خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباوقت گزرتا جا رہا ہے
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

وقت گزرتا جا رہا ہے

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 23, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 23, 2025 0 تبصرے 99 مناظر
100

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

گزرتے وقت کی اہمیت اور اس کا اندازہ ہمیں اللہ تبارک وتعالی نے خود اپنی کتاب یعنی قرآن مجید فرقان حمید میں کئی سورتوں اور آیتوں میں سمجھانے کی کوشش کی ہے جیسے سورہ العصر میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ

وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)
ترجمہ کنزالایمان: : اس زمانۂ محبوب کی قسم بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔

دراصل انسان کا نقصان یہ ہے کہ اس کی عمر جو اس کا اصل سرمایہ اور دولت ہے مسلسل ختم ہو رہی ہے۔ لہٰذا اِس سرمائے کو اچھے کاموں میں صَرف کرے اور نہ صرف خودکو بلکہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں تفسیر کبیر میں ایک بزرگ کا فرمان ہے کہ میں نے سورہ عصر کا مطلب ایک برف بیچنے والے سے سمجھا جو بازار میں بار بار صدا لگا رہا تھا کہ ” اُس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ گھلتاجارہا ہے۔ ” یہ صدا سُن کر میں نے کہا کہ یہ ہے اصل (اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) کا مطلب کہ جو زندگی انسان کو دی گئی ہے وہ برف کے گھلنے کی طرح تیزی سے گُزر رہی ہے ، اِس کو اگر ضائع کیا جائے یا غلط کاموں میں صرف کردیا جائے تو اِنسان کا خسارہ ہی خسارہ ہے
اب معاملہ یہ ہے کہ زندگی میں صرف ہمیں وہی کام کرنے چاہئیں جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے بیشک شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے ہمارے یہاں ایک کثیر تعداد لوگوں کی اس کے بہکاوے میں آکر گناہ در گناہ کرتے جاتے ہیں اور انہیں اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ ” وقت گزرتا جارہا ہے ” ابھی وقت ہے سنبھل جائے اپنے کئے پر صدق دل سے نادم ہوکر پاک پروردگار کی بارگاہ میں توبہ کرلیں کہ توبہ کا دروازہ ہر انسان کے لئے اس کی آخری سانس تک کھلا ہوا ہے جبکہ انسان کی توبہ کا عمل اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند ہے کہ وہ بخش بھی دیتا ہے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف بھی کر دیتا ہے بس وقت کے گزر جانے سے پہلے پہلے یہ عمل کرلو ورنہ بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچے گا اسلام کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کئی ایسے لوگوں کے بارے میں ہمیں واقعات اور ان کی زندگی کی تفصیلات ملیں گی جنہوں نے توبہ نہ کی پھر ان کے ساتھ میرے رب نے کیا معاملہ کیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ایک بڑی معروف حدیث ہے جو کنزالعمال اور دیگر احادیث کی کتابوں میں بھی موجود ہے جس کے راوی ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سب حضور ﷺ کی بارگاہ میں تشریف فرما تھے کہ ایک بابا جی تشریف لائے وہ جب تشریف لائے تو ان کی بھنویں جو پوری سفید تھیں وہ بڑھ کر جیسے آنکھوں تک آچکی تھیں اور جب وہ جانے لگے تو میں نے پوچھا آپ کی عمر کیا ہے تو بولے 96 سال انہوں نے ہاتھ میں ایک چھڑی پکڑی ہوئی تھی اور دونوں ہاتھ چھڑی پر رکھ کر وہ ان پر جھکے ہوئے تھے کہتے ہیں جب وہ بزرگ مسجد میں داخل ہوئے تو میرے رسول ﷺ نے کھڑے ہو کر استقبال فرمایا کھڑے ہو کر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کے بابا جی کو بازو سے پکڑا بٹھایا پھر فرمایا کہ بزرگوں کیسے آئے ہیں تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے وہ بابا جی بات کرتے تو آنکھ کھول کے پہلے حضور ﷺ کا چہرہ دیکھتے پھر وہ بات کرتے تو ان کے لب و لہجے کے اندر بڑی پریشانی بڑی تکلیف بڑی مایوسی تھی عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ زندگی ساری گناہوں میں بیت گئی ہے حضور غلطیاں ہی غلطیاں ہیں اے اللہ کے رسول بڑی لمبی فہرست ہے پاپ ہی پاپ ہیں کالے سیاہ دفتر ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پلٹ کے دیکھتا ہوں حضور مجھے نیکی دکھائی نہیں دیتی حضور اس عمر میں آپ کا ایک صحابی ملا ہے اس نے بات سمجھائی ہے تو تھوڑا خیال آیا ہے کہ ابھی تک ” وقت گزرتا جارہا ہے ” لیکن ابھی بھی وقت باقی ہے پھر انہوں نے تین باتیں عرض کیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب میرا وجود بیکار ہو گیا ہے حضور بوڑھا ہو گیا ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب تو میری کمر بھی سیدھی نہیں ہوتی کہ میں نماز ہی سیدھا کھڑا ہوکر پڑھ سکوں بوڑھا ہو گیا ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب میرے اندر طاقت نہیں کہ میں محنت مزدوری کر کے صدقے اور خیرات دے سکوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب میں تلوار لے کے جہاد بھی نہیں کر سکتا حضور نہ میں لمبی نمازیں پڑھ سکتا ہوں آقا نہ میں صدقات و خیرات دے سکتا ہوں نہ دین کے لیے کوئی جہاد کر سکتا ہوں بیکار وجود ہے بیکار وجود کو تو گھر والے بھی برداشت نہیں کرتے بچے دعا کرتے کی یا اللہ ابا جی کو پردہ دے دے اما کو پردہ دے دے بیکار ہو گیا ہوں میں اور آ ج اگر آیا ہوں تو مجھ بیکار کو میرا رب قبول کر لے گا ؟ کسی کام کا نہیں نہ نماز نہ صدقات نہ جہاد کیا پھر بھی قبول کر لے گا ؟
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جیسے برسات میں بارش کی جھڑی لگتی ہے یوں اس بوڑھے کی باتیں سن کر مصطفیٰ ﷺ کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی حضورﷺ کھل کے روئے کھل کے اور میرے حبیب پاک نے فرمایا بزرگوں بڑے مجاہد ہیں دین کے لیے جہاد کرنے والے بڑے ہیں رب کریم کو آپ کی تلوار کی اتنی حاجت نہیں اور فرمایا اس کے خزانے خالی نہیں ہیں کہ آپ ہی گویا صدقہ دیں گے تو بھرے جائیں گے اور فرمایا پھر رب کریم کی شان میں اضافہ نہیں کرتی عبادتیں وہ تو بندے کو نفع دیتی ہیں میرے بزرگوں نہ آپ جہاد کریں نہ آپ صدقات دیں اور نہ ہی لمبی نمازیں پڑھیں آپ صدق دل سے ایمان کی طرف آجائیں آجائیں اللہ کے رسول کا وعدہ ہے رب آپ کو بغیر حساب کتاب کے جنت عطا فرما دے گا آنا تو شرط ہے کہ نہیں آئیں تو صحیح نا پہنچیں تو صحیح اس کے دربار میں حاضر تو ہوں ایک بار بس شرط تو انا ہے پھر دیکھیں وہ رب کتنا کریم ہے کتنا رحیم ہے اور کس طرح بخشنے والا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس واقعہ میں ہمیں کتنا خوبصورت میسج ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری عبادتوں کی ضرورت نہیں یہ عبادتیں تو ہمارے اعمال اور محشر میں ہمارے پلڑے کے وزن کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور یہ ہمارے ہی فائدہ کے لئے ہیں وہ مہربان رب تو یہ چاہتا ہے کہ ہم اس کے دین کے ساتھ چلیں اور بس وقت کو غلط کاموں اور گناہوں میں نہ گزاریں کیونکہ ” وقت تو گزرتا جارہا ہے ” اور وہ واپس کبھی نہیں آتا آپ اندازہ لگائیں کہ رب العالمین نے اپنی اس کائنات کے نظام کو چلانے کے لئے ہر چیز کو وقت کا محتاج بنادیا سورج چاند تارے آسمان یہ پورا کا پورا نظام قدرت اپنے اپنے وقت پر اپنے فرائض انجام دیتا ہوا نظر آتا ہے یہ وقت ہی ہے جو نہ آپ ایڈوانس میں لے سکتے ہیں نہ ہی ادھار اور نہ ہی اس وقت کو کوئی خریدنے کی طاقت رکھتا ہے اور جو وقت گزر جاتا ہے وہ کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتا اب دیکھئے کہ ” روزانہ صبح جب سور ج طلوع ہوتا ہے تو اس وقت یہ اعلان کرتاہے کہ اگر آج کوئى نیکی کا کام کرنا ہے تو کرلو کہ آج کے بعد مىں پلٹ کر نہىں آؤں گا” ۔

(شعب الاىمان باب فى الصىام ماجا وفى الىلة النصف فى الشعبان حدىث ۳۸۲۰۔ملخصا)

اسی طرح بخآری شریف کی ایک معروف حدیث مبارکہ ہے جس کا خلاصہ ہے کہ” حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے امت کی کثیر تعداد لوگوں کی ایسی ہے جو اللہ تعالیٰ کی دو نعمتوں کے معاملہ میں دھوکے میں ہے بلکہ غافل رہتی ہے جس میں ایک ہے ” صحت” اور دوسری ” فرصت” ”
صحت اور فراغت۔(بخارى)
یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ جب فارغ ہوتے ہیں تو چوراہوں پر فٹ پاتھوں پر یا چائے کی ہوٹلوں پر بیٹھ کر سوائے وقت کو برباد اور ضائع کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتے انہیں اس بات کا قطعی طور پر احساس نہیں ہوتا کہ ” وقت تو گزرتا جارہا ہے ” اور ہم اسے ضائع کرنے میں مصروف عمل ہیں بالکل اسی طرح جب کوئی انسان صحت مند ہوتا ہے تو وہ اپنی صحت مندی اور تندرستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اور دینی کاموں میں اپنے آپ کو مصروف عمل رکھنے کی بجائے اس تندرستی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس وقت کو ضائع کر دیتا ہے اور لاغر اور بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات اور عبادتوں کا خیال آتا ہے جبکہ اس وقت اس میں وہ تندرستی اور چابک دستی نہیں ہوتی جو صحت مندی میں تھی اور اسے احساس تک نہیں ہوتا کہ ” وقت تو گزرتا جارہا ہے ” ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حالانکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کی سورہ التکاثر کی آیت نمبر 8 واضح فرمایا کہ
ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸)
ترجمعہ کنزالایمان:: پھربیشک ضروراس دن تم سے نعمتوں کى پرسش ہوگى۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں سے ہمیں اس دنیاوی زندگی میں سرفراز فرمایا ہم نے ان نعمتوں کا صحیح استعمال کرکے اس رب العزت کا شکر ادا کیا یا ان نعمتوں کا غلط استعمال کرکے انہیں ضائع کردیا ہمیں بروز محشر اس جوابدہ ہونا پڑے گا ۔گزرتے وقت اور اس کی اہمیت پر یہاں دو اہم لوگوں کے اہم اقوال میں اپنی اس تحریر میں آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اقوال کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے توفیق عطا فرمائے (امین) ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ ” یہ دن جو تم گزار رہے ہو یہ اصل میں تمہاری زندگی کے اہم صفحات ہیں ان صفحات کو اپنے اچھے اعمال سے زینت بخشو” ۔
حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
” اہل اللہ یعنی اللہ والوں سے صحبت کے نتیجے میں مجھے یہ بات سیکھنے کو ملی کہ وقت ایک تلوار ہے اگر تم اس کو اپنے نیک اعمال سے کاٹ لو تو ٹھیک ہے ورنہ یہ تمہیں فضولیات میں مصروف کرکے کاٹ دے گی ” ۔
ان دونوں اقوال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر اس وقت کو ہم صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی باتوں پر عمل کرکے گزاریں تو اس کے صفحات کی زینت بڑھ جائے ورنہ یہ ایک ایسی تلوار کی مانند ہے جو ہمیں فضول کاموں میں مصروف کرکے ہمیں تباہ و برباد کرکے ہمیں کاٹتا رہے گا اور احساس تک نہیں ہوگا کہ ” وقت گزرتا جارہا ہے ” ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں شاید ہم میں سے بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ وقت جو ضائع کرنے کی وجہ سے وہ دوزخ کے قریب سے قریب اور جنت سے دور ہوتے جارہے ہیں اور اگر جنت میں چلے بھی جائیں تو انہیں ایک بار کا شدت سے افسوس رہے گا اس بات کی وضاحت صحیح البخاری کی اس حدیث میں موجود ہے جس میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” اہلِ جنّت کوکسی چیز کا بھی افسوس نہیں ہوگا سوائے اُس ساعت (یعنی گھڑی ) کے جو (دنیا میں)اللہ پاک کے ذِکر کے بِغیر گزرگئی ”
(صَحِیحُ البُخارِیّ ج۴ ص۲۲۲حدیث ۶۴۱۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت)۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس عارضی دنیا میں اپنی عبادت کے لئیے بھیجا ہے زندگی کو فضولیات میں صرف کرنے اور وقت کو ضائع کرنے کے لئے نہیں قربان جائیے ہمارے اسلاف پر جنہوں نے اللہ کے ذکر سے اپنی زبان کبھی خاموش نہیں کی حضرت سیدنا سُحَیْم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک تابعی بزرگ کے پاس گیا جن کا نام تھا حضرت عامر بن عبداللہ علیہ الرحمہ میں نے دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے لیکن نماز مختصر کرکے وہ میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا مجھے جلدی ہے اپنی ضروریات جلدی بیان کریں تو میں پوچھا کہ حضور کس بات کی جلدی ہے تو فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ میں دنیاوی کام میں مشغول ہوں اور ملک الموت میری روح قبض کرنے آجائے لہذہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں زیادہ تر وقت گزارتا ہوں تاکہ ملک الموت آئے تو میں عبادت میں مصروف ہوں جبکہ ہم اپنے وقت کو اپنے رب تعالیٰ کی عبادت سے زیادہ فضول گوئی میں گزارنے میں مصروف رہتے ہیں اور احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ
” وقت تو گزرتا جارہا ہے ” ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یاد رکھئیے کہ جو وقت گزر جاتا ہےوہ گزرا وقت کہلاتاہے،اس کے بارے میں افسوس کرنے کے لئیے بیٹھ جانا بھی وقت ضائع کرنےکاباعث ہوتا ہے۔ جووقت آیا نہیں ہےاس کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے، مگر جو وقت قابلِ استعمال ہےوہ یہی ہےجو آپ اس وقت گزار رہے ہیں،لہذا اپنے اس وقت کی قدر کیجئے اور اس کو ضائع ہونے سے بچائیں وقت وہ نعمت ہے جس کو نہ کوئی خرید سکتا ہے اور نہ کوئی بیچ سکتا ہے یہ بڑی انمول نعمت ہے اور یہ رکنے والی چیز نہیں بس گزرتے رہنے کا نام وقت ہے کام وہ کریں جس کا بروز محشر پچھتواہ نہ ہو اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے فرمودات پر گزاریں تاکہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر کسی بھی لمحے یہ افسوس نہ ہو کہ ” وقت تو گزرتا جارہا ہے ” ۔
جناب امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں وقت کی اہمیت کے بارے فرماتے ہیں کہ
(وَقْتُ الإِنسان هو عمره في الحقيقة)
(الداء والدواء:358)
”وقت ہی انسان کی حقیقی عمر ہے۔”

انسان کی عمر کا حساب وقت کے گزرنے کے حساب سے ہی ہوتا ہے۔ انسان کی زندگی میں جتنا وقت گزر چکا ہوتا ہے وہی اس کی عمر ہوتی ہے۔ انسان کی ساری کی ساری زندگی وقت کے ساتھ ہی مربوط و مسلک ہے وقت کو الگ کر کے زندگی کا کوئی تصور اور کوئی حقیقت نہیں ہے تو معنی یہ ہوا کہ وقت ہی انسان کی حقیقی عمر اور زندگی ہے، جسے اپنی زندگی پیاری ہے اسے یقینًا وقت بھی پیارا ہوگا، جسے زندگی کی قدر ہے، اسے یقینًا وقت کی قدر ہوگی اور وقت کی قدر کا مطلب: اس کے ایک ایک منٹ اور ایک ایک سیکنڈ کی قدر ہے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اسی لئیے رب تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ وقت کی اہمیت اور اس کے ضائع نہ کرنے کی سختی سے ممانعت فرمائی جبکہ کئی احادیث مبارکہ سے بھی وقت کی قدر اور اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے لہذہ عقلمندی یہ ہی ہے کہ وقت جیسی قیمتی شہہ جو ضائع کرنے کی بجائے اس کی قدر کریں ورنہ کسی نے کیا خوب کہا کہ
” وقت کی وقت پر قدر کریں کیونکہ وقت کے پاس بھی اتنا وقت نہیں کہ آپ کو دوبارہ وقت دے سکے”.
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وقت کا ہر ہر لمحہ صرف اس کے اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مجھے دعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سبب یہ تھا جو غم
  • ایک قبر کی فریاد
  • گره کھلنے تک ( نظمیں )
  • اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اگرچہ اس نے لکھا ہوا ہے
پچھلی پوسٹ
سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان کا جذبۂ اخوت

متعلقہ پوسٹس

اگر کرنا نہیں ہے پیار ساجن

جنوری 29, 2020

گردشِ حال پر کتاب لکھوں

اکتوبر 21, 2025

ہماری تہذیب – ہماری شناخت، ہمارا فخر!

اگست 1, 2025

دل کا لہو چراغ وفا میں جلائیے

اکتوبر 10, 2025

قیدی چڑیاں

جنوری 31, 2022

مداوائے آلام ہو جائے گا

جون 12, 2020

آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں

فروری 4, 2020

ایسے جیسے اک مدت کے

دسمبر 26, 2024

سلام کس کو کرنا ہے

فروری 8, 2025

شیخ زمانہ حضرت سید ابوالحسینؔ

نومبر 1, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یہ کسی طور اَہانت نہیں سمجھا...

اکتوبر 16, 2025

دیہات کے مسائل

جنوری 11, 2026

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں