خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباملکی سالمیت اور سیاسی انا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ملکی سالمیت اور سیاسی انا

از سائیٹ ایڈمن اپریل 3, 2022
از سائیٹ ایڈمن اپریل 3, 2022 0 تبصرے 82 مناظر
83

انسان اپنے بنائے ہوئے حصار میں اپنے آپ کو قید کرنا شروع کرتا ہے جس کا سبب آس پاس کے حالات بتائے جاتے ہیں ، جو انسان کو اس حصار میں دھکیلتے چلے جاتے ہیں ، انسان اپنی کمزوری ایمان کی وجہ سے حالات و رونما ہونے والے واقعات کے سامنے آہستہ آہستہ ہتھیار ڈالتا جاتا ہے اور اسکی کوشش جو ابھی شروع ہی نہیں ہوتی دم توڑ دیتی ہے ، پھر وہ خود کو حالات کے دوش پر سوار کرلیتا ہے اور اس وقت پر پہنچ جاتا ہے جب اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کے وہ کیا تھا اور کہاں پہنچ چکا ہے ۔ کسی بھی انسان کیلئے بدلاءو آسان نہیں ہوتا اور اس انسان کیلئے تو بلکل بھی نہیں جو اپنے روائیتی طرز کی زندگی کو استوار کئے خرامہ خرامہ چلے جا رہا ہو ۔ ایسے میں کوئی اگر بدلاءو کی بات بھی کرتا ہے تو وہ ناقابل برداشت ہوتی ہے ۔

پاکستان میں سیاسی جماعتیں بغیر کسی نظرئیے کے سیاست کرتی ہیں اور اگر کوئی نظریہ کار فرما ہے تو وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ پاکستان تقریبا پچاس سال قبل ایک ترقی پذیر ملک تھاجس کے شواہد تاریخ سے ملتے ہیں ، ہم ایٹم بم بنا کر دنیا کی آٹھویں ایٹمی طاقت رکھنے والی ریاست بن گئے (الحمدوللہ) لیکن ہم آج تک ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں داخل نہیں ہوسکے ہیں ۔ پاکستان کو ہمیشہ سے ہی مقروض رکھنے کی باقاعدہ کوششیں کی جاتی رہی ہیں جسکا فائدہ سیاست دان اٹھاتے رہے ۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب ملک کا اقتدار دوخاندانوں کے درمیان واریاں بن کر رہے گیاتقریباً ان خاندانوں کی یہ بندربانٹ تین عشروں پر محیط ہے ۔ ذراعت پر انحصار کرنے والے ملک بہت کم معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں لیکن پاکستان جو بنیادی طور پر ذراعی ملک ہے اور اللہ کی نعمتوں سے مالامال ہے پھر کیوں ساری دنیا کے سامنے رسوا ء ہوتا رہا ہے ۔ کہیں آپ کی بات کوئی اہمیت نہیں دی گئی الٹا منا کیا جاتا کہ یہ نا بولو اور یہ بولوآسان لفظوں میں ہم ڈکٹیشن (املا) لیتے رہے اور کہتے اور کرتے رہے لیکن ذاتی اثاثے بڑھتے رہے ذاتی کاروبار بھی ترقی کرتے رہے ملک جو ترقی پذیر ہوا کرتا تھا پستیوں میں دھکیلنے میں عالمی سازش کو عملی جامعہ پہنانے میں کامیاب ہوتے رہے ۔ بدقسمتی سے نجی مفادات کی خاطر کبھی بھی یہ بین الاقوامی سازشیں ظاہر نہیں کی جاتی تھیں ۔ پاکستان وہ ملک ہے کہ جس نے دوسرے ملکوں کی جنگیں ناصرف اپنے بازءوں سے لڑیں بلکہ انگنت بازو کٹوائے بھی ہیں ۔

ہمارے ملک پاکستان کی مختصر سی تاریخ میں سیاسی تاریخ اور بھی مختصر ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس سیاسی مختصر تاریخ میں شاذ ونادر کارہائے نمایاں دیکھائی دیتے ہیں ۔ اگر کوئی کارنامہ انجام پایا بھی ہوتا ہے تو تبدیلی حکومت کے بعد اس کارنامے کی ایسی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں کہ ملک تو ملک ساری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب بن کر رہ جاتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اس کارنامے کو عملی جامہ پہنانے میں بدعنوانیوں کی فہرست کا عام ہونا ہوتا رہا ہے ۔ کہنے والوں نے ان بدعنوانیوں کے بارے میں کیا خوب کہا ہے کہ اگر کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق ;230; کا کہنا تھا کہ میری اجرت اتنی ہونی چاہئے جتنی کے ایک مزدور کی ہوتی ہے ، اگر میرا گھر نہیں چلے گا تو مزدور کی اجرت بڑھادی جائے گی ۔ تاریخ میں ایسے بادشاہ بھی گزرے ہیں کہ جن کا نجی باورچی خانہ انکی محنت سے حاصل ہونے والی اجرت سے چلتے تھے یعنی شاہی خزانے پر بوجھ نہیں تھے ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے مفادات ملک کی بقاء و سالمیت سے جڑے ہوئے ہوتے تھے یہ لوگ ریاست کی بقاء کو اپنی بقاء سمجھتے تھے انکے نزدیک شخصیت سے کہیں زیادہ اہم وہ نظریہ تھا کہ جس کی بقاء میں سب کی بقاء تھی ۔

ایک بار پھر سیاسی بازیگروں نے پاکستانی سیاست کی حرمت والی جگہ کو ضمیر فروشی کا بازار بنا لیا ہے جہاں وفاداریوں کے مول لگ رہے ہیں ، ملکی مفادات کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے ۔ افسوس اس بات کا شدت سے ہے کہ ہمیشہ سے پاکستان کی داخلی صورتحال کا فائدہ اٹھانے والے پھر گدھوں کی طرح منڈلاتے پھر رہے ہیں ۔ انہیں پاکستان کی دنیا میں ہونے والی پذیرائی سے خوف آرہا ہے وہ خوفزدہ ہیں کہ پاکستان اس جدید دنیا میں کہیں امتیازی حیثیت نا حاصل کرلے اور انکے مفادات جن کے لئے وہ برسوں سے تگ و دو کر رہے ہیں ان پر پانی پھر جائے ۔ ہمارے ملک کے سارے سیاست دان سوائے حکومت کے ایک جگہ جمع ہوگئے یا کرادئے گئے ہیں کیوں کے یہ وہی لوگ ہیں کہ جن کی مدد سے ماضی میں اپنے عزائم کو با احسن طریقے سے انجام دلواتے رہے ہیں ۔

آج کی سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ سماجی ابلاغ کا دور ہے ، آپ چاہتے ہوئے بھی کسی سے کوئی بات چھپا ہی نہیں سکتے ، عوام سارے معاملے کا بھرپور جائزہ لے رہی ہے یہ وہ عوام ہے جس نے گزشتہ تین برس اس لئے پیٹ پر پھتر باندھے رکھے کے حالات سازگار ہوجائینگے انکی آنے والی نسلیں قرضوں سے آزاد ہوجائینگی اب یہ ثمرات آنا شروع ہونے والے ہیں کہ حزب اختلاف کو کسی ایسے نے جس نے وزیرِ اعظم پاکستان کو دھمکی آمیز خط لکھا ہے ،یکجا کیا اور ایک بار پھر اپنے مکروہ عزائم کیلئے کو تشکیل دینے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ لکھنے والے شائد یہ بھول رہے ہیں کہ وہ دنیا کی ایک ایسی طاقتور مملکت کو دھمکی دے رہے ہیں جسکی عسکری قیادت سے لے کر ایک سپاہی تک اپنے اندرونی اور بیرونی دشموں سے نبردآزما ہونے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے ۔

پاکستان نے اپنی مختصر سی تاریخ میں بڑے اہم اور سنگین موڑ دیکھے ہیں ،سقوط ڈھاکا ہو یا پھر دہشت گردی کی بدترین وارداتیں جن میں آرمی پبلک اسکول کا سانحہ بھی شامل ہے، یہاں ایک ایک کا نام لکھنا مناسب نہیں ہے ، پاکستان نے سب کچھ برداشت کیا اور اللہ کی رحمت اور مدد سے چلتا ہی رہا ہے ۔ واقعاتاً آج پاکستان تاریخ کے اہم ترین موڑ پر کھڑا ہوا ہے، یہی وہ موڑ ہے کہ جہاں پاکستان کسی نئے نظام کے دروازے پر دستک دے رہا ہے، یہی نظام پاکستان کو ریاستِ مدینہ والے نظام کی طرف دھکیلنے والا ہے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اپنے اور پرائے کا فرق واضح ہوتا جا رہا ہے گوکہ یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن ابکی بار پاکستانی قوم ایسے لوگوں کو کہ جن کا ذاتی مفاد ملک کے مفاد سے زیادہ اہم رہا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے انتخابات میں عوام ان لوگوں کو یاد رکھے گی یا ماضی کی طرح بھول جائے گی کہ جنہوں نے سیاسی مصلحتوں کی خاطر ملک کی عزت و وقار کو داءو پر لگایا ہے ، لیکن لگتا نہیں بھول پائے گی کیونکہ سماجی ابلاغ اپنا کردار خوب نبھانے والا ہے ۔ گرد اڑا کر ماحول کو آلودہ کیا گیا ہے لیکن یہ ماحول زیادہ دیر آلودہ نہیں رہ سکے گا ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سماجی تجزیہ
  • حافظ حسین دین
  • بارِ خاک
  • بہو بیٹیاں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
صاحب دھیان دیجئے
پچھلی پوسٹ
ووٹ کا صحیح استعمال

متعلقہ پوسٹس

سیاہ شب کے مسافر

جون 10, 2024

نیپال میں سیاسی بحران

ستمبر 10, 2025

سندھو کے کنارے سے

مارچ 13, 2025

ہالی ووڈ کا فریب – چوتھی قسط

جنوری 19, 2025

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

ایک تصویر کہ اوّل نہیں دیکھی جاتی

اپریل 23, 2020

ندی کے اُس پار

مارچ 12, 2025

بدصورتی

جنوری 24, 2020

ماں

نومبر 6, 2020

شکستہ تن ، برہنہ سر جو ٹھہرے

اپریل 4, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چراغ ساعت رفتہ سرنگ میں گم...

نومبر 27, 2021

ہے ترے عشق کے

جولائی 6, 2025

بس اک نگاہ کو یوں تیر...

اپریل 9, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں