خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےسرنگ
اردو افسانےاردو تحاریرسریندر پرکاش

سرنگ

از فضّہ جون 9, 2020
از فضّہ جون 9, 2020 0 تبصرے 66 مناظر
67

سرنگ

گہری تاریکی اور مکمل خاموشی تھی۔۔۔ سارے احساسات نیند میں ڈوبے ہوئے تھے۔ کہیں کچھ نہیں رہا تھا۔۔۔ یہ کیفیت کب سے تھی۔ یاد نہیں آرہا تھا۔ اس سے پہلے کیا تھا۔۔۔ اس کا بھی علم نہ تھا۔ پھر جیسے کسی ہیولے کی طرح زمین پر اترنے کااحساس ہوا۔ اور لگا کہ پیٹھ زمین سے لگتی جارہی ہے۔

دور کہیں شاید کسی رقص کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ رقاصہ نے گھنگروپاؤں سے باندھ کر زمین پر ایک دوبار ضرب لگائی تھی۔ اسی کے ساتھ جھنکار سنائی دی، لیکن بہت مدھم جیسے میلوں دور سے آئی ہو۔ جیسے صدیوں پہلے کا واقعہ ہو۔۔۔ پھر لگا کہ وہ آواز جیسے میرے پہلو سےابھری ہے۔ اچانک فاصلہ ختم ہوگیا۔ اور واقعہ اسی لمحے کا ہے جس میں میں جی رہا ہوں۔ وقت تھم گیا۔

میں جی رہا ہوں۔۔۔ جیسے اس یقین نے میرے خون کے ساتھ سارے جسم میں سفر کرنا شروع کردیا ہو۔۔۔ اور میری چھاتی میں شدید اینٹھن محسوس ہوئی۔۔۔ ایک ٹیس سی اٹھی۔ میرے جسم میں ذرا سی حرکت ہوئی۔ گھنگرو پھر بج اٹھے۔ دور نہیں۔۔۔میرے پہلو میں۔ اور میں نے اپنے ہاتھ سے اس چھنکار کو پکڑنا چاہا۔۔۔ میری انگلیاں سرد لوہے کے حلقوں سے چھوگئیں۔۔۔ میں چونکا اور آنکھیں کھول دیں۔۔۔ اندھیرا بدستور موجود تھا۔۔۔ میری انگلیاں ایک لمبے سرد آہنی سلسلے پر کبھی آگے اور کبھی پیچھے پھسل رہی تھیں۔۔۔ تو۔۔۔ تو کیا یہ گھنگرو۔۔۔؟ نہیں!

نہیں یہ ایک آہنی زنجیر تھی،جو میرے سینے کے گرد لپٹی ہوئی تھی۔۔۔ اتنی سختی سے کہ ہلناجلنا بھی مشکل تھا۔۔۔ اور میں زمین پر لیٹا ہوا تھا۔۔۔ اور زمین کے رگ وریشے میں سیلن پھیلی ہوئی تھی۔ کہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بس احساس۔۔۔ جسم میں شدید درد کا۔۔۔ زنجیروں میں جکڑے ہوئے جسم کا اور جسم کے نیچے سیلن بھری زمین کا۔

اس سے پہلے کیا تھا۔۔۔؟ میں نے سوچنا شروع کیا۔۔۔ یہ کیفیت ابدی نہیں ہوسکتی۔اس سے پہلے ضرور کچھ ہوگا۔۔۔ لیکن ذہن میں درد کااحساس اتنا شدید تھا کہ کوئی دوسری بات سوجھتی نہ تھی۔۔۔ میں جس حال میں تھا۔۔۔ کچھ مدت تک اسی حال میں پرا رہنا مناسب سمجھا۔۔۔

لیکن عجیب بات تھی۔۔۔ بے حسی میں صدیاں بیت گئی تھیں مگر احساس کی بیداری کے بعد ایک لمحہ بھی اس کیفیت میں نہیں گزارا جارہا تھا۔۔۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی۔۔۔ مکمل کوشش اور وہ کوشش ناکام رہی۔۔۔ پھر کوشش کی اور۔۔۔ اور پھر میں اٹھنے میں کامیاب ہوگیا۔۔۔

میں نے بیٹھ کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ زنجیر کتنی لمبی ہے۔میں نے اسے ہاتھوں میں لے کر اپنی طرف کھینچنا شروع کیا۔۔۔ پہلی بار مجھے معلوم ہوا کہ میرے ہاتھ بھی بری طرح زخمی ہیں۔ کوئی سیال بار بار زنجیر کے حلقوں اور میرے ہاتھوں میں چپک جاتا تھا۔ شاید وہ خون تھا۔۔۔ لیکن میں زنجیر کو اپنی طرف کھینچتا رہا۔ ہاتھوں کے ساتھ چپکنے والے خون اور زخمی ہاتھوں سے اٹھنے والے درد کی پرواہ کیے بغیر اور پھر جلد ہی یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔۔۔ زنجیر تو اور باقی تھی لیکن اسے کھینچا نہیں جاسکتا تھا۔ اس کا دوسرا سرا کہیں بندھا ہوا تھا۔ کہاں بندھا تھا۔۔۔ اور کس چیز سے بندھا تھا۔ یہ جاننے کے لیے زنجیر کے سہارے آگے برھتے ہوئے وہاں پہنچنا تھا۔۔۔ اورمیری جسمانی حالت اس مشقت کے لیے بالکل اجازت نہ دے رہی تھی۔۔۔

لیکن نہیں۔۔۔ ایک جگہ مردہ حالت میں کیسے پڑا رہاجاسکتاہے؟ میں نے اپنی پوری طاقت جمع کی اور زنجیر کو پکڑ پکڑ کر آگے کی طرف کھسکنا شروع کیا۔ میرا سر اچانک کسی چیز سے ٹکرایا۔ میں نے ایک ہاتھ اوپر کرکے اس چیز کو معلوم کرنے کی کوشش کی۔۔۔ یہاں سے وہاں تک کھردرے پتھروں کا سلسلہ تھا۔۔۔ توگویا وہ چھت تھی۔۔۔ اس جگہ جہاں میں موجود تھا۔۔۔ بہت ہی نیچی چھت، کہ ذرا بھی سراٹھایا جائے تو سر سےٹکڑا جائے۔۔۔ لہٰذا سرجھکاکر آگے بڑھنا ہوگا۔۔۔ اور میں پھر آگے بڑھنے لگا۔۔۔ جلد ہی میں اس جگہ پہنچ گیا جہاں زنجیر کاآخری حلقہ بندھا تھا۔۔۔

وہ پتھر کی دیوار میں ٹھونکا ہوا ایک بڑا سا کیل تھا۔۔۔ جس میں ایک برا سا لوہے کاکڑا تھا۔۔۔ اور اس کڑے کے حلقے میں زنجیر کا آخری حلقہ پڑا ہوا تھا۔۔۔ زنجیر میں اور کڑے میں لچک موجود تھی۔۔۔ لیکن نجات ناممکن۔۔۔

میں نے مایوسی کے عالم میں گال پھلاکر اندر کی ہوا باہر نکال دی۔ اور بے حرکت ہوکر بیٹھ گیا۔۔۔ اور پھر سوچنے کی کوشش کی کہ آخر یہاں پہنچا کیسے۔۔۔؟ لیکن۔۔۔ لیکن کچھ یاد نہیں آرہا تھا۔۔۔ اور میں ایسی ناقابلِ برداشت حالت میں نہیں رہ سکتا تھا۔ میں نے غصہ میں آکر پورے زور سے زنجیر کو ایک جھٹکا دیا لیکن کوئی نتیجہ نہ برآمد ہوا۔۔۔ سوائے اس کے کہ زنجیر کھنک اٹھی اور پھر وہ آواز بھی تاریکی میں ڈوب گئی۔

میں نڈھال ہوکر بیٹھ گیا۔۔۔ اور اس حالت سے چھٹکارا پانے کی کوئی ترکیب سوچنے لگا۔۔۔ پھر غیر ارادی طور پر میں نے اپنی جیبیں ٹٹولیں۔۔۔ ان میں کوئی خاص چیز نہ تھی۔ سوائے سگریٹ کے ایک مڑے تڑے پیکٹ او رماچس کے۔

میرے ذہن میں جیسے کوندہ سا لپک گیا۔۔۔ میں نے ٹٹول ٹٹول کر ایک دیا سلائی نکالی اور اسے روشن کرنے کی کوشش کی۔ ایک دو ضربوں کے بعد وہ جل اٹھی۔ اور سارے میں روشنی پھیل گئی۔ میری آنکھیں اس روشنی میں لمحہ بھر کے لیے چندھیا گئیں۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ میرے دائیں ایک لمبی سرنگ ہے۔ اور بائیں جہاں سرنگ ختم ہوتی ہے وہاں زمین پر ایک انسانی ڈھانچہ پڑا ہوا ہے۔ اس کے کپڑے بدستور موجود ہیں۔ لیکن جسم پر سے سارا گوشت نچا ہوا ہے۔۔۔ میں لرز سا گیا اور دیا سلائی ختم ہوکر بجھ گئی۔۔۔

اندھیرے میں بھی۔۔۔ اس کے گلے میں بندھی ہوئی ٹائی مجھے یاد آگئی۔۔۔ تو کیا وہ مجھ سے پہلے۔۔۔؟ تو اس کا مطلب ہے رہائی آسان نہیں۔۔۔ میں نے بے دھیانی میں سگریٹ پیکٹ سے نکالا اور اسے ہونٹوں میں دباکر ایک اور دیاسلائی جلائی۔ سگریٹ سلگایا اور ایک نظر پھر اس ڈھانچے پر ڈالی۔۔۔ وہ بدستور پڑا تھا۔ گلے میں بندھی ٹائی اور گوشت کے بغیر ہڈیوں کاڈھانچہ۔۔۔ دیا سلائی بجھ گئی اور سگریٹ میرے ہونٹوں میں کانپنے لگا۔

کش لگانے سے سگریٹ کا جگنو چمک اٹھتا اور روشنی کا ایک ہالہ سا بن جاتا۔ جس میں، میں اپنی بے بسی کا بخوبی اندازہ لگاسکتا تھا۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال پیدا ہوا۔ کہ یہ زنجیر زوردار جھٹکوں سے نہیں ٹوٹے گی۔ لیکن آہستہ آہستہ اگر اسے ہلاتے رہاجائے تو کیل اپنے سوراخ میں ڈھیلی پڑسکتی ہے۔۔۔ لیکن کب تک؟ اب یہ سوچنے سے فائدہ جب اور کوئی چارہ ہی نہ رہ گیا ہو۔۔۔

میں نے سگریٹ کے آخری حصے تک اس کا لطف لیا۔ اور پھر جب میری انگلیاں کش کی حدت سے جلنے لگیں تو میں نے اسے پھینک دیا۔ ایک گہری سانس لی اور زنجیر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کرآہستہ آہستہ ہلانے لگا۔۔۔ آواز ایک خاص رِدم سے ابھرتی تھی۔ جیسے کوئی ساز بج رہا ہو۔۔۔ اور ایک مخصوص تال پر۔

یہ سلسلہ کتنی دیر تک جاری رہامجھے یاد نہیں لیکن میں نے جب رک کر ایک بار ہاتھ آگے بڑھاکر کیل کو پکڑا تو وہ واقعی کچھ ڈھیلا پڑچکا تھا۔ وہ لمحہ انتہائی انبساط کا تھا۔۔۔ میں پسینے سے شرابور ہوچکا تھا۔ میرے سارے جسم میں ایک پھریری سی دوڑ گئی۔

اب میں نے کیل کو پکڑ کر ہلانا شروع کیا۔ جنبش پہلے بہت کم تھی۔ پھر ذرا بڑھی اور پھر ذرا اور اور پھر کافی زیادہ تھی۔۔۔ اور کیل بھی کافی لمبی تھی۔ لیکن ایک موقعہ اب آیا جب کیل پتھر میں سے ڈھلک کر میرے ہاتھ میں آگیا۔۔۔ اب میں آزاد تھا۔ میں نے وفورِجوش سے آگے کی طرف رینگنا شروع کیا۔۔۔ سرنگ کی اونچائی بھی آہستہ آہستہ بڑھنے لگی اور اب میں بالکل سیدھا کھڑا ہوکر چل سکتا تھا۔۔۔ میری چھاتی کے گرد کسی ہوئی زنجیر میرے پیچھے گھسٹتی ہوئی چلی آرہی تھی۔ میرے قدموں کی آواز اور زنجیر گھسٹنے کی آواز آپس میں بالکل خلط ملط ہوچکی تھیں۔ یہ سارا ماحول مجھے زندگی کا ہی ایک حصہ معلوم ہونے لگا تھا۔۔۔ کہ اچانک میں رک گیا۔ میرے قدموں کی آواز اور زنجیر کے گھسٹنے کی آواز بند ہوگئی۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ لیکن ایک اور آواز سنائی دی۔ ایک بالکل اجنبی آواز۔۔۔ میں ہمہ تن گوش ہوکر اس آواز کو سننے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ یوں لگاجیسے کوئی آہستہ آہستہ میری طرف بڑھ رہا ہے۔

تو کیا وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ۔۔۔؟ نہیں،آواز سامنے سے آرہی تھی۔۔۔ میں نے جیب میں سے دیاسلائی کی ڈبیہ نکالی اور ایک دیا سلائی جلائی۔ سرنگ میں روشنی پھیل گئی۔ دور سامنے جہاں جاکر روشنی دم توڑ رہی تھی۔۔۔ مجھے فرش پر دوسرخ سی چنگاریاں دکھائی دیں۔ اور پھر دیا سلائی بجھ گئی۔ سب طرف پہلے کی طرح اندھیرا چھا گیا۔ جیسے ہی میں اندھیرے سے ذرا مانوس ہوا میں نے دیکھا وہ دونوں چنگاریاں آہستہ آہستہ میری طرف رینگ رہی ہیں۔ اور قدموں کی آواز بھی سنائی دینے لگی۔

میں نے جلدی سے ایک اور دیا سلائی جلائی۔۔۔ اب میں نے دیکھا کہ وہ سرخ سرخ آنکھیں ہیں۔ ایک بلی کے قد کے چوہے کی۔۔۔ جس کے بال سور کی طرح اس کے جسم پر کھڑے ہیں اور وہ میری طرف انتہائی پراسرار نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ پھر ایکا ایکی اس نے اپنے سفید دانت دکھائے۔۔۔

تو کیا اس کو ہڈیوں کے ڈھانچے میں اسی نے بدل دیا؟ ایک بے بس، زنجیروں میں جکڑے ہوئے انسان کو ہڈیوں کے ڈھانچے میں اس نے بدل دیا تھا۔ میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے مجھ پر ایک چھلانگ لگائی۔ دیا سلائی بجھ کر گر گئی۔ اور اندھیرے میں وہ میرے چہرے سے ٹکراکر میرے کندھے پر گرا اور پھر اس نے اپنے نوکیلے دانت میری گردن میں پیوست کردیے۔

میں بے ارادہ ہاتھ پاؤں مارنے لگا اور پھر میں نے اپنی انگلیوں میں اس کی گردن محسوس کی اور میں نے پوری طاقت سے اسے اپنی گردن سے کھینچ لیا۔۔۔ اور اتنے زور سے اپنی انگلیوں میں مسلا کہ اس کے اندر کا مواد باہر نکل کر میرے ہاتھ پر بہنے لگا میں نے اسے انتہائی کراہیت سے ایک طرف پھینک دیا۔۔۔ میری گردن میں سے گرم گرم خون نکلنے لگا تھا اور شدید درد کا احساس ہونے لگا تھا۔

میں نے ایک اور دیا سلائی جلائی اور دیکھا کہ وہ فرش پر مردہ پڑا ہے۔ اس کا سارا وجود گوشت کےایک لوتھڑے میں بدل چکا تھا۔

میں نے پھر آگے بڑھنا شروع کیا۔۔۔ اب میں ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں سے سرنگ دو طرف جاتی تھی۔۔۔ دائیں اور بائیں۔۔۔کدھر جانا چاہیے۔۔۔ رہائی کا راستہ کون سا ہے؟ میں ایک لمحہ رک کر سوچنے لگا۔۔۔ لیکن فیصلہ کرنا مشکل تھا۔ میں نے اندھیرے میں دیا سلائی کی ڈبیہ اچھالی۔۔۔ جو میرے پاؤں کے قریب ہی گری۔۔۔ میں نے ٹٹول کر اسے اٹھایا۔ بڑی احتیاط سے ویسے ہی سیدھا اور پھر اس میں سے دیا سلائی نکالنے کے لیے اسے کھولا۔۔۔ اوہ۔۔۔ یہ آخری دیا سلائی تھی۔۔۔ میں اس خیال سے ہی کانپ اٹھا کہ اگر راستے کا تعین ٹھیک نہ کر پایا تو پھر روشنی کہیں سے نہ ملے گی۔ میں نے دیا سلائی رگڑ کر جلائی۔۔۔ اوپر ڈبیہ کا سیدھا حصہ تھا۔ یعنی مجھے بائیں جانا تھا۔

میں لڑکھڑاتے قدموں اور زنجیروں کے وزن کے ساتھ بائیں طرف مڑگیا اور ایک ہاتھ سے دیوار کاسہارا لے کر آگے بڑھنے لگا۔ جیسے جیسے میں آگے بڑھ رہاتھا سرنگ کی چھت نیچی ہوتی جارہی تھی۔ حتی کہ مجھے یہ احساس ہوگیا کہ اب سیدھا چلنا مشکل ہے۔ میں نے سر ذرا سا جھکا دیا اور آگے بڑھنے لگا۔ اب میرے پاس دیا سلائی نہ تھی کہ روشنی میں راستہ دیکھ سکتا۔۔۔ لیکن پھر ایک ایسی منزل آگئی جہاں سے دو راستے نکلتے تھے۔ یعنی ایک اور راستہ بائیں طرف جاتا تھا۔

میں سرجھکائے ہوئے تنگ آگیا تھا۔ میری گردن اینٹھ سی گئی تھی۔ میں نے وہ پہلا راستہ چھوڑ دیا اور ایک بار پھر بائیں طرف مڑگیا۔۔۔ اب یہ سو دوسو قدم کے بعد راستہ پھر بائیں طرف نکلتا تھا۔۔۔ میں ہر بار بائیں طرف مڑتا رہا۔۔۔ اور پھر تھک کر بالکل نڈھال ہوگیا۔ میرے ذہن میں یہ احساس پوری شدت سے پیدا ہوا کہ نجات کا کوئی راستہ نہیں۔۔۔ اور میں کسی بھول بھلیاں میں پھنس گیا ہوں۔ میری ٹانگوں نے بالکل جواب دے دیا۔۔۔ چھاتی کے گرد بندھی ہوئی زنجیر کے وزن سے کمر خم ہوگئی۔ میں کچھ دیر لڑکھڑاتا رہا اور پھر زمین پر گر گیا۔

میں کتنی دیر تک وہاں پڑا رہا مجھے یاد نہیں۔ ایک بار میں بیدار ہوا میں نے ٹٹول ٹٹول کر اپنے اردگرد کو جاننے کی کوشش کی۔ زمین سیلی ہوئی تھی۔ دیواریں پتھریلی اور کھردری تھیں اور چھت بہت نیچی تھی۔

میں نے زمین پر رینگنا شروع کیا۔ رینگتا، رینگتا میں پھر ایک ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں سے اب ایک اور راستہ دائیں طرف جاتا تھا۔۔۔ میں اس طرف مڑگیا۔۔۔ تھوڑا ہی آگے گیا تھا کہ ناک ایک عجیب طرح کے تعفن سے بھر گئی۔ جیسے ذبح خانے میں کچے گوشت کی بو ہوتی ہے۔ میں ٹھٹھکا اور واپس پلٹا۔۔۔ پھر دیوار کے سہارے چلتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔۔۔ اب دائیں بائیں کااحساس ختم ہوگیا تھا۔۔۔ اور میں اس سرنگ میں سے باہر نکلنے کے سلسلے میں بالکل مایوس ہوگیا تھا۔

میں نے پھر یاد کرنے کی کوشش کی۔ میں یہاں کیسے آیا تھا؟۔۔۔ کون لایا تھامجھے یہاں۔۔۔؟ میرے ذہن میں ایک چہرہ ابھرا۔۔۔ میں نے باہر سے دروازہ کھولا تھا۔۔۔ جیسے ہی اندر داخل ہوا وہ سامنےکرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کی گود میں ۴۵، کا ایک ریوالور تھا۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا تھا۔ لیکن عجیب بات ہے۔ مسکراہٹ نظر آرہی تھی مگر چہرہ غائب تھا۔ یاپھر موٹے فریم کے گاگلز تھے جو اس کے چہرہ کو چھپائے ہوئے تھے۔ سرپر بڑاسا ہیٹ تھا۔

ا س نے آہستہ سے ریوالور اٹھایا اور اس کارخ میری طرف کردیا۔

’’میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا،‘‘ وہ بولا۔ اور اپنی جگہ سے اٹھا۔ ’’آؤ میرے ساتھ،‘‘ اس نے پھر کہا۔

’’لیکن کہاں۔۔۔؟ اور تم کون ہو۔۔۔؟‘‘ میں نے سہم کر سوال کیا۔

’’سوال نہیں۔۔۔ بس چلو۔‘‘ اس نے ریوالور لہرایا اور پھر آگے چلنے کااشارہ کرتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا۔

دوسرے ہی لمحہ اس کا ریوالور بدستور میری پسلیوں میں دھنس گیا تھا اور ہم دونوں گلیارے میں آگے پیچھے چل رہے تھے۔ پھر ہم دونوں لفٹ کے لیے رُکے اور لفٹ آگئی۔۔۔ اس نے مجھے اندر دھکیلا اور خود بھی اندر آگیا۔ ریوالور بدستور میری پسلیوں سے لگا ہوا تھا۔۔۔ ہم دونوں خاموش تھے۔ اور لفٹ نیچے کی بجائے اوپر کو جارہی تھی۔

جب لفٹ اپنی منزل پر پہنچ گئی تو ہم اترے۔۔۔ یہ میرے مکان کی چھت تھی۔ اور وہ اسی طرح سے مجھے کور کیے ہوئے تھا۔۔۔ اس نے مجھے چند قدم چلنے کا اشارہ کیا۔ اور ہم دونوں سیڑھیوں کے قریب پہنچے۔۔۔ اس نے ایک ہاتھ بڑھاکر ٹیرس کادروازہ کھول دیا۔۔۔ اور مجھے سیڑھیاں اترنے کا اشارہ کیا۔۔۔ ہم سیڑھیاں اترنےلگے۔ میں آگے تھا اور وہ میرے پیچھے۔۔۔ نہ جانے کتنی سیڑھیاں تھیں اور ہم کب تک اترتے رہے۔۔۔ خدا خدا کرکے ہم نیچے پہنچےاور عمارت سے باہر نکلے۔ رات کااندھیرا سب طرف پھیلا ہوا تھا اور اس اندھیرے میں سامنے ایک موٹر کار کھڑی نظر آئی۔۔۔ اس نے ریوالور والا ہاتھ ہلاکر موٹر کی طرف بڑھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ میں انتہائی خوفزدہ ہوچکا تھا اور اس کا ہرحکم مانے چلا جارہا تھا۔

اس نے میرے لیے موٹر کا پچھلا دروازہ کھولا۔ میں سرجھکاکر اندر داخل ہونے لگا کہ میرے سرپر ایک بھرپور ضرب لگی۔ شاید اس نے ریوالور کاکندہ مارا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے تارے سے ناچنے لگے اور پھر میں بے سدھ ہوکر اندھیری وادی میں ڈوب گیا۔

تو اس کامطلب ہے۔ وہی مجھے یہاں لاکر چھوڑ گیا تھا۔۔۔ زنجیر سےجکڑ گیا تھا۔ اور خود باہرنکل گیا تھا۔اگر وہ باہر نکل گیا تھا تو باہر نکلنے کا راستہ ضرور ہوگا۔ اس خیال سے میں پھر جیسے زندہ ہوگیا۔ میں اٹھا اور پھر چلنا شروع کیا۔ کسی سمت کاتعین کیے بغیر۔

مجھے پیچھےآہٹ سی سنائی دی۔ میں رک گیا۔۔۔ یہ بالکل ویسی ہی آواز تھی جیسی اس آدم خور چوہے کے قدموں کی آواز۔۔۔ لیکن اس بار یہ ایک آواز نہ تھی۔ کئی تھیں۔۔۔ تو کیا وہ یہاں بہت سے ہیں۔۔۔؟

آہٹیں ہر پل قریب آرہی تھیں۔ میں گھبراکر تیزی سے بھاگنےلگا۔ آہٹ بدستور میرا پیچھا کر رہی تھی۔ میں بھاگتا رہااور پھر اچانک ہواکا جھونکامیرے چہرے سے ٹکرایا۔ تازہ ہوا۔ اور میں خوشی سے پاگل ہواٹھا۔۔۔ اور تیزی سےبھاگنےلگا۔۔۔ سامنےروشنی دکھائی دینےلگی اور اس روشنی میں، میں نے پلٹ کر دیکھا۔ ہزاروں کی تعداد میں آدم خور چوہے اپنی سرخ آنکھیں مجھ پر جمائے میرے پیچھے بھاگے آرہے تھے او رپھر ایک دم میرے قریب آکر مجھ پر ٹوٹ پڑے۔ میں ان کے ساتھ ایک بے معنی اور بے نتیجہ جنگ میں شامل ہوگیا۔ وہ اپنے نوکیلے دانت یہاں وہاں میرے جسم پر گاڑ رہے تھے۔

میں نے پھر بھاگناشروع کیا۔۔۔ اب وہاں سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں جو اوپر کو جاتی تھیں۔ ان کےکاٹنے کی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر میں وہ سیڑھیاں چڑھنے لگااور پھر میں اس سرنگ سےباہرتھا۔۔۔ جیسے ہی میں نے سرباہرنکالا میں نے دیکھا وہ اپنے ہاتھ میں ۰۴۵ کا ریوالور لیے سر پر ہیٹ اور آنکھوں پر گاگلز لگائے اور ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلائے بیٹھا میرا منتظر تھا۔ میں آگے بڑھ کر اس کے قریب جاکھڑا ہوا۔۔۔ میرے جسم کے ساتھ اب بھی کئی چوہے لپٹےہوئے تھے۔ وہ مجھے دیکھ کر ہنسا اور اس نےریوالور کی نال میرے طرف کردی۔

اچانک نہ جانے مجھ میں کہاں سے اتنی طاقت آگئی کہ میں نے اپنے دائیں پاؤں کی ٹھوکر اس کے جبڑے پر ماری اور دونوں ہاتھ آگے بڑھاکر اس کے ہاتھ سے ریوالور چھین لیا یہ حملہ اس کے لیے غیر متوقع تھا۔ وہ ڈھلان سےلڑھکنے لگا۔

میں نے بے تحاشہ گولیاں چلانا شروع کیں اور کئی چوہے اچھل اچھل کر گرنے لگے۔۔۔ پھر میں نے اپنے جسم سے چپکے ہوئے چوہوں کو پکڑ پکڑ کر پھینکنا شروع کیا۔ اور پھر بے تحاشہ ڈھلان پر بھاگنےلگا۔۔۔

باہر زرد چھپتی ہوئی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ میرے جسم سے پسینہ فوارے کی طرح پھوٹنےلگا۔ لیکن میں خوش تھا۔ اس تکلیف سے یہ تکلیف الگ تھی۔

میں کافی دور نکل آیا تھا۔۔۔ اور پھر میں نے پلٹ کر سرنگ کے دہانے کی طرف دیکھا آدم خور چوہےاب بھی وہاں اچھل کود رہے تھے۔

اچانک میں نےنیچے وادی میں دیکھا۔۔۔ بہت سے آدمی ہاتھوں میں لاٹھیاں لیے نصف دائرے کی شکل میں میری طرف بڑھ رہے تھے۔ اور مجھے دیکھ کر ان کے سفید دانت دھوپ میں چمکنے لگے تھے۔

ان کا حلقہ دھیرے دھیرے میرے گرد تنگ ہوا جارہا تھا۔ اور ان کے چہروں پر خوشی کے تاثرات زیادہ ابھر کر ظاہر ہو رہے تھے۔ حتی کہ وہ میرے قریب آگئے اور انھوں نےاپنی لاٹھیاں سونت لیں۔۔۔ میں حیران رہ گیا۔ تو کیا یہ میرا شکار کرنا چاہتے ہیں؟ اس احساس سے میں بری طرح خوف زدہ ہوگیا۔۔۔ اور میں پیچھے کی طرف بھاگنےلگا۔۔۔ وہ بھی میرے پیچھے بھاگنے لگے۔

اور میں۔۔۔ میں دوبارہ اسی سرنگ کی طرف بڑھ رہا تھاجس سے بمشکل رہائی ملی تھی۔ جہاں آدم خور چوہے مارے بھوک کے اچھل کود مچا رہے تھے اور میرا جسم ابھی تک زنجیر سے جکڑاہواتھا۔

سریندر پرکاش

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سی پیک کی سیاست
  • دانتے کی دوزخ میں
  • ستاروں سے آگے
  • ہر چٹھی ایک ہی پتے پر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
فضّہ

اگلی پوسٹ
تلقارمس
پچھلی پوسٹ
خشت و گل

متعلقہ پوسٹس

کتبہ

دسمبر 6, 2019

ترقی کا ابلیسی ناچ

نومبر 14, 2021

دودھ کی قیمت

اگست 10, 2018

ضلع اسلام آباد سے صوبہ اسلام آباد

دسمبر 6, 2025

برف باری سے پہلے

جنوری 12, 2020

پاکستانی یونیورسٹیوں کی بقا کا واحد راستہ

دسمبر 22, 2025

ٹیری سیاس، یونانی ادب کا ایک دلچسپ کردار

فروری 4, 2020

ادب کی روشنی میں اُردو

اکتوبر 14, 2025

بچوں پر حقیقی انویسٹمنٹ

نومبر 9, 2024

آب گزیدے

جنوری 3, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

"چار چاند "اور نیلم احمد بشیر

جولائی 5, 2024

مسز ڈی کوسٹا

جنوری 16, 2013

پاکستان کی خوشحالی کا راستہ

اکتوبر 29, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں