118
روغن چراغ کا نہ فتیلہ چراغ کا
جانے کدھر گیا ہے قبیلہ چراغ کا
اس کے بدن سے دھوپ نکلتی تھی رات بھر
وہ شخص ہو گیا تھا وسیلہ چراغ کا
لفظوں میں خون دل کا جلاتے رہے کہ ہو
اس شہرِ بے چراغ میں حیلہ چراغ کا
یوں جھلملایا چاند سا چہرہ نگاہ میں
پانی میں جیسے عکسِ جمیلہ چراغ کا
اک نور سے تھی خاک نہائی ہوئی کلیمؔ
بستی میں ایک رہتا تھا ٹیلہ چراغ کا
کلیم احسان بٹ
