خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامفقر کی روشنی میں پروان چڑھتا علم
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

فقر کی روشنی میں پروان چڑھتا علم

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 12, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 12, 2025 0 تبصرے 32 مناظر
33

حمد اس خدا کے لیے ہے جس نے علم کو رفعت و کرامت کا ذریعہ بنایا، تقویٰ کو سعادت کا اساس ٹھہرایا، اور فہم و ادراک کے لیے نہ دولت کو شرط قرار دیا، نہ فقر کو مانعِ نبوغ بنایا۔ اسی کی حکمت کا ظہور ہے کہ اُس نے اکثر بڑے اہلِ علم کو فقراء میں سے پیدا فرمایا، کیونکہ فقیر کا دل عموماً تکبر سے پاک ہوتا ہے، اور اس کی ہمت میں دنیاوی مصارف اور مصروفیات کی کمی ہوتی ہے۔ یہی دو اوصاف—تواضع، اور دل کا فارغ ہونا—علم کے حصول، اس کے حفظ، اس کے فہم اور اس کی برکت کا حقیقی سرمایہ بنتے ہیں۔ چنانچہ اس حقیقت کو ایک ادیب نے نہایت بصیرت کے ساتھ یوں کہا کہ گویا اللہ کی سنت ہے کہ جِلّۂ علما زیادہ تر فقراء میں سے ہوں، اور شاعر نے بھی فقر سے گویا شکوہ کرتے ہوئے کہا:

قلت للفقر أين أنت مقيم؟ إن بيني وبينهم لإخاء
قال لي في عمائم الفقهاء، وعزيز عليّ قطع الإخاء!

علماء کا فقر ضعف یا کمتری کا نام نہیں، یہ محض جیب کا فقر ہے، دل کا نہیں۔ ان کے قلوب ایمان، یقین اور حسنِ ظنِ الٰہی کی دولت سے اس درجہ لبریز ہوتے ہیں کہ بڑے بڑے مالداروں کے خزانوں سے بھی زیادہ قیمتی معلوم ہوتے ہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ غنا بھی آزمائش ہے اور فقر بھی امتحان؛ اصل فضیلت عمل صالح، دل کے قناعت پسند ہونے اور خشوع و اخلاص کے اُس نور میں ہے جو اللہ اپنے خاص بندوں کے دلوں میں رکھتا ہے۔
(دیکھئیے تفصیل: مواقف وکلمات صنعت علماء: ٣١-٣٧)

ایک حکیم نے کیا خوب کہا:
شغلنا بكسب العلم عن مكسب الغنى
كما شغلوا عن مكسب العلم بالوفر
وصار لهم حظ من الجهل والغنى
وصار لنا حق من العلم والفقر (١)

یعنی ایک گروہ دولت میں مشغول ہو کر علم سے محروم ہوا، اور دوسرا گروہ علم میں مشغول رہ کر غنا کی کمی پر صبر کرتا رہا، مگر یہی فقر اس کا سرمایہ اور اس کی قوت بنا۔
بزرجمہر سے پوچھا گیا کہ علم افضل ہے یا مال؟ انہوں نے صاف اور فیصلہ کن جواب دیا کہ علم افضل ہے۔ پھر سوال ہوا کہ اگر علم فضیلت رکھتا ہے تو علماء کو امیروں کے دروازوں پر کیوں دیکھا جاتا ہے؟ اس پر ان کا جواب حکمت سے بھرپور تھا کہ علماء مال کی حاجت اور اس کے نفع کو جانتے ہیں، مگر اغنیاء علم کی قدر اور اس کی قوت سے ناواقف ہیں (٢)۔ یہ وہ کلمہ ہے جو علم و دولت کے فرق کو نہایت بلیغ پیرایے میں واضح کر دیتا ہے۔
انبیا علیہم السلام بھی فقر سے مستثنیٰ نہ تھے۔ متعدد انبیا انتہائی تنگ دستی میں زندگی گزارتے تھے، اور یہی اُن کے لیے مقامِ قرب و ابتلاء کا ذریعہ تھا۔ امام ماوردی لکھتے ہیں کہ اکثر انبیا—اپنی تمام تر عظمت اور اللہ کی عطا کردہ کرامت کے باوجود—فقراء ہی تھے، نہ ان کے پاس دنیا کا سازوسامان تھا، نہ وہ مالی آسائشوں کے مالک تھے (٣)۔ شاعرانہ پیرایہ میں اسی حقیقت کو یوں بیان کیا گیا ہے:
إذا فنعت بميسور من القوت
أصبحت في الناس حراً غير ممقوت
… فلست آسى على در ويَاقوت (٤)
یعنی اگر زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری ہو جائیں تو انسان کی عزت قائم رہتی ہے، پھر سونے اور یاقوت پر افسوس کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔
علماء کے لیے فقر اور ابتلاء دونوں آزمائش بھی ہیں اور نشانیِ قبولیت بھی۔ ابو شامة لکھتے ہیں کہ جسے اللہ علم کے مقام پر فائز کرے، اسے چاہیے کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا کرے، دنیا کے فائتوں پر غم نہ کرے، کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ اسے اپنے مقبول بندوں میں شامل کر رہا ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سب سے سخت آزمائش انبیاء پر آتی ہے، پھر علماء پر، پھر صالحین پر (٥)۔ یہی احساس ایک شاعر کے کلام میں بھی جھلکتا ہے:
فقر كفقر الأنبياء وغربة
وصبابة ليس البلاء بواحد
یہ بھی حقیقت ہے کہ کبھی کبھار دنیا کی فراوانی انسان کو کفر کے قریب لے جاتی ہے، جبکہ فقر مومن کے ایمان کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے:
كم كافر بالله تزداد أضعافاً
على كفره أمواله
ومؤمن يزداد إيمانا
على فقره ليس له درهم
يا لائم الدهر وأفعاله
مشغلاً يزري على دهره
الدهر مأمور ينصرف الدهر على أمره (٦)
کتنی گہری بات ہے کہ دولت ہمیشہ خیر کی علامت نہیں ہوتی، اور فقر ہمیشہ نقص نہیں ہوتا۔
اسی طرح ترف اور عیش و عشرت علمی نبوغ کے دشمن ہیں۔ شیخ محمد الخضر حسین فرماتے ہیں کہ بے جا آسائش نسلوں کی ذہانت کو کمزور کر دیتی ہے، کیونکہ عیش میں پلنے والا شخص مصائب اور محنت کے مقابلے میں ثابت قدم نہیں رہ پاتا (٧)۔ یہ قول علم کے طلبگاروں کے لیے پوری ایک نصیحت ہے۔
فقراء علماء کی زندگیاں اس امر کی روشنی ہیں کہ فقر کبھی علم کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ ربیعۃ الرأی کا حال یہ تھا کہ قضائے حاجت کے بعد مدینہ کی گلیوں میں پھینکے ہوئے کھجور کے چھلکوں اور اس کی لسی پر گزارا کرتے، مگر وہ فقہ و رائے میں امام بنے۔ امام مالک فرمایا کرتے تھے کہ علم تبھی حاصل ہوگا جب انسان فقر کا ذائقہ چکھ لے (٨)۔
ابو صالح السمان غریب تیل فروش تھے؛ ابو ہریرہؓ ان کی شخصیت دیکھ کر فرمایا کرتے کہ دیکھنے میں تو یہ قریش کے سرداروں جیسے معلوم ہوتے ہیں۔ وہ خود کہتے کہ میری ساری دنیاوی خواہش صرف اتنی تھی کہ میرے پاس دو اچھے کپڑے ہوں جن میں بیٹھ کر ابو ہریرہؓ سے احادیث سیکھ سکوں (٩)۔ پھر وہی شخص القدوة، الحافظ، الحجة کہلایا (١٠)۔
امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ میں حدیث و فقہ کی طلب میں انتہائی تنگ دستی میں مبتلا تھا (١١)، مگر اسی علم نے انہیں قاضی القضاۃ کے منصب تک پہنچا دیا۔
شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ میں جنگلوں میں کانٹے دار بیر کھا کر زندہ رہا، کئی کئی دن فاقہ کرتا رہا (١٢)۔
امام شافعی کا حال یہ تھا کہ ان کی والدہ کے پاس کتابت خریدنے کے لیے پیسے نہ تھے، تو وہ جانوروں کی ہڈیوں پر لکھ کر علم محفوظ کرتے (١٣)۔ شاعر نے انہی کے بارے میں کہا:
لا يدرك العلم بطال ولا كسل… (١٤)
امام ابراہیم حربی فرماتے ہیں کہ میری ماں اکثر صرف بھنا ہوا بیگن یا مولی کی چھوٹی سی گڈی دے کر مجھے علم کے لیے روانہ کرتی تھیں (١٥)۔
یہ سب مثالیں اس حقیقت کو جگمگاتی دلیلوں کی طرح واضح کرتی ہیں کہ فقر کبھی علم کی بلندیوں میں رکاوٹ نہیں بنتا، بلکہ اکثر اوقات یہی فقر انسان کے اندر وہ صبر، وہ ہمت، وہ اخلاص اور وہ تواضع پیدا کرتا ہے جو اسے غیر معمولی نبوغ اور مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ دنیاوی تنگی علم کے راستے کی رکاوٹ نہیں، بلکہ بڑے لوگوں کے سفرِ علم کی خاموش سہی مگر طاقتور بنیاد رہی ہے۔

مصادر حسب ترتیب نمبر ۔
(۱) صفحات من صبر العلماء، ص 161
(۲) أدب الدنيا والدين، ص 37
(۳) الآداب الشرعية والمنح المرعية، ج 3، ص 486
(۴) الآداب الشرعية والمنح المرعية، ج 3، ص 486–487
(۵) سنن ابن ماجه، حدیث 4313؛ المستدرك للحاكم، حدیث 5463
(۶) الآداب الشرعية والمنح المرعية، ج 3، ص 486–487
(۷) الأعمال الكاملة — مضار الإسراف، ج 4، ص 137
(۸) جامع بيان العلم، ج 1، ص 410؛ نیز الدلائل النورانية، ص 154–155
(۹) العِلم لزهير، ص 83
(۱۰) سير أعلام النبلاء، ج 5، ص 36
(۱۱) تاريخ بغداد، ج 6، ص 522
(۱۲) الهمة طريق القمة، ص 41
(۱۳) جامع بيان العلم، ج 1، ص 413؛ مناقب الشافعي، ج 1، ص 94–95
(۱۴) قطوف الريحان، ص 255
(۱۵) تاريخ بغداد، ج 6، ص 522

ابو خالد قاسمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • توپوں کی گھن گرج میں امن کی صدا
  • پھوجا حرام دا
  • سکردو میں پونم
  • شوگر سے آگاہی، راز اور مکمل چھٹکارا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سینیٹ میں تین اہم بلوں کی منظوری
پچھلی پوسٹ
نابینا علمائے کرام

متعلقہ پوسٹس

رشتہ یا خدا

دسمبر 30, 2019

چھپکلی بے دیوار

دسمبر 17, 2019

زیرو سے ہیرو تک کا سفر!

دسمبر 26, 2025

بُن بست

جون 15, 2020

مشک وعنبر کی میں جینے کی دعائیں مانگوں

نومبر 7, 2021

رنگ برنگے لوگ

دسمبر 28, 2019

غالب اور سرکاری ملازمت

اکتوبر 22, 2019

شفق کا سفر

دسمبر 17, 2024

کس قدر مشکلات سے گزرا

دسمبر 12, 2025

ہر مشکل میں مضبوط

دسمبر 12, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حضور ﷺ آپ کی ہستی نشانِ ...

مئی 8, 2020

برطانیہ – بچوں کے تحفظ کا...

جنوری 19, 2026

ماں قوم کی استاد ہوتی ہے

جولائی 26, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں