خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار

سید محمد زاہد کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 16, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 16, 2020 0 تبصرے 672 مناظر
673

بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار

داتا کی نگری، رنگ بدلتا لاہور۔ سب بدل گیا، نہیں بدلا تو داتا نہیں بدلا۔ داتا آج بھی ویسا ہی ہے۔
عرصہ ہوا، دربار کے سامنے بہت وسیع و عریض علاقہ خالی پڑا ہوتا تھا۔ ’سرکلر باغ‘ جسے مقامی لوگ ’کِیسی باغ‘ کہتے لاہور کے چاروں طرف گھومتا تھا۔ ٹکسالی کے بعد یہ باغ کافی کشادہ ہوجاتا۔ عرس سے بہت پہلے اس علاقے میں ناچنے گانے والے، ڈھول تماشا والے، مانگنے والے، مزدوری کرنے والے، دور دراز سے آکر ادھر جمع ہو جاتے۔ ٹکسالی سے موچی تک جھگیاں ہی جھگیاں نظر آتیں۔ دکانیں سج جاتیں۔ احتیاج روزگار بہت سارے لوگوں کو ادھر لے آتی۔ بچے غبارے اڑاتے ’باجے بجاتے‘ پنگھوڑے جھولتے۔ کہیں قتلمے تلے جا رہے ہوتے، کہیں مٹی کے کھلونے بک رہے ہوتے۔

ہر چیز بکتی تھی۔ خریدار کی جیب بھاری ہونی چاہیے، سب کچھ مل جاتا۔ داتا کے مجاور ہر کام اور چیز میں اپنا حصہ ڈھونڈنے میں طاق تھے۔ آج بھی ان کے گھروں میں ایسی رنگ برنگی نشانیا ں مل جاتی ہیں۔ بہت سے لوگوں کو غربت اپنے گھ رسے نکال کرداتا کے دربار پر لے آتی اوروہ مجاوروں سے بھیک میں لنگر لیتے لیتے جسم کو لنگر خانہ بنا کر رہ جاتے۔

عرس میں طرح طرح کے لوگ، بھانت بھانت کے چہرے، بھانت بھانت کے لباس نظر آتے۔ کیسے کیسے لوگ اس ملک میں بستے ہیں۔ ان کے چہرے مہرے جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے، حلیہ تو بدلہ جا سکتا تھا۔ لیکن یہ سب اپنا ا پنا حلیہ بھی نہیں بدلتے تھے اور عادات واطوار کا بدلنا تو ناممکن ہے۔ وہاں جگہ جگہ کے لوگوں کو ایک ساتھ گھومتے دیکھ کر یہ شک ہونے لگتا کہ یہ ایک ہی دیس کے لوگ ہیں؟ ملک نہ ہوا بھان متی کا کنبہ ہو گیا۔

یہی کنبہ بازاروں میں بھی نظر آتا۔ آنے جانے والوں کی نشانیاں بھی۔ فروشندہ زر ثمن لے کر رخصت ہو جاتا اور مال خرید کر بازار سجا لئے جاتے۔ اندرون شہر ٹبی گلی، بازار شیخوپوریاں، شاہی محلہ سب کو تازہ مال ہر سال دو مرتبہ مل جاتا۔ کسی کا دو چوٹیوں میں سے ایک کو آگے ڈال کر جسم سکیڑ کر چلنا، چغلی کھاتا تھا کہ مال نیا نیا آیا ہے اور ملک کے کسی دور دراز کے علاقے سے منگوایا گیا ہے۔ سپاٹ چہرہ، بنجر لیکن مضبوط جسم بتاتا تھا کہ کوہستانی پودا ایک دن ضرور پنپنے گا۔

بازار شیخوپوریاں کئی داستانیں وابستہ ہیں اس سے۔ نکڑ پر میڈم زاہدہ کا خوبصورت حویلی نما گھر۔ سریلی آواز او رسُر کی ملکہ، جس کا کبھی ایک زمانہ دیوانہ ہوتا تھا۔ لیکن جب وہ سندھی ہیرو کو بھا گئی تو پھر اس نے اپنے کوٹھے کے دروازے سب کے لئے بند کر دیے۔ سانول سائیں جب بھی لاہور آتا اس کی گاڑی استاد دامن کے حجرے کے پاس سے گزر کر نیچا چیت رام روڈ پر سازندوں کو لینے بھی آتی۔ وہی اونچا اور نیچا چیت رام سڑکیں اور بازار جو کبھی موسیقی کی یو نیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے۔

ادبی ذوق کی حامل، سائیں اختر کی شاگرد میڈم، گاتی تو صرف اپنے سندھی سانول کے لئے۔ اس کی آواز گونجتی تو فلیٹیز کی صرف ایک خواب گاہ کی دیواروں تک محدود رہتی۔ اُس کے پہلو کے سمن اور گلاب صرف اُس کے لئے کِھلتے۔

اس کی حویلی کے ساتھ، لکھنو سے آئی گل بہشت کی حویلی تھی۔ گل بہشت کی ماں، ملکہ جان، جو کبھی حور کی صورت اور نور کی مورت تھی، لکھنو کے کئی نواب اس کی آنکھوں کے نشتروں سے اپنے کلیجے زخمی کیے تڑپتے مر گئے تھے۔ ملک تقسیم ہوا تووہ لاہور آ گئی۔ گل بہشت میں نوابوں والے شوق موجود تھے۔ وہ ایک ڈیرہ دار طوائف تھی۔ لمبا عرصہ اس نے دلوں پر حکومت کی۔ اس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ دام جمالہا و کمالہا۔ لیکن اس بازار میں کون سی ساری باتیں سچ ہوتی ہیں؟

وہ بوڑھی ہو چکی تھی۔ اس کے کمال تو حویلی کی چار دیواری کے اندر مجسم نظر آتے تھے لیکن جمال اب نیا بت ڈھونڈتا تھا۔ اس بار اسے کوہستانی کلی ملی تھی۔ جو اس نے ایک مجاور سے منہ مانگے داموں خریدی تھی۔ دو چوٹیوں میں گندھے بال، عام طوائفوں کی طرح نتھلی کی بجائے ناک کے بیچوں بیچ، بانسے میں سونے کی بلاق موجود تھی۔ جس میں اصلی موتی ہلتا ہوا دیکھ کر عاشقوں کا دم ناک میں آ جاتا۔ گل بہشت نے اس بنجر سے جسم پر بہت محنت کی تھی۔ اب اس میں جست آگئی تھی۔ چلتی تو انگڑائی کے انداز میں جسم محراب بن جاتا۔

”عمدہ جان! تم بے حجابانہ نہ پھرا کرو۔ یہ لاہور کے باسی حور جلوہ فروش کے حسن کی تاب نہیں لاسکتے۔ “ گل بہشت اس کے واری صدقے جاتی۔

”خانم! کیا میڈم زاہدہ کا حسن بازار میں سب سے زیادہ ہے۔ “ عمدہ جان نے اچھلتے ہوئے پوچھا۔
”نہیں۔ لیکن اس کے نصیب بہت اچھے ہیں۔ اور پھر یہ جو گل کھلے ہیں، برسوں کی ریاضت کا ثمر ہیں۔ “ خانم نے اسے پیار سے سمجھایا۔

”ہاں، ہاں! ہم بھی اپنی بیٹی کی نتھ اتروائی کی رسم پر زاہدہ بی بی کی قسمت کچھ دنوں کے لئے ادھار مانگیں گے۔ “ لکھنو کے نوابوں کے دلوں کوتاراج کرنے والی گل بہشت کی والدہ ملکہ جان اس کی بلائیں لیتی ہوئی بولی۔

”ماسٹر جی! ہماری بیٹی لاکھوں میں ایک ہے۔ اس کے گلے میں وہ سُر بھر دیں۔ جن کی لے سن کرپیر و توانا سب شوریدہ سَر ہوجائیں۔ “ ملکہ جان خالصتاً لکھنوی لہجے میں آداب بجا لائی۔

ماسٹر کی آنکھوں کی چمک اور بے قراری دید نی تھی۔

”میں اسے ہیرا بنا دوں گا۔ اپنی تمام عمر کی صلاحیتیں اس پر نچھاور کر کے اسے ایسا سجاؤں گا کہ حیران چشم عاشق اس دمکتے ہیر ے کو دیکھ کر ہوش بھول جائیں گے۔ میرے بڑھاپے کو بھی سہارا مل جائے گا۔ “

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دنیا! ہالی وڈ کا اسٹوڈیو بن گئی ہے
  • جدید اردو ڈرامے کے خالق امتیاز علی تاجؔ
  • رو رہا ہوں میں
  • جستجوِ صبحِ نو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جنس اور شادی کی نفسیات
پچھلی پوسٹ
کروں گا اشکِ رواں سےوضو مدینے میں

متعلقہ پوسٹس

غل خان

مئی 10, 2020

بسیرا

مئی 27, 2020

محبوبِ وقت ہوں

جون 23, 2024

جواری

دسمبر 3, 2019

مہتاب خاں

جنوری 15, 2020

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے!

فروری 12, 2022

ایک موہوم سی امید پہ چل پڑتا ہے

جنوری 30, 2020

کسی بھی کام سے پہلے

جولائی 16, 2025

کرکٹ کا تاریخی سفر

فروری 8, 2025

مشتاق تیرے کر رہے ہیں

جنوری 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کچھ تاریخی واقعات

جون 22, 2025

پہلو میں ترے رات گزاروں میں...

دسمبر 31, 2019

خدا کلام بشر شش جہات مانتا...

جون 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں