خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااعصاب شکن!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

اعصاب شکن!

از شیخ خالد زاہد فروری 26, 2024
از شیخ خالد زاہد فروری 26, 2024 0 تبصرے 50 مناظر
51

پہلے لفظ اعصاب شکن کی تھوڑی سی وضاحت کرلیتے ہیں ۔ ہم یہ واضح کرتے چلیں کہ سائنس کے علم کی بنیاد پر دل اور دماغ طے شدہ کام سرانجام دیتے ہیں ۔ یہ آپکے ذہن پر دباءو کی ایسی قسم ہے جو آپکے جسم میں موجود پٹھوں کو جکڑ لیتی ہے، اعصاب یعنی پٹھوں کا بلواسطہ تعلق دماغ سے ہے جہاں سوچوں کا کارخانہ لگا ہوا ہے اس کارخانے کا تعلق جذبات کے کارخانے یعنی دل سے بھی جڑا ہوا ہوتاہے ، ان دونوں کارخانوں کی مشترکہ شے جو تشکیل پاتی ہے اسے ہم اعصاب شکن کہہ سکتے ہیں ۔ یہاں سوچوں پر قابو پانے والے یا پھر جذبات پر حکمرانی کرنے والے لوگ کامیاب ہوتے ہیں لیکن جو لوگ اپنی سوچوں اور جذبات کو ہوا و پانی کی طرح بہنے دیتے ہیں اکثر اعصاب شکن کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ معالج اسے بیماری کہتے ہیں شائد انہیں اس بات سے کوئی فرق پڑتا ہو کہ ان کے پاس آنے والا فرد کن سوچوں کا حامل ہے یا اسکے جذبات کو کن باتوں سے ٹھیس پہنچتی ہے وہ صرف اور صرف سکون کی دوائیں دینا شروع کردیتا ہے اور تب تک دیتا رہتا ہے جب تک مریض خود کشی نا کرلے یا پھر ان دواءوں کا عادی نا بن جائے ۔ یہ ایک معاشرتی المیہ بھی ہے ۔

جیسا کے ہمارا قیمتی وقت جسے ہم بچانے کیلئے سڑکوں پر تیز گاڑی چلا کر بچانے کیلئے کوشاں رہتے ہیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں سے کم کم ملنا پسند کرتے ہیں کیونکہ ہمارا یہ قیمتی وقت ہمارے پاس موجود ان آلات کیلئے ہے جہاں ہم معاشرے کے بڑے خیر خواہ کے طور پر رہتے ہیں ۔ ہم نے اپنا قیمتی ترین وقت ان آلات کو سونپ دیا ہے ۔ ہم پر مسلط شدہ کاموں سے جلد از جلد فراغت اور پھر کہیں بیٹھے ان آلات کی مدد سے قیمتی وقت کو مزید قیمتی بناتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔

عمومی طور پر انسان زیادہ دنیاداری میں عملداری کی بدولت اعصاب شکنی کا شکار ہوجاتے ہیں جس کے لئے مختلف ادویات کا سہارا لیا جاتا ہے اور نیند کی جاتی ہے، کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے کہ بغیر کسی عملی دباءو کے اعصاب شکن ہونا شروع ہوجاتے ہیں عمومی ادوایات جب کارگر ثابت نہیں ہوتیں اور مرض میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اگلے مرحلے میں بے وجہ چڑ چڑا پن ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔ انسان اپنے انتہائی مخصوص حلقے میں یہ راز فاش کرتا ہے کہ وہ کس امر سے گزر رہا ہے ، بظاہر وہ اپنی زندگی میں عام سا دیکھائی دے رہا ہوتا ہے لیکن کوئی نہیں جان سکتا کہ اسکے جسم کا وزن کہیں گنا زیادہ بڑھ چکا ہے وہ ایک ایک قدم کس اذیت سے اٹھا کر چل رہا ہے ، وہ مسکرانے کیلئے کتنے کانٹوں کی چبھن برداشت کررہا ہوتا ہے ، اسکی مٹھاس سے بھری باتیں اسکے منہ کو کتنا کڑوا کررہی ہوتی ہیں ۔ یقینا باتیں کرنا بہت آسان ہے لیکن ایسے کرب سے گزرنا جس کی کوئی طبعی شکل ہی نا ہو ناقابل برداشت و بیان ہے ۔

علم سے باز رہنے والے اور ضعیف الاعتقاد لوگ ایسے افراد کو آسیب زدہ کہنا شروع کردیتے ہیں اورروحانی علاج معالجے کیلئے نکل پڑتے ہیں ۔ اب جو اس کیفیت میں مبتلا ء ہوتا ہے وہ الغرض اپنے احباب کے مرہون منت ہوجاتا ہے ۔ یہ بات بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ وہ شخص جو اس کیفیت میں مبتلاء ہے کیا وہ اس سے نکلنا بھی چاہتا ہے یا پھر وہ اپنے آپ کو ایسے ہی حالات کے حوالے کر چکا ہے جیسے پاگل ہوجانا یا پھر گھر بار چھوڑ کر کہیں نامعلوم ہوجانا ۔ قدرت کی عطاء کردہ انسانی صلاحیتوں سے آگاہی بہت ضروری ہے ، اگر ہ میں اس بات یقین ہوجائے کہ مایوسی کفر ہے تو ہم مایوس ہونا چھوڑ دیں اور جو ہے اس پر ہی اکتفا کرنا شروع کردیں اس طرح سے ہمارا مسلۃ کسی بڑے حادثے کی طرف ہ میں لے کر ہی نہیں جائے گا ۔

یوں تو خود کشیوں کا سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے روز ہی اخبارات اور سماجی ابلاغ پر ایسے اندوہناک واقعات کی تشہیر دیکھی جاتی ہے ۔ اگر ساری دنیا کے موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو شائد ہ میں ہر شخص ہی خود کشی کے بارے میں سوچتا دیکھائی دے سکتا ہے اور بہت سارے خود کشی کا لفظ نہیں استعمال کرنا چاہتے ہونگے ۔ زندگی کو جان بوجھ کر ختم کرنا ایک انتہائی گھبمیر کام ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے کہ خود کشی کو ا اس کے بارے میں سوچنے کا موقع ملتا ہے ۔ زندگی خدا کی عظیم ترین نعمت ہے اس نعمت کے ساتھ ہی ہر نعمت کی قدر دانی مشروط ہے
خود کشی یقینا ایک تسلسل کے نتیجے میں اپنا وجود اخذ کرتی ہے ، انسان قدرت کے نظام سے اختلاف کرتا ہے اور جو قدرت کے نظام سے اختلاف کرتا ہے وہ پھر اس سے اتفاق کرتا ہے جس نے قدرت کی حکم عدولی کی تھی اور وہ انسان کو مزید غمزدہ کرتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کے اسے زندگی حقیر ترین دیکھائی دینے لگتی ہے اور وہ اسے ختم کرنے میں کس بھی قسم کے نقصان کا تخمینہ نہیں لگاتا ۔ رشتے ناطے عیش عشر ت ذائقے اور وہ تمام لوازمات جو زندگی میں رنگ بھرتے ہیں چھوڑ نے کا فیصلہ کرلیتا ہے یا پھر آنکھوں پر بے رحمی کی پٹی باندھ دی جاتی ہے اور پھر خود کشی رونما ہوجاتی ہے ۔ کوئی دنیا کی لذتوں سے اس قدر اوب جاتا ہے اور وہ پرتعیش یکسانیت سے تنگ آکر اپنی رنگین زندگی کو خیرباد کہہ دیتا ہے یعنی قدرت کی نافرمانی ہ میں خودکشی میں ہی عافیت دیکھاتی ہے ۔

تازہ ترین خودکشی کے واقعات جن میں باپ نے اپنے اہل خانہ جن میں بیوی اور بچے شامل تھے قتل کیا اور پھر خود کو بھی ساتھ ہی ختم کر لیا ۔ انسان اپنی سوچوں کا محتاج ہوجاتا ہے اور یہ محتاجی کبھی کبھی اسے ذہنی طور پر معذور کردیتی ہے اور اسے کوئی انتہائی قدم اٹھانا پڑتا ہے ، وہ اپنے آپ سے لڑی جانے والی جنگ ہار جاتا ہے اور اسے یہ بھی لگتا ہے کہ اس سے وابسطہ لوگ اسکے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتے اسی سمجھ کیساتھ وہ پہلے انہیں ختم کرتا ہے اور پھر اپنے آپ کو ۔ اسکی ذہنی معذوری اس نہج پر پہنچ چکی ہوتی ہے کہ وہ اپنے سامنے موت کی تکلیف دیکھ کر بھی موت کو ہی ترجیح دیتا ہے اور معاشرے کیلئے ایک سوالیہ نشان چھوڑ کر چلا جاتا ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتے ہیں کہ کیا اس طرح کی خودکشیوں کا کوئی ذمہ دار ہے ؟کیامعاشرہ افراد سے مل کر نہیں تشکیل پاتا؟ کیا عام آدمی ریاست کی ذمہ داری نہیں ہوتا؟ساری دنیا میں شائد ایسا ہے لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں کہ بھوک و افلاس سے تنگ آکر اگر کوئی خود کشی کرے تو اس کے خون کا مقدمہ ریاست پر درج ہونا چاہئے ۔ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں یہاں اقتدار کے حصول کیلئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے لیکن اقتدار ملنے کے بعد یہ بھول جاتے ہیں کہ اقتدار ایک امانت ہے اور امانت کی پاسداری کا سوال روز محشر کیا جائے گا اور اس روز جواب دینے کیلئے ہمارے پاس کیا ہوگا جبکہ خود کشی زدہ لوگوں کی فہرستیں پہلے سے ہی خالق کائنات کے حضور پیش ہوچکی ہونگی ۔ وہاں کوئی جواب نا بن پڑے گا کیونکہ کوئی عملی کام ایسی نوبت سے بچنے کیلئے کیا ہی نہیں ہوگا ۔ اعصاب شکن حالات سب کیلئے ہوتے ہیں لیکن صاحب اقتدار کو اس سے نمٹنے کی خاص صلاحیت قدرت عطاء کرتی ہے لیکن اس کے لازمی یہ ہے کہ صاحب اقتدار کا قبلہ درست ہو اور صحیح سمت سے واقف ہو اور زیب تن کئے گئے ملبوس کے بارے میں عام آدمی کو جواب دینے کی اہلیت رکھتا ہو ۔ خدارا اس اعصاب شکن حالات سے ملک کو نکال لیں سب مل بیٹھ کر ملک اور عوام کا سوچ لیں ، اپنی ضرورت سے زیادہ دولت عوام کی خیر خواہی اور بھلائی کیلئے وقف کردیں ، ملک کی بقاء اب اسی صورت ممکن ہے کہ انصاف کا بول بالا ہوجائے ، قبر کی رات بتا کر نہیں آئے گی ۔ عوام کے ہاتھ اگر اٹھ گئے اور صاحب اقتدار کی ہوس میں مبتلاء حکمرانوں کے گریبانوں تک پہنچ گئے تو شائد پھر کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ ان اعصاب شکن حالات کو اجتماعیت پر مسلط ہونے سے پہلے فیصلہ کر لیا جائے تو سب کیلئے بہتر ہوسکتا ہے ۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عالمِ برزخ سے
  • کیا یہ غور طلب نہیں!
  • ملا ہمیشہ جو بادِ نسیم بن کے مجھے
  • موت! راستہ تیرا مختصر نہیں ہوتا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
شیخ خالد زاہد

اگلی پوسٹ
کاش اس دنیا سے برائی ختم ہو جائے
پچھلی پوسٹ
زندگی محبت اور ذلت کی آمیزش ہے

متعلقہ پوسٹس

کارنس

دسمبر 23, 2021

 یہ جو آنکھوں پہ عینک لگاتی ھوں میں

اپریل 9, 2023

تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟

دسمبر 29, 2019

کچے مکانات، کچے وعدے

ستمبر 7, 2025

گردشِ رنگ

جنوری 11, 2020

مذہب کی اصل روح

مارچ 18, 2025

نِکّی

جنوری 15, 2020

دو پیروں والی ماں

دسمبر 11, 2020

خوف طاری نہیں ہوتا

اکتوبر 12, 2025

فرزانہ رانی اور ہرنیلہ کی گپ شپ

مئی 9, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گرد آلود لہو لہو چہرے!

اکتوبر 28, 2023

نا مکمل تحریر

جنوری 15, 2020

قوم کی توقعات کو قومی توقعات...

نومبر 14, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں