102
سبب یہ تھا جو غم لکھا بہت تھا
بچھڑنے کا مجھے صدمہ بہت تھا
تمہیں بھی مل گئی تعبیر الٹی
تمہارا خواب تو سچا بہت تھا
تمہارے ہاتھ تو قسمت سے آیا
وگرنہ اس نے بھی کھینچا بہت تھا
تمہیں بھی کیا محبت مل نہ پائی
تمہارے پاس تو پیسہ بہت تھا
کسی کی بات تم سنتے کہاں ہو
محبت سے تمہیں روکا بہت تھا
یہ جو میں درد سہنے لگ گیا ہوں
کسی نے مجھ کو بھی چاہا بہت تھا
دعا میں ہی اثر میری نہیں تھا
تمہیں میں نے مگر مانگا بہت تھا
یاسر سعید
