خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسینیٹ میں تین اہم بلوں کی منظوری
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

سینیٹ میں تین اہم بلوں کی منظوری

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 12, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 12, 2025 0 تبصرے 46 مناظر
47

سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں گرفتار، نظربند اور زیرِ حراست افراد سے تفتیش سے متعلق بل، فیٹل ایکسیڈنٹس (ترمیمی) بل 2024 اور لمیٹڈ لائیبیلیٹی پارٹنرشپ (ترمیمی) بل متفقہ طور پر منظور ہوئے۔ یہ اتفاقِ رائے اس بات کی علامت ہے کہ پارلیمان بعض بنیادی قانونی اصلاحات پر متحد دکھائی دیتی ہے، خاص طورSalampakistan logo پر وہ اصلاحات جو انسانی حقوق، انصاف کے تقاضوں اور عوام کے روزمرہ مسائل سے جڑی ہیں۔
یہ قانون سازی اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخی پس منظر اور عدالتی مباحث موجود ہیں، جنہوں نے ان اصلاحات کا راستہ ہموار کیا۔ گرفتار اور زیرِ حراست افراد سے تفتیش کے بارے میں یہ بل ایک اہم پیش رفت ہے۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک کا پیش کردہ بل بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے۔ پاکستان میں گرفتاری کے وقت تحریری وجوہات نہ بتانے، وکیل تک رسائی محدود رکھنے اور اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت نہ دینے جیسی شکایات ہمیشہ سے زیرِ بحث رہی ہیں۔ یہ بل ان تمام کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش ہے۔ اب قانون واضح طور پر بتاتا ہے کہ گرفتاری کی تحریری وجوہات بتانا لازم ہوگا، زیر حراست فرد کو وکیل کی مدد حاصل ہوگی، اہلِ خانہ سے ملاقات اور ضروری دوائیں فراہم کی جائیں گی، خلاف ورزی کرنے والے پولیس افسران پر جرمانہ ہوگا۔ یہ اصلاحات دراصل آئین کے آرٹیکل 10 اور 10-A کے تقاضوں کی تکمیل بھی ہیں، جن کا مقصد منصفانہ ٹرائل اور انسانی احترام ہے۔
دوسرا بل فیٹل ایکسیڈنٹس (ترمیمی) بل 2024 ہے۔ 1861 سے پہلے برصغیر میں حادثاتی موت کے مقدمات سے متعلق کوئی واضح نظام موجود نہیں تھا۔ 1855 میں Fatal Accidents Act برطانوی دور میں نافذ ہوا تاکہ ہرجانے کے مقدمات کا طریقہ کار طے کیا جا سکے۔ مگر یہ قانون وقت کے ساتھ غیر مؤثر ہوتا گیا۔ طویل مقدمے بازی، اپیل کے واضح حق کا فقدان، معاوضے کا غیر شفاف نظام اور سب سے بڑھ کر فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے متوفی کے ورثا شدید مالی مشکلات کا سامنا کرتے تھے۔ 2011 میں سپریم کورٹ کے ایک اہم فیصلے (سول اپیلز 175–177/2005) نے اس قانون کی خامیوں کی نشاندہی کی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنی تفصیلی نوٹ میں کہا کہ ورثا کو فوری مالی مدد ملنی چاہیے، مقدمات کے فیصلے جلد ہوں، عبوری معاوضہ لازمی ہونا چاہیے، اپیل کا واضح حق موجود ہونا چاہیے، فیصلے کے بعد فوری طور پر اس کی تعمیل یقینی بنائی جائے۔ ان عدالتی ہدایات کے بعد لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے 2013 میں اصلاحات کا مسودہ تیار کیا، جس کی روشنی میں نیا ترمیمی بل سامنے آیا۔ اس بل کی کئی نمایاں خصوصیات ہیں جن میں سرفہرست حادثات سے متعلق مقدمات 6 ماہ میں نمٹانے کی پابندی ہوگی، ورثا کیلئے عبوری معاوضے کی فراہمی ہوگی، اگر ملزم معاوضہ ادا نہ کرے تو عدالت دفاع کا حق ختم کر کے مقدمہ فیصلے تک لے جائے، اپیل کا واضح حق قائم کیا گیا ہے، فیصلے کے فوراً بعد عمل درآمد شروع ہونا ضروری ہے اور الگ سے ایکزیکیوشن کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ تبدیلیاں عام شہریsenate کو اس پیچیدہ قانونی نظام سے نجات دینے میں مددگار ثابت ہوں گی جو دہائیوں سے انصاف کی راہ میں رکاوٹ رہا ہے۔
دیگر بل اور کمیٹیوں کے سپرد ہونے والے مسودے بھی سینیٹ میں پیش کیے گئے، سینیٹ نے کئی اہم بل قائمہ کمیٹیوں کو بھجوائے ہیں، جن میں پاکستان سائیکالوجیکل کونسل بل، انسداد الیکٹرانک کرائمز ترمیمی بل، الیکٹرانک نیکوٹین ڈلیوری سسٹمز ریگولیشن بل، یونیورسٹیوں میں مستحق افراد کے لیے خصوصی نشستیں بھی شامل ہیں۔ یہ تمام بل سماجی، تعلیمی اور اخلاقی شعبوں کو متاثر کرتے ہیں اور آئندہ مہینوں میں ان پر پیش رفت ملک کے پالیسی ڈھانچے کو مزید بدل سکتی ہے۔
اسی طرح پاکستان اینیمل سائنس کونسل بل مشترکہ اجلاس کو بھیج دیا گیا، جب کہ بیروزگاری پر قابو پانے سے متعلق قرارداد بھی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دی گئی۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں اکثر اوقات اہم بلوں کو سیاسی تقسیم کی نذر ہوتے دیکھا گیا۔ مگر ان تین بلوں کی متفقہ منظوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی حقوق، حادثاتی موت کے مقدمات میں اصلاح، معاشی سرگرمیوں میں شفافیت جیسے معاملات سیاست سے بالاتر ہو سکتے ہیں۔
فیٹل ایکسیڈنٹس ایکٹ کی 169 سال پرانی ساخت اب بدل رہی ہے اور گرفتار افراد سے متعلق قوانین پہلی بار شہری حقوق کو بنیادی حیثیت دے رہے ہیں۔ اس سے عدالتی نظام پر بھی مثبت دباؤ پڑے گا اور عوام کا قانونی عمل پر اعتماد بڑھے گا۔
اس قانون سازی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پارلیمان اگر سنجیدگی دکھائے تو ایسے قوانین نہ صرف فوری ریلیف دیتے ہیں بلکہ طویل المیعاد اصلاحات کا آغاز بھی بن جاتے ہیں۔ گرفتار افراد کے حقوق اور حادثاتی اموات کے مقدمات جیسے حساس موضوعات پر قانون سازی معاشرے کی اخلاقی سمت کا تعین کرتی ہے۔ جلد فیصلے، شفافیت، اپیل کا حق، اور ورثا کے لیے فوری معاونت یہ وہ ستون ہیں جن پر ایک منصفانہ معاشرہ کھڑا ہوتا ہے۔ اگر یہ قوانین مؤثر طریقے سے نافذ کیے گئے تو یہ ہماری قانونی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شعلۂ عشق کے اسرار
  • والدین کی محنت
  • قلم کی طاقت اور ذمہ داری
  • سلویا پلاتھ کے ناول ’دی بیل جار‘ کا ایک جائزہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سیکیورٹی ادارے متوجہ ہوں
پچھلی پوسٹ
فقر کی روشنی میں پروان چڑھتا علم

متعلقہ پوسٹس

8اکتوبر: جب زمین لرز اٹھی!

اکتوبر 9, 2020

”جہیز“

اپریل 4, 2021

محبت سے محبت ہے

جولائی 31, 2022

جمغورہ الفریم

جون 9, 2020

ایران میں احتجاجی طوفان

جنوری 12, 2026

آن زبان اور جان

مئی 21, 2020

سایہ در غبارِ شام

فروری 8, 2025

فرشتہ 

اگست 20, 2020

غبارے

دسمبر 23, 2021

مریم مختیار

نومبر 25, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایہام گوئی کی تحریک

اپریل 3, 2026

ساگر

اکتوبر 14, 2025

کیا یہ غور طلب نہیں!

اگست 30, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں