خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرمسلح افواج کے سربراہ
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرڈاکٹر یونس بٹ

مسلح افواج کے سربراہ

از سائیٹ ایڈمن مئی 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 10, 2020 0 تبصرے 43 مناظر
44

مسلح افواج کے سربراہ

پیر پگاڑہ تو فرماتے ہیں جماعت اسلامی دراصل مسلم لیگ ہی کا اردو ترجمہ ہے ، بہر حال یہ فرق ہے کہ جماعت میں ایک امیر ہوتا ہے اور مسلم لیگ میں سبھی ہوتے ہیں، جماعت کے امیروں میں نمبر ایک مولانا مودودی ہیں، میاں طفیل محمد دو نمبر امیر تھے اور قاضی حسین احمد تیسرے درجے کے ہیں، قاضی حسین احمد اور میاں طفیل محمد صاحب کے مزاج میں وہی فرق ہے جو اسلامی طلبہ اور جماعت اسلامی میں ہے ، مولانا مودودی تو چھڑی ہاتھ میں یوں پکڑتے تھے جیسے قلم ہوں، میاں صاحب کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ قلم پکڑا ہے یا چھڑی جب کہ قاضی حسین احمد تو قلم کو یوں پکڑتے ہیں جیسے چھڑی پکڑی ہو، ہر امیر کے دور میں جماعت کی رفتار وہی ہی رہی جو امیر کے اپنے چلنے کی تھی۔۔۔۔۔۔۔میاں صاحب تو ایسے ہیں کہ جب تک بندہ رک نہ جائے ، پتہ نہیں چلتا وہ چل رہے ہیں، قاضی صاحب رکے بھی ہوں تو ہم سے تیز ہوتے ہیں، لگتا ہے وہ زمین کے اوپر نہیں چلتے زمین ان کے نیچے چلتی ہے ۔
میاں طفیل محمد صاحب اس عمر میں جس میں کسی بندے کو یہ خوشخبری دی جا سکتی ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی جنگ نہ ہو گی، وہ امارات میں ہی دوسرے نمبر پر نہیں آئے ، بچپن میں کسی لڑکے سے لڑائی ہو جاتی تو اس میں بھی دوسرے نمبر پر ہی آتے ، پہلے پٹھان کوٹ اور پینٹ کوٹ بھاتا تھا، ٹائی لگاتے پھر ایسے داڑھی رکھی کہ ٹائی لگاتے تو ناٹ، ناٹ ویزایبل ہوتی، پتلون بھی پہنتے تھے ، مگر بعد میں پہننا چھوڑ دی کہ پتلون سینے کے گرد ٹائٹ لگتی تھی، دوران گفتگو پنجابی کے لفظ یوں استعمال کرتے ہیں جیسے سیاست دان عوام کو استعمال کرتے ہیں، تقریر کر رہے ہوں تو وہ اردو بول رہے ہوتے ہیں اور لوگ پنجابی سن رہے ہوتے ہیں، ہر کام اصلاح کیلئے کرتے ہیں، حضرت داتا گنج بخش کی کتاب کشف المحجوب کا ترجمہ کیا، کہتے ہیں کہ نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ اصلاح بھی کر دی۔
ایسے ٹھنڈے کہ گرمیوں میں بھی ان کے پاس چادر لے کر بیٹھنا پڑتا ہے ، وہ کام بھی اچھے طریقے سے کرتے ہیں جو کام صرف طریقے سے کئی جاتے ہیں، پہلے رس گلے چینی میں ڈبو کر کھاتے ، اب چینی بھی دھو کر کھاتے ہیں، وہ غلط وقت پر صحیح بات کرتے ہیں لیکن صحیح وقت پر غلط بات کرتے ہیں، البتہ وہ کسی کو اسلامی ذہن کا بندہ کہیں تو اس سے مراد جماعت اسلامی ذہن کا بندہ ہو گا۔
مولانا مودودی جماعت کو سیاست میں لائے ، قاضی حسین احمد سیاست کو جماعت میں لائے ، سیاست میں ان کی سوچ الگ ہے ، سوچ الگ نہ ہو تو خود الگ ہو جاتے ہیں، قاضی صاحب وہ وکیل ہیں جو خود عدالت میں کیس لڑتے ہیں جیسے عدالت پر مقدمہ چلا رہے ہوں، شروع ہی سے اس قدر تیز تھے ، کہ اسکول میں ان کی جو تاریخ پیدائش درج ہے ، اس سے دو سال قبل پیدا بھی ہو چکے تھے ، ان کے بزرگ کام کے قاضی تھے ، زیارت کاکا گاؤں مین ان کا خاندان گاؤں کا استاد تھا، ان کے سامنے سب کاکے تھے ، ان کے گھر کے ارد گرد دوسروں کے گھر یوں ہی تھے ، دیہاتی اسکول کے بچے استاد کے اردگرد بیٹھے ہوتے ہیں، تعلق اس خاندان سے جہاں نوجوانوں کے چہرے پر داڑھی نہ ہونا بے پردگی میں شمار ہوتا ہے 1970 میں جماعت کے نظم میں ضبط ہوئے ، وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے جماعت میں نہ آئے بلکہ اسلامی جمعیت طلبہ ان سے جماعت میں آئی۔
بچپن ہی سے جغرافئیے سے اس قدر لگاؤ تھا کہ کوئی پوچھتا بتاؤ فلاں ملک کہاں ہے ؟ تو جھٹ بتا دیتے ، جغرافئیے کی کتاب کے فلاں صفحے پر بچپن میں دنیا کا نقشہ یوں دیکھتے جیسے اپنا ناک نقشہ دیکھ رہے ہوں، پھر جغرافئیے کے استاد ہوئے اور جغرافئیے کے استاد کیلئے خگرافئیے سے اہم کوئی مضمون نہیں ہوتا ہے کیونکہ خغرافئیے کے نہ ہونے سے ہمیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر وہ استاد نہیں رہ سکتا، تو جوانی میں مشتاق احمد یوسفی صاحب کو بھی جغرافئیے کا اتنا شوق تھا، کہ ایک صاحب انہیں ادکارہ مسرت نزیر کی ہسٹری بتا رہے تھے تو یوسفی صاحب نے کہا قبلہ ہسٹری کو چھوڑ دیں، مجھے ان کا جغرافیہ بتائیں، خواتین کے معاملے میں قاضی صاحب کا رویہ اتنا سخت نہیں جتنا مونا عبدالستار نیازی صاحب کا ہے انہوں نے تو عورت سے شادی تک نہیں کی، بہر حال قاضی صاحب سے مس گائیڈ ڈمیزائل کا پوچھیں تو کہیں گے وہ میزائل جسے کسی مس نے گائیڈ کیا ہو، قاضی صاحب کا نشانہ اچھا ہے ۔
ایک بار نشانہ بازی کر رہے تھے ،ٹارگٹ پر جو تصویر تھی، کوئی نشانہ اسے نہ لگا تو احباب نے فورا وہاں سے وہ تصویر ہٹا کر ولی خان اور الطاف حسین کی تصویر رکھی تو نشانہ خود تیر پر آ لگا، رحمت الہی صاحب کا جماعت کا عہدہ چھوڑ نا ان کیلئے رحمت الہی بنا، قاضی وہ تھے ہی یوں میاں طفیل محمد صاحب کے طفیل جماعت کے میاں بھی بن گئے ۔
قاضی صاحب اپنے اور جاوید اقبال کے والد سے متاثر ہیں، نرگس پسند ہے اور کرگس ناپسند گرمی اور سردا بہت کھاتے ہیں، دوسروں کو سننے کا اس قدر شوق ہے کہ منظر بھی وہ پسند ہے جس میں کچھ سننے کو ہو، جیسے پرندوں کی چہچہاہٹ اور پانی کا شور، دیکھنے میں اس اپنے قد سے لمبے لگتے ہیں، سنتے ہوئے سر بلند اور کہتے ہوئے سر بلند رکھتے ہیں، پٹھان ہیں اور آپ کو پتہ ہے پٹھان کب پٹھان کی طرح ہوتا ہے ؟ جی ہاں جب غصے میں کیا کرتے ہیں، تو جناب غصے میں صرف غصہ کرتے ہیں، غصے میں ہوں تو سرخ رنگ ان کے چہرے کی طرح ہو جاتا ہے کرنٹ افئیرز پر بات کر رہے ہوں تو بات میں اور کچھ ہو نہ ہوم کرنٹ ضرور ہوتا ہے ، ہم زمانہ طالب علمی میں اونچی آواز میں بول بول کر سبق یاد کیا کرتے تھے ، وہ اس طرح سوچتے ہیں، تقریروں میں اقبال کے شعر اس قدر استعمال کرتے ہیں کہ لگتا یوم اقبال پر تقریر فرما رہے ہیں، لوگ کہتے ہیں وہ پردے کے بڑے حق میں ہیں، حالانکہ انہیں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں مخالفین کو ننگا کرتے ہم نے خود دیکھا ہے ، خود کے بے قرار برقرار رکھتے ہیں، ان کے ذمے لگائے گئے ، اس قدر متحرک کہ ایک جگہ بیٹھے ہوئے بھی ساکن نہیں ہوتے ، وہ آرام کر رہے ہوں یقین کر لیں، یہ سب اپنی مرضی سے نہیں ڈاکٹر کی مرضی سے کر رہے ہوں گے، رات گئے دن کا آغاز کرتے ہیں، اور اس وقت تک پہلا دن ختم نہیں کرتے ہیں جب تک اگلا دن شروع نہ کر لیں۔
پٹھان اپنی زبان نہیں بدلتے لیکن وہ ایرانیوں سے فارسی، عربوں سے عربی اہل مغرب سے انگریزی اہل خانہ سے پشتو ہم وطنوں سے اردو اور ہم جماعتوں سے اسی زبان میں بات کرتے ہیں جو وہ سمجھتے ہیں، انہیں بولنا تو کئی زبانوں میں آتا ہے ، مگر چپ رہنا کسی زبان میں نہیں آتا، سر ڈھانپنا ان کے نزدیک ستر ڈھانپنا بلکہ بہتر ڈھانپنا ہے ، لوگوں کے سر پر بال اگتے ہیں ان کے سر پر ٹوپیاں، ان کے نزدیک تو ٹنڈ کرانا سر سے ٹوپی اتارنا ہوتا ہے ، با ریش چہرے پر مسکراہٹ کھیلتی رہتی ہے ، اگر چہ کھیلنے کیلئے مسکراہٹ کے پاس کم ہی چہرہ بچا ہے ، لہجہ ایسا کہ جنرل دوستم کو بھی جنرل دوستم کہتے ہیں، قاضی حسین احمد مخالفوں کیلئے قاضی بھی ہیں، اور حسین بھی، انہوں نے ذاتی عدالتیں لگوائیں، پاسبان کی ان عدالتوں میں ان کی موجودگی ایسے ہی ضروری ہوتی ہے جیسے پنجابی فل ہٹ کرانے کیلئے سلطان راہی، اسی لئیے وہ پاسبان کے جلسے میں جا رہے ہوتے تو لگتا ہے شوٹنگ پر جا رہے ہیں، مجاہد آدمی ہیں، کار سے بھی یوں نکلتے ہیں جیسے مورچے سے نکل رہے ہوں، ہاتھ ملا رہے ہوں تو لگتا ہے ، ہتھ جوڑی کر رہے ہوں، چلتے یوں جیسے پیش قدمی کر رہے ہوں، بلاشبہ وہ پاکستان کی مصلی افواج کے سربراہ ہیں۔

ڈاکٹر محمد یونس بٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سندھو کی صدا : پانی پر حق کی پکار
  • آغاز آفرینش
  • پاکستان کا مطلب کیا
  • اخبار میں ضرورت ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اصغر اعظم
پچھلی پوسٹ
ملا نصیر الدین

متعلقہ پوسٹس

سید علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن

دسمبر 6, 2025

خمینی کے ایران میں نئے عہد کے سوالات

جنوری 1, 2026

شی مین

مئی 10, 2020

مائی نانکی

جنوری 17, 2020

پاکستان: چیلنجز، مواقع اور مستقبل کی راہیں

دسمبر 11, 2025

کچھ باتیں ضروی ہیں

ستمبر 22, 2025

میں ایک مرتبہ

نومبر 26, 2020

کھدر کا کفن

جنوری 22, 2020

پاکستان کیسے ترقی کر سکتا ہے

مارچ 25, 2022

پاک چائنہ اقتصادی راہداری

اپریل 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میری کہانی

جون 5, 2024

سالار کی شادی

جنوری 5, 2022

روحانیت اور جدید زندگی

نومبر 5, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں