20
شبوں کے دیس میں واحد دیا بچا ہوں میں
مگر یہ ظلم کہ تیزی سے بجھ رہا ہوں میں
میں وقت دوں گا محبت کو اس سے پہلے مگر
ضعیف ماں ہے مری اس کا آسرا ہوں میں
یقیں کرو کہ محبت کے دکھ پہ بھاری ہے
یہ روزگار کا دکھ جس میں مبتلا ہوں میں
پلٹنے والا تھا میں زندگی کی سمت مگر
خود اپنی راہ کی دیوار ہو گیا ہوں میں
میں دیکھتا ہوں دیا کس طرح بجھے گا مرا
ہوا کے عین مقابل کھڑا ہوا ہوں میں
نبیل حاجب
