنہ اور اولاد نہ ہوئی تو بانجھ ہونے کی سند دے دی جاتی ہے۔لڑکیوں پر ظلم کی داستان آج کی نہیں ‘بلکہ یونانی تہذیب نے عورت کو ناپاک اور شیطان کہا‘رومیوں نے انسانوں سے کم تر مخلوق جانا‘ یہودیوں نے ناقص العقل سمجھا‘ مشرق نے نجس و حقیر کہا‘ایرانیوں نے فتنہ و فساد کی جڑ قرار دیا‘جب کہ جاپانی اور چینی اسے ناقابلِ اعتبار سمجھتے رہے۔ ہندو ازم میں عورت کو ستی کے نام پر شوہر کی چِتا کے ساتھ نذر آتش کیے جانے کا گھنائونا فعل انجام دیا جاتا رہا‘ قبل از اسلام عرب معاشرے میں منحوس قرار دے کر زندہ درگور کی جاتی رہی۔ آج کے اس تہذیب یافتہ دَور میں بھی امریکا و یورپ جیسے ترقی یافتہ معاشرے نے عورت کو ایک نمائشی شئے اور عیش و عشرت کا سامان بنا کر اس کی تذلیل و تشہیر کرتے ہوئے اشتہارات میں مصنوعات کی تشہیر کا ذریعہ بناکے رکھ دیا ہے۔

کرئہ ارض پر اسلام کا سورج طلوع ہونے سے قبل‘عورتوں پر ظلم و بربریت کی داستانیں عام تھیں‘عدل و انصاف کی روح تقریباً عنقاء ہوچکی تھی۔ عورت کی حیثیت مرد کے پائوں کی جوتی سے بھی بدتر تھی۔ بچیوں کو زندہ درگور کردینا‘ تو ایک عام سی بات تھی۔ تذلیلِ نسوانیت عروج پر تھی۔ ’’صحیح بخاری‘‘ میں حضرت عمر فاروقؓ کا فرمان ہے کہ’’ عہدِ جہالت میں عورتوں کو بالکل ہیچ سمجھا جاتا تھا‘لیکن طلوعِ اسلام کے بعد اللہ نے ان کے متعلق آیات نازل کیں‘ تو ان کی قدر و منزلت معلوم ہوئی۔‘‘ (صحیح بخاری) قرآن کریم میں اللہ پاک عورت و مرد دونوں کایک ساں تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ’’اے لوگو…! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قوم اور قبیلے بنائے، تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے، جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘ (الحجرات13:49)
سرورِ کونین‘ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات کے ذریعے عورتوں کو عزت و احترام کے اس اعلیٰ مقام پر پہنچایا کہ جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ احکاماتِ باری تعالیٰ اور احادیثِ نبویؐ کی روشنی میں امہات المومنینؓ‘ بناتِ رسول اللہؐ اور صحابیاتؓ کی زندگی کے شب و روز رہتی دُنیا تک کی خواتین کے لیے بہترین عملی نمونہ قرار پائے‘جس میں زندگی کے ہر ہر پہلو کا احاطہ کیا گیا ہے۔طلوعِ اسلام سے قبل دُنیا کی طویل تاریخ عورتوں کے ساتھ مثبت کردار و عمل کے ذکر سے خالی ہے۔ تاہم، طلوعِ اسلام کے بعد عطا کردہ حقوق کے سبب دُنیا کی ان ہی مظلوم و لاچار عورتوں نے علم و عمل کے میدانوں میں حیرت انگیز کارنامے انجام دے کر عقل کو دنگ کردیا۔ اسلامی تعلیمات سے حاصل کردہ شعور و آگاہی اور فکر و نظر کی وسعت کے سبب اپنے عزم و استقلال‘علم و دانش‘فہم و فراست اور ایثار و قربانی سے وہ عظیم الشان داستانیں رقم کیں کہ جو تاریخ کی کتابوں میں سنہرے حروف سے تحریر ہیں۔ صنفِ نازک کہلانے والی ان بہادر اور جرّی خواتین نے شریعتِ اسلامی کے زیرسایہ وہ کارہائے نمایاںانجام دیئے کہ دیکھ اور سن کر کرئہ ارض کے ٹھیکیدار انگشتِ بدندان رہ گئے
تاریخ گواہ ہے کہ حضور نبی کریمﷺ کی صداقت کی گواہی دینے والی اور سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی حضرت خدیجتہ الکبریٰؓ ایک خاتون ہی تھیں۔ اسلام قبول کرنے کی پاداش میں سب سے پہلے جامِ شہادت نوش کرنے والی حضرت سمیہؓ (حضرت عمار ؓ کی والدہ) بھی ایک خاتون تھیں۔ اسی طرح بے شمارمسلمان خواتین کے مختلف اوقات میں برّی اور بحری جنگوں میں شرکت کے واقعات بھی تاریخ کے اوراق میں درج ہیں۔ یعنی جنگ کے میدان میں زخمیوں کی خدمت و تیمارداری ہو‘طب و جرّاحت‘درس و تدریس یا علمیت و خطابت کا میدان‘ صنعت و حرفت‘ تجارت و زراعت‘ تعلیم و تربیت ہو یا وعظ و تقریر‘عدل و انصاف کا معاملہ‘ظالم کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرأت‘سیاسی مشورے ہوں یا حکومتی معاملات ،اصلاحِ معاشرہ اور عزیز و اقارب سے تعلقات‘پڑوسیوں کے حقوق‘خانگی معاملات‘معاشرتی تنازعات‘ خاندانی تعلقات ہوں یا سماجی مشکلا‘ فقہی مسائل یا دینی معاملات‘ غرض یہ کہ زندگی کا وہ کون سا پہلو ہے‘جس میں قرونِ اولیٰ کی ان مسلم خواتین نے عظیم الشان کارہائے نمایاںانجام نہیں دیئے۔ یقیناً امتِ مسلمہ کی ان عظیم خواتین کے یہ عملی اقدامات آج کی خواتین کے لیے راہِ ہدایت بھی ہیں اور باعث ِنجات بھی۔اسلام نے عورت کا تعیّن چار معزز رشتوں میں کیا۔ ما‘بیوی‘بیٹی اور بہن۔ عورت کوجب ماں کے مقام و مرتبے پر پہنچایا‘ تو اس کے قدموں تلے جنّت رکھ کر اسے تقدّس و تکریم کی معراج عطا کردی۔ جب بیوی کا درجہ دیا‘تو آئینہ و آبگینہ قرار دیتے ہوئے اس کے ساتھ حسنِ سلوک کو تقویٰ کا جزوِ لازم قرار دیا اور گھر کی محافظ و ملکہ بنا دیا۔ جب بیٹی کا درجہ دیا‘ تو اس کی پرورش‘تربیت اور اس سے محبت کو جنّت کے حصول کا ذریعہ کہا اور جب بہن کا درجہ دیا‘تو وہ باپ‘ بھائیوں کی دوست‘مونس‘غم خوار اور مان قرار پائی۔
اس کے بعد آپؐ نے فرمایا ’’زمانۂ جہالت میں جو کچھ ہوا، اللہ نے اسے معاف کردیا۔‘‘ اسلام نے بیٹیوں کے قتل کے اس جاہلانہ اور ظالمانہ اقدام کو نہایت نفرت انگیز جرم قرار دیا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ ’’اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی۔‘‘ (سورۃ التکویر 8,9:81)
شریعتِ اسلامی‘ عورت پر اپنے والدین‘شوہر یا سرپرست کی اجازت سے گھر سے باہر نکل کر کمانے یا گھر ہی میں کوئی پیشہ اختیار کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتی۔ اگر کوئی عورت اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے ملازمت‘تجارت کرتی ہے، یا کسی صنعت و حرفت سے وابستہ ہے‘تو اسے ناجائز نہیں کہا جاسکتا۔
دنیا کی نصف آبادی ہونے کے ناتے خواتین کو بھی آزادی سے جینے کا مساوی حق حاصل ہونا چاہیے‘آج بیٹیاں ماں باپ ‘ بھائیوں کے ہاتھوں مظلوم بن چکی ‘وہ حقوق جو شریعت نے دئیے ‘وہ روشن خیالی کے ہاتھوں ختم ہوئے۔ جو حق وراثت اللہ نے دیا‘ وہ غیرت کی چکی نیچے پس کر رہ گیا ۔ اپنے ہی خونی رشتوں کی ہر طرح سے خدمت ، برتن دھونے ‘ جوتیاں سنوارنے ‘ پالش کرنے کے باوجو د بھی مجرم ٹھہری ! ہماری تہذیب کا ہمارے ہی ہاتھوں جنازہ اٹھا چکا ۔ ہم خود ہی وہ وقت لا چکے ہیں کہ اب بیٹیاں رحمت خدا نہیں ‘ ناقابل ِ برداشت بوجھ بن چکی ۔ ان کے حقوق ہم نے سلب کیے ‘عزت روشن خیالی نے سلب کر لی ۔بیٹیاں والدین ‘ بھائیوں کے ہاتھوں یرغمال ہو چکی !

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سارا جرم تمھارا ہے
  • مولانا شبلی نعمانی اور اردو زبان
  • فَریب دَر آتَش
  • سوراخ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عیدکادن
پچھلی پوسٹ
کتابی باتیں اور عملی لوگ!

متعلقہ پوسٹس

شبِ معراج

جنوری 17, 2026

حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت

جولائی 24, 2022

علامہ اقبال پر ایک اردو مضمون

دسمبر 15, 2016

نچلے درجے کی قناعت پسندی

جنوری 10, 2021

عالمی امن اسرائیلی خواہشات سے مشروط

مئی 7, 2026

فیجی – چڑھتے سورج کا پہلا سلام

اکتوبر 9, 2022

کرفیو کا ایک سال

اگست 11, 2020

سوری رانگ نمبر

دسمبر 16, 2019

من و سلوی کیا ہے ؟

نومبر 24, 2024

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شوگر سے آگاہی، راز اور مکمل...

ستمبر 17, 2025

اجنبی یقین کے نام

جنوری 10, 2021

مقدس ناتا

دسمبر 29, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں