خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامعباسی حکومت میں کتابوں اور کتب خانوں کی اہمیت
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمز

عباسی حکومت میں کتابوں اور کتب خانوں کی اہمیت

از سائیٹ ایڈمن مارچ 9, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 9, 2026 0 تبصرے 36 مناظر
37

عہدِ عباسی اسلامی تاریخ کا وہ سنہری دور ہے جس میں علم، تصنیف و تالیف اور کتب خانوں کی غیر معمولی ترقی ہوئی۔ اس زمانے میں علمی سرمایہ صرف حافظے تک محدود نہیں رہا بلکہ کتابی شکل میں محفوظ ہونے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں تقریباً ہر صاحبِ علم کے پاس ذاتی کتب خانہ موجود ہوتا تھا اور معاشرے میں کتابیں عزت و وقار کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔
سب سے پہلے اس دور میں تصنیف و تالیف اور ترجمہ کی تحریک نے عربوں کی اس کمی کو دور کیا کہ ان کے پاس تحریری علمی سرمایہ کم تھا۔ اب لوگ صرف یادداشت پر نہیں بلکہ کتابت و تصنیف پر بھی فخر کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں علمی ذخیرہ بڑی تیزی سے بڑھا اور مختلف علوم و فنون کی کتابیں مرتب ہوئیں۔
عباسی خلفاء، وزراء اور امراء اپنے محلوں میں باقاعدہ کتب خانے قائم کرتے تھے اور قیمتی کتابیں جمع کرتے تھے۔ ابوبکر بن یحییٰ الصولی کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ راضی باللہ کے محل میں بھی لائبریری موجود تھی اور یہ روایت پہلے کے عباسی خلفاء میں بھی جاری تھی۔ اس سے پہلے کے خلفاء میں سفاح، منصور، مہدی، ہادی، ہارون رشید، امین، مامون، معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین، معتز، مہتدی، معتمد، معتضد، مکتفی اور مقتدر شامل ہیں۔ مؤرخین نے خاص طور پر منصور، ہارون رشید اور مامون کے ذاتی کتب خانوں کا ذکر کیا ہے۔
(اخبار الراضی باللہ والمتقی للہ، ص: 39)
علم کی عام اشاعت کے لیے صرف محلوں تک ہی لائبریریاں محدود نہیں تھیں بلکہ مساجد میں بھی عوام کے لیے کتب خانے قائم کیے جاتے تھے۔ ابو نصر احمد بن حامد اصفہانی اور حسان بن سعید المنیعی نے کئی مساجد میں عوام و خواص کے لیے لائبریریاں بنوائیں۔
(وفیات الاعیان، ج:1، ص:60-61 ؛ الانساب، ص:543)
اسی طرح عام گزرگاہوں اور راستوں کے کناروں پر بھی کتب خانے قائم کیے جاتے تھے تاکہ لوگ آسانی سے کتابوں سے استفادہ کرسکیں۔ یاقوت حموی کے بیان کے مطابق بعض شہروں میں اس قسم کی دس دس لائبریریاں موجود تھیں۔
(کتاب الحیوان، ج:1، ص:60-61)
مسلمانوں میں مطالعہ کا غیر معمولی شوق تھا۔ مثال کے طور پر ابوبکر صولی جب راضی باللہ اور اس کے بھائی ہارون کو تعلیم دے رہے تھے تو اسی زمانے میں انہوں نے فقہ، ادب اور لغت کی کتابوں پر مشتمل لائبریری قائم کرنا شروع کردی تھی اور دونوں بھائیوں کی الگ الگ ذاتی لائبریریاں تھیں۔
(اخبار الراضی باللہ والمتقی للہ، ص:39-40)
اس زمانے میں کتابیں گھر اور محفلوں کی زینت بھی سمجھی جاتی تھیں۔ بعض مالدار لوگ صرف اس مقصد سے کتابیں خریدتے تھے کہ معاشرے میں انہیں اہلِ علم سمجھا جائے۔
(نفح الطیب من غصن الاندلس الرطیب، ج:3، ص:10-11)
علماء اپنی اولاد کے لیے بھی الگ کتب خانے قائم کرتے تھے۔ مثلاً ابوالحسن علی بن عبداللہ الطائی نے اپنے بیٹوں ابوالبرکات اور ابوعبداللہ کے لیے الگ الگ لائبریریاں بنوائیں، جب کہ ان کے پاس پہلے سے اپنی ذاتی لائبریری بھی موجود تھی۔
(معجم الادباء، ج:6، ص:22)
بعض کتب خانوں کے مالکان مطالعہ کرنے والوں کی مالی مدد بھی کرتے تھے۔ ابن سوار اور ابوالقاسم موصلی اپنی لائبریریوں میں آنے والے طلبہ کو روپے پیسے اور دیگر تحائف دیتے تھے۔
(احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم، ص:413 ؛ معجم الادباء، ج:2، ص:20)
کتابوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ بیٹیوں کو جہیز میں بھی کتب خانے دیے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر مشہور محدث امام اسحاق بن راہویہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے عبداللہ زغدانی کی بیٹی سے اس لیے نکاح کیا تاکہ امام شافعی کی تصانیف پر مشتمل کتب خانہ حاصل ہوسکے۔
(الانساب، ص:286)
اہلِ علم کتب خانوں کے حصول کے لیے سفر بھی کرتے تھے اور شعرا لائبریریوں کی تعریف میں اشعار کہتے تھے۔ مشہور شاعر ابوالعلاء المعری نے بغداد کے کتب خانہ دارالعلم کو دیکھ کر اس کے منتظم کی تعریف میں اشعار کہے۔
(انباہ الرواۃ، ص:176)
اس دور میں کتابوں سے محبت اس حد تک تھی کہ بعض لوگ تنگیِ معاش کے باوجود اپنی کتابیں فروخت نہیں کرتے تھے۔ ابراہیم الحربی کا واقعہ مشہور ہے کہ اس نے اپنے بچوں کو بھوکا رکھا مگر اپنی لائبریری کی ایک کتاب بھی فروخت نہ کی۔
(تاریخ بغداد، ج:6، ص:33)
کتب خانوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ انہیں رہن پر بھی دیا اور لیا جاتا تھا، گویا ان کی حیثیت زمین اور جائیداد جیسی تھی۔ بعض اوقات کتابیں چوری ہوکر بازار میں فروخت بھی ہوجاتی تھیں۔
کتابوں کے لیے باقاعدہ عمارتیں بھی تعمیر کی جاتی تھیں۔ مثال کے طور پر سابور بن اردشیر نے بغداد کے محلہ کرخ میں ایک شاندار کتب خانہ تعمیر کیا۔ اسی طرح ابوالشیخ بن محمد نے اصفہان میں لائبریری کی عمارت بنوائی۔
(کتاب المنتظم، ج:7، ص:172 ؛ خریدۃ القصر، ص:25)
خلفاء اور حکمران بڑے علماء کے کتب خانے حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ جب امام احمد بن حنبلؒ کا انتقال ہوا تو خلیفہ متوکل علی اللہ نے ان کے بیٹے سے ان کا کتب خانہ خریدنے کی کوشش کی مگر انہوں نے انکار کردیا۔
(تاریخ الاسلام، ص:82)
علم اور کتابوں سے محبت کا ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ ابومعشر فلکی حج کے سفر پر نکلا مگر راستے میں ایک لائبریری دیکھ کر مطالعے میں ایسا مشغول ہوا کہ اپنا سفر حج تک بھول گیا۔ اسی طرح کا واقعہ یاقوت رومی کے ساتھ بھی پیش آیا۔
(معجم الادباء، ج:5، ص:467 ؛ معجم البلدان، ج:5، ص:114)
اس دور میں کتابیں لکھنے والوں کی بڑی قدر کی جاتی تھی۔ اگر کوئی مصنف اپنی کتاب حکمرانوں یا وزیروں کو پیش کرتا تو اسے مال و دولت اور قیمتی تحائف دیے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر وہب بن ابو اصیبعہ نے اپنی کتاب "عیون الانباء فی طبقات الاطباء” وزیر کمال الدین کو پیش کی تو اسے بہت سے انعامات سے نوازا گیا۔
(عیون الانباء فی طبقات الاطباء، ج:3، ص:286-287)
چونکہ اس زمانے میں طباعت کا نظام موجود نہیں تھا اس لیے مصنفین اپنی کتابوں کے کئی نسخے خود لکھتے تھے تاکہ اصل نسخہ محفوظ رہے۔ وزیروں کے محلوں میں کاتبوں کا باقاعدہ انتظام ہوتا تھا اور بعض جگہوں پر چالیس چالیس تخت لگے ہوتے تھے جہاں کتابیں نقل کی جاتی تھیں۔
(تاریخ بغداد، ج:12، ص:281 ؛ کتاب المنتظم، ج:3، ص:136)
الغرض عہدِ عباسی میں علم دوستی اور کتب بینی کا ایسا ماحول تھا کہ معاشرے کے عوام و خواص سب کتابوں کے شوق میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ کتابیں حاصل کرنا، لائبریریاں قائم کرنا اور مطالعہ کرنا نہ صرف علمی ضرورت تھا بلکہ سماجی عزت، وقار اور ثقافتی ترقی کی علامت بھی سمجھا جاتا تھا۔

ابو خالد قاسمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اول پوزیشن
  • جو لفظ ہیں مہمل وہ معانی نہیں دیتے
  • جشن میلادِ النبیﷺ:نئے معاہدے کی ضرورت!
  • میلاد االنبیؐ کی خوشی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نوجوان نسل اور روشن مستقبل
پچھلی پوسٹ
اعتکاف احکام اور آداب

متعلقہ پوسٹس

دل نہیں کرتا

اکتوبر 16, 2025

معاشرتی اقدار، قربانیاں اور آزادی کی نعمت!

اگست 15, 2020

ننگی آوازیں

جنوری 12, 2020

الزامات کا سیاست سے گہرا تعلق!

نومبر 17, 2020

سرخ فیتے سے قبل کا دور​

دسمبر 12, 2019

سرگوشیِ حسن

دسمبر 22, 2024

ہم اپنا آپ رکھ کر بھول بیٹھے ہیں

اپریل 3, 2026

سی پیک کی سیاست

جنوری 10, 2021

پاکستان کی ترقی اور قیادت کا کردار

مارچ 30, 2026

اچھے دن آنے والے ہیں

نومبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں...

مارچ 17, 2026

فلسفہ استقبالِ ربیع الاول

اکتوبر 16, 2020

جسوندر سنگھ بھلا کی یاد میں

اگست 22, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں