خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباملکی سالمیت اور سیاسی انا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ملکی سالمیت اور سیاسی انا

از سائیٹ ایڈمن اپریل 3, 2022
از سائیٹ ایڈمن اپریل 3, 2022 0 تبصرے 57 مناظر
58

انسان اپنے بنائے ہوئے حصار میں اپنے آپ کو قید کرنا شروع کرتا ہے جس کا سبب آس پاس کے حالات بتائے جاتے ہیں ، جو انسان کو اس حصار میں دھکیلتے چلے جاتے ہیں ، انسان اپنی کمزوری ایمان کی وجہ سے حالات و رونما ہونے والے واقعات کے سامنے آہستہ آہستہ ہتھیار ڈالتا جاتا ہے اور اسکی کوشش جو ابھی شروع ہی نہیں ہوتی دم توڑ دیتی ہے ، پھر وہ خود کو حالات کے دوش پر سوار کرلیتا ہے اور اس وقت پر پہنچ جاتا ہے جب اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کے وہ کیا تھا اور کہاں پہنچ چکا ہے ۔ کسی بھی انسان کیلئے بدلاءو آسان نہیں ہوتا اور اس انسان کیلئے تو بلکل بھی نہیں جو اپنے روائیتی طرز کی زندگی کو استوار کئے خرامہ خرامہ چلے جا رہا ہو ۔ ایسے میں کوئی اگر بدلاءو کی بات بھی کرتا ہے تو وہ ناقابل برداشت ہوتی ہے ۔

پاکستان میں سیاسی جماعتیں بغیر کسی نظرئیے کے سیاست کرتی ہیں اور اگر کوئی نظریہ کار فرما ہے تو وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ پاکستان تقریبا پچاس سال قبل ایک ترقی پذیر ملک تھاجس کے شواہد تاریخ سے ملتے ہیں ، ہم ایٹم بم بنا کر دنیا کی آٹھویں ایٹمی طاقت رکھنے والی ریاست بن گئے (الحمدوللہ) لیکن ہم آج تک ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں داخل نہیں ہوسکے ہیں ۔ پاکستان کو ہمیشہ سے ہی مقروض رکھنے کی باقاعدہ کوششیں کی جاتی رہی ہیں جسکا فائدہ سیاست دان اٹھاتے رہے ۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب ملک کا اقتدار دوخاندانوں کے درمیان واریاں بن کر رہے گیاتقریباً ان خاندانوں کی یہ بندربانٹ تین عشروں پر محیط ہے ۔ ذراعت پر انحصار کرنے والے ملک بہت کم معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں لیکن پاکستان جو بنیادی طور پر ذراعی ملک ہے اور اللہ کی نعمتوں سے مالامال ہے پھر کیوں ساری دنیا کے سامنے رسوا ء ہوتا رہا ہے ۔ کہیں آپ کی بات کوئی اہمیت نہیں دی گئی الٹا منا کیا جاتا کہ یہ نا بولو اور یہ بولوآسان لفظوں میں ہم ڈکٹیشن (املا) لیتے رہے اور کہتے اور کرتے رہے لیکن ذاتی اثاثے بڑھتے رہے ذاتی کاروبار بھی ترقی کرتے رہے ملک جو ترقی پذیر ہوا کرتا تھا پستیوں میں دھکیلنے میں عالمی سازش کو عملی جامعہ پہنانے میں کامیاب ہوتے رہے ۔ بدقسمتی سے نجی مفادات کی خاطر کبھی بھی یہ بین الاقوامی سازشیں ظاہر نہیں کی جاتی تھیں ۔ پاکستان وہ ملک ہے کہ جس نے دوسرے ملکوں کی جنگیں ناصرف اپنے بازءوں سے لڑیں بلکہ انگنت بازو کٹوائے بھی ہیں ۔

ہمارے ملک پاکستان کی مختصر سی تاریخ میں سیاسی تاریخ اور بھی مختصر ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس سیاسی مختصر تاریخ میں شاذ ونادر کارہائے نمایاں دیکھائی دیتے ہیں ۔ اگر کوئی کارنامہ انجام پایا بھی ہوتا ہے تو تبدیلی حکومت کے بعد اس کارنامے کی ایسی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں کہ ملک تو ملک ساری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب بن کر رہ جاتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اس کارنامے کو عملی جامہ پہنانے میں بدعنوانیوں کی فہرست کا عام ہونا ہوتا رہا ہے ۔ کہنے والوں نے ان بدعنوانیوں کے بارے میں کیا خوب کہا ہے کہ اگر کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق ;230; کا کہنا تھا کہ میری اجرت اتنی ہونی چاہئے جتنی کے ایک مزدور کی ہوتی ہے ، اگر میرا گھر نہیں چلے گا تو مزدور کی اجرت بڑھادی جائے گی ۔ تاریخ میں ایسے بادشاہ بھی گزرے ہیں کہ جن کا نجی باورچی خانہ انکی محنت سے حاصل ہونے والی اجرت سے چلتے تھے یعنی شاہی خزانے پر بوجھ نہیں تھے ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے مفادات ملک کی بقاء و سالمیت سے جڑے ہوئے ہوتے تھے یہ لوگ ریاست کی بقاء کو اپنی بقاء سمجھتے تھے انکے نزدیک شخصیت سے کہیں زیادہ اہم وہ نظریہ تھا کہ جس کی بقاء میں سب کی بقاء تھی ۔

ایک بار پھر سیاسی بازیگروں نے پاکستانی سیاست کی حرمت والی جگہ کو ضمیر فروشی کا بازار بنا لیا ہے جہاں وفاداریوں کے مول لگ رہے ہیں ، ملکی مفادات کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے ۔ افسوس اس بات کا شدت سے ہے کہ ہمیشہ سے پاکستان کی داخلی صورتحال کا فائدہ اٹھانے والے پھر گدھوں کی طرح منڈلاتے پھر رہے ہیں ۔ انہیں پاکستان کی دنیا میں ہونے والی پذیرائی سے خوف آرہا ہے وہ خوفزدہ ہیں کہ پاکستان اس جدید دنیا میں کہیں امتیازی حیثیت نا حاصل کرلے اور انکے مفادات جن کے لئے وہ برسوں سے تگ و دو کر رہے ہیں ان پر پانی پھر جائے ۔ ہمارے ملک کے سارے سیاست دان سوائے حکومت کے ایک جگہ جمع ہوگئے یا کرادئے گئے ہیں کیوں کے یہ وہی لوگ ہیں کہ جن کی مدد سے ماضی میں اپنے عزائم کو با احسن طریقے سے انجام دلواتے رہے ہیں ۔

آج کی سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ سماجی ابلاغ کا دور ہے ، آپ چاہتے ہوئے بھی کسی سے کوئی بات چھپا ہی نہیں سکتے ، عوام سارے معاملے کا بھرپور جائزہ لے رہی ہے یہ وہ عوام ہے جس نے گزشتہ تین برس اس لئے پیٹ پر پھتر باندھے رکھے کے حالات سازگار ہوجائینگے انکی آنے والی نسلیں قرضوں سے آزاد ہوجائینگی اب یہ ثمرات آنا شروع ہونے والے ہیں کہ حزب اختلاف کو کسی ایسے نے جس نے وزیرِ اعظم پاکستان کو دھمکی آمیز خط لکھا ہے ،یکجا کیا اور ایک بار پھر اپنے مکروہ عزائم کیلئے کو تشکیل دینے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ لکھنے والے شائد یہ بھول رہے ہیں کہ وہ دنیا کی ایک ایسی طاقتور مملکت کو دھمکی دے رہے ہیں جسکی عسکری قیادت سے لے کر ایک سپاہی تک اپنے اندرونی اور بیرونی دشموں سے نبردآزما ہونے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے ۔

پاکستان نے اپنی مختصر سی تاریخ میں بڑے اہم اور سنگین موڑ دیکھے ہیں ،سقوط ڈھاکا ہو یا پھر دہشت گردی کی بدترین وارداتیں جن میں آرمی پبلک اسکول کا سانحہ بھی شامل ہے، یہاں ایک ایک کا نام لکھنا مناسب نہیں ہے ، پاکستان نے سب کچھ برداشت کیا اور اللہ کی رحمت اور مدد سے چلتا ہی رہا ہے ۔ واقعاتاً آج پاکستان تاریخ کے اہم ترین موڑ پر کھڑا ہوا ہے، یہی وہ موڑ ہے کہ جہاں پاکستان کسی نئے نظام کے دروازے پر دستک دے رہا ہے، یہی نظام پاکستان کو ریاستِ مدینہ والے نظام کی طرف دھکیلنے والا ہے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اپنے اور پرائے کا فرق واضح ہوتا جا رہا ہے گوکہ یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن ابکی بار پاکستانی قوم ایسے لوگوں کو کہ جن کا ذاتی مفاد ملک کے مفاد سے زیادہ اہم رہا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے انتخابات میں عوام ان لوگوں کو یاد رکھے گی یا ماضی کی طرح بھول جائے گی کہ جنہوں نے سیاسی مصلحتوں کی خاطر ملک کی عزت و وقار کو داءو پر لگایا ہے ، لیکن لگتا نہیں بھول پائے گی کیونکہ سماجی ابلاغ اپنا کردار خوب نبھانے والا ہے ۔ گرد اڑا کر ماحول کو آلودہ کیا گیا ہے لیکن یہ ماحول زیادہ دیر آلودہ نہیں رہ سکے گا ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
  • اپنی ہر بات زمانے سے
  • سلام لاہور
  • فاصلہ یوں تو مری جان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
صاحب دھیان دیجئے
پچھلی پوسٹ
ووٹ کا صحیح استعمال

متعلقہ پوسٹس

موبائل کیمرہ اور بےحسی

جون 5, 2020

وقت کی رفتار سے آگے نکل

جنوری 24, 2020

زخم کھلتے ہی چلے جاتے ہیں اظہار کے ساتھ

فروری 5, 2020

شہر سے جب بھی کوئی شہر جدا ہوتا ھے

مئی 4, 2020

منگنی کی خوشیاں

اپریل 4, 2026

خوابوں کی کشتی اور زندگی کا سمندر

دسمبر 1, 2024

ماسی گُل بانو

نومبر 2, 2019

خدا کلام بشر شش جہات مانتا ہوں

جون 15, 2020

منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال

اکتوبر 19, 2025

تھالی کا بینگن

اکتوبر 25, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

معصوم نادانی

نومبر 24, 2024

سفر نامہ بھارت – پہلی قسط

نومبر 2, 2019

رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان...

ستمبر 28, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں