339
ہمارے ذہن میں اک نقش جو ابھرتا ہے
ہمیں خبر ہے ہمیں کون یاد کرتا ہے
ہمارے خواب کی تعبیر کھل نہیں سکتی
ہمارے خواب میں اک شعلہ رقص کرتا ہے
کبھی وہ شخص مرے وصل کو تڑپتا تھا
ابھی وہ دن ہیں کہ سائے سے دور ہٹتا ہے
یہی ہیں وہ جنہیں فرصت نہیں تھی مرنے کی
انہی سے موت کا لمحہ نہیں گذرتا ہے
ہیں ایک جیسے یہ دن ایک جیسی راتیں ہیں
کہاں غروب ہے سورج کہاں نکلتا ہے
اسے تلاش کرو جو خدا سے بات کرے
سنا ہے ایسا کوئی جنگلوں میں رہتا ہے
صدیق صائب
